زبُور ۶۳

زبور ۶۳:‏ زندگی سے بہتر

عارضی طور پر معزول داؤد یردن کے مشرق میں اپنی جبری جلاوطنی کے تحت دشتِیہوداہ کے پار جا رہا ہے (‏۲۔سموئیل ۱۵:‏ ۲۳۔۲۸ ‏، ۱۶:‏۲ ‏، ۱۷:‏۱۶)‏۔ گو بادشاہ کا سیاسی ستارہ گردش میں تھا‏، تاہم روحانی طور پر وہ بہت مضبوط تھا۔ 

۶۳:‏ ۱ کتنا اچھا لگتا ہے کہ وہ خدا کو اپنا خدا کہہ کر پکارتا ہے ’’اے خدا! تُو میرا خدا ہے۔‘‘ یہ الفاظ بذاتہٖ بہت سادہ ہیں اور اِن میں بچوں کی سی سادگی کا اظہار ہوتا ہے‏، لیکن مفہوم کے لحاظ سے یہ بہت گہرے معنی کے حامل ہیں۔ ’’میرا خدا‘‘ اِن الفاظ میں کس قدر شخصی اور گہرے تعلقات پائے جاتے ہیں۔ ’’میرا خدا‘‘ یہ ایک دائمی خزانہ ہے جب سب کچھ چھن جائے۔ ’’میرا خدا‘‘ یہ ہر بحران میں مدد کا ایک تسلی بخش وسیلہ ہے۔

جب ہم داؤد کے خدا کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلق پر غور کرتے ہیں تو ہمیں شرم آنی چاہئے خاص کر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اوقات ہمارے خدا کے ساتھ تعلقات کس قدر جوش سے خالی ہوتے ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے اوّلین ایام میں اور ہر روز‏، دن کے شروع میں خدا کی تلاش کرتا تھا۔ اور وہ اتنی بے قراری سے اُس کی تلاش کرتا تھا کہ اُسے انکار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اُس کی جان خدا کی پیاسی تھی اور اُس کا جسم اُس کا مشتاق تھا۔۔ جس کا یہ مطلب ہے کہ اُس کی پوری ذات ابدی خدا کے ساتھ رفاقت کی پیاسی تھی۔ اُس کی پیاس اِس قدر شدید تھی جیسے خشک اور پیاسی زمین میں مسافر کی پیاس ہوتی ہے۔ یہ اِس دُنیا کی بُری کیفیت کا کتنا موزوں بیان ہے جو بالکل بنجر اور ویران ہے۔

۶۳:‏۲ اپنے تصورات میں وہ اُن لمحات کو یاد کرتا ہے جب وہ یروشلیم کے مقدس میں پرستش کرتا تھا۔ وہ بیان سے باہر اُن لمحات کو یاد کرتا ہے جب گیان دھیان کے دوران اُس نے خدا کو اُس کی قدرت اور حشمت میں دیکھا۔ اب اَور کوئی شے اُس کی جان کو مطمئن نہیں کر سکتی‏، سوائے اِس کے کہ خداوند پھر سے اپنی قدرت میں اپنے آپ کو اُس پر ظاہر کرے۔ خدا کو اُس کے الٰہی جلال میں دیکھنا ایک ایسا تجربہ ہے جس کے سامنے ہر طرح کا جلال ماند پڑ جاتا ہے۔

۶۳:‏ ۳‏،۴ تب دشتِ یہوداہ سے تعریف و شکرگزاری کا ایک پُرجوش گیت جنم لیتا ہے۔

’’کیونکہ تیری شفقت زندگی سے بہتر ہے۔
میرے ہونٹ تیری تعریف کریں گے۔
اِسی طرح مَیں عمر بھر تجھے مبارک کہوں گا
اور تیرا نام لے کر اپنے ہاتھ اوپر اُٹھایا کروں گا۔‘‘

