زبور ۲۶: جدائی کا زبور
زبور ۲۶ کو پڑھتے ہوئے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسی زندگی کا حقیقی بیان ہے جو دُنیا سے علیٰحدہ ہو کر خدا کے لئے مخصوص ہو چکی ہے۔ اِس زبور کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ داؤد پر یہ الزام لگایا گیا کہ اُس نے بے دین لوگوں سے بھائی چارہ قائم کیا اور اِس بنا پر وہ یہوواہ سے مخلص نہیں ہے۔ یہاں وہ اپنے دفاع کے لئے جواب دیتا ہے۔ یہاں وہ اپنی بے گناہی کا دعویٰ نہیں کرتا بلکہ اُن خصوصی الزامات کے لئے جو اُس پر لگائے گئے، صفائی پیش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ مجرم نہیں ہے۔
۲۶: ۱۔۳ وہ اپنا مقدمہ خداوند کے حضور پیش کرکے درخواست کرتا ہے کہ وہ اُسے راست باز ٹھہرائے۔ اپنے الزام لگانے والوں کے متضاد، داؤد فی الحقیقت اخلاقی دیانت داری سے چلتا ہے۔ وہ مسلسل خداوند پر بھروسا رکھتے ہوئے چلتا رہا۔ دھات صاف کرنے کی زبان استعمال کرتے ہوئے وہ اپنے آپ کو خدا کے حوالے کرتا ہے کہ وہ اُسے پرکھ لے کہ آیا کھرا اور مخلص ہے اور اُسے بھٹی میں ڈال کر دیکھ لے کہ کہیں اُس میں میل تو نہیں ہے۔ جہاں تک اُس کے دل (جذبات) اور دماغ (مقاصد) کا تعلق ہے وہ پُراعتماد تھا کہ اُسے راست قرار دیا جائے گا کیونکہ خداوند کی شفقت ہمیشہ اُس کے سامنے تھی اور وہ خدا کے کلام کے مطابق وفاداری کی راہوں پر چلتا رہا۔
۲۶: ۴،۵ بے ہودہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنے کا مطلب ہے اُن کی رفاقت کو پسند کرنا۔ داؤد نے ایسا بالکل نہیں کیا تھا۔ ریاکاروں کے ساتھ جانے کا مطلب ہے دھوکا بازوں اور مکاروں کے کام میں رضاکارانہ طور پر شریک ہونا۔ داؤد اِس کا بھی مرتکب نہیں ہوا تھا۔ اِس کے برعکس وہ جرائم پسند لوگوں کی رفاقت سے متنفر تھا اور اُس نے بدکرداروں کے ساتھ دوستی سے گریز کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔
۲۶: ۶۔۸ وہ نہ صرف بدکاروں سے علیٰحدہ ہے بلکہ اُن سے علیٰحدہ ہو کر وہ خدا کی طرف رجوع ہوا۔ خداوند کے مذبح تک پہنچنے سے قبل داؤد کو اپنے آپ کو پرکھ کر تسلی ہوئی کہ اُس کے ہاتھ گناہ اور ناپاکی سے صاف ہیں۔ ایک پاک صاف عبادت گزار کی حیثیت سے داؤد نے دل سے شکرگزاری کی اور یہوواہ کے عجیب کاموں کا بیان کیا۔ اُس کے لئے عبادت ایک بے کیف رسم نہیں تھی کہ اُسے صبر سے برداشت کیا جائے بلکہ وہ فی الحقیقت خداوند کے گھر کو عزیز رکھتا تھا جہاں جلالی بادل خدا کی جلالی حضوری کی علامت تھا۔
۲۶: ۹۔۱۱ چونکہ داؤد نے اِس دُنیا میں شریروں کے گروہ سے اتحاد کرنے سے انکار کر دیا تھا، اِس لئے اب وہ دعا کرتا ہے کہ وہ آئندہ دُنیا میں اُن کے انجام سے بچ جائے۔ وہ اِس دُنیا میں گناہ گاروں ، قاتلوں اور رشوت خوروں کے کاموں سے گریز کرتا رہا، اِس لئے اب وہ التجا کرتا ہے کہ وہ موت میں اُن کی رفاقت سے بچ جائے۔ چونکہ اُس نے راست بازی کی زندگی گزاری تھی، اِس لئے اب وہ دعا کرتا ہے کہ اُسے شریروں کے انجام سے بچایا جائے اور اُس کے ساتھ خدا کے فضل کے مطابق سلوک کیا جائے۔
