زبُور ۱۱۹

زبور ۱۱۹ :‏ کتابِ مقدس کے بارے میں

اِسے بائبل کے سنہری حروفِ تہجی کہا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِسے بائیس حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے‏، ہر حصہ عبرانی کے ایک حرفِ تہجی سے منسلک ہے۔ ہر حصہ کی آٹھ آیات ہیں اور ہر حصہ عبرانی کے ایک حرف سے شروع ہوتا ہے۔ یوں عبرانی میں پہلے حصے کی ہر ایک آیت آلف سے شروع ہوتی ہے‏، دوسرے حصہ میں ہر ایک آیت حرف بیتھ سے شروع ہوتی ہے اور یوں یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔

اِس طویل زبور میں سوائے چار آیات کے ہر ایک آیت میں خدا کے کلام سے متعلق کوئی نہ کوئی بیان ہے۔ یہ چار آیات ۸۴‏،۱۲۱‏،۱۲۲ اور ۱۳۲ ہیں۔ 

شاید مصنف حروفِ تہجی کو استعمال کرنے سے یہ کہنا چاہتا ہو کہ خدا کے کلام کی کاملیت اور معموری کو بیان کرتے ہوئے انسانی زبان کی تمام ممکنات ختم ہو جاتی ہیں۔ عہد جدید میں ایک ایسا ہی خیال پیش کیا گیا ہے۔ ہمارے خداوند نے اپنے آپ کو الفا اور اومیگا کہا (‏مکاشفہ ۱:‏۸)‏۔ یہ یونانی حروفِ تہجی کے پہلے اور آخری حروف ہیں۔ یعنی وہ حروفِ تہجی کے ہر ایک حرف سے ظاہر کی ہوئی بھلائی اور کاملیت کے لحاظ سے سب کچھ ہے۔ 

زبور میں کوئی بھی دو آیات ایک جیسا خیال پیش نہیں کرتیں۔ ہر ایک آیت میں کوئی نہ کوئی فرق پایا جاتا ہے۔ زبور ۱۱۹ کے سلسلے میں سی۔ایس۔لوئیس نے کہا:‏

’’یہ نظم کشیدہ کاری کی مانند ہے جو ایک ایک بخیہ کے ذریعہ گھنٹوں کی محنت و مشقت سے وجود میں آتی ہے۔‘‘

ایف۔ ڈبلیو۔ گرانٹ نے اِس زبور کے مختلف حصوں کے درج ذیل عنوانات دیئے ہیں:‏

 

آیات ۱۔۸ کلام کی فرماں برداری کی برکتیں
آیات ۹۔۱۶ کلام کے ذریعے پاکیزگی
آیات ۱۷۔۲۴ کلام کے ذریعے امتیاز کی نعمت کا حصول
آیات ۲۵۔۳۲ کلام کے ذریعے شخصی کم مائیگی کا احساس
آیات ۳۳۔۴۰ کلام کی قدرت
آیات ۴۱۔۴۸ کلام کے ذریعے فتح
آیات ۴۹۔۵۶ کلام کے ذریعے آرام اور اطمینان
آیات ۵۷۔۶۴ کلام میں ثابت قدمی
آیات ۶۵۔۷۲ اچھے اور بُرے اوقات میں کلام بیش قیمت ہے۔
آیات ۷۳۔۸۰ کلام کے ذریعے حصولِ بصیرت
آیات ۸۱۔۸۸ مصیبت زدہ کا کلام کے ذریعے قائم رہنا
آیات ۸۹۔۹۶ کلام کی ابدیت
آیات ۹۷۔۱۰۴ کلام کے ذریعے حکمت
آیات ۱۰۵۔۱۱۲ تمام موقعوں کے لئے کلام روشنی اور چراغ ہے۔
آیات ۱۱۳۔۱۲۰ شریر اور کلام
آیات ۱۲۱۔۱۲۸ کلام کے ذریعے علیٰحدگی اور مخلصی
آیات ۱۲۹۔۱۳۶ کلام کے ذریعے خوشی اور رفاقت
آیات ۱۳۷۔۱۴۴ کلام کے لئے غیرت
آیات ۱۴۵۔۱۵۲ کلام کے ذریعے تجربہ
آیات ۱۵۳۔۱۶۰ کلام کے ذریعے نجات
آیات ۱۶۱۔۱۶۸ کلام کی کاملیت
آیات ۱۶۹۔۱۷۶ کلام کے ذریعے دعا اور ستائش

اِس زبور میں خدا کے کلام کے ساتھ ایسی محبت کا اظہار کیا گیا ہے جو ہمارے نجات دہندہ نے انسان کی حیثیت سے محسوس کی۔ یہ زبور حقیقی اسرائیل کی زبان بھی ہو گا جب وہ خدا کی طرف رجوع لائیں گے جس کی باتوں کو اُنہوں نے عرصہ دراز سے نظر انداز کر رکھا تھا۔ 

۱۱۹:‏ ۱ وہ شخص مبارک اور خوش نصیب ہے جس کی زندگی خداوند کے کلام کے مطابق ہے۔ خواہ وہ گناہ میں گر کر ناکام ہو جائے‏، تو بھی کلام میں اقرار اور بحالی کی گنجائش ہے اور یوں وہ کامل رفتار رہتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۲ اُس کی شہادتوں کی پوری فرماں برداری سب کچھ ہے۔ ایسی فرماں برداری میں تاخیر یا نیم دلی نہیں پائی جاتی بلکہ فرماں بردار شخص گہری اور شدید خواہش سے اُسے خوش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۳ خوشی ہر طرح کی ناراستی سے علیٰحدگی میں حاصل ہوتی ہے۔ یہ اُس راہ پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے جو اُس نے کلام میں ہمارے لئے مقرر کی ہے۔ بدی سے بچنے کا یقینی طریقہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو نیکی کرنے کے لئے مکمل طور پر مصروف رکھیں۔ 

۱۱۹:‏۴ خدا کے قوانین اختیاری نہیں بلکہ یہ احکام ہیں اور اِن پر اتفاقیہ طور سے نہیں بلکہ دل لگا کر عمل کرنا چاہئے۔

۱۱۹:‏ ۵ اب زبور نویس عمومی حقیقت سے اپنی شخصی زندگی کی طرف بڑھتا ہے۔ قوانین سے دعا کی طرف آتے ہوئے وہ تسلیم کرتا ہے کہ فرماں برداری کے لئے خواہش اور ثابت قدمی بالآخر خدا کی طرف سے آتی ہے۔

۱۱۹:‏ ۶ جب تک وہ خدا کے احکام کی فرماں برداری کرے گا‏، وہ ہر طرح کی ندامت سے بچا رہے گا جو ذہن کو کوفت دیتی ہے‏، چہرے پر شرمساری کے آثار پیدا کرتی اور جسم کو تکلیف دیتی ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۷ ’’دعا سے ستائش تک کا سفر طویل یا مشکل نہیں ہے۔‘‘ جو خدا کی صداقت کے احکام پر عمل کرنا سیکھ لیتے ہیں‏، وہ خوشی سے معمور ہو جاتے ہیں اور اِس سے فی البدیہ شکرگزاری پیدا ہوتی ہے۔

۱۱۹:‏ ۸ زبور نویس بڑی عاجزی اور انکساری سے محسوس کرتا ہے کہ اُس کے پُرعزم فیصلے کا انحصار خدا پر ہے۔ اُس نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ پورے دل سے خداوند کی پیروی کرے گا۔ لیکن اُسے اپنی کمزوری کا احساس ہے۔ ’’مجھے بالکل ترک نہ کر دے۔‘‘ مصنف محسوس کرتا ہے کہ وہ شاید اِس کا مستحق ہو۔

۱۱۹:‏۹ ہر ایک نوجوان کی زندگی میں ایک بہت سنجیدہ مشکل یہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو پاک رکھے۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ وہ کلامِ مقدس کی عملی فرماں برداری سے اپنے آپ کو پاک رکھ سکتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۰ پاکیزگی کے معاملے میں انسانی خواہش (‏مَیں پورے دل سے تیرا طالب ہوا ہوں)‏ اور الٰہی تقویت (‏مجھے اپنے فرمان سے بھٹکنے نہ دے)‏ کا حسین امتزاج ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۱ وہ ہماری مرضی اور تعاون کے بغیر ہمیں پاکیزگی نہیں دیتا۔ کسی نے بڑی حکمت سے کہا ہے‏، ’’دُنیا میں بہترین کتاب بائبل ہے۔ اِسے رکھنے کے لئے بہترین جگہ دل ہے۔ اور اِسے وہاں رکھنے کے لئے بہترین وجہ یہ ہے کہ یہ ہمیں خدا کے خلاف گناہ کرنے سے بچاتی ہے۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۲ چونکہ خدا عظیم اور پُرفضل ہے‏، اِس لئے انسان کی تبدیل شدہ اور نئی فطرت چاہتی ہے کہ اُس کے آئین کو سیکھے اور اُس کی فطرت اُن کے مطابق ڈھل جائے۔ مسیح کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۳ جب ہم کلام کے خزانے کے سبب خوشی محسوس کرتے ہیں تو ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کو بھی اِس میں شریک کریں۔ یہ زندگی کا ایک اصول ہے کہ جب ہمارا کسی شے پر اعتقاد ہوتا ہے تو ہم اُس کے بارے میں دوسروں کو بھی بتانا چاہتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۴ جس کے پاس سونے کے ڈھیلوں سے بھری ہوئی کان یا ذخیرہ ہے وہ اِس قدر خوش نہیں جس قدر وہ شخص جس نے کتابِ مقدس کی چھپی ہوئی دولت کا کھوج لگایا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۵ خدا کا کلام پُرسکون گیان دھیان کے لئے ایک نہ ختم ہونے والا ماخذ ہے‏، لیکن لازم ہے کہ گیان دھیان کے ساتھ کلام پر عمل بھی کیا جائے۔

۱۱۹:‏ ۱۶ ’’اُس کے حکم سخت نہیں‘‘ (‏۱۔یوحنا ۵:‏۳)‏۔ جو شخص خدا سے پیدا ہوا ہے وہ خداوند کے آئین میں مسرور ہو گا اور وہ تہیہ کرے گا کہ وہ اُنہیں مسلسل یاد رکھے۔

۱۱۹:‏ ۱۷ خدا کے بغیر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہمیں زندہ رہنے اور اُس کے کلام پر عمل کرنے کے لئے اُس کے فضل کی ضرورت ہے۔ چونکہ ہماری ضرورت بہت زیادہ ہے اِس لئے ہم کثرت سے اُس کا فضل مانگیں۔

۱۱۹:‏ ۱۸ بائبل میں کثیر تعداد میں عجائب ہیں‏، روحانی چیزیں جو عام نگاہ سے چھپی ہوئی ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہماری آنکھیں کھولی جائیں تاکہ ہم اُنہیں دیکھ سکیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۹ بائبل سفر کے لئے ایک نقشہ ہے جو مسافر کی مدد کرتا ہے کہ وہ بغیر غلطی کئے اپنی منزل پر پہنچ جائے۔

۱۱۹:‏ ۲۰ یہ بہت اچھی بات ہے کہ خدا کے کلام کے لئے ہماری پیاس شدید اور نہ ختم ہونے والی ہو۔ کلام کی خواہش اور اشتیاق سے زبور نویس کی روح گھلی جا رہی تھی۔ 

۱۱۹:‏ ۲۱ تاریخ مغرور اور گستاخ لوگوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے خدا کے فرمانوں کی تکفیر کی اور اُس کے زورآور ہاتھ سے زوال پذیر ہو گئے۔

۱۱۹:‏ ۲۲ دنیا ایماندار کا مذاق اُڑاتی اور اُس کی حقارت کرتی ہے۔ ’’اِس پر وہ تعجب کرتے ہیں کہ تم اُسی سخت بدچلنی تک اُن کا ساتھ نہیں دیتے اور لعن طعن کرتے ہیں‘‘ (‏۱۔پطرس ۴:‏۴)‏۔ لیکن دیانت داری کا اجر دیا جائے گا۔ دیانت دار کو شاباش دی جائے گی اور یہ لعن طعن کی بہترین تلافی ہو گی۔

