زبُور ۷

زبور ۷:‏ مظلوم کی فریاد۔

اِس کا عبرانی عنوان ہے ’’داؤد کا شگایون جسے اُس نے بنیمینی کوش کی باتوں کے سبب سے خداوند کے حضور گایا۔‘‘ کوش جو اِس غزل کا باعث ہے‏، ساؤل کے گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اور غالباً اُس کا نائب تھا۔ بہرکیف وہ داؤد کا بہت ہی کینہ پرور دشمن تھا۔ انگریزی کے ایک ترجمہ میں شگایون کا مطلب ’’گیان دھیان‘‘ بیان کیا گیا ہے۔

۷:‏ ۱۔۲ بڑی جذباتی التجا سے داؤد اپنے تعاقب کرنے والوں سے رہائی کے لئے دعا کرتا ہے۔ ورنہ اُس کی حالت ایک بے کس برہ کی طرح ہو گی جسے شیر گھسیٹ کر لے جا رہا ہو۔

۷:‏ ۳۔۵ کوش نے داؤد کے جرائم کی ایک طویل فہرست تیار کر رکھی تھی۔ غالباً اس میں ساؤل کی جان لینے کے لئے اُس پر وار کرنے اور بادشاہ کے ذخیرہ پر حملہ کرنے کے الزام بھی شامل ہوں گے۔ لیکن داؤد اپنی بے گناہی کے لئے احتجاج کرتا ہے۔ اُس پر یہ الزام غلط تھا۔ اُس کے ہاتھوں سے بدی نہیں ہوئی تھی۔ اُس نے بادشاہ سے انتقام نہیں لیا تھا‏، حالانکہ اُسے اِس کے لئے موقع بھی ملا تھا۔ اگر فی الحقیقت اُس نے یہ کام کئے تو وہ اِس کے نتائج کو بھگتنے کے لئے تیار تھا یعنی وہ اُس کا پیچھا کریں‏، اُس پر غالب آئیں‏، اُسے ماریں اور موت کے گھاٹ اُتار دیں۔

۷:‏ ۶۔۸ چونکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی‏، اِس لئے وہ دلیری سے خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اپنے غضب میں اُٹھے‏، اُس کے دشمنوں کو سزا دے اور اُس کی بے گناہی کے تحت اُسے بری کرے۔ وہ تصور کرتا ہے کہ خدا نے بہت بڑی عدالت لگائی ہے۔ عدالت کے کمرے میں لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہے۔ یہوواہ مسند پر بیٹھا ہے اور وہ لوگوں کی عدالت کرتا ہے۔ داؤد صرف اِس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ اُس کی راستی اور صداقت کے مطابق اِس کا فیصلہ کیا جائے۔ ہمیں شاید یہ بہت زیادہ خود پسندی اور تکبر کی تصویر نظر آئے‏، لیکن ہمیں یہ ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ داؤد اپنی زندگی کے ہر ایک پہلو میں کلی طور پر راستی کا دعویٰ نہیں کر رہا بلکہ اُن الزامات کے بارے میں بات کر رہا ہے جو اُس پر لگائے گئے۔

۷:‏ ۹۔۱۱ آیت ۹ ہر زمانہ میں خدا کے مظلوم لوگوں کی فریاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ہر سچا شخص اُس دن کے لئے ترستا ہے جب بدی کی حکمرانی کا خاتمہ ہو گا اور راست باز زمین کے وارث ہوں گے۔ وہ دن ضرور آئے گا جب مسیح اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے واپس آئے گا۔ اِس دوران راست باز خدا جو انسان کے خیالوں اور ارادوں کو جانتا ہے‏، راست باز شخص کا محافظ اور اُس کی سپر ہے۔ وہ راست باز منصف بھی ہے جو ہر روز شریروں پر قہر کرتا ہے۔

۷:‏ ۱۲‏،۱۳ خدا کا اسلحہ خانہ‏، اسلحہ سے بھرا پڑا ہے۔ اگر شریر توبہ نہ کرے تو وہ اپنی تلوار کو تیز کرے گا اور اپنی کمان کو سخت کرکے آتشیں تیر برسائے گا۔خدا کے سارے ہتھیار مہلک ہیں۔ 

