زبُور ۲۷

زبور ۲۷:‏ مسیح کی گرفتاری اور پیشی

یہ خوب صورت زبور اَور دلکش ہو جاتا ہے جب ہم اِس میں مسیح کے کلوری سے پہلے کے چند گھنٹوں کے خیالات کا اظہار دیکھتے ہیں۔

۲۷:‏ ۱ مثلاً جب سردار کاہن‏، ہیکل کے سردار اور بزرگ گتسمنی میں مسیح کو پکڑنے کے لئے آئے تو اُس نے اُنہیں کہا‏، ’’ یہ تمہاری گھڑی اور تاریکی کا اختیار ہے‘‘ (‏لوقا ۲۲:‏ ۵۳)‏۔ لیکن عین ممکن ہے کہ اِسی لمحہ وہ اپنے آپ کو اِس خیال سے تسلی دے رہا ہو:‏ 

’’خداوند میری روشنی اور میری نجات ہے۔ مجھے کس کی دہشت؟
خداوند میری زندگی کا پشتہ ہے‏، مجھے کس کی ہیبت؟‘‘

تاریکی کے اِن لمحات میں خداوند اُس کی روشنی تھا۔ خدا اُس کی نجات تھا یعنی دنیوی دشمنوں سے چھڑانے والا۔ خداوند اُس کی زندگی کا پشتہ (‏کسی چیز کو مضبوط بنانے کے لئے مٹی کا ڈھیر‏،بند)‏ تھا اور طوفان کے وقت اُس کی پناہ گاہ۔ ایسے تحفظ کے پیش نظر اُسے کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔

۲۷:‏۲ جب لوگ خداوند یسوع مسیح کو پکڑنے کے لئے آئے تو اُس نے اُن سے کہا ’’کسے ڈھونڈتے ہو؟‘‘ اُنہوں نے اُسے جواب دیا ’’یسوع ناصری کو۔‘‘ اُس کے یہ کہتے ہی کہ ’’ مَیں ہی ہوں‘‘ وہ پیچھے ہٹ کر زمین پر گر پڑے (‏یوحنا ۱۸:‏ ۶)‏۔ ممکن ہے کہ اِس لمحہ یسوع اِن الفاظ پر سوچ رہا ہو:‏

’’جب شریر یعنی میرے مخالف اور میرے دشمن
میرا گوشت کھانے کو مجھ پر چڑھ آئے تو وہ ٹھوکر کھا کر گر پڑے۔‘‘

وہ اُس پر شکاری پرندوں کی طرح جھپٹ پڑے‏، لیکن اُس کی الوہیت کا جلال اُس کی انسانیت کے لبادے میں سے چمکا اور اُس کو پکڑنے والے زمین پر گر پڑے۔

۲۷:‏ ۳ یوحنا ہمیں بتاتا ہے کہ جو گروہ یسوع کو گتسمنی میں پکڑنے کے لئے آیا‏، وہ سپاہیوں کی پلٹن‏، سردار کاہنوں اور فریسیوں کے پیادوں پر مشتمل تھا۔ وہ مشعلوں‏، چراغوں اور ہتھیاروں کے ساتھ وہاں آئے۔ جب وہ اُنہیں اپنی طرف آتے دیکھ رہا تھا‏، تو بڑے سکون سے یہ کہہ سکتا تھا:‏ 

’’خواہ میرے خلاف لشکر خیمہ زن ہو‏، میرا دل نہیں ڈرے گا۔
خواہ میرے مقابلہ میں جنگ برپا ہو‏، تو بھی مَیں خاطر جمع رہوں گا۔‘‘

۲۷:‏۴ بے چارے پطرس نے اپنے آقا کے دفاع میں سردار کاہن کے نوکر کا کان اڑا دیا‏، لیکن یسوع نے اُسے جواب دیا‏، ’’جو پیالہ باپ نے مجھ کو دیا کیا مَیں اُسے نہ پیوں؟‘‘ اُس کی واحد خواہش یہ تھی کہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چونکہ جلال کا راستہ پہلے کلوری کی طرف جاتا تھا‏، وہ اِس دُکھ اور ندامت کو برداشت کرنے کے لئے تیار تھا۔ اُس کے یہ الفاظ تھے:‏ 

