دانی ایل تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

دانی ایل

Daniel

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’ مَیں زور دے کر کہنا چاہتا ہوں کہ نبیوں میں سے کسی نے مسیح کے بارے میں اِتنی صاف اور صریح بات نہیں کی جتنی اِس نبی دانی نے کی ہے۔ کیونکہ اُس نے دوسرے نبیوں کی طرح وثوق سے صرف یہ نہیں کہا کہ وہ آئے گا بلکہ اُس کی آمد کا وقت (‏زمانہ)‏ بھی متعین کیا۔ علاوہ ازیں اُس نے مختلف بادشاہوں کا ترتیب وار ذکر کیا اور متعلقہ سالوں کی بالکل صحیح تعداد بتائی اور آنے والے واقعات کی واضح نشانیاں بتائیں۔‘‘ (‏جیروم‏، ۳۴۷۔۴۲۰ء)‏

۱۔ مُسلَّمہ کتابوں میں یکتا مقام

دانی ایل کی کتاب پرانے عہدنامے میں سب سے دلکش اور بڑی فیصلہ کُن کتاب ہے۔ اِس کی وجہ بلاشبہ یہ ہے کہ اِس کی پیش گوئیاں اور مسیحِ موعود کے بارے میں نبوتیں بالکل معین ہیں اور یہ بے دین اور برگشتہ دُنیا سے الگ رہنے کا ولولہ انگیز نمونہ پیش کرتی ہے۔ عقلیت پسند اور بے مذہب علما نے دانی ایل کی کتاب پر بہت تنقیدی حملے کئے ہیں۔

سب سے شدید حملہ اِس اَمر میں کیا گیا ہے کہ کیا یہ کتاب واقعی دانی ایل نامی ایک نبی نے چھٹی صدی قبل مسیح میں تصنیف کی تھی جب کہ راسخ العقیدہ یہودی اور مسیحی علما اِس بات کو درست قرار دیتے ہیں۔ معترضین یہ کہتے ہیں کہ یہ کتاب کسی نامعلوم مصنف نے دوسری صدی میں لکھی۔ اُس نے کتاب کو بطور تاریخ لکھا مگر انداز نبوت لکھنے کا اپنایا۔

۲۔ مصنف

روایت کے مطابق اِس کتاب کا مصنف دانی ایل ہے۔ لیکن اِس روایت کو بہت وسیع پیمانے پر جھٹلایا جاتا رہا ہے۔ مگر بہت ضروری ہے کہ اِس کتاب کے بارے میں ایمان دار کا علم و واقفیت ٹھوس بنیاد پر قائم ہو۔ اِس لئے ہم دیگر کتابوں کی نسبت اِس کتاب کے مصنف پر زیادہ تفصیل سے بات کریں گے۔ 

راسخ العقیدہ روایت یہ ہے کہ اِس کتاب کا مصنف واقعی نبی تھا۔ خدا نے اِسے تفصیلی رُؤیائیں عنایت کیں جن میں اِس دُنیا کی غیر یہودی سلطنتوں کا واضح خاکہ اور مسیحِ موعود کی آمد کی تصویر دکھائی گئی۔ اِس نظریے پر پہلا حملہ تیسری صدی عیسوی میں ایک مسیحیت مخالف فلسفی پورفیری (‏Porphyry)‏ نے کیا۔ بعد میں سترھویں صدی میں چند یہودیوں نے اور اٹھارہویں صدی میں مسیحی دُنیا میں اُس کے نظریات اپنا لئے گئے۔ عقلیت پسندی کو فروغ ملا تو یہ نظریات مزید پھیلے اور آزاد خیال اور نیم آزاد خیال لوگوں میں مقبول ہوئے۔ میرل ایف۔ اُنگر لکھتے ہیں:‏

’’جدید تنقیدی مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ دانی ایل کی کتاب روایتی نظریے کے مطابق دانی ایل کی تحریر نہیں بلکہ مکابیوں کے دور (‏تقریباً ۱۶۷ ق م)‏ میں لکھی گئی تھی۔‘‘

اِس کتاب کے دانی ایل کی تصنیف ہونے پر بڑے بڑے اعتراضات کا جائزہ لینے سے پہلے ہم چند مثبت شہادتیں دیکھیں گے کہ یہ دانی ایل ہی کی تصنیف ہے۔ 