۱۱۹:‏ ۲۳ جب با اختیار لوگ باہم مل کر مسیحی کو رُسوا کرتے ہیں تو وہ خدا کے کلام پر گیان دھیان سے قوت و تسکین حاصل کر سکتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۲۴ میتھیو ہنری یوں تفسیر کرتا ہے:‏

جب اُمرا داؤد کے خلاف باتیں کرتے تھے تو کیا وہ اِس راہنمائی سے محروم رہا یعنی اُس کا نقصان ہوا؟ خدا کی شہادتیں اُس کی مشیر تھیں۔ اُنہوں نے اُسے مشورہ دیا کہ وہ صبر سے برداشت کرے اور اپنا معاملہ خدا کے ہاتھ میں دے دے۔

۱۱۹:‏ ۲۵ زندگی میں نہ صرف چوٹیاں ہوتی ہیں بلکہ وادیاں بھی۔ جب کبھی ہم پریشانی سے بے دل ہو جاتے ہیں تو ہم خدا سے دعا کریں کہ وہ ہمیں کلام کی بحال کرنے والی قوت سے زندہ کرے۔

۱۱۹:‏ ۲۶ جب ہم اپنی روشوں کے بارے میں بتاتے ہیں یعنی اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں‏، تو خداوند ہمیں معاف کرنے سے جواب دیتا ہے۔ اِس سے ہمارے اندر پاکیزگی کی خواہش جنم لیتی ہے‏، جیسا کہ دعا میں ظاہر کیا گیا ہے‏، ’’مجھے اپنے آئین کی تعلیم دے۔‘‘ 

۱۱۹ :‏ ۲۷ ہمیں خدا کے قوانین کے معانی کو سمجھنا چاہئے اور جانیں کہ اِن کا اپنی زندگیوں پر عملی طور پر کیسے اطلاق کریں۔ یوں ہم خدا کے عجیب کاموں پر دھیان کریں گے۔ 

۱۱۹:‏ ۲۸ زندگی کے تاریک لمحات میں جب ہماری جان آنسوؤں سے گھلی جاتی ہے‏، تو اطمینان کا سرچشمہ خدا نیچے جھک کر اکثر کلام کی کسی ایک آیت سے ہمیں اُٹھاتا اور آگے بڑھنے کے لئے تقویت دیتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۲۹ خدا کے روح اور پاک کلام کے وسیلے سے ہم سچائی اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کر سکتے ہیں۔ کتابِ مقدس ہر طرح کے جھوٹ کے خلاف نفرت پیدا کرتی ہے۔ یہ ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ سچائی وہ ہے جو خدا کسی شے کے بارے میں بتاتا ہے (‏یوحنا ۱۷:‏۱۷)‏۔

۱۱۹:‏ ۳۰ کوئی بھی شخص خود بخود اور براہِ راست پاکیزگی کی طرف نہیں آتا۔ اِس لئے ارادی طور پر سچائی کی راہ کے انتخاب کی ضرورت ہے۔ سپرجن کہتا ہے‏، ’’خدا کے احکام یوں ہمارے سامنے ہوں کہ وہ ہمارے لئے منزلِ مقصود‏، نمونہ اور راہ ہوں۔‘‘

۱۱۹:‏ ۳۱ زبور نویس خدا کی شہادتوں سے لپٹا رہا تھا‏، لیکن ابھی تک اُسے برگشتہ ہونے کے میلانِ طبع کا احساس ہے۔ لہٰذا وہ خدا کے کام کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے اُس سے فریاد کرتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۳۲ ہم اُس وقت خدا کے احکام کی پابندی کے لئے جلدی کرتے ہیں جب وہ ہمارا حوصلہ بڑھاتا ہے نہ کہ ہماری عقل۔اِس میں عقل کی نسبت جذبات کا زیادہ عمل دخل ہے۔

۱۱۹:‏ ۳۳ ہمیں ہدایت و تعلیم کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ خدا کے مکتب میں طالب علم کی حیثیت سے ہمیں پوری لگن سے خدا کے قوانین کو اپنی عملی زندگی میں منتقل کرنا چاہئے اور عزم کرنا چاہئے کہ اپنی زندگی میں آخری دم تک اُس کے کلام کی تعمیل کریں۔

۱۱۹ :‏ ۳۴ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خدا ہمیں فہم عطا کرے۔ لازم ہے کہ کتابِ مقدس اور اُس کے فرائض کے بارے میں ہمارا نظریہ درست ہو‏، ورنہ ہم یک سوئی کے ساتھ اُس کی پیروی نہیں کر سکتے۔ 

۱۱۹:‏ ۳۵ ہمیں راہنمائی کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ روح تو مستعد ہے لیکن جسم کمزور ہے۔ چنانچہ ہماری خواہش یہ ہے کہ خداوند اپنے فرمان کی راہ پر ہماری راہنمائی کرے‏، کیونکہ یہی وہ راہ ہے جس پر ہم حقیقتاً خوش ہیں۔

۱۱۹:‏ ۳۶ ہمیں مادی دولت کی بجائے روحانی دولت کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ ’’دین داری قناعت کے ساتھ بڑے نفع کا ذریعہ ہے‘‘ (‏۱۔تیم ۶:‏۶)‏۔ صرف خدا کا فضل ہی کسی شخص کے دل سے دولت کی محبت کو نکال کر بائبل کی محبت سے بھر سکتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۳۷ ہمیں سایوں کے لئے نہیں بلکہ الٰہی حقیقتوں کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ ٹیلی وژن کے بارے میں خدا کی رائے یہ ہے‏، ’’میری آنکھوں کو بطلان پر نظر کرنے سے باز رکھ۔ ’’ٹیلی وژن ایسی دنیا کی تصویر پیش کرتا ہے جس کا کوئی وجود نہیں۔ خدا کا کلام زندگی کو من و عن پیش کرتا ہے۔

۱۱۹ :‏ ۳۸ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خدا اپنے قول کو پورا کرے۔ وہ اُس وقت اپنے قول کو پورا کرتا ہے جب ہم اُس سے ڈرتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۳۹ ہم دعا کریں کہ ہمیں ملامت کی ضرورت نہ پڑے‏، ہم ہر ایک ایسی بات سے دُور رہیں جو خداوند یسوع مسیح کے لئے ندامت اور بدنامی کا باعث ہے۔ اُس کے احکام بھلے ہیں‏، لازم ہے کہ ہم وفاداری سے اِن پر عمل کریں۔ 

۱۱۹:‏ ۴۰ ہمیں اپنی بیداری کے لئے دعا کرنی چاہئے۔ ’’سراب تالاب ہو جائے گا اور پیاسی زمین چشمہ بن جائے گی‘‘ (‏یسعیاہ ۳۵:‏ ۷)‏۔ جب ہم اُس کے قوانین کے مشتاق ہوں گے تو وہ ہمیں اپنی صداقت سے زندہ رکھے گا۔ 

۱۱۹:‏ ۴۱ ہمیں خدا کی شفقت اور نجات کو یوں ہی یقینی تصور نہیں کر لینا چاہئے۔ جس طرح ہمیں خدا کے فضل سے نجات ملی‏، اُسی طرح ہمیں اب بھی اُس کی شفقت اور تحفظ پر انحصار کی ضرورت ہے۔ چنانچہ ہم اُس کے وعدوں پر پورا یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمیں ہر روز اپنی حفاظت میں رکھے۔

۱۱۹:‏ ۴۲ جب خداوند ہماری دعاؤں کا جواب دیتا ہے تو یہ ناقابلِ تردید ثبوت بے دینوں کی ملامت کو خاموش کر دیتے ہیں۔ ہمارے ایمان کی بنیاد خدا کے کلام پر ہے اور وہ ہمیں کبھی ناکام نہیں ہونے دے گا۔ 

۱۱۹:‏ ۴۳ حقیقت بیان کرنے سے ہمیں نہ تو ندامت محسوس کرنی چاہئے اور نہ ہی خائف ہونا چاہئے۔ اگر میرا خداوند کے احکام پر اعتماد ہے تو وہ مجھے اپنی گواہی کے لئے مسلسل مواقع دیتا رہے گا۔ 

۱۱۹:‏ ۴۴ خداوند کی محبت اور فضل کے جواب میں ہمارا غیر متزلزل فیصلہ یہ ہونا چاہئے کہ جب تک ہم زندہ ہیں اُس کی شریعت کو مانتے رہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۴۵ جنہیں خدا کا بیٹا آزاد کرتا ہے وہ فی الحقیقت آزاد ہیں (‏یوحنا ۸:‏ ۳۶)‏۔ دنیا کا مسیحی زندگی کے بارے میں یہ تصور ہے کہ یہ غلامی کا نظام ہے۔ لیکن جو خدا کے قوانین کے طالب ہیں وہ کامل آزادی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۴۶ ایمان جرأت اور دلیری دیتا ہے کہ ہم بادشاہوں کے سامنے مسیح کی گواہی دیں۔ کتنے ہی بادشاہوں نے حلیم اور اکثر رد کی ہوئی رعایا سے خوش خبری سنی ہے۔

۱۱۹:‏ ۴۷ جو کتابِ مقدس سے محبت رکھتے ہیں‏، اُنہیں اِس کے اوراق میں شخصی طور پر بہت لطف حاصل ہوتا ہے۔ یہ مسرت کا سرچشمہ‏، خوشی کی ندی اور اطمینان کا نہ ختم ہونے والا منبع ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۴۸ بائبل ہمیں اپنی وسعت‏، گہرائی‏، قدرت‏، خزانے اور لامحدود ہونے کی وجہ سے عزیز ہے۔ یہ ہمیں اِس لئے عزیز ہے کیونکہ جو کچھ یہ ہے اور جو کچھ اِس نے کیا ہے ہمیں عزیز ہے۔ ہم دن رات اِس پر دھیان کرتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۴۹ یہ ممکن نہیں کہ خدا کبھی اپنا وعدہ بھول سکے‏، لیکن مصیبت کی بھٹی میں جب ایمان غلطیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو ہمیں یہ دعا کرنے کی اجازت دی گئی ہے‏، ’’خداوند! … یاد کر۔‘‘ یہ ممکن نہیں کہ وہ خود ہی ہمیں سکھائے کہ اُس کی ذات پر تکیہ کریں اور بالآخر اِس حد تک لے آئے کہ ہمیں ندامت کا منہ دیکھنا پڑے۔

۱۱۹:‏ ۵۰ جن لوگوں کو یہ تجربہ ہوا ہے کہ کلام میں زندہ کرنے کی قدرت ہے‏، اُن کے لئے یہ تسلی کا قابلِ بھروسا سرچشمہ اور منبع ہے۔ اکثر اوقات بڑی اہم شخصیتوں کے الفاظ خالی اور بے سود ہوتے ہیں‏، لیکن خدا کا کلام ہمیشہ زندہ‏، موثر اور موزوں ہوتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۵۱ جب ہم خداوند کے ساتھ وفادار ہیں‏، تو ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ لوگ ہمارا مذاق اُڑائیں گے۔ لیکن جب ہمیں الٰہی اصول حاصل ہو جائیں تو ہم اُن اصولوں پر کاربند رہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۵۲ ہمیں یہ یاد کرتے ہوئے تسلی ہوتی ہے کہ ماضی میں خدا نے ہمارا ساتھ دیا۔ وہی فضل جو ہمیں یہاں تک لے آیا‏، وہ یقیناًباقی ماندہ راستے میں بھی سنبھالے گا اور ہمیں منزل تک لے جائے گا۔

۱۱۹:‏ ۵۳ ایمان دار جب دیکھتا ہے کہ خدا کی شریعت کی تعمیل نہیں ہوتی اور اُس کا احترام نہیں کیا جاتا تو وہ سخت طیش میں آ جاتا ہے۔ یہ بات مسیح خداوند پر صادق آتی ہے ’’تیرے لعن طعن کرنے والوں کے لعن طعن مجھ پر آ پڑے‘‘ (‏رومیوں ۱۵:‏ ۳)‏۔ بیٹے نے باپ کی بے عزتی کو اپنی ذاتی بے عزتی متصور کیا۔

