زبُور ۸۱

زبور ۸۱ :‏ نرسنگوں کی عید

اُنگر اِس یہودی تعطیل کو درج ذیل الفاظ میں بیان کرتا ہے:‏

(‏نرسنگوں کی عید)‏ عید کے طور پر منائی جاتی تھی یعنی ہر طرح کے کام سے آرام کیا جاتا تھا اور مقدس مجمع یادگار کے طور پر نرسنگے پھونکتا تھا۔ مابعد ایام میں جب نذر کی قربانی گزرانی جاتی تھی تو لاوی زبور ۸۱ گاتے تھے جبکہ شام کی قربانی کے وقت زبور ۲۹ گایا جاتا تھا۔ یروشلیم میں صبح سے شام تک نرسنگے بجائے جاتے تھے … ربیوں کا یہ اعتقاد تھا کہ اُس دن خدا سب لوگوں کی عدالت کرتا ہے اور وہ اُس کے سامنے سے گلّے کی طرح گزرتے ہیں جیسے چرواہے کے سامنے سے بھیڑیں گزرتی ہیں۔

۸۱:‏ ۱۔۵ الف افتتاحیہ آیات میں بنی اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ خدا کی حمد کریں جو اُن کی قوت کا سرچشمہ ہے اور یعقوب کے خدا کے سامنے خوشی کا نعرہ ماریں‏، جو ہر طرح کی بخشش کا خدا ہے۔ لاویوں کو دعوت دی گئی ہے کہ موسیقی کے سازوں کے ساتھ خوشی کے نغمے میں شامل ہوں۔ اور کاہن ساتویں نئے چاند کے طلوع ہونے کا نرسنگے کے ذریعے اعلان کریں کیونکہ خدا نے قوم اسرائیل کے لئے اِسے تعطیل مقرر کیا ہے (‏احبار ۲۳:‏ ۲۳۔۲۵؛ گنتی ۲۹:‏۱)‏۔ اُس نے اِسے یوسف میں شہادت ٹھہرایا (‏یہاں یوسف سے مراد ساری قوم ہے)‏‏، جب وہ ملکِ مصر کے خلاف نکلا۔ یہاں اِس کا یہ مطلب ہے کہ مصر کے ساتھ مقابلے اور اپنی قوم کو اِس ملک سے نکالنے کے بعد خدا نے اِس عید کو مقرر کیا۔

۸۱:‏ ۵ب آیت ۵ کے آخر میں ہم پڑھتے ہیں ’’ مَیں نے اُس کا کلام سنا جس کو مَیں جانتا نہ تھا۔‘‘ اگر متکلم زبور نویس یا اسرائیل ہو تو اِس غیر ملکی زبان سے کیا مراد ہے؟

  1. اِس سے مراد مصریوں کی غیر ملکی زبان ہے (‏زبور ۱۱۴:‏۱)‏۔
  2. مصر سے مخلصی کے دوران خدا اسرائیل سے ہم کلام ہوتا ہے۔ یہ اُنکی روحوں کے لئے خدا کا ایک نیا مکاشفہ ہے۔
  3. خدا کی باتیں جو زبور کی آئندہ آیات میں موجود ہیں۔

اگر خدا متکلم ہے تو یہاں تصور شاید یہ ہو:‏

’’ مَیں نے اُس (‏یعنی مصری قوم)‏ کا کلام سنا جس کو مَیں نہیں جانتا (‏تسلیم کرتا)‏ تھا۔‘‘ ولیمز اِس کی یوں وضاحت کرتا ہے‏، ’’اُس نے مصریوں کو اپنی بھیڑوں کے طور پر قبول نہ کیا۔‘‘

۸۱:‏ ۶‏،۷ خدا نے اپنے لوگوں کے کندھوں پر سے مصریوں کی مشقت کے بوجھ کو اُتار دیا تھا۔ اُن کے ہاتھ مٹی اور اینٹوں سے بھری ٹوکریاں اُٹھانے سے چھوٹ گئے۔ اُس نے اُنہیں رعد کے پردہ میں سے جواب دیا۔ یہ اُس بادل کی طرف اشارہ ہے جو اُن کی راہنمائی کرتا اور اُنہیں تحفظ فراہم کرتا تھا یا اِس سے مراد کوہِ سینا پر شریعت کا دیا جانا ہے۔ اُس نے اُنہیں مریبہ کے چشمہ پر آزمایا جہاں موسیٰ نے چٹان کو مارا اور خدا کو ناراض کیا۔

۸۱:‏ ۸۔۱۰ اُس نے اُنہیں آگاہ کیا تھا کہ برکت حاصل کرنے کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اُس واحد اور سچے خدا سے وفادار رہیں۔ اُس نے واضح طور پر بت پرستی سے منع کیا۔ اُنہیں یاد دلانے کے بعد کہ وہ کیسے اُن کو ملکِ مصر سے نکال لایا‏، اُس نے اُن کے ساتھ نہایت خوبصورت وعدہ کیا کہ اگر وہ اپنا منہ خوب کھولیں تو وہ اُسے بھر دے گا۔ بعض سُست مبشر پیغام کی تیاری کی کمی کو درست ثابت کرنے کے لئے اِسے غلط طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُنہیں صرف اپنا منہ کھولنے کی ضرورت ہے تو خداوند اُنہیں پیغام دے گا۔ لیکن یہاں قطعاً یہ مطلب نہیں ہے۔ یہاں یہ تصور ہے کہ اگر وہ خدا کے حضور بہت بڑی درخواستیں لے کر آئیں تو وہ اُنہیں قبول کرے گا۔ وہ اپنی فرماں بردار قوم سے کسی بھلائی کو نہیں روک رکھے گا۔ گابلین اِس کا یوں بہتر طور پر بیان کرتا ہے:‏

