زبور ۸۷ : شاہی مردم شماری کا زبور
یروشلیم کے میئر ٹیڈی کالک نے اپنے چار ہزار سالہ پرانے شہر پر یوں حیرانی کا اظہار کیا ہے:
عرصۂ دراز سے ماہرین آثارِ قدیمہ اور مورخین اِس بات پر حیران ہیں کہ یروشلیم اِس جگہ پر کیوں قائم کیا گیا اور یہ کیوں اِس قدر عظیم شہر بن گیا۔ اِس کے کوئی ایسے قدرتی خدوخال نہیں جو دُنیا کے دیگر اہم شہروں کی ترقی کا باعث بنے ہیں۔ یہ کسی بڑے دریا پر واقع نہیں ہے۔ اِس کے نزدیک کوئی بڑی بندرگاہ نہیں ہے۔ یہ بہت بڑی شاہراہوں سے ملا ہوا نہیں۔ یہ پانی کے کسی بڑے چشمہ کے قریب بھی نہیں۔ یہ قدرتی کانوں سے مالامال بھی نہیں ہے۔ یہ بڑی تجارتی شاہراہوں سے دُور ہے۔ قدیم جنگی حکومتوں کے لئے اِس میں فتح حاصل کرنے کا کوئی کلیدی کردار نہیں تھا۔ اِس میں نہ تو کوئی جغرافیائی اور نہ خاص معاشی فضائل تھے جن سے اِس امر کی وضاحت ہو سکے کہ کیوں ایک قدرے بڑے اور گمنام گاؤں کا دیگر دیہاتوں سے جو عرصۂ دراز ہوا مٹ گئے، مختلف مقدر ہے۔
۸۷: ۱۔۳ یروشلیم کی عظمت کا سبب یہ تھا کہ خدا نے اِسے چنا تھا۔ اُس نے اِس کی بنیاد مقدس پہاڑ پر رکھی اور وہ ملک کے دیگر تمام شہروں اور قصبوں کی نسبت اِس کے پھاٹکوں کو زیادہ عزیز رکھتا ہے۔ مستقبل میں تو اِس کی حشمت بہت ہی زیادہ ہو گی، جب یہ مسیح کی سلطنت کا صدر مقام ہو گا اور یہ اُس بادشاہ کا شہر ہو گا جس کا عرصۂ دراز سے انتظار تھا۔ اِس زبور میں اُس دن پر نگاہیں جمی ہوئی ہیں جب خدا کے شہر کی بڑی بڑی خوبیاں بیان کی جائیں گی۔
ایک طرح سے یہ بہت سی قوموں کی روحانی جنم بھومی ہو گا۔
آخری دنوں میں یوں ہو گا کہ خداوند کے گھر کا پہاڑ پہاڑوں کی چوٹی پر قائم کیا جائے گا اور ٹیلوں سے بلند ہو گا اور سب قومیں وہاں پہنچیں گی۔ بلکہ بہت سی اُمتیں آئیں گی اور کہیں گی آؤ خداوند کے پہاڑ پر چڑھیں یعنی یعقوب کے خدا کے گھر میں داخل ہوں اور وہ اپنی راہیں ہم کو بتائے گا اور ہم اُس کے راستوں پر چلیں گے کیونکہ شریعت صیون سے اور خداوند کا کلام یروشلیم سے صادر ہو گا (یسعیاہ ۲: ۲،۳)۔
۸۷: ۴ آیت ۴ سے یہی ظاہر ہو رہا ہے۔ صیون کو اِس انداز سے پیش کیا گیا ہے جیسے قومیں اِسے ماں کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہیں۔ جنوب میں رہب (مصر) اور شمال میں بابلی لوگ فلستین، صور اور کوش کے بارے میں بھی کہیں گے کہ وہ یروشلیم میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ بھی اُن قوموں میں شامل ہوں گے جو یروشلیم کو دُنیا کا روحانی، سیاسی اور معاشی مرکز تسلیم کرتے ہیں۔ وہاں پرستش کے لئے جائیں گے اور عظیم بادشاہ کے لئے عقیدت کے ہدیئے لائیں گے (یسعیاہ ۶۰: ۵۔۷) اور جو قومیں عیدخیام منانے کے لئے نہیں جائیں گی وہ خشک سالی اور وبا کی مصیبت سے دوچار ہوں گے (زکریاہ ۱۴: ۱۶۔۱۹)۔