’’ مَیں نے خداوند سے ایک درخواست کی ہے۔ مَیں اِسی کا طالب رہوں گا
کہ مَیں عمر بھر خداوند کے گھر میں رہوں
تاکہ خداوند کے جمال کو دیکھوں اور اُس کی ہیکل میں استفسار کیا کروں۔‘‘

وہ جانتا ہے کہ اُس کی کیا ضرورت ہے اور وہ اِسے حاصل کرنے کے لئے مصمم ارادہ کر لیتا ہے۔ اُس کی راہ میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔

۲۷:‏۵ تب سپاہیوں اور اُن کے صوبہ دار اور یہودیوں کے پیادوں نے یسوع کو پکڑ کر باندھ لیا (‏یوحنا ۱۸:‏۱۲)‏۔ دیکھنے والوں کو تو یہی محسوس ہوا ہو گا کہ خداوند یسوع مسیح کا مشن فیل ہو گیا ہے‏، لیکن عین اِسی لمحے شاید وہ یہ کہہ رہا ہو:‏

’’کیونکہ مصیبت کے دن وہ مجھے اپنے شامیانہ میں پوشیدہ رکھے گا۔
وہ مجھے اپنے خیمے کے پردہ میں چھپا لے گا۔
وہ مجھے چٹان پر چڑھائے گا۔‘‘

وہ اُس تحفظ پر تکیہ کئے ہوئے تھا جس کا وعدہ خدا نے اُن لوگوں سے کیا ہے جو اُس سے محبت رکھتے ہیں۔

۲۷:‏ ۶ سپاہی مسیح کو سردار کاہن کائفا کے پاس لے گئے (‏متی ۲۶:‏ ۵۷)‏۔ یہ وہی کائفا تھا جس نے یہودیوں کو صلاح دی تھی کہ اُمت کے واسطے ایک آدمی کا مرنا بہتر ہے (‏یوحنا ۱۸:‏ ۱۴)‏۔ گو مسیح کے دشمنوں نے یہ منصوبہ بنایا تھا کہ اُسے آسمان اور زمین کے درمیان صلیب پر چڑھایا جائے لیکن ہمارا خداوند بذاتِ خود ایک اَور طرح کے اوپر چڑھائے جانے کی پیش بینی کر رہا تھا۔

’’اب مَیں اپنے چاروں طرف کے دشمنوں پر سرفراز کیا جاؤں گا۔
مَیں اُس کے خیمہ میں خوشی کی قربانیاں گزرانوں گا۔
مَیں گاؤں گا۔ مَیں خداوند کی مدح سرائی کروں گا۔‘‘

اُس شخص کے لئے یہ کیسی عجیب و غریب اُمید ہے جس کو مار دینے کے لئے مقدمہ بنایا گیا اور جو خود بھی جانتا تھا کہ اِس کا نتیجہ سزائے موت ہو گا۔ لیکن اِس کے باوجود وہ متوقع جلال کے لئے خوش ہو رہا تھا۔ کیا اُس نے کائفا سے یہ نہ کہا تھا:‏ ’’اِس کے بعد تم ابن آدم کو قادرِ مطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے‘‘ (‏متی ۲۶:‏۶۴)‏؟

۲۷:‏ ۷‏، ۸ اِس پر سردار کاہن غصہ سے پھٹ پڑا اور اُس نے کُفر کا فتویٰ لگا دیا۔ اُس نے حاضرین سے مطالبہ کیا ’’تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘ اُنہوں نے جواب دیا ’’وہ قتل کے لائق ہے۔‘‘ یہاں ہم نجات دہندہ کو خاموشی میں دعا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں:‏

