زبور ۲۴: جلال کا بادشاہ کون ہے؟
زبور ۲۴ میں اُس جلالی واقعہ کا ذکر ہے جو بڑی مصیبت کے دَور کے اختتام تک پہنچنے پر وقوع پذیر ہو گا۔ خدا کی عدالت ختم ہو چکی ہے، خداوند یسوع مسیح زمین پر واپس آ چکا ہے، اُس نے اپنے سارے دشمنوں کو شکست دے دی ہے، اور اب وہ یروشلیم کی طرف بڑھ رہا ہے تاکہ بادشاہوں کے بادشاہ اور خداوندوں کے خداوند کی حیثیت سے حکومت کرے۔ یہ ایک ایسا فتح کا جلوس ہے جسے دُنیا نے اِس سے قبل کبھی نہیں دیکھا۔
۲۴: ۱، ۲ جونہی ہجوم شہر کے قریب پہنچتا ہے، تو اعلان ہوتا ہے کہ زمین اور اُس کی معموری خداوند کی ہے۔ یہ اِلٰہی ملکیت اور مسیح کے حکومت کرنے کے پورے اختیار کا بیان ہے۔ اِس کے بعد اِس کی وجہ بیان کی گئی ہے۔ مسیح نے جہان کو بنایا۔ اُس نے سمندر کے پانی کو ایک جگہ رکھا اور خشک زمین کو نمودار کیا۔ اُس نے دریاؤں کو بنایا، بعض کو زمین پر اور بعض کو زمین کے نیچے۔ چنانچہ اب وہ اپنی ملکیت کا دعویٰ کرنے کے لئے آ رہا ہے جس کے لئے صدیوں سے انکار کیا جاتا رہا۔
۲۴: ۳۔۶ اگلی چار آیات میں بیان کیا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ بادشاہت میں داخل ہوں گے اور امن و خوش حالی کی ہزارسالہ بادشاہت سے لطف اندوز ہوں گے۔ یہ اسرائیل کے بقیہ کے ایماندار اور نجات یافتہ غیرقوم ہیں جو یروشلیم میں عبادت کے لئے جائیں گے۔ شاید یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے اچھے کردار کے باعث بادشاہت میں داخل ہونے کے قابل ہیں، لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اُن کا کردار نئی پیدائش کا نتیجہ ہے، کیونکہ جب تک کوئی شخص نئے سرے سے پیدا نہیں ہوتا، وہ نہ تو خدا کی بادشاہت کو دیکھ سکتا ہے اور نہ اُس میں داخل ہی ہو سکتا ہے (یوحنا ۳: ۳،۵)۔ یہ لوگ وہ برگزیدہ مقدسین ہیں جو بڑی مصیبت سے نکل کر آئے ہیں اور جنہوں نے اپنے جامے برہ کے خون کے وسیلے سے سفید کئے ہیں۔
کردار کی چار خوبیوں کا خصوصی طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ اُن کے ہاتھ صاف ہیں، دوسرے لفظوں میں اُن کے اعمال راست اور بے عیب ہیں۔ اُن کا دل پاک ہے یعنی اُن کی نیت خالص ہے اور اُن کے ذہنوں میں کوئی بگاڑ نہیں ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں جھوٹ میں شریک نہیں ہوتے۔ اور بالآخر وہ جھوٹ کی حمایت کرکے انصاف کا خون نہیں کرتے۔ اُن کے ہاتھ، اُن کے دل ، اُن کی روح اور اُن کے ہونٹ سب راست ہیں۔