  1. ہمارے خداوند یسوع مسیح نے اِس کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے واضح طور سے اِسے دانی ایل کی تصنیف قرار دیا (‏متی ۲۴:‏ ۱۵)‏۔ ایمان دار اور سچے مسیحی کے لئے صرف یہ ایک ثبوت ہی کافی ہے۔ 
  2. کتاب میں قدیم بابل اور فارسی مادی دَور کے مقامی رسم و رواج کا رنگ نہایت نمایاں ہے۔ اِس میں مکابی دَور کے فلستین کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی۔ 
  3. صدیوں سے یہودی اور مسیحی دونوں اِس کتاب سے ترقی اور برکت پاتے آئے ہیں۔ لیکن روح القدس نے جس انداز سے دانی ایل کی کتاب کو روشن کیا ہے اُس کو دیکھتے ہوئے اِسے کسی طرح بھی جعلی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ 
  4. قمران کی غار نمبر ۱ سے دانی ایل کی کتاب کا جو قلمی نسخہ ملا ہے اُس کے بارے میں یقین ہے کہ وہ مکابیوں کے دَور میں یا اُس سے پہلے نقل کیا گیا تھا۔ اِس حقیقت کا تقاضا ہے کہ اصل نسخہ اِس سے پہلے زمانے کا تھا۔ 

اعتراض یہ ہے کہ دانی ایل اِس کتاب کا اصل مصنف نہیں۔ اِس اعتراض کے تین پہلو ہیں :‏ لسانی‏، تواریخی اور الٰہیاتی۔

لسانی اعتراض:‏ کہا جاتا ہے کہ دانی ایل چھٹی صدی قبل مسیح کی تصنیف نہیں ہو سکتی کیونکہ اِس میں فارسی‏، بلکہ یونانی کے الفاظ بھی موجود ہیں۔ اور جو ارامی زبان استعمال ہوئی ہے وہ بھی مبینہ طور پر بعد کے زمانے کی ہے۔ 

لیکن چونکہ دانی ایل مادی فارسی دَور (‏۵۳۰ ق م ومابعد)‏ میں زندہ تھا اور درباری اور سرکاری خدمات پر مامور تھا اِس لئے فارسی الفاظ کی موجودگی اِس آزاد خیال اعتراض کے بالکل اُلٹ نکتہ ثابت کرتی ہے۔ یہ امکان نہ ہونے کے برابر ہے کہ دوسری صدی قبل از مسیح میں فلستین میں کوئی فارسی جاننے والا جعلی مصنف ہوا ہو۔ 

جہاں تک یونانی زبان کے الفاظ کا تعلق ہے تو بائبل مقدس کے علما یہ دیکھ کر (‏اعتراض پر)‏ چونک جاتے ہیں کہ پوری کتاب میں یونانی کے صرف تین الفاظ ہیں اور تینوں موسیقی کے سازوں کے نام ہیں۔ یہ ایک جانی اور مانی ہوئی حقیقت ہے کہ دو تہذیبوں کے باہمی اِختلاط (‏بھاری عمل اور ردِّعمل)‏ سے اکثر پہلے ہی ایک تہذیب کی چیزوں کے نام دوسرں تہذیب میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ جس زمانے میں دانی ایل نے لکھا یونانی سلطنت کا عروج ابھی کافی مستقل میں تھا مگر یونانی تہذیب کی اختراعات اور تخلیقات (‏اور اُن کے اثرات)‏ قدیم دُنیا میں پہلے ہی دُور دُور تک پھیل رہے تھے۔ 

جہاں تک ارامی زبان کا تعلق ہے توKitchen اور Kutscherنے ثابت کیا کہ یہ زبان دانی ایل کی شہنشاہیت کے دَور سے پوری پوری مطابقت رکھتی ہے۔ 

تواریخی اعتراض:‏ اِس سلسلے میں راسخ نظریے کے خلاف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ یہودیوں نے دانی ایل کی کتاب کو پرانے عہد نامے کے تیسرے حصے (‏نوشتوں)‏ میں رکھا تھا۔ اِسے انبیا کے صحائف کے ساتھ نہیں رکھا تھا کیونکہ جس زمانے میں دانی ایل نے لکھا اُس وقت مُسلَّمہ کتب کا انبیا کے صحائف کا حصہ مکمل ہو چکا تھا۔ یہ سمجھنا آسان ہے کہ دانی ایل بلاہٹ نہیں بلکہ اپنی خدمت کے باعث نبی ہے۔ پیشے کے لحاظ سے وہ امورِ سلطنت کا ماہر تھا۔ اِس لئے اُسے دوسرے نبیوں مثلاً یسعیاہ‏، یرمیاہ وغیرہ کے ساتھ نہ رکھا گیا۔ 