’’اے خداوند! میری آواز سن۔ مَیں پکارتا ہوں۔
مجھ پر رحم کر اور مجھے جواب دے۔
جب تُو نے فرمایا کہ میرے دیدار کے طالب ہو تو میرے دل نے تجھ سے کہا اے خداوند مَیں تیرے دیدار کا طالب رہوں گا۔‘‘

۲۷:‏ ۹ اِس وقت شاگرد یسوع کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے (‏متی ۲۶:‏ ۵۶)‏۔ لیکن خداوند نے ماضی میں اُس کی مدد کی اور اب اُس نے التجا کی کہ خدا اُسے اِس بحرانی وقت میں نہ چھوڑے:‏ 

’’مجھ سے رُوپوش نہ ہو۔ اپنے بندہ کو قہر سے نہ نکال۔
تُو میرا مدد گار رہا ہے۔
نہ مجھے ترک کر نہ مجھے چھوڑ اے میرے نجات دینے والے خدا!‘‘

۲۷:‏ ۱۰ جہاں تک ہمارا علم ہے‏، داؤد کے والدین نے اُسے کبھی نہ چھوڑا اور نہ ہی ہمارے خداوند یسوع مسیح کے دنیوی والدین نے اُسے چھوڑا۔ جے۔این۔ڈاربی غالباً بہتر طور پر اِس آیت کا یوں ترجمہ کرتا ہے:‏

’’کیونکہ اگر میرا باپ اور ماں مجھے چھوڑ دیتے تو یہوواہ مجھے سنبھال لیتا۔‘‘

۲۷:‏ ۱۱‏، ۱۲ مسیح یسوع کی مذہبی پیشی پر سردار کاہن اور صدر عدالت کے ارکان اُسے سزائے موت دینے کی کوشش میں اُس کے خلاف جھوٹی گواہیاں ڈھونڈنے لگے۔ لیکن اُنہیں ایسی کوئی گواہی نہ ملی جس سے وہ یسوع کو کسی طرح کا نقصان پہنچا سکتے۔ بالآخر اُن گواہوں نے اُس پر یہ الزام لگایا:‏ ’’ مَیں خدا کے مَقدِس کو ڈھا سکتا اور تین دن میں اُسے بنا سکتا ہوں‘‘ (‏متی ۲۶:‏ ۵۹۔۶۱)‏۔ لیکن یسوع نے فی الحقیقت اپنے جسم کے مقدس کے بارے میں کہا تھا:‏ ’’اِس مقدس کو ڈھا دو تو مَیں اُسے تین دن میں کھڑا کر دوں گا‘‘ (‏یوحنا ۲:‏ ۱۹‏،۲۱)‏۔ چونکہ سارا مقدمہ جھوٹ پر مبنی تھا‏، اِس لئے اِس گواہی کو بھی تسلیم کر لیا گیا۔ اب ہم یسوع کی اِس دعا کو سنیں:‏

’’اے خداوند مجھے اپنی راہ بتا
اور میرے دشمنوں کے سبب سے مجھے ہموار راستہ پر چلا‘‘
مجھے میرے مخالفوں کی مرضی پر نہ چھوڑ
کیونکہ جھوٹے گواہ اور بے رحمی سے پھنکارنے والے میرے خلاف اُٹھے ہیں۔‘‘

۲۷:‏۱۳ اِس کے بعد ہم غصہ میں بپھرے ہوئے ہجوم کو پیلاطس کی عدالت کے باہر چلاتے ہوئے سنتے ہیں‏، ’’وہ مصلوب ہو‘‘ (‏متی ۲۷:‏ ۲۲‏،۲۳)‏۔ مبارک خداوند نے بھی اُن کا چلانا سنا اور وہ جانتا تھا کہ اُن کا کیا مطلب ہے۔ تاہم عین اِسی لمحہ وہ فی الحقیقت یہ کہہ سکتا تھا:‏

’’اگر مجھے یقین نہ ہوتا کہ زندوں کی زمین میں
خداوند کے احسان کو دیکھوں گا تو مجھے غش آ جاتا۔‘‘