۱۱۹:‏ ۵۴ خدا کے عجیب و غریب کلام کے لئے شکر ہو کہ اب مسافر‏، مسافر خانہ میں گیت گا سکتا ہے۔ یا جیسے کہ ناکس لکھتا ہے ’’جلاوطنی کی سرزمین میں۔‘‘ گو راستہ خراب ہو‏، لیکن یہ طویل نہیں ہے۔ گو رات تاریک ہو‏، لیکن خداوند گیت دیتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۵۵ طویل رات میں جب گھنٹوں تک نیند نہ آئے‏، تو خداوند کی ذات پر گیان دھیان کریں۔ جس قدر ہم اُسے زیادہ جانیں گے اُسی قدر اُس سے زیادہ محبت رکھیں گے۔ اور اُس سے محبت رکھتے ہوئے ہم اُس کی شریعت پر عمل کریں گے۔ 

۱۱۹:‏ ۵۶ فرماں برداری ایک نعمت ہے۔ ’’دینداری سب باتوں کے لئے فائدہ مند ہے اِس لئے کہ اب کی اور آئندہ کی زندگی کا وعدہ بھی اِسی کے لئے ہے‘‘ (‏۱۔تیم ۴:‏ ۸)‏۔

۱۱۹:‏۵۷ جب ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمیں مسیح میں کتنا لازوال اور منفرد خزانہ ملا ہے‏، تو ہمیں عہد کرنا چاہئے کہ اُس کی باتیں مانیں۔ مسیح کو حاصل کرنا بہت زیادہ امیر ہونے کے مترادف ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۵۸ ’’ہماری لیاقت خدا کی طرف سے ہے‘‘ (‏۲۔کرنتھیوں ۳:‏ ۵)‏۔ لازم ہے کہ ہم مردِ دعا ہوں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ ہم پر کرم کرے‏، اور اُس کے رحم کے وعدہ کو حاصل کرنے کے لئے التجا کریں۔ 

۱۱۹:‏ ۵۹ راہنمائی ایک دائمی مسئلہ ہے۔ ہم کس طرف جائیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم میں بذاتہٖ ایسی حکمت نہیں کہ جان سکیں۔ ہم پھر کیا کریں؟ ہم اپنے قدم اُن راہوں کی طرف موڑیں جو کلامِ مقدس میں ہمارے لئے متعین کی گئی ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۶۰ آج کل ہم ایک ایسے دَور میں سے گزر رہے ہیں جہاں ہر کام جلدی سے کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً فوری طور پر کھانا تیار کرنا یا کوئی اَور کام کرنا وغیرہ۔ تو پھر خدا کی ظاہر کردہ مرضی کی فوری فرماں برداری کیوں نہ کریں؟ 

۱۱۹:‏ ۶۱ عین ممکن ہے کہ شریر معصوم ایماندار کو پھنسانے کے لئے سازش تیار کرے۔یہی سبب ہے کہ ایماندار اپنی راہنمائی اور تحفظ کے لئے کلام کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھے۔

۱۱۹:‏ ۶۲ ’’آدھی رات کے قریب پولس اور سیلاس دعا کر رہے اور خدا کی حمد کے گیت گا رہے تھے‘‘ (‏اعمال ۱۶:‏ ۲۵)‏۔ لوگ اُن کے ساتھ ناجائز سلوک کر رہے تھے‏، لیکن اِس کے باوجود وہ خدا کی صداقت کی تعریف میں گیت گا رہے تھے۔ 

۱۱۹:‏ ۶۳ جو خدا کو پیار کرتے ہیں وہ اُس کے لوگوں سے بھی پیار کرتے ہیں اور جو کلامِ مقدس سے محبت رکھتے ہیں وہ کلام کے ساتھ تمام محبت رکھنے والوں سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ یہ عالمگیر رفاقت ہے اور قومی‏، سماجی اور نسلی اختلافات سے بالاتر ہے۔

۱۱۹:‏ ۶۴ خدا کی دائمی شفقت دنیا میں ہر کہیں موجود ہے‏، لیکن اِس سے بڑھ کر زمین اُس کی شفقت سے معمور ہے۔ ہمارے شکرگزار دل اِس کے عوض یہ کہتے ہیں‏، ’’اے خداوند! میرے دل کو اپنے پاک روح سے نرم کر تاکہ مَیں تیرے بارے میں سیکھتا رہوں۔ 

۱۱۹:‏ ۶۵ کتنا عرصہ ہوا کہ مَیں نے خداوند کی شکرگزاری کی کہ اُس نے عجیب و غریب طریقے سے اپنے کلام کے وعدے کے مطابق میرے ساتھ بھلائی کی؟ اپنی برکتوں کو گنیں‏، ایک ایک کرکے اُن کا نام لیں۔ آپ یہ دیکھ کر حیران رہ جائیں گے کہ خداوند نے آپ کے لئے کیا کیا ہے!

۱۱۹:‏ ۶۶ ہم سب کو صحیح امتیاز اور دانش کے لئے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہمارے پاس امتیاز اور بغیر توازن کے علم ہو۔ کلامِ مقدس اور زندگی کے تجربے سے ہم صحیح امتیاز کے بارے میں سیکھتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۶۷ الٰہی تنبیہ ’’جو اُس کو سہتے سہتے پختہ ہو گئے ہیں‏، اُن کو بعد میں چین کے ساتھ راست بازی کا پھل بخشتی ہے‘‘ (‏عبرانیوں ۱۲:‏ ۱۱)‏۔ جب ہم یاد کرتے ہیں کہ ہمیں گمراہی و برگشتگی کی کیا قیمت ادا کرنا پڑی‏، تو یہ یاد غلط کام دہرانے کے لئے رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۶۸ خدا بھلا ہے اور جو کچھ وہ کرتا ہے بھلا ہے۔ نیک بننے کے لئے لازم ہے کہ ہم اُس کا جوأ اُٹھا لیں اور اُس سے سیکھیں۔

۱۱۹:‏ ۶۹ جب بے دین لوگ جھوٹ بول کر ہماری شہرت کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم کلامِ مقدس کی فرماں برداری میں تحفظ حاصل کر سکتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۷۰ دنیوی لوگ لذتوں اور عشرتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نفسانی مزے کے بجائے روحانی تعلیم میں سکون حاصل کرتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۷۱ مصیبتیں عارضی ہوتی ہیں‏، لیکن اِن کے فوائد دائمی ہوتے ہیں۔ لوگ ایذا دینے سے ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں‏، لیکن خدا اُس میں سے بھلائی پیدا کرتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۷۲ بائبل مقدس دنیا میں سب سے بہتر اور بیش قیمت اثاثہ ہے۔ شاید کمپیوٹر بہت بڑی بڑی رقموں کو خوبصورتی سے جمع تفریق کر سکے‏، لیکن یہ کلام مقدس کی قدر و قیمت کو نہیں جانچ سکتا۔

۱۱۹:‏ ۷۳ خدا نے ہمیں نہایت اعلیٰ مہارت سے بنایا ہے۔ اِس سے بڑھ کر اَور معقول بات کیا ہو سکتی ہے کہ وہ ہمارا اُستاد بھی ہو۔ ہم معلوم کریں کہ ہمیں پیدا کرنے کے لئے اُس کا کیا مقصد ہے اور پھر اُسے کامل طور پر پورا کریں۔ 

۱۱۹:‏ ۷۴ ایک ایسے مسیحی سے جو خداوند یسوع کے لئے نہایت سرگرم ہو‏، مل کر بڑی تازگی ملتی ہے۔ جن کی اُمید خدا کے کلام میں ہے اُن کی زندگی میں روح القدس کا نور چمکتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۷۵ بیماری‏، مصیبت اور دُکھ براہِ راست خدا کی طرف سے نہیں آتے‏، لیکن اکثر حالات میں وہ اُنہیں عمل درآمد ہونے کی اجازت دیتا ہے اور پھر اُن کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے۔ جب ہم اِن تمام حالات میں اُس کا انصاف اور وفاداری تسلیم کرتے ہیں‏، تو یہ روحانی بلوغت کی علامت ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۷۶ تاہم خاک ہونے کی حیثیت سے ہم کمزور ہیں۔ اِس لئے ہمیں اُس کی پُرفضل محبت کی ضرورت ہے کہ وہ ہمیں سنبھالے رکھے۔ ’’پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو اور وہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے‘‘ (‏عبرانیوں ۴:‏ ۱۶)‏۔

۱۱۹:‏ ۷۷ خدا کی رحمتوں کا ہر ایک اظہار مصیبت زدہ ایماندار کو تازہ دم کرتا ہے۔ جو اُس کی شریعت میں خوشنودی حاصل کرتے ہیں‏، اُنہیں اعتماد رکھنا چاہئے کہ وہ مدد کے لئے اُن کے پاس آئے گا۔

۱۱۹:‏ ۷۸ گلینو آیت ۷۸ کا یوں ترجمہ کرتا ہے‏، ’’جو مغرور جھوٹ بول کر مجھے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اُنہیں شرمندہ کر‏، جبکہ مَیں تیرے قوانین پر دھیان کرتا ہوں۔‘‘ خدا اجازت دیتا ہے کہ گناہ اپنے منطقی نتیجے تک پہنچے یعنی گناہ کرنے والا اُس کا کڑوا پھل کھائے۔ زبور نویس خدا سے محض یہ دعا کر رہا ہے کہ وہ وہی کچھ کرے جو اُس نے کہا ہے کہ وہ کرے گا۔

۱۱۹:‏ ۷۹ جو لوگ خدا کے کلام سے محبت رکھتے اور اُسے جانتے ہیں وہ فطری طور پر ایک دوسرے سے رفاقت رکھتے ہیں۔ لیکن ہم کتنی بار خداوند سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اُنہیں جو خدا سے ڈرتے ہیں ہمارے پاس بھیجے؟

۱۱۹:‏ ۸۰ ہم خداوند کے آئین ماننے میں بے الزام رہنے کی خواہش کیوں رکھیں؟ اِس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ زبور نویس ایک وجہ کو نمایاں طور پر پیش کرتا ہے کہ ہم گناہ میں گرنے کی تکلیف دہ شرمندی سے بچ جائیں۔ 

۱۱۹:‏ ۸۱ ممکن ہے کہ ایماندار مصیبت میں پڑے‏، تاہم وہ کچلا نہیں جائے گا۔ ممکن ہے وہ پریشان ہو‏، تاہم وہ حد سے زیادہ مایوس نہیں ہو گا۔ شاید اُس کو ایذا پہنچائی جائے‏، تاہم اُسے چھوڑا نہیں جائے گا۔ ممکن ہے اُسے مارا جائے‏، تاہم وہ ہلاک نہیں ہو گا (‏۲۔کرنتھیوں ۴:‏ ۸‏،۹)‏۔ یہاں وہ خدا کی نجات بخش مدد نہیں دیکھتا اور اِس لئے بے تاب ہے۔ تاہم وہ ابھی تک یہ اُمید رکھتا ہے کہ خدا اُس کی مدد کرے گا۔

۱۱۹:‏ ۸۲ گو خدا کی مخلصی کے وعدہ کی تکمیل کے لئے انتظار کرتے کرتے اُس کی آنکھیں دھندلا جائیں‏، تاہم وہ یہ دعا نہیں کرتا’’کیا تُو مجھے تسلی دے گا؟‘‘ بلکہ ’’ تُو مجھے کب تسلی دے گا؟‘‘

۱۱۹:‏ ۸۳ مشکیزہ دھوئیں میں سکڑ جاتا اور سیاہ ہو جاتا ہے۔ پریشان ایماندار انتظار کرتے کرتے پژمردہ ہو جاتا ہے‏، لیکن وہ کلام پر تکیہ کرنے کی وجہ سے ہمت نہیں ہارتا۔

۱۱۹:‏ ۸۴ انسان کی زندگی درحقیقت بہت مختصر ہے۔ مصیبت کے دن بہت طویل لگتے ہیں۔ خدا جلدی اُٹھے اور ظالموں کو سزا دے۔ 

۱۱۹:‏ ۸۵ اِس آیت میں مذکور بدمعاش لوگ مغرور ہیں اور وہ شریعت کے پیرو نہیں۔ یہ دونوں خامیاں لازم و ملزوم ہیں۔ وہ معصوم اور راست باز شخص کو گرانے کے لئے سازشیں کرتے ہیں۔ یہ اِس امر کی شہادت ہے کہ وہ خدا کی شریعت کو نہیں مانتے۔ 

۱۱۹:‏ ۸۶ خدا کے کلام کی طرح قابلِ اعتماد کوئی اَور شے نہیں ہوتی۔ خدا نے وعدہ کیا ہے کہ اپنے مصیبت زدہ لوگوں کو مخلصی دے گا۔ چنانچہ جب جھوٹے بہتان تراش ہم پر الزام لگائیں تو ہم بڑے و ثوق سے یہ سنہری دعا استعمال کر سکتے ہیں ’’ تُو میری مدد کر۔‘‘

۱۱۹:‏ ۸۷ سپرجن نے کہا‏، ’’اگر ہم خدا کے قوانین پر قائم رہیں تو ہمیں اُس کے وعدوں سے مخلصی ملے گی۔‘‘ اگر ہم ایک ایسے مقام پر بھی پہنچ جائیں جہاں ہم زندگی سے مایوس ہو جائیں‏، پھربھی ہم اپنی فرماں برداری میں نہ ڈگمگائیں۔ مدد آئے گی۔ فقط اعتقاد رکھیں!

