زبور ۹۹ : قدوس، قدوس، قدوس
۹۹: ۱ بادشاہ کی قدوسیت اِس سارے زبور میں سرایت کرتی ہے (آیات ۳،۵،۹)۔ زبور نویس دیکھتا ہے کہ مسیح نے پہلے سے ہی اپنی بادشاہی قائم کر لی ہے۔ وہ کروبیوں پر تخت نشین ہے۔ اِس کا غالباً یہ مطلب ہے کہ علامتی طور پر کروبی اُس کے تخت کو تھامے ہوئے ہیں۔ اُن فرشتوں کا انسان کی طرح جسم ہے اور اُن کے پَر بھی ہیں۔ اِس تخت نشین بادشاہ کا منظر اِس قدر پُرجلال ہے کہ قومیں کانپیں گی اور زمین خوف سے لرزے گی۔
۹۹: ۲، ۳ جب خداوند صیون میں اپنے تخت سے حکومت کرے گا تو وہ اپنی قدرت میں عظیم اور مہیب ہو گا۔ وہ زمین کی سب قوموں پر سربلند حکمران ہے۔ اِس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے وہ اُس کے بزرگ اور مہیب نام کی تعریف کریں کہ وہ پاک اور قدوس ہے۔
۹۹: ۴، ۵ یہ زور آور بادشاہ انصاف پسند بھی ہے۔ دنیا کے حاکموں اور بڑے لوگوں میں ایسا کم دیکھا گیا ہے۔ قوت اور حقوق بالآخر ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ راستی، انصاف اور راست بازی کا راج ہے۔ یہ ایسے اصول ہیں جو کبھی بھی منسوخ نہیں کئے جا سکتے۔ اُس کے لوگ اُس کے پاؤں کی چوکی پر سجدہ کرتے ہوئے اُس کی تمجید کریں۔ بعض دیگر حوالہ جات میں چوکی کو مختلف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے مثلاً عہد کا صندوق (۱۔تواریخ ۲۸: ۲)، آرام گاہ (زبور ۱۳۲: ۷) ، صیون (نوحہ ۲:۱)، زمین (یسعیاہ ۶۶:۱) یا حتیٰ کہ خدا کے دشمن (زبور ۱۱۰:۱)۔ یہاں غالباً صیون میں مَقدِس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
۹۹: ۶، ۷ یہ وہی بادشاہ ہے جس نے وفاداری سے ماضی میں اپنی قوم کی راہنمائی کی۔ موسیٰ اور ہارون اُس کے کاہنوں میں سے تھے اور سموئیل ایک عظیم مردِ دعا تھا۔ (موسیٰ اور سموئیل شریعت میں مندرج قوانین کے مطابق کاہن نہیں تھے، لیکن اِلٰہی اجازت سے دونوں کہانت کی خدمت سرانجام دیتے تھے)۔ یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جب اُنہوں نے خداوند کے حضور فریاد کی تو اُس نے اُس کو جواب دیا۔ اُس نے موسیٰ اور ہارون سے بادل کے ستون میں باتیں کیں اور کوہِ سینا پر اُنہیں شریعت دی۔ گو وہ ناکامل طور پر اُس کی آواز کے شنوا ہوئے اور اُنہوں نے جزوی طور پر اُس کی شریعت کی پابندی کی۔
۹۹: ۸ لیکن خدا نے اُن کی دعاؤں کا جواب دیا۔ اِس میں یہ یقین دہانی ہے کہ وہ اب بھی ایسا کرتا رہے گا۔ وہ ایسا خدا تھا جو معاف کرتا ہے، گو اُس نے اُن کے بُرے کاموں کو نظرانداز نہیں کیا۔ اگرچہ سزا معاف ہو گئی، تو بھی اِس زندگی میں نتائج باقی رہے۔ مثلاً خدا کے فضل نے مریبہ کے چشمہ پر موسیٰ کو معاف تو کر دیا، لیکن خدا نے اپنے انتظام کے تحت اُسے موعودہ ملک میں داخل نہ ہونے دیا۔
یہ بعید از قیاس نہیں ہے کہ یہ تینوں ہیرو اسرائیل قوم کے ایماندار حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں، اور جو کچھ اُن کے لئے درست تھا، وہ خدا کے عہد میں شامل تمام وفادار لوگوں کے لئے درست ہے۔ اُنہوں نے خدا کا نام لیا اور بچ گئے اور جو کوئی اب بھی اُس کا نام لے گا نجات پائے گا۔
۹۹: ۹ آیات ۳،۵،۹ میں خداوند تعالیٰ کی قدوسیت کا سہ گنا ذکر ہمیں یسعیاہ ۶: ۳ اور مکاشفہ ۴:۸ کی یاد دلاتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند سلطنت کرتا ہے قومیں کانپیں۔ وہ کرُوبیوں پر بیٹھتا ہے ۔ زمین لرزے۔
۲ خُداوند صِیُؔون میں بُزرگ ہے اور وہ سب قوموں پر بُلند و بالا ہے۔
۳ وہ تیرے بزرگ اور مُہیب نام کی تعریف کریں۔ وہ قُدوُّس ہے۔
۴ بادشاہ کی قوت اِنصاف پسند ہے تُو راستی کو قائم کرتا ہے۔ تُو ہی نے عدل اور صداقت کو یعقُؔوب میں رائج کیا۔
۵ تُم خُداوند ہمارے خُدا کی تمجید کرو۔ اور اُسکے پاؤں کی چوکی پر سِجدہ کرہ۔ وہ قدوس ہے۔
۶ اُسکے کاہنوں میں سے موؔسیٰ اور ہارُؔون نے اور اُسکا نام لینے والوں میں سے سموئیؔل نے خُداوند سے دُعا کی اور اُس نے اُنکو جواب دیا۔
۷ اُس نے بادل کے ستون میں سے اُن سے کلام کیا اُنہوں نے اُسکی شہادتوں کو اور اُس آئین کو جو اُس نے اُنکو دیا تھا مانا۔
۸ اَے خُداوند ہمارے خُدا! تُو اُنکو جواب دیتا تھا۔ تُو وہ خُدا ہے جو اُنکو مُعاف کرتا رہا۔ اگرچہ تُو نے اُنکے اعمال کا بدلہ دیا۔
۹ تُم خُداوند ہمارے خُدا کی تمجید کرو اور اُسکے مُقدس پہاڑ پر سجدہ کرو۔ کیونکہ خُداوند ہمارا خپدا قُدوُّس ہے۔