۲۷:‏ ۱۴ لیکن زبور کی آخری آیت کے بارے میں کیا کہیں؟ یہ ہماری تفسیر سے کہاں تک ہم آہنگ ہوتی ہے؟ میرا خیال ہے کہ یہ الفاظ ہم میں سے ہر ایک کے لئے آسمان کی طرف سے آخری نصیحت ہیں اور یہ مسیح کے خدا پر بھروسا رکھنے کے اپنے شخصی تجربہ پر مبنی ہیں۔

’’خداوند کی آس رکھ۔ مضبوط ہو اور تیرا دل قوی ہو۔ 
ہاں خداوند ہی کی آس رکھ۔‘‘

مقدس کتاب

۱ خُداوند میری روشنی اور میری نجات ہے۔ مجھے کس کی دہشت؟ خُداوند میری زندگی کا پُشتہ ہے۔ مجھے کس کی ہیبت؟
۲ جب شریر یعنی میرے مخالف اور میرے دُشمن میراگوشت کھانے کو مجھ پر چڑھ آئے تو وہ ٹھوکر کھا کر گِر پڑے۔
۳ خواہ میرے خلاف لشکر خیمہ زن ہو میرا دِل نہیں ڈریگا۔ خواہ میرے مُقابلہ میں جنگ برپا ہو تَو بھی مَیں خاطر جمع رہونگا۔
۴ مَیں نے خُداوند سے ایک درخواست کی ہے۔ مَیں اِسی کا طالب رہونگا کہ مَیں عُمر بھر خُداوند کے گھر میں رہوں تاکہ خُداوند کے جمال کو دیکھُوں اور اُس کی ہیکل میں اِستفسار کیا کرُوں۔
۵ کیونکہ مُصیبت کے دِن وہ مجھے اپنے شامیانہ میں پوشیدہ رکھےگا وہ مجھے اپنے خیمہ کے پردہ میں چھپالیگا۔ وہ مجھے چٹان پر چڑھادیگا۔
۶ اب مَیں اپنے چاروں طرف کے دُشمنوں پر سرفراز کیا جاؤنگا۔ مَیں اُس کے خیمہ میں خُوشی کی قربانیاں گذرانونگا۔ میں گاؤنگا۔ مَیں خُداوند کی مدح سرائی کرُونگا۔
۷ اَے خُداوند! میری آواز سُن۔ مَیں پُکارتا ہوں۔ مجھ پر رحم کر اور مجھے جواب دے۔
۸ جب تُو نے فرمایا کہ میرے دیدار کے طالب ہو تو میرے دِل نے تجھ سے کہا۔ اَے خُداوند مَیں تیرے دیدار کا طالب رہونگا۔
۹ مجھ سے رُو پوش نہ ہو۔ اپنے بندہ کو قہر سے نہ نکال۔ تُو میرا مددگار رہا ہے۔ نہ مجھے ترک کر نہ مجھے چھوڑا اَے میرے نجات دینے والے خُدا!
۱۰ جب میرا باپ اور میری ماں مجھے چھوڑدیں۔تو خُداوند مجھے سنبھال لیگا۔
۱۱ اَے خُداوند مجھے اپنی راہ بتا اور میرے دُشمنوں کے سبب سے مجھے ہموار راستہ پر چلا۔
۱۲ مجھے میرے مخالفوں کی مرضی پر نہ چھوڑ کیونکہ جھُوٹے گواہ اور بے رحمی سے پھُنکارنے والے میرے خلاف اُٹھے ہیں۔
۱۳ اگر مُجھے یقین نہ ہوتاکہ زندوں کی زمین میں خُداوند کے احسان کو دیکھونگا تو مجھے غش آجاتا۔
۱۴ خُداوند کی آس رکھ۔ مضُبوط ہو اور تیرا دِل قوی ہو۔ ہاں خُداوند ہی کی آس رکھ۔