۱۱۹:‏ ۸۸ بہترین دعا اندرونی شدید ضرورت سے جنم لیتی ہے۔ یہاں زبور نویس دعا کرتا ہے کہ خداوند اُسے زندہ رکھے تاکہ وہ اُس کے کلام کی فرماں برداری سے خدا کا جلال ظاہر کرے۔ 

۱۱۹:‏ ۸۹ ایمان تاریکی میں چھلانگ لگانے کے برابر نہیں ہوتا۔ اِس کی بنیاد کائنات کی سب سے قابلِ اعتبار شے بائبل پر ہے۔ اِس کلام کو ماننے میں کوئی خطرہ نہیں جو کہ ابد تک آسمان پر قائم ہے۔

۱۱۹:‏ ۹۰ خدا کی وفاداری نہ صرف اُس کے کلام میں بلکہ اُس کے کاموں میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ یہ وفاداری پشت در پشت ہے اور کائنات کی ترتیب اور قیام میں نظر آتی ہے۔

۱۱۹:‏ ۹۱ آسمان اور زمین اُس کے قوانین کو مانتے ہیں۔ فصل بونے اور فصل کی کٹائی کا موسم‏، سردی اور گرمی‏، دن اور رات سب اُس کے خدمت گزار ہیں۔ وہ اِن سب کو اپنی قدرت کے کلام سے چلاتا اور قائم رکھتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۹۲ بارنز یوں تفسیر پیش کرتا ہے:‏

ایک نہایت اچھے‏، لیکن بہت زیادہ مصیبت زدہ شخص نے ایک دفعہ مجھ سے کہا ’’ مَیں ہزار بار غرق ہو جاتا‏، اگر خداوند کے کلام میں ایک یہ بیان نہ ہوتا:‏ ابدی خدا تیری سکونت گاہ ہے اور تیرے نیچے اُس کے دائمی بازو ہیں۔‘‘ 

۱۱۹:‏ ۹۳ جن لوگوں کو اپنی زندگی میں کلام کی قدرت کا تجربہ ہوا ہے‏، وہ اِسے جلدی سے بھول نہیں سکتے۔ ہم ’’فانی تخم سے نہیں بلکہ غیرفانی سے خدا کے کلام کے وسیلہ سے جو زندہ اور قائم ہے نئے سرے سے پیدا ہوئے‘‘ ہیں (‏۱۔پطرس ۱:‏ ۲۳)‏۔

۱۱۹:‏ ۹۴ گناہ کی سزا سے نجات پانے کے بعد بھی ہمیں ہر روز آلودگی اور نقصان سے نجات کی ضرورت ہے۔ خدا کے قوانین اور اپنے دل سے واقفیت ہمیں حالیہ وقت میں نجات کی ضرورت سے آگاہ کرتے ہیں۔

۱۱۹ :‏ ۹۵ شریروں کے حملوں سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنی زندگی خدا کی خدمت میں گزاری جائے۔ اگر ہماری زندگیاں خداوند کی خدمت میں موثر ہیں تو ہم مخالفت کی توقع کر سکتے ہیں۔ جب ہم خدا کی شہادتوں پر غور کریں گے تو ہمیں تسلی اور قوت حاصل ہو گی۔

۱۱۹:‏ ۹۶ اِس دنیا کی بہترین چیزیں بھی کاملیت کے معیار سے کمتر ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں‏، لیکن خدا کا کلام کامل اور لامحدود ہے۔ ہم بائبل کو جس قدر زیادہ جانتے ہیں‏، اُسی قدر ہمیں زیادہ احساس ہوتا ہے کہ ہم میں کتنی زیادہ کمی ہے۔

۱۱۹:‏ ۹۷ جو خداوند سے محبت رکھتے ہیں‏، وہ اُس کے کلام سے بھی محبت رکھیں گے۔اِس محبت کا اظہار ہر وقت خدا کے کلام پر غور کرنے سے کیا جائے گا۔ گیان دھیان کے لمحات میں کتابِ مقدس کے نئے حسن اور عجائب کا انکشاف ہوتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۹۸ خدا کی حکمت سے معمور حلیم ایماندار کو گھٹنوں کے بل وہ کچھ حاصل ہو جاتا ہے جو اُس کے دشمنوں کو کھڑے ہونے کی حالت میں بھی حاصل نہیں ہوتا۔

۱۱۹:‏ ۹۹ اگر اُستاد اپنی کامیابیوں پر مطمئن ہو جاتا ہے‏، تو جلد ہی اُس کا شاگرد جو مسلسل خدا کے کلام پر گیان دھیان کرتا ہے‏، اُس سے سبقت لے جائے گا۔ 

۱۱۹:‏ ۱۰۰ شاید ایسا محسوس ہو کہ یہ غیر ذمہ دارانہ قسم کی شیخی بازی ہے‏، لیکن ایسا ہرگز نہیں۔ کسی شخص کی عمر یا ذہانت کی نہیں بلکہ اُس کی فرماں برداری کی وقعت ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر ایک نوجوان زیادہ فرماں بردار ہے تو وہ عمر رسیدہ لوگوں سے بالاتر ہو گا۔

۱۱۹:‏ ۱۰۱ یہاں فرماں برداری کا عملی اظہار ہے۔ زبور نویس گناہ کی راہوں سے اپنے قدم روکتا ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ فرماں برداری کا اظہار کر سکے۔

۱۱۹:‏ ۱۰۲ کلامِ مقدس کا تقدیسی اثر بہت زیادہ ہے۔ جب خداوند ہمیں کلام کے اوراق میں سے تعلیم دیتا ہے تو ہم گناہ سے نفرت اور پاکیزگی سے محبت رکھتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۰۳ کلامِ مقدس بہت زیادہ لطف کا باعث ہے۔ دنیا کی کوئی اَور کتاب اِس قدر دلکش نہیں ہے۔ شہد میٹھا ہے لیکن خدا کا کلام اُس سے بھی میٹھا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۰۴ جعلی روپوں کو پرکھنے کے لئے لوگ اصلی نوٹوں کو دیکھتے ہیں۔ چنانچہ سچائی کو جان کر ہم ہر ایک جھوٹی راہ سے نفرت کریں گے۔

۱۱۹:‏ ۱۰۵ کلام ہماری راہنمائی کرتے ہوئے ہمیں بعض ایک رویوں سے روکتا ہے اور پھر ہمیں سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ ہم اِس چراغ کی دوستانہ کرنوں کے کس قدر ممنون ہیں!

۱۱۹:‏ ۱۰۶ یہاں کتابِ مقدس کی فرماں برداری کرنے کا ایک پاک عزم پایا جاتا ہے۔ یہ خدا کے جلال‏، دوسروں کے لئے برکت اور ہماری اپنی بھلائی کے لئے بھی ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۰۷ 

گذشتہ آیت میں زبور نویس نے خداوند کے سپاہی کی حیثیت سے حلف اُٹھایا تھا اور اِس آیت میں اُسے اِس حیثیت سے سختیاں جھیلنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ خداوند کی خدمت ہمیں مشکلات سے بچاتی نہیں‏، بلکہ ہمیں اِن مشکلات سے دوچار کرتی ہے۔ (‏سپرجن)‏

۱۱۹:‏ ۱۰۸ ہم خداوند کی حضوری میں کاہن اور شاگرد کی حیثیت سے آتے ہیں۔ کاہن کی حیثیت سے ہم ’’حمد کی قربانی یعنی اُن ہونٹوں کا پھل جو اُس کے نام کا اقرار کرتے ہیں خدا کے لئے ہر وقت چڑھایا‘‘ کرتے ہیں (‏عبرانیوں ۱۳:‏ ۱۵)‏۔ شاگرد کی حیثیت سے ہم اپنے دلوں اور ذہنوں کو اُس کی الٰہی تعلیم کے لئے کھولتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۰۹ جب ہماری زندگی مسلسل خطرے میں ہو تو خداوند کی شریعت کو یاد کرنے سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ ہمیں ہر حالت میں حواس باختہ ہونے اور خدا کے کلام کو بھول جانے کے رجحان سے گریز کرنا چاہئے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۱۰ جن لوگوں کو کلام کی تعلیم ملی ہے وہ شیطان کے پھندوں سے ناواقف نہیں ہیں۔ محض کلام کی فرماں برداری سے وہ اُس کے پھندوں سے بچ جائیں گے۔

۱۱۹:‏ ۱۱۱ ہمیں کتابِ مقدس کو بہت بیش قیمت میراث کی طرح چننا چاہئے۔ اُس وارث کی خوشی کا اندازہ لگائیے جب وہ بہت بڑی میراث کا مالک بن جاتا ہے۔ الکتاب کی وراثت سے بڑھ کر اَور بڑی خوشی ہمارے لئے کیا ہو سکتی ہے۔

۱۱۹ :‏ ۱۱۲ جن لوگوں کو اُس کی قدر و قیمت کا اندازہ ہے‏، اُنہیں عزم کرنا چاہئے کہ وہ زندگی کے آخری دن تک اُس کی فرماں برداری کریں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۱۳ دو دِلے لوگ ایک پل کے لئے تو خدا کے ساتھ اور دوسرے لمحے دنیا کے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ اپنے منہ سے دو رنگی باتیں کرتے ہیں۔ وہ خدا کی شریعت کے غدار ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۱۴ جب ہمارا تعاقب کیا جائے تو خداوند ہمارے چھپنے کی جگہ ہے اور جب براہِ راست حملہ کیا جائے تو وہ ہماری سپر ہے۔ جو اُس کے وعدوں پر اُمید رکھتے ہیں وہ کبھی بھی نااُمید نہ ہوں گے کیونکہ وہ فریب نہیں دیتا اور نہ ہی اُسے فریب دیا جا سکتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۱۵ جو ہمارے خدا کے حکموں پر عمل نہیں کرتے‏، مَیں اُن سے رفاقت نہیں رکھتا۔ لیکن اگرچہ ہم دنیوی لوگوں کی گناہ آلودہ روشوں سے علیٰحدہ ہوتے ہیں تو بھی ہم اُن کے ساتھ تعلقات قائم رکھتے ہیں تاکہ ہم اُنہیں خوش خبری سنا سکیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۱۶ دیگر الفاظ میں:‏ تُو نے مجھے سنبھالنے کا وعدہ کیا ہے۔ اب جیسا تُو نے کہا ہے ویسا ہی کر‏، ورنہ لوگ کہیں گے کہ تُو نے مجھے ترک کر دیا اور مَیں اپنے اعتماد کے باعث شرمندہ ہو جاؤں گا۔