۸۷: ۵ صیون ایک ایسا مقام ہو گا جہاں قوموں کو نئی پیدائش کا تجربہ ہو گا، کیونکہ حق تعالیٰ خود اُسے عالمگیر حکومت کے مقام کی حیثیت سے قیام بخشے گا۔
۸۷: ۶ جب خداوند لوگوں کی مردم شماری کرے گا تو وہ نہایت احتیاط سے معلوم کرے گا کہ بعض قوموں نے صیون کے شہری بننے سے اپنے حقیقی مقدر کو پہچان لیا ہے۔
وہ صدر مقام میں اِس کے فن تعمیر کی تعریف کرنے کے لئے نہیں آئیں گے اور نہ اُس کی فصیلوں کو دیکھنے کے لئے، نہ اُن قبیلوں پر رشک کرنے کے لئے جو شہر میں پرستش کے لئے آئے ہیں، بلکہ وہ شہر کے تحفظ کا تجربہ کرنے کے لئے آئیں گے، اُس کے قوانین کو ماننے کے لئے، اُس کے خوش باش معاشرہ میں رہنے اور محبت کرنے کے لئے، اور اُس کے جلالی بانی اور محافظ سے رفاقت رکھنے کے لئے۔
خدا اُن قوموں کا حساب رکھتا ہے جو اسرائیل کی سرفرازی اور برکت کے وسیلہ سے بادشاہی میں داخل کی جاتی ہیں۔ تب صیون تمام دنیا کا شاندار صدر مقام بن جاتا ہے۔ (گابلین)
۸۷: ۷ یہ عید کا سا سماں ہو گا۔ گانے اور بجانے والے سب گیت کے اِس کورس میں شامل ہوں گے: ’’میرے سب چشمے تجھ میں ہیں۔‘‘ یروشلیم اب آنسوؤں اور مصیبت کا مقام نہیں رہے گا بلکہ برکت کا چشمہ بن جائے گا، تازگی کا منبع ہو گا اور دُنیا کی تمام قوموں کے لئے روحانی گھر ہو گا۔
اِس زبور کی تفسیر کے آخر میں لازم ہے کہ ہر ایک قاری اپنے آپ پر اِس کا اطلاق کرے۔ اطلاق یہ ہے کہ ایک ایسا وقت آئے گا جب خدا لوگوں کے نام درج کرے گا۔ یہ آسمان کے باسیوں کی مردم شماری ہو گی۔ اُس کی سب سے بڑی اور واحد شرط نئی پیدائش ہو گی۔ صرف وہی جو نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں آسمان کی بادشاہی کو دیکھ سکیں گے اور اُس میں داخل ہو سکیں گے (یوحنا ۳:۳۔۵)۔ جب خدا لوگوں کے نام درج کرے گا تو وہ یہ لکھے گا ’’اِس شخص کی فلاں فلاں جگہ پر نئی پیدائش ہوئی۔‘‘
کیا وہ آپ کے بارے میں یہ کہہ سکے گا؟
ایک طریقہ جس سے آپ بھی آسمانی شہریت حاصل کر سکتے ہیں یہ ہے:
’’لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشایعنی اُنہیں جو اُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں‘‘ (یوحنا ۱:۱۲)۔
مقدس کتاب
۱ اُسکی بُنیاد مُقدسّ پہاڑوں میں ہے۔
۲ خُداوند صِیُون کے پھاٹکوں کو یعقُوؔب کے سب مسکنوں سے زیادہ عزیز رکھتا ہے۔
۳ اَے خُدا کے شہر! تیری بڑی بڑی خُبیاں بیان کی جاتی ہیں۔
۴ میَں رہؔب اور باؔبل کا یوں ذِکر کرونگا کہ وہ میرے جاننے والوں میں ہیں۔ فِلسؔتین اور صُوؔر اور کُوؔش کو دیکھو۔ یہ وہاں پیدا ہُؤا تھا۔
۵ بلکہ صِیُوؔن کے بارے میں کہا جائیگا کہ فلاں فلاں آدمی اُس میں پیدا ہُوئے اور حق تعالیٰ خود اُسکو قیام بخشیگا۔
۶ خُداوند قوموں کے شمار کے وقت درج کریگا کہ یہ شخص وہاں پیدا ہُؤا تھا۔
۷ گانے والے اور ناچنے والے یہی کہینگے کہ میرے سب چشمے تجھ ہی میں ہیں۔