آستر تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

آستر

Esther

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’آستر کی کتاب یہودیوں کی تاریخ کے اُس حصے کا بیان کرتی ہے جو بائبل میں اَور کہیں نہیں ملتا۔ مثلاً ہم اِسی کتاب میں عید پوریم کے آغاز کے بارے میں پڑھتے ہیں۔ یہودی آج کے دن تک اِس عید کو مناتے ہیں۔‘‘(‏کارل آرمرڈنگ ۔ Carl Armerding)‏

۱۔ فہرستِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام

حال ہی میں کسی شخص نے ایک رُوسی یہودی سے پوچھا کہ اگر سوویت یونین یہودیوں کی سخت ایذا رسانی کرے تو اِس کا کیا انجام ہو گا۔ جواب ملا‏، ’’اوہ! غالباً ایک اَور عید۔‘‘ وضاحت کے لئے یہودی شخص نے کہا‏، ’’فرعون نے یہودیوں کو ختم کرنا چاہا تو اِس کا نتیجہ عید فسح نکلا اور ہامان نے یہودیوں کو صفحۂ ہستی سے مٹانا چاہا تو عیدپوریم نے جنم لیا۔ انطاکس اپفینس (‏Antiochus Epiphanes)‏نے ہمارے ساتھ یہی سلوک کرنا چاہا تو اِس کا انجام ہانوکہ (‏Hanukkah)‏کی عید نکلا۔‘‘

آستر کی کتاب میں عید پوریم کے آغاز کی وضاحت کی گئی ہے‏، اِس تعطیل پر آج بھی رنگا رنگ پروگرام مرتب کئے جاتے ہیں‏، اور جب عوامی سطح پر اِس کتاب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو جب بھی ہامان کا ذکر آتا ہے تو بہت زیادہ منفی نعرہ بازی ہوتی ہے۔ 

آستر کی کتاب کئی لحاظ سے منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ یہ اُن یہودیوں کی داستان پیش کرتی ہے جو شریعت کے پابند نہیں ہیں‏، جنہوں نے زرُبابل کے تحت یروشلیم میں واپس آ کر مشکلات کو برداشت کرنے کے بجائے‏، فارس میں خوش حالی کو ترجیح دی (‏عزرا باب ۲)‏۔ سوائے روزے کے‏، مذہب کے سلسلے میں دیگر حوالہ جات مفقود ہیں۔

اِس کتاب کا ایک اَور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اِس میں خدا کا نام نہیں پایا جاتا۔ اِسی کی بنا پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اِسے کتابِ مقدس میں شامل نہیں کیا جانا چاہئے تھا۔ 

گو خدا کا نام واضح طور پر نہیں ملتا‏، لیکن اُس کے لوگوں کی مخلصی کے لئے اُس کی قدرت اور حضوری کا احساس ہوتا ہے۔ گو یہوواہ نام اُن لوگوں کے ساتھ واضح طور پر منسلک نہیں جنہوں نے اپنے ملک اور شہر کو واپس آنے کے بجائے بابل میں رہنے کو ترجیح دی‏، لیکن ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اُن کی حفاظت نہیں کرتا تھا۔ وہ اب بھی اُس کے لوگ تھے۔ اور جو آج اُنہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دینا چاہتے ہیں اُن سے بھی وہ اُن کی حفاظت کرتا ہے۔ خدا ہی ساری تاریخ کا بانی ہے‏، حالانکہ ہر ایک صفحے کے نیچے اُس کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ 

آستر کی کتاب میں سے عہدِ جدید میں اِقتباسات پیش نہیں کئے گئے اور بحیرۂ مردار کے طوماروں میں بھی اِس کا کوئی حصہ نہیں ملا۔ اِس وجہ سے اور دیگر کئی وجوہات کی بنا پر بعض لوگوں نے (‏حتیٰ کہ چند ایک یہودیوں نے)‏ آستر کی کتاب کے فہرستِ مسلمہ میں شامل ہونے پر اعتراض کیا ہے۔ تاہم اِس کتاب میں نہایت قیمتی تعلیم ہے۔ گو لوگ نافرمان ہوں تو بھی خدا اُن سے وفاداری سے پیش آتا ہے۔ 

