زبور ۲۳ : عظیم چرواہا
سارے ادب میں زبور ۲۳ کو غالباً سب سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ خواہ بالغ لوگ اِسے گائیں یا سنڈے سکول پروگرام میں اِسے پڑھا جائے، اِس میں ایک دائمی جاذبیت اور زندۂ جاوید پیغام ہے۔ ایک بزرگ ماہر علمِ اِلٰہیات نے لکھا ’’مبارک ہے وہ دن جب زبور ۲۳ نے جنم لیا۔‘‘
جے۔آر۔ لٹل پراؤڈ نے ایک خاکہ پیش کیا ہے جس میں کسی طرح کی اصلاح کرنا نہایت مشکل ہے۔
پُرمسرت زندگی کا راز— ہر ایک ضرورت پوری ہوتی ہے۔
’’خداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہو گی۔‘‘
پُرمسرت موت کا بھید— ہر ایک خوف دُور ہو چکا ہے۔
’’بلکہ خواہ موت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گزر ہومَیں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے۔‘‘
پُرمسرت ابدیت کا بھید— ہر ایک خواہش کی تکمیل ہوتی ہے۔
’’یقیناًبھلائی اور رحمت عمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہیں گیاور مَیں ہمیشہ خداوند کے گھر میں سکونت کروں گا۔‘‘
۲۳:۱ اِس کی عالم گیر مقبولیت کے باوجود، یہ زبور ہر ایک کے لئے نہیں ہے۔ یہ صرف اُن کے لئے ہے جو یہ کہہ سکیں ’’خداوند میرا چوپان ہے۔‘‘ یہ سچ ہے کہ اچھے چرواہے نے ہر ایک کے لئے جان دی، لیکن صرف وہی جو فی الحقیقت اُسے ایمان سے قبول کرتے ہیں، اُس کی بھیڑیں ہیں۔ اُس کا نجات بخش کام سب کے لئے کافی ہے، لیکن موثر یہ صرف اُنہی کے لئے ہے جو اُس پر ایمان لاتے ہیں۔ چنانچہ ہر چیز کا انحصار شخصی لفظ ’’میرے‘‘ پر ہے۔ جب تک وہ میرا چرواہا نہ ہو، باقی ماندہ زبور کا میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسری طرف اگر وہ فی الحقیقت میرا ہے اور مَیں اُس کا ہوں، تب مجھے اُس میں ہر شے حاصل ہو گی۔
۲۳: ۲ میرے بدن اور روح کے لئے خوراک کی کمی نہ ہوگی کیونکہ ’’وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بٹھاتا ہے۔‘‘
مجھے تازگی کے لئے بھی کمی نہ ہو گی کیونکہ ’’وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔‘‘
۲۳: ۳ مجھے طاقت کی کمی نہ ہو گی کیونکہ ’’وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔‘‘
مجھے اخلاقی راہنمائی کی کمی نہ ہو گی کیونکہ ’’وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔‘‘
ہم اُس لڑکے پر مسکراتے ہیں جو اِس زبور کو پڑھتے ہوئے گھبرایا سا تھا اور جس نے اِسے یوں پیش کیا، ’’خداوند میرا چوپان ہے، مجھے فکر نہ ہو گی۔‘‘ لیکن وہ غلط نہیں بلکہ بہت زیادہ درست تھا۔ وہ صحیح الفاظ تو بھول گیا، لیکن اِس کے صحیح مفہوم کو سمجھ لیا۔ اگر خداوند ہمارا چوپان ہے تو ہمیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
۲۳: ۴ اور ہمیں موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ موت کے سایہ کی وادی میں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ وہاں بھی وہ ہمارے ساتھ ہے۔ موت کا ڈنک گناہ ہے — یعنی گناہ جس کا اقرار نہ کیا ہو اور وہ گناہ جو معاف نہ کیا گیا ہو۔ لیکن مسیح نے ایماندار کے لئے موت میں سے یہ ڈنک نکال دیا۔ اُس نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ہمارے گناہ دُور پھینک دیئے ہیں۔ اب موت جو ہمارے لئے سب سے بڑا کام کر سکتی ہے، فی الحقیقت وہ سب سے بہتر کام ہے جو ہمارے لئے کیا جا سکتا ہے۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں،
’’اے موت! اے قبر، مَیں تیری قوت سے نہیں ڈرتا۔ قرض چکا دیا گیا ہے۔ مسیح پر اُن تاریک اور خوف ناک لمحات میں ہمارے گناہ لاد دیئے گئے تھے۔‘‘ (مارگریٹ ایل۔کارسن)
