زبور ۸۶: دلائل کے ساتھ دعا
اِس زبور سے متعلق قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ داؤد جو بات کرتا ہے، اُس کے لئے دلائل دیتا ہے، خواہ اُس کی بات میں التجا ہو یا ستائش۔ ہم درج ذیل طریق سے اِس کی وضاحت کر سکتے ہیں۔
| التجا | دلیل | |
| ۸۶:۱ | کہ خدا اُس کی سنے | زبور نویس کی بے بسی اور ضرورت |
| ۸۶:۲ الف | حفاظت کے لئے (آیات ۴ اور۱۶ میں لقب ’’بندہ‘‘ کی تکرار ملاحظہ فرمائیے۔) | ایک پاک شخص کی حیثیت سے اُس کا مقام |
| ۸۶: ۲ب | جسمانی نجات کے لئے | کوئی واضح دلیل نہیں دی گئی، لیکن یہ اِس جملہ سے ظاہر ہوتا ہے ’’اے میرے خدا!‘‘ |
| ۸۶: ۳ | پُرفضل غور و خوض کے لئے | داؤد کا دن بھر دعا کرنا۔ |
| ۸۶:۴ | خوشی اور شادمانی کے لئے | کسی اَور کے بجائے اُس کی خداوند میں اُمید۔ |
| ۸۶:۵ | اِس آیت میں گذشتہ التجاؤں کے لئے ایک اضافی دلیل ہے، یا اِس کا آیت ۶ کی دعا سے تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔اُن سب پر جو اُس سے دعا کرتے ہیں بھلائی، معافی اور شفقت نازل ہوتی ہے۔ | |
| ۸۶: ۶ | خداوند اُس کی سنے | |
| ۸۶: ۷ | مصیبت کے دن مدد | یہ حقیقت ہے کہ خدا سنتا اور دعا کا جواب دیتا ہے۔ |
زبور نویس اگلی آیات میں ستائش کرتا ہے۔
| ستائش | دلیل | |
| ۸۶: ۸ | خداوند کی شخصیت اور کاموں کا کوئی ثانی نہیں۔ | |
| ۸۶: ۹ | وہ اِس لائق ہے کہ سب قومیں اُس کی تعریف کریں۔ | |
| ۸۶: ۱۰ | خدا بزرگ ہے۔ اُس کے کام عجیبوغریب ہیں۔ اور وہی خدائے واحد ہے۔ | |
| التجا | دلیل | |
| ۸۶: ۱۱ | خداوند کی راہ کی تعلیم کے لئے التجا۔ | تاکہ زبور نویس راستی سے خداوند تعالیٰ کی فرماں برداری میں چل سکے۔ ایسے دل کے لئے جو کلی طور پر خداوند کی فرماں برداری اور تعظیم کر سکے۔ |
| ستائش | دلیل | |
| ۸۶: ۱۲،۱۳ | یہاں داؤد محض اپنے عزم کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنے پورے دل سے خداوند کی تعریف کرے گا اور ابد تک اُس کے نام کی تمجید کرے گا۔ | پاتال کی تہ سے نکالنے کے لئے خداوند کی بڑی شفقت کے لئے۔ اگر ہم اِس زبور کا مسیح پر اطلاق کریں، تو یہ اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی طرف اشارہ ہے۔ |
۸۶: ۱۴۔۱۶ باقی ماندہ آیات میں زبور نویس کی بہت بڑی مصیبت کو بیان کیا گیا ہے۔ تندخو(غضب ناک) جماعت اور تشدد کرنے والوں نے اُسے جان سے مارنے کے لئے سازش کر رکھی ہے۔ اُن لوگوں کے پاس خدا کے لئے کوئی وقت نہیں ہے، لیکن داؤد خداوند کو جانتا ہے اور وہ اِن پریشان کن لمحات میں اِس بات سے اپنے آپ کو تسلی دیتا ہے کہ خدا رحیم و کریم ہے اور وہ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی ہے۔ اِس لئے وہ خدا سے التجا کرنے میں پُراعتماد ہے کہ وہ رحم سے اُس کی طرف متوجہ ہو، اُسے قوت بخشے اور اپنی لونڈی کے بیٹے کو بچا لے۔ بعض لوگ ’’اپنی لونڈی کے بیٹے‘‘ کے الفاظ سے یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جس کا مطلب ہے ’’تیری جائیداد‘‘، جیسا کہ لونڈی کے بیٹے کے لئے معاشرتی تصور تھا۔ جو اِس زبور کو مسیح سے متعلق تصور کرتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اِس حوالے کا تعلق کنواری مریم سے ہے۔
۸۶: ۱۷ بالآخر زبور نویس التجا کرتا ہے کہ خداوند اُسے اپنی حمایت کا کوئی حتمی نشان دے۔ تب اُس کے دشمن جو غلطی پر تھے، محسوس کریں گے کہ خدا نے داؤد کی کیسے مدد کی اور اُسے تسلی دی۔