۲۔ مصنف

بلاشبہ اِس کتاب کا مصنف کوئی یہودی ہے جو فارس کی رسومات سے واقف تھا اور محل سے خوب مانوس تھا۔ (‏آثارِ قدیمہ نے اِن میں سے بعض ایک باتوں کی تصدیق کی ہے)‏ وہ ایک عینی شاہد کی طرح لکھتا ہے اور وہ اسیری کے بعد کے دَور کے عبرانی انداز کو استعمال کرتا ہے۔ بعض ایک کا خیال ہے کہ عزرا یا نحمیاہ اِس کتاب کا مصنف ہے۔ یہودی روایت کے مطابق مردکی اِس کا مصنف تھا۔ لیکن ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ کون تھا۔ شاید کوئی ایسا شخص تھا جو تاریخی لحاظ سے اہم کردار نہ تھا۔ خواہ کوئی بھی تھا ایک تفسیر میں یوں لکھا ہے ’’اِسے کسی ایسے شخص نے نہیں لکھا جس کا خدا پر ایمان نہیں تھا۔ اور خدا پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص جب اِسے پڑھتا ہے تو اِس سے تقویت حاصل کرتا ہے۔‘‘

۳۔سنِ تصنیف

آستر ۲:‏۱۰ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اخسویرس بادشاہ مر چکا تھا‏، چونکہ وہ ۴۶۵ ق م میں مرا اِس لئے یہ کتاب اُس سال کے بعد لکھی گئی۔ فارسیوں کی ثقافتی تفصیلات‏، درباری دستاویزات تک رسائی اور چشم دید گواہی اِس اَمر کی تصدیق کرتی ہے کہ یہ اخسویرس کی موت کے فوراً بعد‏، ارتخششتا اوّل کے دَور (‏۴۶۴۔۴۲۴ ق م)‏ میں لکھی گئی۔ غیر ایمان دار نقادوں کا عموماً یہ نظریہ ہے کہ یہ کتاب بہت بعد میں (‏تیسری یا دوسری صدی ق م میں)‏ لکھی گئی۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

اِس کتاب کے واقعات عزرا کی کتاب کے چھٹے اور ساتویں باب کے دوران شاہِ فارس اخسویرس کے دَورِ حکومت میں رُونما ہوئے۔ اِس کتاب کا اُن یہودیوں سے تعلق ہے جنہوں نے زرُبابل (‏عزرا باب ۲)‏ کی قیادت میں چھوٹے سے بقیہ کے ساتھ یروشلیم واپس جانے کے بجائے بابل میں سکونت کرنے کو ترجیح دی۔ اِس کتاب کا نام اِس کے مرکزی کردار آستر سے لیا گیا ہے جو یتیم ہونے کے باوجود ملکہ بن گئی۔ اُس کے فارسی نام آستر کا مطلب ہے ’’ستارہ۔‘‘ عین ممکن ہے کہ یہ دیوی عستارات سے اخذ کیا گیا ہو۔ اِس کے عبرانی نام ہدساہ کے معنی ہیں ’’خوشی۔‘‘

اخسویرس سوسن شہر میں دربار لگاتا تھا۔ یہ فارس کے تین اہم شہروں میں سے ایک تھا۔ دوسرے دو شہر اخمتا اور بابل تھے۔ دانی ایل نبی نے وہاں وقت گزارا (‏دانی ایل ۸ باب)‏ اور نحمیاہ نے وہاں آستر کے ایام کے بعد خدمت کی (‏نحمیاہ باب ۱)‏۔ وہاں ہماری اِس کہانی نے جنم لیا۔ اِس کا آغاز ۴۸۳ ق م میں ہوا۔ اخسویرس نے ۴۸۶ ق م میں اِقتدار سنبھالا‏، پہلا باب اُس کے دَورِ حکومت کے تیسرے سال میں شروع ہوتا ہے۔ 

 

خاکہ
      باب
۱۔ وشتی کو نکالنے کا فرمان ‏ ۱‏
۲۔ آستر کی سرفرازی ‏ ۲‏
۳۔ یہودیوں کی ہلاکت کا منصوبہ ‏ ۳‏،۴‏
  الف۔ ہامان کی بادشاہ سے گفتگو ‏ ۳‏
  ب۔ مردکی کی ملکہ سے گفتگو ‏ ۴‏
۴۔ یہودیوں کی ہلاکت کے منصوبے میں رکاوٹ ‏ ۵۔۹‏
  الف۔ آستر کی درخواست اور ہامان کا غصہ ‏ ۵‏
  ب۔ ہامان کی تذلیل اور مردکی کی عزت افزائی ‏ ۶‏
  ج۔ آستر کا الزام اور ہامان کا پھانسی پر چڑھایا جانا ‏ ۷‏
  د۔ مردکی کی ترقی اور یہودیوں کی مخلصی ‏ ۸‏
  ہ۔ دشمن کی ہلاکت اور عید پوریم کا آغاز ‏ ۹‏
۵۔ مردکی کی سرفرازی ‏ ۱۰‏