۱۱۹:‏ ۱۱۷ ہم نہ تو ماضی میں اور نہ حال ہی میں اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے تھے۔ اگر خداوند ہمیں سنبھالتا ہے تو ہم سلامت رہیں گے۔ لیکن ہمارا کام ہے کہ ہمیشہ اُس کے آئین کا لحاظ رکھیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۱۸ جو لوگ خداوند کے آئین سے بھٹک جاتے ہیں وہ اُنہیں مسترد کر دیتا ہے۔ ایک دن اُن کی مکاری اپنے اصلی روپ میں سامنے آ جائے گی کہ یہ حماقت تھی۔ 

۱۱۹:‏ ۱۱۹ کلامِ مقدس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ خدا تمام شریروں کو ایسے چھانٹ دے گا جیسے دھات پگھلانے والا پگھلی ہوئی دھات پر سے میل کو چھانٹ دیتا ہے۔ اگر وہ راستی سے گناہ سے نہ نپٹتا تو ہم اُس کے تحریری کلام کی عزت نہ کرتے۔

۱۱۹:‏ ۱۲۰ جب ہم شریروں پر خدا کی عدالت کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہم کانپ اُٹھتے ہیں۔ لیکن ہم شریعت کی روحانیت اور سختی سے حیران بھی ہوتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۲۱ زبور نویس دلیل دیتا ہے کہ جو کچھ اُس نے کیا راست اور درست تھا۔ اُس کی راست باز زندگی اُس کی نجات کا پھل تھی۔ یوں اُس کا خداوند سے التجا کرنا مناسب ہے کہ وہ اُسے ترک کرکے ظالموں کے ہاتھ میں نہ چھوڑے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۲۲ لفظ ضامن کا مطلب ہے کسی دوسرے کا ذمہ دار بننا یعنی وہ جو دوسروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ جو کلوری پر ہمارا ضامن تھا‏، وہ ساری زندگی کے دوران بڑی کامیابی سے ہمارے حق میں کھڑا ہوتا ہے اور سرکش ظالموں کو روکتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۲۳ یہ شخص خدا کی مخلصی کا انتظار یوں کرتا رہا کہ اُس کی آنکھیں رہ گئیں۔ وہ صداقت کے اُس وعدے کی تکمیل کا انتظار کرتے کرتے تھک گیا کہ خداوند اُس کی مدد کے لئے آئے گا۔

۱۱۹:‏ ۱۲۴ یہاں وہ اپنے آپ کو کلی طور پر خداوند کے فضل اور رحم کے سپرد کر دیتا ہے۔ اُس کے رحم کی ایک صورت اُس کی پُرفضل تدریسی خدمت ہے۔ ’’مجھے اپنے آئین سکھا۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۲۵ جس قدر کوئی خادم اپنے آقا کو زیادہ جانتا ہے اُسی قدر اُس کے لئے زیادہ مفید اور موثر ثابت ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ہمیں خدا کی مرضی کو جیسا کہ اُس کی شہادتوں میں ظاہر کی گئی ہے جاننے کے لئے فہم کی ضرورت ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۲۶ غلام اب اپنے مالک سے درخواست کرتا ہے کہ وہ کام کرے کیونکہ اُس کی شریعت کو توڑا گیا ہے۔ تاریکی کے لمحات میں خدا کے لوگوں کی یہ فریاد ہوتی ہے‏، ’’اب وقت آ گیا ہے کہ خداوند کام کرے۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۲۷ ہمارے لئے بائبل کس قدر بیش قیمت ہے؟ اِس کی ایک شہادت یہ ہے کہ اِس کی تلاوت میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں۔ اگر ہم اِس کی قدر و قیمت کو بہترین سونے سے اعلیٰ تصور کرتے ہیں‏، تو اِس کو اتنا استعمال کرنا چاہئے کہ اِس کی جِلد اور اِس کے اوراق استعمال کرنے سے جلد ہی خستہ ہو جائیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۲۸ بائبل کی تعظیم کا ایک اَور ثبوت یہ ہے کہ ہم کس حد تک اُس کی فرماں برداری اور تعمیل کرتے ہیں۔ جب تک ہم وہ کام نہیں کرتے جو اِس میں بیان کئے گئے ہیں اور ہر جھوٹی راہ سے نفرت نہیں کرتے تو ہم اپنے آپ کو دھوکا دیتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۲۹ خدا کا کلام وقت کے لحاظ سے لامحدود ہے۔ یہ خالص ‏،صحیح‏، ہم آہنگ‏، عالمگیر‏، قوی اور کافی ہے۔ اِس ناتے سے یہ عجیب یعنی حیرت انگیز ہے۔ ایسی کتاب پڑھنے اور عمل کرنے کے لائق ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۳۰ کلام کی تشریح قوموں‏، خاندانوں اور افراد کو نور بخشتی ہے۔ ہم بہت کم محسوس کرتے ہیں کہ اِس کی ساری دنیا میں کس قدر تقدیسی تاثیر ہے۔ یہ اُنہیں عقل مند بناتی ہے جو اپنے آپ کو سادہ دل تسلیم کرتے اور نتیجے میں اِس کی مدد کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۳۱ ضروری ہے کہ ہم خدا کے کلام کے لئے شدید پیاسے ہوں۔ ’’نوزاد بچوں کی مانند خالص روحانی دودھ کے مشتاق رہو‘‘ (‏۱۔پطرس ۲:‏۲)‏۔

۱۱۹:‏ ۱۳۲ شاید ہم رحم کے لئے اُن مسلسل التجاؤں سے بور ہو جائیں‏، لیکن نہ تو زبور نویس اور نہ ہی خدا بور ہوا۔ ہم اِس زندگی میں کسی ایسے مقام پر کبھی بھی نہیں پہنچیں گے جہاں ہمیں اُس کے فضل کی ضرورت نہ ہو۔

۱۱۹:‏ ۱۳۳ یہاں پاکیزگی کے دو پہلو ہیں:‏ پہلے‏، خداوند اپنے کلام کے مطابق ایماندار کی راہنمائی کرے تاکہ وہ ثابت قدم رہے۔ دوسرے‏، وہ ایماندار کو اُس کے اندر بسے ہوئے گناہ کی طاقت سے مخلصی دے۔

۱۱۹:‏ ۱۳۴ اِس دعا کا پہلا حصہ غیر معمولی نہیں ہے:‏ ہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہو گی کہ اُسے انسان کے ظلم سے مخلصی دلائی جائے۔ لیکن غیر معمولی مقصد کو ملاحظہ فرمائیے ’’تاکہ تیرے قوانین پر عمل کر سکوں۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۳۵ خداوند کی خدمت میں ہم اُس سے درخواست کر سکتے ہیں کہ وہ اپنی حضوری اور قدرت کا کوئی اظہار کرے۔ وہ جانتا ہے کہ ہماری دعا کے جواب میں وہ کیسے ہماری حوصلہ افزائی کر سکتا ہے۔ ہماری خواہش زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے لئے کبھی کم نہیں ہونی چاہئے۔

۱۱۹:‏ ۱۳۶ جب آنسو پانی کے چشموں کی طرح جاری ہوتے ہیں تو یہ شدید دکھ اور غم کا ڈرامائی اظہار ہے۔ لیکن یہ آنسو کیوں جاری ہیں؟ کیا زبور نویس کے ساتھ ناانصافی کی وجہ سے؟ نہیں! اِس لئے کہ لوگ خدا کی شریعت کو نہیں مانتے اور اُس کے نام کی تکفیر کرتے ہیں۔

کسی مشہور مصنف کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ایک دن وہ رو رہا تھا۔ جب اُس کے آنسوؤں کی وجہ پوچھی گئی تو اُس نے جواب دیا‏، ’’ مَیں اِس لئے روتا ہوں کیونکہ محبت آ موجود ہوئی ہے اور کوئی اُس سے محبت نہیں کرتا۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۳۷ کتابِ مقدس کا مصنف صادق ہے تو یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ کتاب بھی برحق ہے۔ اکثر لوگ اِس حقیقت کو جانتے ہیں‏، لیکن ہم میں سے بہت کم خداوند کی شکرگزاری کے لئے اُس کی حمد کرتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۳۸ خداوند ہر بات صداقت اور وفاداری سے کہتا ہے اور اُس کا کلام کلی طور پر قابلِ اعتماد ہے۔ عقلِ سلیم یہ بات ماننے پر مجبور ہوتی ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۳۹ بارنز بڑی بصیرت سے تشریح کرتا ہے:‏ 

اپنے دُکھ دینے والوں اور بہتان تراشوں کے سلوک پر نگاہ کرتے ہوئے فتح مند ایماندار کو اِس بات سے زیادہ دُکھ ہوتا ہے کہ وہ خدا کی شریعت کی خلاف ورزی کرتے ہیں بہ نسبت اِس کے کہ وہ اُسے دُکھ دیتے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۴۰ بائبل کو بہت زیادہ آزمایا گیا ہے۔ ہزاروں لوگوں نے اِس کے وعدوں کو آزمایا اور اُنہیں درست پایا۔ لوگوں نے اِس سے نفرت کی‏، جعلی علمائے دین نے اِس پر حملے کئے‏، کافروں نے اِس کا مذاق اُڑایا۔ لیکن دَور حاضر کے نقادوں کی جسمانی حکمت کے باوجود یہ قائم و دائم رہی ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۴۱ زبور نویس اپنے دشمنوں کی نظر میں ادنیٰ اور حقیر تھا۔ لیکن انسان کی حقارت کے باوجود وہ کلام کو نہ بھولا بلکہ اِس سے لپٹا رہا۔

۱۱۹:‏ ۱۴۲ خدا کی صداقت وقتی نہیں بلکہ ابدی ہے۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ بائبل میں سچائی ہے‏، بائبل سچائی ہی ہے۔ خدا نے جو کچھ کہا سچ ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۴۳ مصنف کا پیالہ تکلیف اور عذاب سے لبریز تھا‏، لیکن وہ خدا کے کلام کی بنا پر اپنے آنسوؤں میں سے قوس قزح کا تسلی بخش منظر دیکھ سکتا تھا۔ 

۱۱۹:‏ ۱۴۴ خدا کی شہادتیں نہ صرف اِس وقت سچ اور راست ہیں‏، بلکہ یہ ہمیشہ راست رہیں گی۔ جس قدر ہم اُنہیں سمجھیں گے‏، اُسی قدر ہم صحیح طور پر زندگی سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۴۵ لفظ دعا اِس حصے کی کلید ہے۔ یہاں ایک پُراعتماد دل مدد کے لئے اپیل کرتا ہے۔ جب کوئی شخص پورے دل سے دعا کرتا ہے اور اُس میں خداوند کی مرضی کو پورا کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو خدا ضرور اُس کا جواب دیتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۴۶ جب ہم پطرس کی طرح لہروں میں ڈوبنے لگتے ہیں تو ہم ہمیشہ یہ مختصر سی دعا کریں‏، ’’مجھے بچا لے۔‘‘ تب خداوند ہمیں نکال لیتا ہے تاکہ ہم پھر اُس کے لئے زندگی گزاریں۔

۱۱۹:‏ ۱۴۷ یہاں ایک زاہد شخص کی دعائیہ عادات کا بیان ہے‏، جو سورج کے طلوع ہونے سے پہلے اُٹھ کر گیان دھیان اور دعا سے اپنے دن کا آغاز کرتا ہے۔ ہمارا نصب العین یہ ہونا چاہئے‏، ’’بائبل نہیں تو ناشتہ بھی نہیں۔‘‘ 