اِس قسم کے لوگ مسیح کی ہزار سالہ بادشاہت میں رعایا ہوں گے۔ گو اِس سے قبل بے دین لوگوں نے اُن کا مذاق اڑایا، لیکن اب اُن کی نجات کا خدا اُنہیں بری کرے گا۔ یہ ہزار سالہ بادشاہت کے شہری ہوں گے، یعنی وہ لوگ جو خدا کے دیدار کے خواہاں ہیں، وہ لوگ جنہیں خدا سے فضل ملا ہے— اُس خدا سے جو غیر مستحق لوگوں کو پیار کرتا ہے۔
۲۴: ۷،۸ مَیں تصور کرتا ہوں کہ جلوس وادیِ قدرون کو عبور کرتے ہوئے آیات ۱۔۶ کے الفاظ گا رہا ہے۔ لیکن اب نقیب کی پکار سے گیت میں وقفہ آتا ہے۔ وہ یروشلیم کے پھاٹکوں پر دربانوں کو پکارتا ہے، ’’اے پھاٹکو! اپنے سربلند کرو۔ اے ابدی دروازو! اونچے ہو جاؤ اور جلال کا بادشاہ داخل ہو گا۔‘‘ شہر کی دیوار پر متعین چوکیدار بڑے موثر لہجے میں بلند آواز سے پوچھتا ہے ’’یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟‘‘ بڑی بلند اور صاف آواز سے جواب ملتا ہے، ’’خداوند جو قوی اور قادر ہے۔ خداوند جو جنگ میں زور آور ہے۔‘‘
۲۴: ۹،۱۰ اب وہ شہر کے قریب پہنچ چکے ہیں اور پھاٹکوں کے کھلنے میں ابھی پس و پیش ہو رہی ہے۔ چنانچہ نقیب پھر حکم دیتا ہے کہ جلال کے بادشاہ کے لئے دروازے کھول دیئے جائیں۔ اُس سے پھر پوچھا جاتا ہے کہ یہ بادشاہ کون ہے۔ وہ جواب دیتا ہے ’’لشکروں کا خداوند۔ وہی جلال کا بادشاہ ہے۔‘‘
تب بادشاہ اپنی وفادار رعایا کے ساتھ، اپنے چھیدے ہوئے ہاتھوں میں عالم گیر حکومت کا عصا تھامنے کے لئے شہر میں داخل ہوتا ہے۔
ایف۔بی۔ مائر کہتا ہے:
اِس زبور کی اُس وقت تکمیل ہوتی ہے جب یسوع ہمارے دلوں میں ہمارے بادشاہ کی حیثیت سے داخل ہوتا ہے اور اِس کی حتمی تکمیل اُس وقت ہو گی جب زمین اور اِس پر رہنے والے لوگ اُسے خداوند کی حیثیت سے خوش آمدید کہیں گے۔
مقدس کتاب
۱ زمین اور اُس کی معمُوری خُداوند ہی کی ہے۔جہاں اور اُس کے باشندے بھی۔
۲ کیونکہ اُس نے سمُندروں پر اُس کی بُنیاد رکھی اور سَیلابوں پر اُسے قائم کیا۔
۳ خُداوند کے پہاڑ پر کون چڑھیگا اور اُس کے مقدس مقام پر کون کھڑا ہوگا؟
۴ وہی جس کے ہاتھ صاف ہیں اور جسکا دِل پاک ہے۔ جس نے بطالت پر دِل نہیں لگایا اور مکر سے قسم نہیں کھائی۔
۵ ہاں اپنے نجات دینے والے خُدا کی طرف سے صداقت۔
۶ یہی اُس کی طالبوں کی پُشت ہے۔ یہی تیرے دیدار کے خواہاں ہیں۔یعنی یعقوب۔ (سِلاہ)
۷ اَے پھاٹکو! اپنے سر بلند کرو۔ اَے ابدی دروازو! اُونچے ہو جاؤ اور جلال کا بادشاہ داخل ہوگا۔
۸ یہ جلال کا بادشادہ کون ہے؟ خُداوند جو قوی اور قادر ہے۔ خُداوند جو جنگ میں زورآور ہے۔
۹ اَے پھاٹکو! اپنے سربلند کرو۔ اَے ابدی دروازو! اُ ن کو بلند کرو اور جلال کا بادشاہ داخل ہوگا۔
۱۰ یہ جلال کا بادشاہ کون ہے؟ لشکروں کاخُداوند۔ وہی جلال کا بادشاہ ہے۔ (سِلاہ)