زبور ۱۳۳ : اتحاد کی تعریف
یہ زبور مختصر ہے، لیکن یہ ادبی اور روحانی طور پر ایک ہیرا ہے جو مقدار کے لحاظ سے کم مگر قیمت کے لحاظ سے زیادہ ہے۔
زبور نویس کے چار بڑے نکات ہیں: یہ اچھی اور خوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مل کر رہیں۔ یہ اتحاد خوشبودار ہے۔ اِس میں تازگی ہے۔ یہ خدا کی برکت کی یقینی ضمانت ہے۔
۱۳۳:۱ بھائیوں کا آپس میں اتحاد ایک قابلِ دید منظر ہے۔ اتحاد کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر ایک شے کو ایک نظر سے دیکھیں۔ بنیادی اہمیت کے معاملات پر وہ متفق ہیں، جبکہ ثانوی اہمیت کے حامل معاملات پر نظریاتی اختلاف کے لئے آزادی ہے۔ سب باتوں میں محبت کی روح ہونی چاہئے۔ ہم سب ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ یہ باہم مل کر کام کرنے میں رکاوٹ کا باعث بنے۔ اگرچہ بدن کے تمام اعضا مختلف ہیں، تاہم وہ سر کی فرماں برداری میں کام کرتے ہوئے متحد ہیں۔ ہر بات میں اتفاق رائے کے بغیر بھی اتحاد ہو سکتا ہے۔ خدا کی یہ کبھی بھی خواہش نہیں تھی کہ ہر ایک شخص کم اہمیت کے امور پر متفق ہو۔ بنیادی باتوں پر متفق ہونا ہی کافی ہے۔ باقی ہر بات پر ہم اختلاف رائے کر سکتے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کی مخالفت نہ کریں۔ اتحاد کے حقیقی دشمن حسد، عیب جوئی، بہتان تراشی اور محبت کا فقدان ہیں۔
۱۳۳: ۲ اتحاد اُس بیش قیمت تیل کی مانند ہے جو ہارون کو کاہن کے طور پر مسح کرنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا (خروج ۳۰: ۲۲۔۳۰)۔ یہ اُس کے سر پر ڈالا گیا اور یہ بہتا ہوا اُس کی داڑھی پر آ گیا۔ اِس تیل کی خوشبو سے نہ صرف کاہن لطف اندوز ہوا بلکہ آس پاس کا ہر شخص اِس سے فیض یاب ہوا۔ یہ خوشبودار تیل نازل ہونے والے روح القدس کی خدمت کی تصویر پیش کرتا ہے۔ وہ اُس وقت نازل ہوتا ہے جب خدا کے لوگ خوشی سے باہم مل کر رہتے ہیں اور اپنے آس پاس اپنی گواہی کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔
۱۳۳: ۳ اتحاد سے تازگی حاصل ہوتی ہے۔ ’’یہ حرمون کی اوس کی مانند ہے جو صیون کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔‘‘ زبور نویس تصور کرتا ہے کہ کوہِ حرمون دُور دراز پہاڑوں کے لئے ٹھنڈی اور تازگی بخش نمی کا ماخذ ہے۔ اوس روح القدس کی علامت ہے جو متحدہ بھائیوں کی تازگی کو زمین کی انتہا تک پہنچاتا ہے۔ کوئی شخص اندازہ نہیں لگا سکتا کہ خدا اور ایک دوسرے سے رفاقت رکھنے والے ایمانداروں کے اثرات کتنی دُور تک پہنچ سکتے ہیں۔
آخری بات یہ ہے کہ جہاں بھائی اور بہنیں مل کر رہتے ہیں وہاں خدا یہ حکم دیتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے برکت کا باعث ہوں۔ پنتکوست کی مثال لیجئے۔ شاگرد ہم آہنگی ، صلح اور دعا میں متحد اور روح القدس کے وعدے کے منتظر تھے۔ اچانک خدا کا روح پوری معموری سے اُن پر نازل ہوا تو وہ انجیل کی تازگی اور خوشبو کو لے کر یروشلیم، یہودیہ، سامریہ اور پھر زمین کی اِنتہا تک پہنچے۔
یہ برکت ہمیشہ کی زندگی ہے۔ اِس کے دو معانی ہو سکتے ہیں۔ جب خدا کے لوگوں میں اتحاد ہوتا ہے تو وہ زندگی سے حقیقی معنوں میں لطف اندوز ہوں گے۔ ساتھ ہی وہ ایک وسیلہ بن جائیں گے جس کے ذریعے زندگی دوسروں کو حاصل ہو گی۔
مقدس کتاب
۱ دیکھو ! کیسی اچھی اور خُوشی کی بات ہے کہ بھائی باہم مِل کر رہیں۔
۲ یہ اُس بَیش قیمت تیل کی مانند ہے جو سر پر لفگایا گیا اور بہتا ہوا داڑھی پر آگیا بلکہ اُسکے پیراہن کے دامن تک جاپہنچا۔
۳ یا حرمؔون کی اوس کی مانند ہے جو صیِوُؔن کے پہاڑوں پر پڑتی ہے۔ کیونکہ وہیں خُداوند نے برکت کا یعنی ہمیشہ کی زندگی کا حکم فرمایا۔