زبُور ۷۰

زبور ۷۰:‏ جلدی مدد کر!

زبور ۷۰ کے بیشتر حصے میں زبور ۴۰ :‏ ۱۳۔۱۷ کو دہرایا گیا ہے۔ اِس کے عنوان میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ داؤد کا مزمور ہے یاد گار کے لئے۔ چار باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ 

جلدی مدد کر (‏۷۰:‏۱)‏ 

مورگن کہتا ہے کہ یہ ’’پریشانی اور فکر مندی کی بہتات کے نتیجے میں سسکیوں کی آواز ہے۔‘‘ پہلی آیت سے ہم یقیناًیہ تاثر لیتے ہیں کہ داؤد خداوند سے التجا کر رہا ہے کہ اُسے چھڑانے کے لئے جلدی کرے۔

پوری طرح سزا دے (‏۷۰:‏ ۲‏،۳)‏

اِس موقعے پر سب سے اہم بات یہ ہے کہ اُس کے دشمنوں کو شکستِ فاش دی جائے۔ وہ اُن پر الزام لگاتا ہے کہ وہ اُسے قتل کرنے کے درپے ہیں۔ وہ اُسے نقصان پہنچا کر خوش ہوتے اور مصیبت میں دیکھ کر قہقہہ لگاتے ہیں۔ اِس کے بدلے میں وہ التجا کرتا ہے کہ وہ بالکل دم بخود رہ جائیں۔ وہ پسپا اور رُسوا ہوں اور اپنی رسوائی کی وجہ سے پریشان ہو جائیں۔

خداوند کی مسلسل تمجید ہوتی رہے (‏۷۰:‏ ۴)‏

یہاں خیال کا تسلسل یہ ہے کہ اگر خدا زبور نویس کی رہائی کے لئے آتا ہے‏، تو اِس کے نتیجہ میں بہت زیادہ تمجید ہو گی۔ خداوند کے تمام طالب اُس کی مدد کے لئے خوش و خرم ہوں گے اور نجات کے عظیم خدا کی حیثیت سے اُس کی پرستش کریں گے۔

جلدی مدد کر (‏۷۰:‏۵)‏

یہ محروم و مفلس ایک بار پھر فوری مخلصی کے لئے فریاد کرتا ہے۔ گو داؤد کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اعتماد میں کافی زیادہ ترقی کر چکا ہے‏، تاہم اُس کا خداوند پر یہ ایمان ہے کہ وہ اُس کا مددگار اور چھڑانے والا ہے۔ ایسا ایمان کبھی بھی اجر سے محروم نہیں رہتا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا!مجھے چھُڑانے کے لئے ۔ اَے خُداوند! میری مدد کے لئے جلدی کر۔
۲ جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپے ہیں وہ سب شرمِندہ اور خجل ہوں۔ جو میرے نُقصان سے خُوش ہیں وہ پسپا اور رُسوا ہو۔
۳ اہا ہا ہا کرنے والے اپنی رُسوائی کی وجہ سے پسپا ہوں۔
۴ تیرے سب طالب تجھ میں خُوش و خُرّم ہوں تیری نجات کے عاشق ہمیشہ کہا کریں خُدا کی تمجید ہو۔
۵ مر میَں غریب اور محتاج ہُوں۔ اَے خُدا! میرے پاس جلد آ میرا مددگار اور چھُڑانے والا تُو ہی ہے۔ اَے خُدا دیر نہ کر!۔