۱۱۹:‏ ۱۴۸ بے خوابی کے لمحات کو بھی خدا کے کلام پر گیان دھیان کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اکثر اوقات خداوند اِن لمحات میں ہمیں خزانے دیتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۴۹ ہمیں کبھی بھی اِس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہئے کہ ہم دعا کے ذریعے فوری طور پر خدا کی بارگاہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ ہم زبور نویس کی مانند خدا سے شفقت اور انصاف کے لئے دعا کر سکتے ہیں کہ ہماری زندگیاں محفوظ رہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۵۰ دشمن قریب ہیں۔ وہ خدا کے خادم کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں۔ اُنہوں نے اپنی زندگیوں میں خدا کی شریعت کے اختیار کو رد کر دیا ہے اور اب وہ سب کچھ کرنے کے لئے تیار ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۵۱ لیکن خداوند نزدیک ہے۔ اگر ایک شخص خدا کے ساتھ ہے تو وہ اکثریت میں ہے۔ کوئی دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا‏، کوئی خوف ہمیں نہیں ڈرا سکتا کیونکہ فتح ہمارے لئے یقینی ہے۔ خدا کا کلام سچا ہے اور وہ اپنے لوگوں کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔

۱۱۹:‏ ۱۵۲ یہ جان کر بہت زیادہ تسلی ہوتی ہے کہ خدا کا کلام ابد تک قائم ہے۔ ’’جب شک اور خوف کے طوفان اُمڈ آئیں تو ہم خدا کے زندہ کلام کی بنیاد پر زندگی بسر کرنے سے قائم رہیں گے‏، کیونکہ ہم خدا کے وعدوں پر تکیہ کرتے ہیں۔‘‘

۱۱۹:‏ ۱۵۳ خداوند واقعی ہماری مصیبتوں پر نگاہ کرتا ہے۔ دل کو چیرنے والی ہر ایک آہ میں مردِ غمناک بھی حصہ لیتا ہے۔ اور خدا اُنہیں چھڑانے کے لئے آتا ہے جو اُس سے اور اُس کے کلام کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں۔

۱۱۹:‏ ۱۵۴ مصنف خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس کے وکیل اور زندگی بخشنے والے کی حیثیت سے کام کرے۔ اُس کے خلاف سخت الزامات لگائے جا چکے ہیں‏، لہٰذا اُسے دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ اُسے اِس قدر ستایا گیا ہے کہ اب وہ پژمردہ سا ہو گیا ہے‏، اُسے نئے سرے سے زندگی کی ضرورت ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۵۵ خدا لوگوں کو اُن کی مرضی کے خلاف نجات نہیں دیتا۔ خدا اُن لوگوں کو آسمان میں نہیں بسائے گا جو وہاں بسنا نہیں چاہتے۔ جو کلام کو سننے سے انکار کر دیتے ہیں اُن کے لئے کوئی نجات نہیں ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۵۶ انسانی زبان خدا کے رحم کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اُس کی رحمتوں کا خزانہ ہماری درخواستوں سے ختم نہیں ہو جاتا۔ ستایا ہوا زبور نویس زندگی کے رحم کے لئے التجا کرتا ہے‏، یعنی وہ چاہتا ہے کہ وہ اُسے اُس کے قاتلوں سے رہائی دے۔

۱۱۹:‏ ۱۵۷ اِن میں سے بہت سی آیات کی حقیقی تکمیل خداوند یسوع مسیح میں ہوتی ہے۔ ستانے والوں اور مخالفوں نے اُسے گھیر رکھا ہے‏، لیکن وہ اب بھی اپنے باپ کی شہادتوں کے ساتھ وفادار ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۵۸ اپنی ذاتی بے عزتی کی نسبت خدا کی بے عزتی پر زیادہ ملول ہونا روحانی بلوغت کی علامت ہے۔ کاش ہم یوں خداوند کے لئے غیرت کا اظہار کریں!

۱۱۹:‏ ۱۵۹ آیت ۱۵۳ میں زبور نویس نے لکھا ’’میری مصیبت کا خیال کر۔‘‘ یہاں وہ یہ کہتا ہے ’’میری محبت کا خیال کر‘‘ یعنی خدا کے قوانین سے محبت۔ یہاں اِس حصے میں وہ تیسری بار اپنی زندگی کے تحفظ کے لئے درخواست کرتا ہے (‏آیات ۱۵۴‏، ۱۵۶)‏۔

۱۱۹:‏ ۱۶۰ خدا کا کلام کلی طور پر سچائی ہے۔ اُس کے ہر وعدہ کی تکمیل ضرور ہو گی۔ ’’جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے‘‘ (‏متی ۵:‏ ۱۸)‏۔

۱۱۹:‏ ۱۶۱ بااختیار لوگوں نے بہت دفعہ خدا کے لوگوں کو ستایا ہے۔ لیکن ایماندار کی خدا کے کلام کے لئے تعظیم اور عزت اُسے خداوند سے غداری کرنے سے بچاتی ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۶۲ اُس شخص کو چھپے ہوئے خزانے ملتے ہیں جو خدا کے کلام کا کھوج لگاتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۶۳ خدا کے کلام کی واقفیت سے ہم یہ سیکھتے ہیں کہ جس بات (‏شریعت)‏ سے خدا محبت رکھتا ہے ہم بھی اُس سے محبت رکھیں اور جس سے وہ نفرت کرتا ہے ہم بھی اُس سے (‏جھوٹ بولنے سے)‏ نفرت کریں۔ یوں ہم خدا کی طرح سوچنے لگتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۶۴ سات کاملیت کا عدد ہے۔ ہمارے نزدیک روزانہ سات بار دعا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ زبور نویس مسلسل اور پورے دل سے خدا کی صداقت کے احکام کے لئے شکرگزاری کرتا رہا۔

۱۱۹:‏ ۱۶۵ خدا کا کلام اِس پریشان کن دنیا میں سکون دیتا ہے اور آزمائش کی قوت سے تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اِس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ایمانداروں پر مصیبت یا غم کا کوئی اثر نہیں ہوتا‏، بلکہ شریعت کی فرماں برداری سے وہ گناہ کے گڑھے میں گرنے سے بچ جاتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۶۶ زبور ۳۷:‏۳ میں لکھا ہے ’’خداوند پر توکل کر اور نیکی کر۔‘‘ یہاں زبور نویس کہتا ہے کہ اُس نے اِس مشورے پر عمل کیا ہے۔ ایمان پہلے پیدا ہوتا ہے اور پھر وہ اعمال کی صورت میں پھل لاتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۶۷ ملاکی کے ایام میں لوگوں نے شریعت کی فرماں برداری کو زحمت متصور کیا (‏ملاکی ۱:‏ ۱۳)‏۔ لیکن مصنف ایسا نہیں ہے۔ اُس نے شہادتوں کو مانا اور اُس کے دل میں اُن کے لئے عزت بڑھتی گئی۔ 

۱۱۹:‏ ۱۶۸ اِس حصے میں یہ تین آخری آیات بائبل کی عملی فرماں برداری بیان کرتی ہیں۔ ہم خود خدا کے قوانین مکمل طور پر پورے نہیں کر پاتے۔ صرف ہمارا نجات دہندہ یہ الفاظ یوں کہہ سکتا ہے۔

۱۱۹:‏ ۱۶۹ زبور کے اختتام پر جوش انگیز التجا اپنے نقطہ عروج تک پہنچتی ہے۔ یہ التجا سات بار کی گئی ہے۔ اولاً زبور نویس فریاد کرتا ہے کہ اُس کی بات خدا تک پہنچے۔ پھر وہ حقیقی روحانی بصیرت مانگتا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۷۰ اِن آیات میں دشمن بہت قریب ہے۔ اِس لئے کلام کے وعدہ کے مطابق مخلصی کی التجا کو بار بار بیان کیا گیا ہے۔ 

۱۱۹:‏ ۱۷۱ خدا کے کلام کا بہت زیادہ علم ہمیں مغرور نہ بنا دے‏، بلکہ ہمارے اندر خداوند کے لئے حمدو ستائش پیدا کرے۔

۱۱۹:‏ ۱۷۲ غیر اہم اور معمولی سی باتوں کے بارے میں گفتگو کرنے کے بجائے ہم اپنے خیالات پر ضبط کرکے روحانی امور کے بارے میں گفتگو کریں۔ خدا کے تمام فرمان برحق اور بہت زیادہ قیمتی ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۷۳ یہ بہت خوبصورت تصویر ہے۔ جس شخص نے ارادتاً خداوند کے آئین کو منتخب کیا ہے‏، قادر مطلق کے چھیدے ہوئے ہاتھ آسمان سے اُسے چھڑانے کے لئے زمین تک پہنچتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۷۴ اگرچہ ایماندار کو نجات حاصل ہو چکی ہے‏، لیکن یسوع کے دوبارہ آنے تک ہم گناہ کی موجودگی سے نجات کے لئے آرزو مند رہتے ہیں۔ 

۱۱۹:‏ ۱۷۵ ہمیں صرف اِس لئے نجات نہیں ملی کہ اُس کی خدمت کریں‏، بلکہ اِس لئے بھی کہ اُس کی ستائش کریں۔ بیماری اور حادثہ سے ہر بار مخلصی ہمیں نئے سرے سے جذبہ دے کہ ہم اُس کی ستائش کریں اور اُس کی مدد حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو اُس کے سپرد کریں۔