۲۶: ۱۲ اپنی بے داغ زندگی کی ہموار زمین پر کھڑے ہو کر داؤد اب جماعت میں خداوند کو مبارک کہتا ہے۔
ہمیں نوٹ کرنا چاہئے کہ علیٰحدگی کا ایک ایسا پہلو ہے جو اِس زبور میں بیان نہیں کیا گیا۔ جہاں تک گناہ گاروں کی بدی کا تعلق ہے، ہمیں اُن میں شمولیت کرنے سے علیٰحدہ رہنا چاہئے، لیکن جہاں تک اُنہیں مسیح کے بارے میں بتانے کی ضرورت ہے ہمیں اُن سے علیٰحدہ نہیں رہنا چاہئے۔ خداوند یسوع مسیح خود گناہ گاروں کا دوست تھا۔ وہ نہ صرف اُنہیں قبول کرتا تھا بلکہ اُن کے ساتھ کھاتا پیتا تھا۔ لیکن اُس نے کبھی بھی اُن کے ساتھ سمجھوتا نہ کیا بلکہ اُنہیں اُن کے گناہ اور معافی کی ضرورت کے بارے میں بتایا۔ بشپ رائل نے یسوع کے شمعون کے گھر میں جانے کے بارے میں لکھا:
اُس نے اپنے باپ کے کام کو فریسی کی میز پر بھی جاری رکھا۔ اُس نے فریسی کو اُس کے گناہ کے بارے میں بتایا۔ اُس نے فریسی کو گناہوں کی مفت معافی کی ماہیت کے بارے میں بتایا۔ اُس نے ایمان کی نجات بخش ماہیت کی وضاحت کی۔ جو مسیحی غیرنجات یافتہ لوگوں سے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں وہ ضرور ہمارے خداوند کی روح میں اُن کے گھروں میں جائیں اور اگر اُن کی گفتگو اور رویہ اُس جیسا ہو تو بے شک اِس عمل کو جاری رکھیں۔ لیکن کیا اُن کی گفتگو اور رویہ واقعی اُن کے غیرنجات یافتہ دوستوں کی میز پر ایسا ہوتا ہے جیسا مسیح کا رویہ شمعون کی میز پر تھا؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر ہم سب کو غور و خوض کرنا چاہئے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند میرا انصاف کر کیونکہ مَیں راستی سے چلتا رہاہوں۔ اور مَیں نے خُداوند پر بے لغزش تُوکل کِیا ہے۔
۲ اور خُداوند! مجھے جانچ اور آزما۔ میرے دِل ودماغ کو پرکھ۔
۳ کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سامنے ہے اور مَیں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔
۴ میں بیہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھا۔ مَیں ریاکاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاؤنگا۔
۵ بدکرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔ مَیں شریروں کے ساتھ نہیں بیٹھونگا۔
۶ مَیں بے گُناہی میں اپنے ہاتھ دھوؤنگا اور اَے خُداوند! مَیں تیرے مذبح کا طواف کرُونگا۔
۷ تاکہ شکرگذاری کی آواز بلند کرُوں۔ اَے خُداوند! میں تیری سکونت گاہ اور تیرے جلال کے خیمہ کو عزیز رکھتا ہوں۔
۸
۹ میری جان کو گنہگاروں کے ساتھ اور میری زندگی کو خُونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔
۱۰ جن کے ساتھوں میں شرارت ہے اور جن کا دہنا ہاتھ رشوتوں سے بھرا ہے۔
۱۱ پر میں تو راستی سے چلتا رہونگا۔ مجھے چھُڑالے اور مجھ پر رحم کر۔
۱۲ میرا پاؤں ہموار جگہ پر قائم ہے۔ میں جماعتوں میں خُداوند کو مُبارک کہونگا۔