دانی ایل کے اصل مصنف ہونے پر تواریخی اعتبار سے کئی مبینہ اعتراض اور مسائل اُٹھائے گئے ہیں لیکن قدیم روایت کے ماننے والے علما نے جن کی دیانت اور علمیت پر شک نہیں کیا جا سکتا اِن کے معقول جواب دیئے ہیں۔ اِن علما کے اسمائے گرامی یہ ہیں __ رابرٹ ڈِک وِلسن‏، چارلس باؤٹ فلاور‏، جان ایف۔ وال وُورڈ‏، آر۔ کے۔ ہیریسن اور گلیسن آرچر۔ 

الٰہیاتی اعتراض:‏ علمِ الٰہیات کی رُو سے اعتراض یہ ہے کہ اِس کتاب میں فرشتوں‏، اگلی زندگی (‏قیامت / مُردوں میں سے جی اُٹھنے)‏ اور مسیحِ موعود کے بارے میں اُس وقت کے مطابق حد سے زیادہ برتریا اعلیٰ تر نظریات پائے جاتے ہیں۔ دانی ایل کی کتاب میں اِتنے زیادہ معجزے اور بالکل صحیح پیش گوئیاں ہیں کہ معقول تنقید کو راس نہیں آتیں۔ جس طرح دانی ایل نبی شیروں کی ماند سے صحیح سلامت بچ گیا تھا اُسی طرح دانی ایل کی نبوت سمجھ دار ایمان داروں کے دلوں کی ’’نقادوں کی ماند‘‘ سے صحیح سلامت بچ نکلتی ہے۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

دانی ایل کی کتاب کے زمانۂ تصنیف کا تعین کرتے ہوئے علما چھٹی صدی سے دوسری صدی قبل مسیح تک کے اندازے پیش کرتے ہیں۔ آزاد خیال علما اور اُن کے مَدّاح موجودہ شکل میں کتاب کو مکابیوں کے دَور کی تصنیف قرار دیتے ہیں۔ اُن کی بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ انطاکس اپیفینس کے عہد میں سامی النسل لوگوں کے خلاف ہولناک ظلم و ستم کے دنوں میں یہودیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے ایک کوشش تھی۔ 

جو لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ خدا الہام سے نہ صرف اُن سلطنتوں (‏یونان اور روم)‏ کی پیش گوئیاں کرا سکتا ہے جو مقابلتاً گمنام تھیں بلکہ وہ یونانی دَور کے رُونما ہونے سے صدیوں پہلے اُس کی تفاصیل بھی بتا سکتا ہے (‏باب ۱۱)‏ اُن لوگوں کو یہ راسخ نظریہ قبول کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی کہ دانی ایل نے اپنی نبوت چھٹی صدی قبل مسیح میں غالباً ۵۳۰ ق م کے بعد لکھی۔

اُنگر (‏Unger)‏ نے توجہ دلائی ہے کہ اُن کی مجوزہ بعد کی تاریخ کے باوجود ناقدین اِس نکتے سے نہیں بچ سکے کہ خدا عالمِ کُل اور مستقبل کو دیکھتا ہے۔ 

یاد رکھنا چاہئے کہ دانی ایل کی کتاب کے بارے میں تجویز کی گئی بعد کی تاریخ درست ثابت ہو بھی جائے تو بھی نبوت میں مستقبل کے بارے میں وہ معلومات موجود ہیں جن کو صرف خدا کے الہام سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

ہم اِس کتاب کے مصنف اور سنِ تصنیف کے بارے میں راسخ نظریے کو قبول کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ دانی ایل اُن زیرک‏، ذہین اور خوبصورت نوجوان اسیروں میں سے ایک تھا جنہیں نبوکدنضر بادشاہ اُن دنوں بابل کو لے گیا جب یہوداہ میں یہویقیم بادشاہ حکمران تھا (‏تقریباً ۶۰۴ ق م)‏۔ اُس کے نام کا مطلب ہے‏، یہوداہ میرا منصف ہے۔ اُس کے کردار اور اعمال سے پتا چلتا ہے کہ اُس نے اِس حقیقت کی روشنی میں زندگی بسر کی۔ 

دانی ایل کا منصب:‏ دانی ایل اُمورِ سلطنت میں ماہر تھا۔ وہ نبوکدنضر اور بیلشضرکے دربار میں بہت اعلیٰ اِنتظامی عہدے پر فائز رہا۔ جب مادیوں نے بابل کو فتح کر لیا تو دانی ایل اُن تین وزرائے اعلیٰ میں سے ایک تھا جو دارا بادشاہ کے نائب کی حیثیت سے مملکت کے کرتا دھرتا تھے۔ اُس نے خورس بادشاہ کے ماتحت بھی خدمات انجام دیں جیسا کہ پہلے ذکر ہوا۔ شاید اِسی وجہ سے عبرانی بائبل مقدس میں دانی ایل کو انبیا کے ساتھ نہیں بلکہ نوشتوں کے حصے میں رکھا گیا۔ 