۱۱۹:‏ ۱۷۶ سوائے اِس آیت کے اِس زبور میں گناہ کا اقرار کم پایا جاتا ہے۔ 

مقدس کتاب

۱ مُبارک ہیں وہ جو کاہل رفتار ہیں جو خُداوند کی شریعت پر عمل کرتے ہیں۔
۲ مُبارک ہیں وہ جواُسکی شہادتو ں کومانتے ہیں ۔اور پورے دل سے اُس کے طا لِب ہیں۔
۳ اُن سے نا راستی نہیں ہوتی ۔ وہ اُ سکی راہوں پر چلتے ہیں۔
۴ تُو نے اپنے قوانین دِۓ ہیں ۔تاکہ ہم دِل لگا کر اُنکو مانیں ۔
۵ کاشکہ تیر ے آ ئین ماننے کے لئےمیری روشیں دُرست ہو جائیں !
۶ جب میَں تیر ے سب احکام کا لحِا ظ رکھُو ُنگا تو شرمنِدہ ہو نگا ۔
۷ جب میں تیری صد اقت کے احکا م سیکھ لُو ُ نگا ۔تُو سچے دِل سے تیرا شُکر ادا کُرونگا۔ میں تیرے آئیں ما نُو نُگا ۔
۸ مجھے بالکل ترک نہ کر دے ۔
۹ جوان اپنی روش کس طر ح پا ک رکھے؟تیرے کلام کے مطُا بق اُس پر نگا ہ رکھنے سے ۔
۱۰ مَیں پُو رے دِل سے طالب ہوا ُہوُں ۔ مجھے اپنے فر مان سے بھٹکنےنہ دے ۔
۱۱ میَں؟ نے تیرے کلا م کو اپنے دِل میں رکھ لیا ہے ۔ تا کہ میں تیرے خلاف گُناہ نہ کروُں۔
۱۲ اَے خُداوند ! تُو مبارک ہے ۔ مجھے اپنے آ ئین سِکھا۔
۱۳ مَیں نے اپنے لبو ں سے تیرے فرمودہ کلام کو بیان کیا۔
۱۴ مجھے تیری شہادتوں کے کی راہ سے شادمانی ہُؤئی جَیسی ہر طرح کی دولت سے ہوتی ہے۔
۱۵ میَں تیرے قوانین پر غور کرونگا۔ اور تیری راہوں کا لحاظ رکھونگا۔
۱۶ میَں تیرے آئین میں مسرور رہونگا۔ میَں تیرے کلام کو نہ بھولونگا۔
۱۷ اپنے بندہ پر احسان کر تاکہ میَں جیتا رہوں۔ اور تیرے کلام کو مانتا رہوں۔
۱۸ میری آنکھیں کھول دے تاکہ میں تیری شریعت کے عجائب دیکھوں۔
۱۹ میَں زمین پر مُسافر ہوں۔ اپنے فرمان مجھ سے پوشیدہ نہ رکھ۔
۲۰ میرا دل تیرے احکام کے اشتیاق میں ہر وقت تڑپتا رہتا ہے۔
۲۱ تُو نے اُن معلان مغروروں کو جھڑک دیا۔ جو تیرے فرمان سے بھٹکے رہتے ہیں۔
۲۲ ملامت اور حقارت کو مجھ سے دور کر دےکیونکہ میَں نے تیری شہادتیں مانی ہیں۔
۲۳ اُمرا بھی بیٹھکر میرے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ لیکن تیرا بندہ تیرے آئین پر دھیان لگائے رہا۔
۲۴ تیری شہادتیں مجھے مرغوب اور میری مُشیر ہیں۔
۲۵ میری جان خاک میں مِل گئی۔تُو اپنے کلام کے مُطابق مجھے زندہ کر ۔
۲۶ میَں نے اپنی رَوشوں کا اظہار کیا اور تُو نے مجھے جواب دیا۔ مجھے اپنے آئین کی تعلیم دے۔
۲۷ اپنے قوانین کی راہ مجھے سمجھا دے۔ اور میَں تیرے عجائب پر دھیان کرونگا۔
۲۸ غم کے مارے میری جان گھُلی جاتی ہے۔ اپنے کلام کے مُطابق مجھے تقویت دے۔
۲۹ جھوٹ کی راہ سے مجھے دور رکھ۔ اور مجھے شریعت عنایت فرما۔
۳۰ میَں نے وفاداری کی راہ اختیار کی ہے۔ میَں نے تیرے احکام اپنے سامنے رکھے ہیں۔
۳۱ میَں تیری شہادتوں سے لِپٹا ہُؤا ہوں۔ اَے خُداوند! مجھے شرمندہ نہ ہونے دے۔
۳۲ جب تُو میرا حوصلہ بڑھائیگا۔ تو میَں تیرے فرمان کی راہ میں دوڑونگا۔
۳۳ اَے خُداوند مجھے اپنے آئین کی راہ بتا۔اور میَں آخر تک اُس پر چلوں گا۔
۳۴ مجھے فہم عطا کر اور میَں تیری شریعت پر چلونگا۔ بلکہ میَں پُورے دِل سے اُسکو مانونگا۔
۳۵ مجھے اپنے فرمان کی راہ پر چلا۔ میونکہ اِس میں میری خُوشی ہے۔
۳۶ میرے دِل کو اپنی شہا دتو ں کی طرف رجوُع دِلا نہ کہ لالچ کی طرف ۔
۳۷ میری آنکھو ں کو بظُلا ن پر نظر کرنے سے با ز رکھ اور مجھے اپنی راہوں میں زندہ کر ۔
۳۸ اپنے بندہ کے لئے اپنا وہ قول پورا کر۔ جِس سے تیرا خُوف پیدا ہوتا ہے۔
۳۹ میری ملامت کو جِس سے میَں ڈرتا ہوں دور کردے۔ کیونکہ تیرے احکام بھلے ہیں۔
۴۰ دیکھ! میَں تیرے قوانین کا مُشتاق رہا ہُوں۔ مجھے اپنی صداقت سے زندہ کر۔
۴۱ اَے خُداوند! تیرے قول کے مطابق تیرے شفقت اور تیری نجات مجھے نصیب ہوں۔
۴۲ تب میں اپنے ملامت کرنے والے کو جواب دے سکونگا۔ کیونکہ میَں تیرے کلام پر بھروسا رکھتا ہوں۔
۴۳ اور حق بات کو میرے مُنہ سے ہرگز جُدا نہ ہونے دے کیونکہ میرا اعتماد تیرے احکام پر ہے۔
۴۴ پس میں ابدلآباد تیری شریعت کو مانتا رہونگا۔
۴۵ اور میَں آزادی سے چلونگا۔ کیونکہ میَں تیرے قوانین کا الب رہو ہوں۔
۴۶ میَں بادشاہوں کے سامنے تیری شہادتوں کا بیان کرونگا۔ اور شرمندہ نہ ہونگا۔
۴۷ تیرے فرمان مجھے عزیز ہے اُٹھاونگا۔ اور تیرے آئین پر دھیان کرونگا۔
۴۸ میرے ہاتھوں میں بھی میں نے پیار کیا ہے جو تیرے احکام، سے اٹھا گا، اور میں تیرے آئین میں غور کیا جائے گا.
۴۹ جو کلام تُو نے اپنے بندہ سے کیا اُسے یاد کر کیونکہ تُو نے مجھے اُمید دِلائی ہے۔
۵۰ میری مُصیبت میں یہی میری تسلی ہے۔ کہ تیرے کلام نے مجھے زندہ کیاہے۔
۵۱ مغروروں نے مجھے بہت ٹھٹھوں میں اُڑایا۔ تو بھی میں نے تیری شریعت سے کنارہ نہیں کیا۔
۵۲ اَے خُداوند! میَں تیرے قدیم احکام کو یاد کرتا اور اطمنان پاتا ہوں۔
۵۳ اُن شریروں کے سبب سے جو تیری شریعت کو ترک کرتے ہیں۔ میَں سخت طیش میں آ گیا ہوں۔
۵۴ میرے مسافر خانہ میں تیرے آئین میرا گیت رہے ہیں۔
۵۵ اَے خُداوند! رات کو میَں نے تیرا نام یاد کیا ہے۔ اور تیری شریعت پر عمل کیا ہے۔
۵۶ یہ میرے واسطے اِس لئے ہُؤا۔ کہ میَں نے تیرے قوانین کو مانا۔
۵۷ خُداوند میرا بخرہ ہے۔ میَں نے کہا ہے میَں تیری باتیں مانونگا۔
۵۸ میَں پورے دل سے تیرے کرم کا خواہاں ہؤا۔ اپنے کلام کے مطابق مجھ پر رحم کر ۔
۵۹ میَں نے اپنی راہوں پر غور کیا اور تیری شہادتوں کی طرف امنے قدم موڑے۔
۶۰ میَں نے تیرے فرمان ماننے ہیں۔ جلدی کی اور دیر نہ لگائی۔
۶۱ شریروں کی رسیوں نے مجھے جکڑ لیا۔ پر میَں تیری شریعت کو نہ بھولا۔
۶۲ تیری صداقت کے لئے مَیں آ دھی رات کو تیرا شُکر کرنے کو اُٹھو نگا ۔
۶۳ مُیں اُن سب کا ساتھی ہُوں جو تجھ سے ڈر تے ہیں ۔ اور اُن کا جو تیر ے قو انین کو مانتے ہیں ۔
۶۴ اَے خُدا زمین تیر ی شفقت سے معمور ہے ۔ مجھےُ آ ئین سکھا ۔
۶۵ اَے خُداوند ! تُو نے اپنے کلا م کے مطابق اپنے بندہ کے ساتھ بھلائی کی ہے ۔
۶۶ مجھے صحیح اِمتیا ز اور دانش سکِھا کیونکہ میَں تیرے فرمان پر ایمان لا یا ہوں
۶۷ میَں مُصیبت اُٹھانے سے پہلے گمر ُاہ تھا ۔ پر اب تیر ے کلام کو مانتا ہوں۔
۶۸ تُو بھلا ہے اور بھلا ئی کرتا ہے۔مجھے اپنے آ ئین سکھا ۔
۶۹ مغُروروں نے مجھ پر بُہتان با ند ھا ہے ۔میَں پُو رے دِل سے تیرے قو انین کو ماُنو نگا ۔
۷۰ اُن کے دِل چکنا ئی سے فر بہ ہو گئے ۔لیکن میَں تیری شریعت میں مُسرُور ہوُں
۷۱ اچھا ہو اُاکے میں نے مصیبت اُٹھا ئی تا
۷۲ کہ تیرے مُنہ کی شر یعت میرے لئے سونے چاندی کے ہزاروں سکُوں سے بہتر ہے ۔
۷۳ تیرے ہاتھو ں نے مجھے بنا یا اور تر تیب دی ۔
۷۴ تجھُ ڈر نے واے مجھے دیکھکر خُوش ہونگے۔ اِس لئے کہ مجھے تیرے کلام پر اعتماد ہے ۔
۷۵ اَے خُداوند ! میں تیرے احکام کی صداقت کو جانتا ہو ں اور کہ وفاداری ہی سےتو نے مجھے دُکھ میں ڈالا ۔
۷۶ اُس کلام کے مُطابق جو تُو نے اپنے بندوں سے کیا تیری شفقت میری تسلی کا باعث ہو۔
۷۷ تیری رحمت مجھے نصیب ہو تاکہ میَں زندہ رہوں۔ کیونکہ تیری شریعت میری خُشنودی ہے۔
۷۸ مغرور شرمندہ ہوں کیونکہ اُنہوں نے ناحق مجھے گِرایا۔ لیکن میَں تیرے قوانین پر دھیان کرونگا۔
۷۹ تجھ سے ڈرنے والے میری طرف رجوع ہوں تو وہ تیری شہادتوں کو جان لیں گے۔
۸۰ میرادل تیرے آئین ماننے میں کامل رہے تاکہ میَں شرمندگی نہ اُٹھاؤں۔
۸۱ میری جان تیری نجات کے لئے بیتاب ہے۔ لیکن مجھے تیرے کلام پر اعتماد ہے۔
۸۲ تیرے کلام کے انتظار میں میری آنکھیں رہ گئیں۔ میَں یہی کہتا رہا کہ تُو مجھے کب تسلی دیگا؟
۸۳ میَں اُس مشکیزہ کی مانند ہو گیا جو دھوئیں میں ہو۔ تو بھی میَں تیرے آئین کو نہیں بھولتا۔
۸۴ تیرے بندہ کے دِن ہی کتنے ہیں؟ تُو میرے ستانے والوں پر کب فتح دیگا؟
۸۵ مغروروں نے جو تیری شریعت کے پیرونہیں میرے لئے کھودے ہیں۔
۸۶ تیرے سب فرمان برحق ہیں۔ وہ ناحق مجھے ستاتے ہیں ۔ تُو میری مدد کر۔
۸۷ اُنہوں نے مجھے زمین پر سے فنا کر ہی ڈالا تھا۔ لیکن میں نے تیرے قوانین کو ترک نہ کیا۔
۸۸ تُو مجھے اپنی شفقت کے مُطابق زندہ کر۔ تو میَں تیرے مُنہ کی شہادت کو مانونگا۔
۸۹ اَے خُداوند ! تیرا کلام آسمان پر ابدتک قائم ہے۔
۹۰ تیری وفاداری پُشت در پُشت ہے۔ تُو نے زمین کو قیام بخشا اور وہ قائم ہے۔
