زبُور ۳۸

زبور ۳۸ :‏ گناہ کے لئے غم

اگر یہ حوالہ جات نہ ہوتے کہ ’’میرے گناہ‘‘ (‏آیت۳)‏ ’’میری بدی‘‘ (‏آیت۴)‏‏، ’’میری حماقت‘‘ (‏آیت۵)‏ اور ’’میری بلا‘‘ (‏آیت ۱۱)‏ تو ہم شاید یہ سوچتے کہ اِس زبور میں ہمارے نجات دہندہ کے دُکھوں کو بیان کیا گیا ہے۔ ایک طرح سے باقی ماندہ زبان کے زیادہ تر حصہ کا اطلاق یسوع مسیح پر کیا جا سکتا ہے کیونکہ اُس نے خدا اور انسان کے ہاتھوں دُکھ برداشت کیا۔ لیکن اِس زبور کا بنیادی تعلق داؤد کی زندگی سے ہے۔ اِس میں کسی ایسے وقت کا ذکر ہے جب اُس نے شدید جسمانی اور ذہنی تکلیف کا شکار ہو کر پہچان لیا کہ یہ اُس کے کسی گناہ کا نتیجہ تھا۔

۳۸:‏ ۱۔۴ سب سے پہلے داؤد اپنی تکلیف اور مصیبت پر غور کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اُسے اپنے قہر میں جھڑکا اور اپنے غضب میں تنبیہ کی ہے۔ لہٰذا وہ خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُسے اِس کیفیت سے رہائی دے۔ قادر مطلق کے تیر زبور نویس کے دل و دماغ میں چبھ گئے ہیں اور خدا کا ہاتھ اُس پر بھاری رہا ہے۔ الٰہی غضب کے باعث اُس کا سارا بدن بیمار ہے۔ یہ بیماری اُس کی ہڈیوں میں سرایت کر چکی ہے — اور یہ سب کچھ اُس کے گناہ کے باعث تھا۔ بدیوں کے سلسلے میں کسی طرح کی بہانہ بازی نہیں ہو سکتی — وہ پورے طور پر مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔ بہت بڑی موجوں کی طرح وہ اُس پر سے گزر گئی ہیں۔ بہت بھاری بوجھ کی مانند اُنہوں نے اُس کے زور کو ختم کر ڈالا ہے۔

۳۸:‏ ۵۔۸ سڑے ہوئے اور بدبودار زخموں نے اُس کے بدن کو کچل ڈالا ہے اور اُسے کسی طرح کا شک نہیں کہ یہ سب کچھ کیوں ہوا۔ وہ شدید درد میں مبتلا ہے‏، کمزوری سے جھک گیا ہے اور مجسم غم دکھائی دیتا ہے۔ بہت زیادہ بخار سے اُس کا بدن ٹوٹ رہا ہے اور اُس کے جسم کا کوئی حصہ نہیں بچا۔ اُس میں کوئی جدوجہد باقی نہیں ہے۔ وہ مکمل طور پر کچلا گیا ہے‏، اِس لئے وہ اِس کے علاوہ اَور کچھ نہیں کر سکتا کہ کراہتے ہوئے اپنے احساسات کا اظہار کرے۔

۳۸:‏ ۹۔۱۱ اِس احساس سے داؤد کو کچھ سکون ملتا ہے کہ خداوند اُس کے دل کی بے چینی کو جانتا اور اُس کے جذبات سے واقف ہے جنہیں وہ بیان نہیں کر سکتا۔ لیکن اب بھی اُس کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے‏، تیزی سے اُس کی طاقت گھٹتی جاتی ہے اور اُس کی آنکھوں کی روشنی ختم ہو رہی ہے۔ اُس کے عزیز اور دوست اُس سے گریز کرتے ہیں گویا کہ وہ کوڑھی ہو‏، حتیٰ کہ اُس کے رشے دار اُس کی بیمار پُرسی کے لئے آنے سے پس و پیش کرتے ہیں۔ 

۳۸:‏ ۱۲۔۱۴ اور نہ اُس کی جان کے خواہاں لوگوں نے ہی اپنی سازشیں‏، دھمکیاں اور دشمنی ترک کی ہے۔ لیکن داؤد اِن سب دھمکیوں کو بہرے کی مانند سنتا ہی نہیں اور جہاں تک اپنے دفاع اور اپنی جرأت یا ملامتوں کا تعلق ہے وہ چپ رہتا ہے۔

۳۸:‏ ۱۵۔۱۷ تاہم خواہ اُس کی حالیہ صورتِ حال کتنی تاریک کیوں نہ ہو‏، وہ نا اُمید نہیں ہے۔ اُسے ابھی تک اعتماد ہے کہ خدا اُسے جواب دے گا۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اُس کے دشمن اُس کی مکمل تباہی پر فتح کا شادیانہ نہ بجائیں۔ لیکن ابھی تک وہ ایسے درد سے نڈھال ہے جو انسانی برداشت سے باہر ہے۔