بے شک مسیحی بھی کسی حد تک موت سے منسلک دُکھوں سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ ایک عمر رسیدہ مقدس کو یہ کہتے سنا گیا، ’’خداوند میرے خیمہ کو ضرور اُتارے، لیکن مہربانی کرکے بڑے آرام سے۔‘‘
یہ بھی سچ ہے کہ عموماً ہمیں مرنے کا فضل نہیں ملتا جب تک کہ ہمیں اُس کی ضرورت نہ ہو۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے لئے موت کا خوف ختم ہو گیا ہے کیونکہ مرنے کا مطلب ہے کہ ہم مسیح کے ساتھ رہیں گے۔ یہ کہیں بہتر ہے۔ ’’مرنا نفع ہے۔‘‘
چرواہے کے عصا اور لاٹھی میں تسلی، تحفظ اور راہنمائی ہے۔ بوقت ضرورت وہ لاٹھی کو تنبیہ کے لئے بھی استعمال کر سکتا ہے۔ اکثر بھیڑوں کو وقتاً فوقتاً اِس خدمت کی ضرورت ہے۔
۲۳:۵ اِس دوران چرواہا ہمارے دشمنوں کے روبرو ہمارے لئے دستر خوان بچھاتا ہے۔ اُس میز پر تمام روحانی نعمتیں سجی ہوئی ہیں جو اُس نے اپنے قیمتی لہو سے ہمارے لئے خریدی ہیں۔ میز اُس ہر ایک چیز کی تصویر پیش کرتی ہے جو مسیح میں ہماری ہے۔ دشمنوں کے گھیرے میں بھی ہم بڑے سکون اور تحفظ کے ساتھ اِن برکتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
جے۔ایچ۔ جوئٹ اِس کی یوں تشریح کرتا ہے:
مشرقی مہمان نوازی، مہمان کے تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ مہمان نوازی اُس کے تحفظ کا احاطہ کئے ہوتی ہے۔ اُسے خیمہ میں لے جایا جاتا ہے، اُس کے سامنے کھانا رکھا جاتا ہے جبکہ اُس کا تعاقب کرنے والے دروازے پر کھڑے اُسے گھور رہے ہوتے ہیں۔
وہ ہمارے سروں کو تیل سے مسح کرتا ہے۔ چرواہے اپنی بھیڑوں کے سروں کو مسح کرتے ہیں تاکہ اُنہیں خراشوں اور زخموں سے سکون ملے۔ جب کاہنوں کو تیل سے مسح کیا جاتا تھا تو اِس کا مطلب تھا کہ اُنہیں اُن کی خدمت کے لئے مسح کیا گیا۔ بادشاہ کو تیل سے مسح کرنے کا مطلب اُس کی تاج پوشی تھا۔ جب ہم مسیح کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتے ہیں تو ہمیں روح القدس سے مسح کیا جاتا ہے۔ یہ مسح ہمیں ضمانت دیتا ہے کہ خدا روح القدس ہمارے اندر تعلیم کی خدمت سرانجام دے گا۔
جب ہم مسیح میں حاصل کردہ فضل کی تمام برکتوں کے بارے میں سوچتے ہیں، تو ہم شکرگزاری کے طور پر کہتے ہیں، ’’میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔‘‘
خدا کی محبت کی کوئی حد نہیں۔ اُس کے فضل کا کوئی پیمانہ نہیں۔
اُس کی قدرت کی کوئی سرحد نہیں:
کیونکہ مسیح میں اپنی لامحدود برکتوں میں سے وہ دیتا، دیتا اور دیتا ہی رہتا ہے۔
(اینی جانسن فلِنٹ)
۲۳: ۶ بالآخر پُرمسرت ابدیت کا بھید بیان کیا گیا ہے۔ ساری زندگی کے دوران خدا کی بھلائی اور رحمت ہمارے ساتھ رہتی ہے اور آخر کار ہم اپنی ابدی سکونت گاہ یعنی باپ کے گھر میں پہنچتے ہیں۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ ’’ہم کس قدر خوش قسمت بھکاری ہیں!‘‘
مقدس کتاب
۱ خُداوند میرا چوپان ہے۔ مجھے کمی نہ ہوگی۔
۲ وہ مجھے ہری ہری چراگاہوں میں بِٹھاتا ہے۔ وہ مجھے راحت کے چشموں کے پاس لے جاتا ہے۔
۳ وہ میری جان کو بحال کرتا ہے۔وہ مجھے اپنے نام کی خاطر صداقت کی راہوں پر لے چلتا ہے۔
۴ بلکہ خواہ مُوت کے سایہ کی وادی میں سے میرا گُذر ہو میں کسی بلا سے نہیں ڈرونگا کیونکہ تُو میرے ساتھ ہے تیرے عصا اور تیری لاٹھی سے مجھے تسلی ہے۔
۵ تُو میرے دُشمنوں کے رُوبُرو میرے آگے دستر خوان بچھاتا ہے۔ تُو نے میرے سر پر تیل ملا ہے۔ میرا پیالہ لبریز ہوتا ہے۔
۶ یقیناً بھلائی اور رحمت عُمر بھر میرے ساتھ ساتھ رہینگی اور میں ہمیشہ خُداوند کے گھر میں سکونت کرونگا۔