ہم نے شروع میں ذکر کیا تھا کہ اِس زبور میں اکثر دعاؤں اور حمد کے لئے دلیلیں پیش کی گئی ہیں۔ اِس کی دو اَور نمایاں خصوصیات ہیں جن کا ذکر کرنا لازم ہے۔ اوّل، داؤد نے کتابِ مقدس کے دیگر حصوں کا اقتباس کیا ہے۔ وہ بائبل کی آیات کو منتخب کرکے دعا یا حمد کرتا ہے۔ دوم، الٰہی نام ’’ادونائی‘‘ کا سات بار (آیات ۳،۴،۵،۸،۹،۱۲ اور ۱۵ میں) استعمال کیا گیا ہے۔ اِس کا ترجمہ ’’رب‘‘ کیا گیا ہے۔ خدا ترس یہودی، یہوواہ کے بجائے اِس لقب کو استعمال کرتے تھے۔ کتب مقدسہ کے قدیم نگران جب پڑھتے تھے تو لفظ یہوواہ کی جگہ ’’ادونائی‘‘ پڑھتے تھے کیونکہ وہ یہ پاک ترین نام اپنے منہ پر لانے سے ڈرتے تھے۔
خداوند تعالیٰ کے پاک نام کا خوف ماننے کے لئے دل کی یکسوئی کے سلسلے میں ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ لکھتا ہے:
ہر جگہ خدا کے لوگوں میں اِس بات کی کمی ہوتی ہے۔ ہم کتنا وقت بے شمار معمولی قسم کی مصروفیات میں ضائع کر دیتے ہیں جن سے خدا کے لئے ہماری گواہی غیر موثر رہ جاتی ہے۔ کتنے کم لوگ رسول کے ہمنوا ہو کر کہہ سکتے ہیں کہ ’’میری ایک ہی منزلِ مقصود ہے۔‘‘ ہم سڑک پر گامزن ہیں، لیکن جگہ بہ جگہ پھولوں پر سے تتلیاں پکڑنے کے لئے رُک جاتے ہیں اور اِس لئے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کرتے۔ ابلیس یہ دیکھ کر کس قدر حیران ہو گا کہ ہم ’’دنیا کی بادشاہتوں اور اُن کی شان و شوکت‘‘ سے تو منہ موڑ لیتے ہیں، لیکن بچوں کی طرح چھوٹی چھوٹی مصروفیات میں اُلجھ جاتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! اپنا کان جھُکا اور مجھے جواب دے۔ کیونکہ میَں مسکین اور محتاج ہُوں۔
۲ میری جان کی حفاظت کر کیونکہ میَں دءندار ہوں۔ اَے میرے خُدا! اپنے بندہ کو جِسکا توکُل تجھ پر ہے بچا لے۔
۳ یا رب! مجھ پر رحم کر کیونکہ میَں دن بھر تجھ سے فریاد کرتا ہوُں۔
۴ یارب! اپنے بندہ کی جان کو شاد کردے۔ کیونکہ میَں اپنی جان تیری طرف اُٹھاتا ہوُں۔
۵ اِسلئے کہ تُو یارب! نیک اور مُعاف کرنے کو تیار ہے۔ اور اپنے سب دُعا کرنے والوں پر شفقت میں غنی ہے۔
۶ اَے خُداوند! میری دُعا پر کان لگا۔ اور میری منّت کی آواز پر توّجہ فرما۔
۷ میَں اپنی مُصیبت کے دِن تجھ سے دُعا کرونگا۔کیونکہ تُو مجھے جواب دے گا۔
۸ یا رب! معبُودوں میں تجھ سا کوئی نہیں اور تیری صعنتیں بے مثال ہیں۔
۹ یارب! سب قومین جِنکو تُو نے بنایا آکر تیرے حضُور سجدہ کریں گی۔اور تیرے نام کی تمجید کریں گی۔
۱۰ کیونکہ تُو بزرگ ہے اور عجیب و غریب کام کرتا ہے۔ تُو ہی واحد خُدا ہے۔
۱۱ اَے خُداوند! مجھکو اپنی راہ کی تعلیم دے۔ میَں تیری راستی میں چلونگا۔ میرے دِل کو یکسُوئی بخش تاکہ تیرے نام کا خُوف مانوں۔
۱۲ یارب! میرے خُدا! میں پورے دِل سے تیری تعریف کرونگا۔ میَں ابد تک تیرے نام کی تمجید کروں گا۔
۱۳ کیونکہ مجھ پر تیری بڑی شفقت ہے اور تُو نے میری جان کو پاتال کی تہ سے نکالا ہے۔
۱۴ اَے خُدا ! مغرور میرے خلاف اُٹھے ہیں اور تُند خُو جماعت میری جان کے پیچھے پڑی ہے اور اُنہوں نے تجھے اپنے سامنے نہیں رکھا۔
۱۵ لیکن تُو یارب! رحیم و کریم خُدا ہے۔ قہر کرنے میں دھیما اور شفقت و راستی میں غنی۔
۱۶ میری طرف متُوجّہ ہو اور مجھ پر رحم کر ۔ اپنے بندہ کو اپنی قُوت بخش اور اپنی لَونڈی کے بیٹے کو بچا لے ۔
۱۷ مجھے بھلائی کا کوئی نشان دکھا۔ تاکہ مجھ سے عداوت رکھنے والے اِسے دیکھکر شرمِندہ ہوں۔ کیونکہ تو نے اَے خُداوند! میری مدد کی اور مجھے تسلی دی ہے۔