۷:‏ ۱۴۔۱۶ بالآخر داؤد کو اِس بات کا یقین ہے کہ اُس کے دشمن نے جو کچھ بویا وہی کاٹے گا۔ اُس کا گناہ حمل‏، پیدائش اور موت کے مراحل سے گزرے گا۔ دشمن جب زبور نویس کو برباد کرنے کی سازش تیار کرتا ہے‏، تو یہ حمل ٹھہرنے کی کیفیت کی مانند ہے۔ جلد ہی وہ بُرے تصورات سے پھولنے لگتا ہے۔ اِس کے بعد وہ اپنی مکار تدبیر کو جنم دیتا ہے۔ لیکن یہ تدبیر الٹی اُس کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ وہ اپنے جال میں پھنس جاتا ہے اور جس مصیبت اور تشدد کا اُس نے زبور نویس کے لئے منصوبہ بنایا‏، وہ اُس کے اپنے سرپر آئے گا۔ 

۷:‏۱۷ خدا کے اِس انصاف کے باعث داؤد شکرگزاری سے خداوند کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور خداوند قادرِ مطلق کے نام کی تعریف کرتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ اے خُداوند میرے خُدا! میرا توکل تجھ پر ہے۔ سب پیچھا کرنے والوں سے مجھے بچا اور چھُڑا۔
۲ ایسا نہ ہو کہ وہ شیرببر کی طرح میری جان کو پھاڑے۔ وہ اُسے ٹکڑے ٹکڑے کردے اور کوئی چھُڑانے والا نہ ہو۔
۳ اے خُداوند میرے خُدا! اگر مَیں نے نہ کِیا ہو۔ اگر میرے ہاتھوں سے بدی ہوئی ہو۔
۴ اگر مَیں نے اپنے میل رکھنے والے سے بھلائی کے بدلے بُرائی کی ہو۔ (بلکہ میں نے تو اُسے جو ناحق میرا مُخالف تھا بچایا ہے)
۵ تو دُشمن میری جان کا پیچھا کرکے اُسے آ پکڑے بلکہ وہ میری زندگی کو پامال کرکے مٹی میں اور میری عزت کو خاک میں مِلادے۔(سِلاہ):
۶ اے خُداوند! اپنے قہر میں اُٹھ۔ میرےمخالفوں کے غضب کے مقابلہ میں تُو کھڑا ہو جا اور میرے لئے جاگ۔ تُو نے اِنصاف کا حکم تو دیدیا ہے۔
۷ تیرے چوگرد قوموں کا اجتماع ہو اور تُوا ُنکے اُوپر عالم ِ بالا کو لَوٹ جا۔
۸ خُداوند قوموں کا اِنصاف کرتا ہے۔ اے خُداوند! اُس صداقت و راستی کے مطابق جو مجھ میں ہے میری عدالت کر۔
۹ کاش کہ شریروں کی بدی کا خاتمہ ہو جائے پر صادق کو تُو قیام بخش کیونکہ خُدای ِ صادق دِلوں اور گُردوں کو جانچتا ہے۔
۱۰ میری سپِر خُدا کے ہاتھ میں ہے جو راست دِلوں کو بچاتا ہے۔
۱۱ خُدا صادق مُنصف ہے بلکہ ایسا خُدا جو ہر روز قہر کرتا ہے۔
۱۲ اگر آدمی باز نہ آئے تو وہ اپنی تلوار تیز کریگا۔ اُس نے اپنی کمان پر چِلّہ چڑھا کر اُسے تیار کر لِیا ہے۔
۱۳ اُس نے اُس کے لئے موت کے ہتھیار بھی تیار کِئے ہیں۔ وہ اپنے تِیروں کی آتشی بناتا ہے۔
۱۴ دیکھو اُسے بدی کا دردِ زہ لگا ہے! بلکہ وہ شرارت سے باروار ہوا ور اُس سے جھوٹ پیدا ہوا۔
۱۵ اُس نے گڑھا کھود کر اُسے گہرا کِیا اور اُس خندق میں جو اُس نے بنائی تھی خُود گِرا۔
۱۶ اُس کی شرارت اُلٹی اُسی کے سر پر آئیگی۔اُس کا ظلم اُسی کی کھوپڑی پر نازل ہوگا۔
۱۷ خُداوند کی صداقت کے مطابق میں اُس کا شکرکرونگا اور خُداوند تعالیٰ کے نام کی تعریف گاؤنگا۔