دانی ایل کی خدمات:‏ بہرکیف دانی ایل نبی کی حیثیت رکھتا ہے اور ہمارے خداوند نے اُسے یہی رُتبہ دیا ہے (‏متی ۲۴:‏۱۵ اور مرقس ۱۳:‏۱۴)‏۔ دانی ایل اُن افراد کی مانند ہے جو دُنیاوی ملازمت کرتے ہیں مگر بائبل کے مطالعہ اور منادی کو بھی وقت دیتے ہیں۔ مثال کے طور سر رابرٹ اینڈرسن جو دانی ایل کی کتاب کا بڑا عالم ہوا ہے‏، وہ ملکہ وکٹوریہ کے دَور کے اواخر میں سکاٹ لینڈ یارڈ (‏لندن پولیس کی خصوصی شاخ)‏ کے جرائم کی تفتیش کے شعبے کا سربراہ تھا اور اِس کے ساتھ بائبل مقدس کی وسیع اور بابرکت خدمت بھی کرتا تھا۔ 

دانی ایل کی کتاب کا بیشتر حصہ غیر یہودی عالمی طاقتوں کے بارے میں ہے اِس لئے کوئی تعجب کی بات نہیں کہ دانی ایل ۲:‏۴ سے ساتویں باب کے آخر تک ارامی زبان میں ہے۔ یہ غیر یہودی زبان ہے مگر عبرانی سے ملتی جلتی ہے اور دانی ایل کے زمانے میں بین الاقوامی ابلاغ میں دُور دُور تک استعمال ہوتی تھی جیسے آج کل انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے۔ بعض علما دانی ایل کی نبوت کا خاکہ زبان کی اِس ادل بدل کی بنیاد پر پیش کرتے ہیں۔ 

دانی ایل کا سیاق و سباق:‏ دانی ایل کے پہلے چھے باب بیانیہ ہیں۔ اِن میں نبوت کے موضوعات زیادہ نمایاں نہیں۔ آخری چھے باب زیادہ تر نبوت ہیں۔ اِن میں بیانیہ موضوعات قدرے دبے ہوئے ہیں۔ 

 

خاکہ
        باب
۱۔ دانی ایل اور اُس کے ساتھیوں کی مستحکم وفاداری ۱
۲۔ نبوکدنضر کا چار دھاتوں سے بنے ہوئے بت کا خواب ۲
۳۔ نبوکدنضر کی سونے کی مورت اور جلتی بھٹی ۳
۴۔ نبوکدنضر کا تباہ ہونے والے درخت کا خواب اور اُس کی تعبیر ۴
۵۔ نوشتۂ دیوار سے بیلشضر پر فتوے کا اعلان ۵
۶۔ دارا کا شاہی فرمان اور شیروں کی ماند ۶
۷۔ دانی ایل کا چار حیوانوں کا خواب جو چار عالمی سلطنتوںکی تصویر ہیں ۷
۸۔ دانی ایل کا مینڈھے اور بکرے کی مانند سلطنتوں کا رُؤیا ۸
۹۔ دانی ایل کا رُؤیا کہ ستر ہفتوں تک غیر یہودیوں کو برتریحاصل رہے گی ۹
۱۰۔ خدا کے جلال کا رُؤیا آنے والے واقعات کا خاکہ پیش کرتا ہے ۱۰
۱۱۔ مستقبل قریب کی نبوتیں ۱۱:‏ ۱۔۳۵
  الف۔ مادی فارس پر یونان کی فتح ۱۱:‏ ۱۔۳
  ب۔ یونانی سلطنت کی ٹوٹ پھوٹ ۱۱:‏ ۴۔۳۵
    ‏۱‏ مصر اور ارام (‏شام)‏ کے درمیان جنگیں ۱۱:‏ ۴۔۲۰
    ‏۲‏ شریر اور ظالم انطاکس اپیفینس کا دورِ حکومت ۱۱:‏ ۲۱۔۳۴
۱۲۔ مستقبل بعید کی نبوتیں ۱۱:‏ ۳۶۔۱۲:‏۱۳
  الف۔ مخالفِ مسیح ۱۱:‏ ۳۶۔۴۵
  ب۔ بڑی مصیبت ۱۲