زبور ۱۴۹ : خدا کی تعریف
اِس زبور کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں (آیات ۱۔۶ الف) مقدسین گاتے ہیں۔ دوسرے حصے میں (آیات ۶ب۔۹) وہ حکومت کرتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب خداوند یسوع دنیا میں واپس آ کر حکومت کرے گا جس کے لئے عرصہ دراز سے انتظار تھا۔
۱۴۹: ۱۔۳ بنی اسرائیل تخلیق، مخلصی اور حکمرانی کا نیا گیت گاتے ہیں۔ وہ یہوواہ میں خوش ہیں کہ وہ اُن کی فطری اور روحانی تخلیق کا بانی اور اُن کاجلالی بادشاہ ہے۔
وہ اُس کی حمد کرتے ہوئے نہ صرف گیت گاتے ہیں بلکہ ناچتے بھی ہیں۔ یہ کیا ہے؟ ایمانداروں کا رقص؟ ہاں پاکیزگی اور خوشی سے خدا کے حضور ناچنا۔ حقیقی خوشی اور ستائش کے اظہار کے طور پر ناچنا خدا کے ہاں پسندیدہ ہے۔ لیکن ہم اِس آیت کو دورِ حاضر میں مروجہ رقص کو جائز قرار دینے کے لئے استعمال نہیں کر سکتے۔ رقص کے استعمال اور اُس کے غلط استعمال میں فرق ہے۔ زبور نویس صرف اُسی حد تک بات کرتا ہے جس کے لئے خداوند نے اجازت دی ہے۔ سازوں کی موسیقی کے لئے بھی یہ درست ہے۔ اگر دف اور بربط کے جذبات ہوتے تو وہ بھی خداوند تعالیٰ کی مدح سرائی کی آرزو کرتے۔ اکثر اوقات اِنہیں نفسانی خواہشات کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔ اِن کا مناسب استعمال اچھا ہے جبکہ اِن کا غلط استعمال خطرناک ہے۔
۱۴۹: ۴۔۶ الف یہ سب ہنگامہ کیوں ہے؟ یہ سب خوشی کی موسیقی کیوں ہے؟ کیونکہ خداوند اپنے بحال شدہ لوگوں سے خوشنود ہے۔ اُس نے اپنے وفادار بقیہ کو فتح کا سہرا عطا کیا ہے۔ بہت بڑی مصیبت ختم ہو چکی ہے، بارش کے بعد آسمان صاف ہو چکا ہے۔
چونکہ لوگوں کا جلال کے بادشاہ کے ساتھ تعلق ہے اِس لئے لوگوں کا اُس جلال پر فخر کرنا واجب ہے جو ابھی اُنہیں بھی حاصل ہوا ہے۔ اِنہیں دن کے وقت اپنے تختوں پر بیٹھ کر یا رات کے وقت اپنے بستروں پر بیٹھ کر مدح سرائی کرنے کی اُن کے پاس بہت سی وجوہات ہیں۔ یہ نہایت ہی مناسب ہے کہ وہ اپنے تمام سُروں میں خدا کی تمجید کریں۔
۱۴۹: ۶ب۔۸ آیت ۶ میں ایک اچانک تبدیلی ہے۔ اِس مقام سے آخر تک اسرائیل عدالت کرتے ہوئے منصف کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مسیح کی دوسری آمد پر اُس کے دشمنوں کی تباہی کی طرف اشارہ ہو۔ خداوند عدالت کرے گا لیکن اُس کی قوم بھی عدالت کے کام میں شریک ہو گی۔ لیکن میرے خیال کے مطابق ہزار سالہ بادشاہت کے دوران بنی اسرائیل قوموں کے سردار کی حیثیت سے کردار ادا کریں گے۔ اُس دَور میں خداوند یسوع لوہے کے عصا سے حکومت کرے گا (مکاشفہ ۲: ۲۷)۔ رسول تختوں پر بیٹھ کر اسرائیل کے بارہ قبیلوں کا انصاف کریں گے (متی ۱۹: ۲۸)۔ اور اسرائیل بھی غیر قوموں پر حکمرانی کرنے کے لئے شامل ہو گا (دانی ایل ۷: ۲۲)۔
چنانچہ مقدسین کے ہاتھوں میں دو دھاری تلوار ہو گی اور وہ حسب ضرورت قوموں سے انتقام لیں گے اور اُمتوں کو سزا دیں گے۔ باغی بادشاہ زنجیروں سے جکڑے جائیں گے۔ یہ کلی طور پر راستی اور صداقت کی حکمرانی ہو گی۔
۱۴۹: ۹ اُس دن اسرائیل قوم کا عظیم کردار یہ ہو گا کہ وہ ہر طرح کی نافرمانی اور تخریب کاری کی فوری سزا دے گی۔ عہد جدید کے مقدسین بھی آنے والی مسیح کی حکومت میں شریک ہوں گے۔ اِس کے بارے میں ہم ۱۔کرنتھیوں ۶: ۲،۳ میں پڑھتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند کی حمد کرو۔ خُداوند کے حُضُور نیا گیت گاؤ۔ اور مُقدسوں کے مجمع میں اُسکی مدح سرائی کرو۔
۲ اِسرائؔیل اپنے خالق میں شادمان رہے۔ فرزندانِ صیِوُؔن اپنے بادشاہ کے سبب سے شادمان ہوں۔
۳ وہ ناچتے ہوئے اُسکے نام کی ستایش کریں۔ وہ دف اور ستاِر پر اُسکی مدح سرائی کریں۔
۴ کیونکہ خُداوند اپنے لوگوں سے خُوشنود رہتا ہے۔ وہ حلیموں کو نجات سے زینت بخشیگا۔
۵ مُقدس لوگ جلال پر فخر کریں۔ وہ اپنے بِستروں پر خُوشی سے نغمہ سرائی کریں۔
۶ اُنکے مُنہ میں خُدا کی تمجید اور ہاتھ میں دو دھاری تلوار ہو۔
۷ تاکہ قوموں سے انتقام لیں اور اُمتوں کو سزا دیں۔
۸ اُنے بادشاہوں کا زنجیروں سے جکڑیں اور اُنکے سرداروں کو لوہے کی بَیڑیاں پہنائیں۔
۹ تاکہ اُنکو وہ سزا دیں جو مرقوم ہے۔ اُسکے سب مُقدسوں کو یہ شرف حاصل ہے۔ خُداوند کی حمد کرو۔