۳۸:‏ ۱۸ صاف گوئی اور شکستہ دلی سے داؤد اپنی بدی کا اقرار کرتے ہوئے کہتا ہے ’’مجھے افسوس ہے۔‘‘ وہ اپنے گناہ پر لیپا پوتی کی کوشش نہیں کرتا۔ خدا کسی بھی شخص کو انکار نہیں کرے گا جو خلوص دلی سے اُس کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے۔ خدا نے تحریری طور پر بیان دیا ہے کہ جو اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُن کو ترک کرتا ہے اُس پر رحمت ہو گی (‏امثال ۲۸:‏ ۱۳)‏۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو سب لوگوں کا انجام مایوس کن ہوتا۔

۳۸:‏ ۱۹‏، ۲۰ داؤد کے خیالات ایک بار پھر اپنے دشمنوں کی طرف واپس جاتے ہیں۔ داؤد کمزور اور بیمار ہے جبکہ وہ چست اور زبردست ہیں۔ تب وہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا کی تنبیہ حق بجانب ہے‏، لیکن احتجاج کرتا ہے کہ اُس کے دشمن بلاوجہ اُسے تنگ کر رہے ہیں۔ اُس نے اُن پر مہربانیاں کیں‏، لیکن اِس کے بدلے اُنہوں نے اُس سے نفرت کی۔ اور اُن کی دشمنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ داؤد خدا اور نیکی کی پیروی کرتا ہے۔ 

۳۸:‏ ۲۱‏، ۲۲ چنانچہ وہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُسے نہ چھوڑے‏، بلکہ اُس کے قریب رہے اور اُس کی رہائی کے لئے جلدی کرے۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند اپنے قہر میں مجھے چھڑک نہ دے اور اپنے غضب میں مجھے تنینہ نہ کر۔
۲ کیونکہ تیرے تِیر مجھ میں لگے ہیں۔ اور تیرا ہاتھ مجھ پر بھاری ہے۔
۳ تیرے قہر کے سبب سے میری جسم میں صحت نہیں اور میرے گناہ کے باعث میری ہڈیوں کو آرام نہیں۔
۴ کیونکہ میری بدی میرے سرسے گذرگئی اور وہ بڑے بوجھ کی مانندمیرے لئے نہایت بھاری ہے۔
۵ میری حماقت کے سبب سے میرے زخموں سے بدبُو آتی ہے۔ وہ سٹر گئے ہیں۔
۶ میں پُر درد اور بہت جھکا ہوا ہوں۔ میں دن بھر ماتم کرتا پھرتا ہوں۔
۷ کیونکہ میری کمر میں سوزش ہی سوزش ہے اور میرے جسم میں کچھ صحت نہیں۔
۸ میں نحیف اور نہایت کچلا ہوا ہوں۔ اور دِل کی بے چینی کے سبب سے کراہتا رہا۔
۹ اَے خُداوند! میری ساری تمنا تیرے سامنے ہے اور میرا کراہنا تجھ سے چِھپا نہیں۔
۱۰ میرا دِل دھڑکتا ہے۔ میری طاقت گھٹی جاتی ہے۔ میری آنکھوں کی روشنی بھی مجھ سے جاتی رہی۔
۱۱ میرے عزیز اور دوست میری بلا میں الگ ہوگئے اور میرے رشتہ دار دُور جا کھڑے ہوئے۔
۱۲ میری جان کے خواہاں میرے لئے جال بچھاتے ہیں اور میری نُقصان کے طالب شرارت کی باتیں بولتے اور دِن بھر مکرو فریب کے منصوبے باندھتے ہیں۔
۱۳ پر میں بہرے کی مانند سُنتا ہی نہیں۔ میں گونگے کی مانند مُنہ نہیں کھولتا۔
۱۴ بلکہ میں اُس آدمی کی مانند ہوں جسے سُنائی نہیں دیتا اور جس کے مُنہ میں ملامت کی باتیں نہیں۔
۱۵ کیونکہ اَے خُداوند! مجھے تجھ سے اُمید ہے۔ اَے خُداوند میرے خُدا! تُو جواب دیگا۔
۱۶ کیونکہ میں نے کہا کہ کہیں وہ مجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔ جب میرا پاؤں پھسلتا ہے تو وہ میرے خلاف تکبر کرتے ہیں۔
۱۷ کیونکہ میں گرنے ہی کو ہوں اور میرا غم برابر میرے سامنے ہے۔
۱۸ اِس لئے کہ میں اپنی بدی کو ظاہر کرونگا اور اپنے گناہ کے باعث غمگین رہونگا۔
۱۹ لیکن میرے دُشمن چست اور زبردست ہیں اور مجھ سے ناحق عداوت رکھنے والے بہت ہوگئے ہیں۔
۲۰ جو نیکی کے بدلے بدی کرتے ہیں وہ بھی میرے مخالف ہیں کیونکہ میں نیکی کی پیروی کرتا ہوں۔
۲۱ اَے خُداوند! مجھے چھوڑ نہ دے۔ اَے خُدا! مجھ سے دُور نہ ہو۔
۲۲ اَے خُداوند! اَے میری نجات! میری مدد کے لئے جلدی کر