اِس آیت کا کون پورے طور پر مطلب سمجھ سکتا ہے! وہ قادرِ مطلق خداوند ہے‏، خداوند کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہے۔ وہ کہتا ہے کہ تُو جس قدر منہ کھولے مَیں اُسے بھر دوں گا۔ نئے عہدنامہ میں وہ کہتا ہے کہ میرے نام سے جو کچھ مانگو گے‏، مَیں تمہیں دوں گا۔ اُس کا صرف یہ تقاضا ہے کہ اُس کی فرماں برداری کریں اور اپنے قلب و ذہن کو اُس کے تابع کر دیں۔

۸۱:‏ ۱۱۔۱۶ لیکن خدا تعالیٰ کے لوگوں نے اُس کی آواز نہ سنی اور اسرائیل نے اُس کی فرماں برداری نہ کی۔ چنانچہ اُس نے اُنہیں اُن کی اپنی روشوں پر چلنے دیا اور اُنہیں اپنی مشورت پر چلنے کی مصیبت کے حوالے کر دیا۔ لیکن اُنہیں ترک کرنے سے بھی خداوند کو دلی دُکھ ہوا۔ وہ اُن کی مسلسل حماقت اور سرکشی پر غم کھاتا ہے۔ اگر وہ صرف اُس کی بات سنتے‏، تو وہ بہت جلد اُن کے دشمنوں کو مغلوب کر دیتا۔ اُن کے دشمن کانپتے ہوئے اُس کے پاس آتے اور اسرائیل کی خوش حالی میں کوئی مخل نہ ہوتا۔ وہ اُن کو اچھے سے اچھا گیہوں کھلاتا ۔۔ یعنی وہ بہترین روحانی اور جسمانی نشو و نما پاتے اور اُنہیں وہ مزیدار شہد کھلاتا جو فلستین کی چٹانوں میں لگے ہوئے چھتوں سے حاصل ہوتا ہے۔

مقدس کتاب

۱ خُدا کے حضور جو ہماری قُوت ہے بلند آواز سے گاؤ۔یعقُؔوب کے خُدا کے حضور خُوشی کا نعرہ مارو۔
۲ نغمہ چھیڑو اور دف لاؤ اور دِلنواز سِتار اور بربط۔
۳ نئے چاند اور پورے چاند کے وقت ہماری عید کے دن نرسِنگاہ پھُونکو۔
۴ کیونکہ یہ اِسرائؔیل کے لئے آئین اور یعقُوؔب کے خُدا کا حُکم ہے۔
۵ اِسکو اُس نے یُوؔسُف میں شہادت ٹھہرایا۔ جب وہ مُلکِ مصؔر کے خلاف نِکلا میَں نے اُسکا کلام سُنا جسکو میَں جانتا نہ تھا ۔
۶ میَں نے اُسکے کندھے پر سے بوجھ اُتار دیا۔ اُسکے ہاتھ ٹوکری ڈھونے سے چھُوٹ گئے۔
۷ تُو نے مُصیبت میں پُکارا اور میَں نے تجھے چُھڑایا۔ میَں نے رعد کے ہردہ میں سے تجھے جواب دیا میَں نے تجھے مریؔبہ کے چشمہ پر آزمایا۔
۸ اَے میرے لوگو! سُنو۔ میَں تمکو آگاہ کرتا ہوں۔ اَے اِسؔرائیل! کاشکہ تُو میری سُنتا!
۹ تیرے درمیان کوئی غیر معبود نہ ہو اورتُو کسی غیر معبود کو سِجدہ نہ کرنا۔
۱۰ خُداوند تیرا خُدا میں ہوں۔جو تجھے مُلکِ مصؔر سے نِکال لایا۔ تُو اپنا مُنہ خُوب کھول اور میں اُسے بھر دوں گا۔
۱۱ پر میرے لوگوں نے میری بات نہ سُنی اور اِسراؔئیل مجھ سے رضا مند نہ ہؤا۔
۱۲ پس میَں نے اُنکو اُنکے دِل کی بٹ پر چھوڑ دیا تاکہ وہ اپنے ہی مشوروں پر چلیں،
۱۳ کاشکہ میرے لوگ میری سُنتےاور اِسراؔئیل میری راہوں پر چلتا!
۱۴ میَں جلد اُنکے دُشمنوں کو مغلوب کردیتا۔ اور اُنکے مُخالِفوں پر اپنا ہاتھ چلاتا۔
۱۵ خُداوند سے عداوت رکھنے والے اُسکے تابعِ ہو جاتے اور اُنکا زمانہ ہمیشہ تک بنا رہتا۔
۱۶ وہ اِنکو اچھےّ سے اچھّا گیہُوں کھِلاتا اور میَں تجھے چٹان میں کے شہد سے سیر کرتا۔