خداوند کی شفقت زندگی کی ہر ایک شے سے بہتر ہے۔ جب ہمارے ہونٹ اُس کی تعریف کرتے ہیں تو یہ لبوں کا بہترین استعمال ہے۔ اگر زندگی بھر اُس کی تعریف کی جائے تو بھی یہ کم ہے۔ اگر ہم دعا اور تعریف میں اپنے ہاتھ اوپر اُٹھائیں تو یہ مقصدِحیات کی بہترین تکمیل ہے۔

۶۳:‏ ۵۔۸ کوئی ضیافت اِس مقدس رفاقت کا نعم البدل نہیں۔ ہماری جان بہترین خوشیوں سے سیر ہوتی ہے۔ جب ہم رات کے وقت حالتِ بیداری میں جلالی خداوند پر گیان دھیان کرتے ہیں تو ہمارے مسرور لب اُس کی شکرگزاری کرتے ہیں۔ اُس نے کس قدر ہماری مدد کی ہے ۔۔ جو کچھ اُس نے ہمارے لئے کیا ہے‏، کون اِس کا حساب کر سکتا ہے؟ اُس کے پروں کے سایہ تلے ہم خوشی کا گیت گاتے ہیں۔ اور جب ہم ضرورت کے شعور اور پُرمحبت بھروسے کے ساتھ اُس سے لپٹے رہتے ہیں‏، تو وہ ہمیں دیکھے اور اَندیکھے خطرات سے بچاتا ہے اور ہمیں انعام حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھنے کی قوت دیتا ہے۔

۶۳:‏ ۹‏،۱۰ میرے دشمن میرا نام و نشان مٹا دینا چاہتے ہیں‏، لیکن اُن کا مقدر ہلاکت ہے۔ وہ تشدد سے مریں گے اور باوقار طریقہ سے اُن کی تجہیز و تکفین نہیں ہو گی یعنی وہ ذلت و رسوائی سے مریں گے۔

۶۳:‏ ۱۱ لیکن مَیں خداوند سے لطف اندوز ہوں گا۔ درحقیقت جو اُس سے وفاداری کی قسم کھاتا ہے‏، وہ خوش ہو گا اور جو جھوٹ بولتے ہیں اُن کا منہ بند کر دیا جائے گا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا ! تُو میرا خُدا ہے۔ میَں دِل سے تیرا طالِب ہونگا۔خُشک اور پیاسی اور میرا جِسم تیرا مُشتاق ہے۔
۲ اِس طرح میَں نے مقدِس میں تجھ پر نِگاہ کی تاکہ تیری قُدرت اور حشمت کو دیکھُوں
۳ کیونکہ تیری شفقت زندگی سے بہتر ہے۔میرے ہونٹ تیری تعریف کریں گے۔
۴ اِسی طرح میَں عُمر بھر تجھے مُبارِک کہونگا۔ اور تیرا نام لے کر اپنے ہاتھ اُٹھایا کروں گا۔
۵ میری جان گویا گُودے اور چربی سے سیر ہو گی۔ اور میرا مُنہ مسرُور لبوں سے تیری تعریف کریگا۔
۶ جب میَں بِستر پر تجھے یاد کرُونگا اور رات کے ایک ایک پہر میں تجھ پر دھیان کروُنگا۔
۷ اِسلئے کہ تُو میرا مدد گار رہا ہے اور میَں تیرے پروں کے سایہ میں خُوشی مناؤنگا۔
۸ میری جان کو تیری ہی دُھن ہے۔تیرا دہنا ہاتھ مجھے سنبھالتا ہے۔
۹ پر جو میری جان کی ہلاکت کے دَرپے ہیں وہ زمین کے اسفل میں چلے جائینگے۔
۱۰ وہ تلوار کے حوالہ ہونگے۔ وہ گیِدڑوں کا لُقمہ بنینگے۔
۱۱ لیکن بادشاہ خُدا میں شادمان ہوگا۔ جواُسکی قسم کھاتا ہے وہ فخر کریگا کیونکہ جھُوٹ بولنے والوں کا مُنہ بند کردِیا جائیگا۔