۹۱ وہ آج تیرے احکام کے مُطابق قائم ہیں۔ کیونکہ سب چیزیں تیری خدمت گُذار ہیں۔
۹۲ اگر تیری شریعت میری خُوشنودی نہ ہوتی تو میَں اپنی مُصیبت میں ہلاک ہو جاتا۔
۹۳ میَں تیرے قوانین کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ کیونکہ تُو نے اُن ہی کے وسیلہ سے مجھے زندہ کیا۔
۹۴ میَں تیرا ہی ہوں ۔ مجھے بچا لے۔ کیونکہ میَں تیرے قوانین کا طالب رہا ہوں ۔
۹۵ شریر مجھے ہلاک کرنے کو گھات لگا رہے لیکن میَں تیری شہادتوں پر غور کرونگا۔
۹۶ میَں نے دیکھا کہ ہر کمال کی انتہا ہے۔ لیکن تیرا حُکم نہایت وسیع ہے۔
۹۷ آہ! میَں تیری شریعت سے کَیسی مُحبت رکھتا ہوں۔ مجھے دِن بھر اُسی کا دھیان رہتا ہے۔
۹۸ تیرے فرمان مجھے میرے دُشمنوں سے زیادہ دانشور بناتے ہیں۔ کیونکہ وہ ہمیشہ میرے ساتھ ہیں۔
۹۹ میَں اپنے سب اُستادوں سے عقلمند ہوں۔ کیونکہ تیری شہادتوں پر میر ادھیان رہتا ہے۔
۱۰۰ میَں عُمر رسیدہ لوگوں سے زیادہ سمجھ رکھتا ہوں۔ کیونکہ میَں نے تیرے قوانین کو مانا ہے۔
۱۰۱ میَں نے ہر بُری راہ سے اپنے قدم روک رکھے ہیں۔ تاکہ تیری شریعت پر عمل کروں۔
۱۰۲ میَں نے تیرے احکام سے کنارہ نہیں کیا۔ کیونکہ تُو نے مجھے تعلیم دی ہے۔
۱۰۳ تیری باتیں میرے لئے کیسی شرین ہیں! وہ میرے مُنہ کو شہد سے بھی میٹھی معلوم ہوتی ہیں۔
۱۰۴ تیرے قوانین سے مجھے فہم حاصل ہوتا ہے۔اِسلئے مجھے ہر جھوٹی راہ سے نفرت ہے۔
۱۰۵ تیرا کلام میرے قدموں کے لئے چراغ اور میری راہ کے لئے روشنی ہے۔
۱۰۶ میَں نے قسم کھائی ہے اور اِس پر قائم ہوں۔ کہ تیری صداقت کے احکام پر عمل کروں۔
۱۰۷ میَں بڑی مُصیبت میں ہوں اَے خُداوند! اپنے کلام کے مُطابق مجھے زندہ کر۔
۱۰۸ اَے خُداوند میرے مُنہ سے رضا کی قُربانیاں قبول فرما۔ اور مجھے اپنے احکام کی تعلیم دے۔
۱۰۹ میری جان ہمیشہ ہٹھیلی پر ہے۔ تو بھی میَں تیری شریعت کو نہیں بھولتا۔
۱۱۰ شریروں نے میرے لئے پھندہ لگایا ہے۔ تو بھی میَں تیرے قوانین سے نہیں بھٹکتا۔
۱۱۱ میَں نے تیری شہادتوں کو اپنی میراث بنایا ہے۔ کیونکہ اُس سے میرے دِل کو شادمانی ہوتی ہے۔
۱۱۲ میَں نے ہمیشہ کے لئے آخر تک تیرے آئین ماننے پر دل لگایا ہے۔
۱۱۳ مجھے دو دلوں سے نفرت ہے۔ پر تیری شریعت سے مُحبت رکھتا ہوں۔
۱۱۴ تُو میرے چھِپنے کی جگہ اور میری سِپر ہے۔ مجھے تیرے کلام پر اعتماد ہے۔
۱۱۵ اَے بدکردارو! مجھ سے دور ہو جاؤ۔ تاکہ میں اپنے خُداوند کے فرمان پر عمل کروں۔
۱۱۶ تُو اپنے کلام کے مُطابق مجھے سنبھال تاکہ زندہ رہوں۔ اور مجھے اپنے اعتماد سے شرمندگی نہ اُٹھانے دے۔
۱۱۷ مجھے سنبھال اور میَں سلامت رہونگا اور ہمیشہ تیرے آئین کا لحاظ رکھونگا۔
۱۱۸ تُو نے اُن سب کو حقیر جانا ہے جو تیرے آئین سے بھٹک جاتے ہیں۔ کیونکہ اُنکی دغا بازی عبث ہے۔
۱۱۹ تُو زمین کے سب شریروں کو میَل کی طرح چھانٹ دیتا ہے۔ اِسلئے میَں تیری شہادتوں کو عزیز رکھتا ہوں۔
۱۲۰ میرا جِسم تیرے خُوف سے کانپتا ہے۔اور میَں تیرے احکام سے ڈرتا ہوں۔
۱۲۱ میَں نے عدل اور انصاف کیا ہے۔ مجھے اُنکے حوالے نہ کر جو ظُلم کرتے ہیں۔
۱۲۲ بھلائی کے لئے اپنے بندہ کا ضامن ہو۔ مغرُور مجھ پر ظُلم نہ کریں۔
۱۲۳ تیری نجات اور تیری صداقت کے کلام کے انتظار میں میری آنکھیں رہ گئیں۔
۱۲۴ اپنے بندہ سے اپنی شفقت کے مُطابق سلوُک کر اور مجھے اپنے آئین سیکھا۔
۱۲۵ میَں تیرا بندہ ہوں مجھے فہم عطا کر۔تاکہ تیری شہادتوں کو سمجھ لوں۔
۱۲۶ اب وقت آ گیا ہے کہ خُداوند کام کرے کیونکہ اُنہوں نے تیری شریعت کو باطل کردیا ہے۔
۱۲۷ لہذا میں سونے کے اوپر اپنے احکام سے پیار ہے؛ جی ہاں، ٹھیک سونے سے اوپر.
۱۲۸ اِسلئے میَں تیرے سب قوانین کو برحق جانتا ہوں۔ اور ہر جھوٹی راہ سے مجھے نفرت ہے۔
۱۲۹ تیری شہادتیں عجیب ہیں اِسلئے میرا دل اُنکو مانتا ہے۔
۱۳۰ تیری باتوں کی تشریح نور بخشتی ہے۔ وہ سادہ دِلوں کو عقکمند بناتی ہے۔
۱۳۱ میَں خوب مُنہ کھول کر ہانپتا رہا۔ کیونکہ میَں تیرے فرمان کا مُشتاق تھا۔
۱۳۲ میری طرف توجہ کر اور مجھ پر رحم فرما۔ جَیسا تیرے نام سے مُحبت رکھنے والوں کا حق ہے۔
۱۳۳ اپنے کلام میں میری رہنمائی کر۔ کوئی بدکاری مجھ پر تسلط نہ پائے۔
۱۳۴ اِنسان کے ظُلم سے مجھے چھُڑالے۔ تو تیرے قوانین پر عمل کرونگا۔
۱۳۵ اپنا چہرہ اپنے بندہ پر جلوہ گر فرما۔ اور مجھے اپنے آئین سکھا۔
۱۳۶ میری آنکھوں سے پانی کے چشمے جاری ہیں۔ اِسلئے کہ لوگ تیری شریعت کو نہیں مانتے۔
۱۳۷ اَے خُداوند !تُوصادق ہے۔ اور تیرے احکام برحق ہیں۔
۱۳۸ تُو نے صداقت اور کمال وفاداری سے اپنی شہادتوں کو ظاہر فرمایا ہے۔
۱۳۹ میری غیرت مجھے کھا گئی کیونکہ میرے مُخالِف تیری باتیں بھول گئے۔
۱۴۰ تیرا کلام بالکل خالص ہے اِس لئے تیرے بندہ کو اُس سے مُحبت ہے۔
۱۴۱ میَں ادنٰی اور حقیر ہوں تو بھی میَں تیرے قوانین کو نہیں بھولتا۔
۱۴۲ تیری صداقت ابدی صداقت ہے۔ اور تیری شریعت برحق ہے،
۱۴۳ میَں تکلیف اور عذاب میں مُبتلا ہوں۔ تُو بھی تیرے فرمان میری خُوشنودی ہیں۔
۱۴۴ تیری شہادتیں ہمیشہ راست ہیں۔ مجھے فہم عطا کر تو میَں زندہ رہونگا۔
۱۴۵ میَں پُورے دِل سے دُعا کعتا ہوں۔ اَے خُداوند! مجھے جواب دے ۔ میَں تیرے آئین پر عمل کرونگا۔
۱۴۶ میَں نے تجھ سے دُعا کی ہے۔ مجھے بچالے۔ اور میَں تیری شہادتوں کو مانونگا۔
۱۴۷ میَں نے پو پھٹنے سے پہلے فریاد کی مجھے تیرے کلام پر اعتماد ہے۔
۱۴۸ میری آنکھیں رات کے ہر پہر سے پہلے کھُل گئیں تاکہ تیرے کلام پر دھیان کروں۔
۱۴۹ اپنی شفقت کے مُطابق میری فریاد سُن ۔ اَے خُداوند! اپنے احکام کے مُطابق مجھے زندہ کر ۔
۱۵۰ جو شرارت کے درپے رہتے ہیں وہ نزدیک آگئے ۔ وہ تیری شریعت سے دور ہیں۔
۱۵۱ اَے خُداوند ! تُو نزدیک ہے اور تیرے سب فرمان برحق ہیں ۔
۱۵۲ تیری شہادتوں سے مجھے قدیم سے معلوم ہُؤا کہ تُو نے اُنکو ہمیشہ کے لئے قائم کیا ہے۔
۱۵۳ میری مُصیبت کا خیال کر اور مجھے چھُڑا کیونکہ میَں تیری شریعت کو نہیں بھولتا۔
۱۵۴ میری وکالت کر اور فدیہ دے۔ اپنے کلام کے مُطابق مجھے زندہ کر۔
۱۵۵ نجات شریروں سے دور ہے کیونکہ وہ تیرے آئین کے طالب نہیں ہیں۔
۱۵۶ اَے خُداوند ! تیری رحمت بڑی ہے اپنے احکام کے مُطابق مجھے زندہ کر۔
۱۵۷ میرے ستانے والے اور مُخالف بہت ہیں۔ تو بھی میَں نے تیری شہادتوں سے کنارہ نہ کیا۔
۱۵۸ میَں دغابازوں کو دیکھکر بول ہُؤا۔ کیونکہ وہ تیرے کلام کو نہیں مانتے۔
۱۵۹ خیال فرما کہ مجھے تیرے قوانین سے کَیسی مُحبت ہے۔ اَے خُداوند ! اپنی شفقت کے مُطابق مجھے زندہ کر۔
۱۶۰ تیرے کلام کا خلاصہ سچّائی ہے۔ تیری صداقت کے کُل احکام ابدی ہیں۔
۱۶۱ اُمرا نے مجھے بے سبب ستایا ہے۔لیکن میرے دِل میں تیری باتوں کا خوف ہے۔
۱۶۲ میَں بڑی لُوٹ پانے والے کی مانند تیرے کلام سے خوش ہوں۔
۱۶۳ مجھے جھوٹ سے نفرت اور کراہیت ہے۔ لیکن تیری شریعت سے مُحبت ہے۔
۱۶۴ میَں تیری صداقت کے احکام کے سبب سے دِن مین سات بار تیری ستایش کرتا ہوں۔
۱۶۵ تیری شریعت سے مُحبت رکھنے والے مُطمئن ہیں۔ اُنکے لئے ٹھوکر کھانتے کا کوئے موقع نہیں۔
۱۶۶ اَے خُداوند! میَں تیری نجات کا اُمیدوار رہو ہوں۔ اور تیرے فرمان بجا لایا ہوں۔
۱۶۷ میری جان نے تیری شہادتیں مانی ہیں اور وہ مجھے نہایت عزیز ہیں۔
۱۶۸ میَں نے تیرے قوانین اور شہادتوں کو مانا ہے۔ کیونکہ میری سب روشیں تیرے سامنے ہں۔
۱۶۹ اَے خُداوند! میری فریاد تیرے حُضُور پہنچے اپنے کلام کے مُطابق مجھے فہم عطا کر۔
۱۷۰ میری اِلتجا تیرے حُضُور پہنچے اپنے کلام کے مُطابق مجھے چُھڑا ۔
۱۷۱ میرے لبوں ست تیری ستایش ہو کیونکہ تُو مجھے اپنے آئین سکھاتا ہے۔
۱۷۲ میری زُبان تیرے کلام کا گیت گائے۔ کیونکہ تیرے سب فرمان برحق ہیں ۔
۱۷۳ تیرا ہاتھ میری مدد کو تیار رہے کیونکہ میَں نے تیرے قوانین اختیار کئے ہیں ۔
۱۷۴ اَے خُداوند! میَں تیری نجات کا مُشتاق رہا ہوں۔ اور تیری شریعت میری خُوشنودی ہے ۔
۱۷۵ میری جان زندہ رہے تو وہ تیری ستایش کرے گی۔ اور تیرے احکام میری مدد کریں۔
۱۷۶ میَں کھوئی ہوئی بھیڑ کی مانند بھٹک گیا ہوں اپنے بندہ کو تلاش کر کیونکہ میَں تیرے فرمان کو نہیں بھولتا۔