زبور ۴۹ : شریر اور اُن کی دولت
زندگی کا یہ ایک بہت بڑا معما ہے کہ اکثر شریر مادی خوش حالی سے آسودہ ہوتے ہیں جب کہ ایماندار اکثر غریب اور وسائل کی کمی کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن یہ مکمل حقیقت نہیں ہے۔ بے دین جس دولت پر بڑی لگن سے تکیہ کرتے ہیں، اُن کی بہت بڑی ضرورت کے لمحات میں اُنہیں ناکام بنا دے گی۔ یہ اُنہیں موت سے نہیں بچا سکتی۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اِس سے لطف اندوز نہیں ہو سکتے اور نہ یہ اُن کے بدن کو قبر میں سڑنے سے ہی بچا سکتی ہے۔ وہ نہ تو اِسے اپنے ساتھ لے جا سکتے ہیں اور نہ اِس سے محظوظ ہونے کے لئے واپس آ سکتے ہیں۔ انجام کار خدا پر بھروسا رکھنے کے بجائے دولت پر بھروسا رکھنا حماقت ہے۔ زبور ۴۹ میں داؤد کے پیغام کا یہی خلاصہ ہے۔
۴۹: ۱۔۴ یہ پیغام تمام اُمتوں اور افراد کے لئے، ادنیٰ اور اعلیٰ کے لئے، غریب اور امیر سب کے لئے ہے۔ یہ خالص حکمت کا پیغام ہے جو بصیرت سے معمور دل سے نکلتا ہے۔ قورح کے بیٹے زندگی میں عدمِ مساوات پر غور و خوض کرتے ہیں اور جب اُنہیں جواب مل جاتا ہے تو وہ ستار کے ساتھ اِسے گاتے ہیں۔
۴۹: ۵۔۹ فی الحقیقت ایسی کوئی وجہ نہیں کہ خدا کے لوگ اُن تاریک ایام میں فکر مند ہوں جب ظالم اُن پر ظلم کرتے ہیں اور استیصال کرنے والے اپنی سازشوں سے اُنہیں اپنے دام میں پھنساتے ہیں۔ اُن کے دُشمن اپنے سونے اور اُس کی قوت پر تکیہ کرتے اور فخر کرتے ہیں کہ وہ کس قدر امیر ہیں۔ لیکن اُن کی ساری دولت نہ تو اُن کے بھائی کو اور نہ اُنہیں ہی موت سے بچا سکتی ہے۔ انسان کی زندگی بہت زیادہ قیمتی ہے۔ موت کے دن کو اقتصادی مذاکرات سے روکنے کی کوششیں فضول ہیں۔ زمین پر ابدی زندگی کو خریدنے اور قبر سے بچنے کے لئے کسی کے پاس وسائل نہیں ہیں۔
آیت ۸ سے پہلے اور بعد کے بریکٹ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ جملہ آیت ۷ اور ۹ کے جملے کے بیچ میں آ گیا ہے۔ آیت ۷ اور ۹ کو ملا کر یوں پڑھا جائے گا:
’’اُن میں سے کوئی کسی طرح اپنے بھائی کا فدیہ نہیں دے سکتانہ خدا کو اُس کا معاوضہ دے سکتا ہے … تاکہ وہ ابد تک جیتا رہےاور قبر کو نہ دیکھے۔‘‘
۴۹: ۱۰ جلد یا بدیر دانش مند شخص بھی مر جائے گا۔ بعینہٖ بے وقوف دولت مند اور عقل سے خالی امیر لوگ مر جاتے ہیں اور اپنی دولت اَوروں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔ ملاحظہ فرمایئے کہ یہ نہیں لکھا کہ دانش مند لوگ دوسرے لوگوں کے لئے اپنی دولت چھوڑ جاتے ہیں۔ غالباً اُس کی وصیت یوں ہوتی ہے:
’’چونکہ مَیں ہوش میں تھا، اِس لئے مَیں نے اپنا روپیہ خداوند کے کام کے لئے وقف کر دیا ہے۔‘‘
۴۹: ۱۱، ۱۲ یہ زندگی کی ایک عجیب حقیقت ہے کہ جو لوگ اِس قدر ذہین ہیں کہ وہ اِس دُنیا میں کافی دولت اکٹھی کر لیتے ہیں، اُنہیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ فانی ہیں۔ اُن کے دلی خیالات یہی ہیں کہ اُن کے مسکن پشت در پشت بنے رہیں گے اور وہ لامحدود عرصہ کے لئے جیتے رہیں گے۔ وہ جائیدادوں، گلیوں اور شہروں کے نام اپنے ناموں سے نامزد کرتے ہیں۔ لیکن ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ باوقار انسان کو بھی ایک دن مرنا ہے۔ اِس لحاظ سے وہ جانوروں کی مانند ہیں۔ کئی اَور طرح سے انسان جانوروں سے مختلف ہے۔ مثلاً گو انسان کا بدن قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو بھی اُس کی روح اور جان فنا نہیں ہوتی۔ اُس کے بدن کو قبر سے یا تو ابدی سزا یا ابدی برکت کے لئے زندہ کیا جائے گا۔ انسان نہ ختم ہونے والا وجود رکھتا ہے جبکہ حیوان ایسے نہیں ہیں۔
۴۹: ۱۳، ۱۴ یہ اُن لوگوں کا مقدر ہے جو حماقت سے خدا کی نسبت اپنی دولت پر فخر کرتے ہیں — وہ بے وقوفی سے زندگی بسر کرتے ہیں گویا کہ کبھی نہیں مریں گے۔ لیکن اُنہیں ضرور مرنا ہے اور جب وہ مر جاتے ہیں تو اُن کے دوست اور رشتہ دار اُن کی عقل سلیم کے لئے اُنہیں یاد کرتے ہیں۔ چونکہ اُن کا جسم روح سے جدا کر دیا جائے گا، وہ اُن بھیڑوں کی مانند ہیں جنہیں موت کا چرواہا بڑی بے رحمی سے قبر کی طرف ہانک کر لے جاتا ہے۔ ’’دیانتدار صبح کو اُن پر مسلط ہو گا۔‘‘ یعنی حالات بدل جائیں گے جیسے دولت مند اور لعزر کے حالات تبدیل ہو گئے۔ یاد رکھیں کہ ابرہام نے دولت مند سے کیا کہا:
بیٹا! یاد کر کہ تُو اپنی زندگی میں اپنی اچھی چیزیں لے چکا اور اُسی طرح لعزر بُری چیزیں، لیکن اب وہ یہاں تسلی پاتا ہے اور تُو تڑپتا ہے (لوقا ۱۶:۵۲)۔
دولت مند کی ساری شان و شوکت ختم ہو گئی اور اُس کا گھر پاتال میں ہے۔ یہ زمین پر اُس کے گھر سے کس قدر متضاد ہے۔
۴۹: ۱۵ یہاں ہمیں عہد عتیق میں موت کے بعد جی اُٹھنے کی کچھ جھلکیاں ملتی ہیں۔ عمومی طور پر عہدعتیق کے مصنفین موت اور اِس کے بعد کے بارے میں کم بتاتے ہیں۔ لیکن زبور نویس یہاں بڑے اعتماد سے اعلان کرتا ہے کہ خدا اُس کی جان کو پاتال کے اختیار سے چھڑائے گا، یعنی خدا اُس کی جان کو بے بدن حالت سے آزاد کرے گا اور اُسے پھر زندہ کئے ہوئے بدن سے متحد کرے گا۔ جب وہ کہتا ہے ’’کیونکہ وہی مجھے قبول کرے گا‘‘ تو وہ وہی لفظ استعمال کرتا ہے جو خدا نے ایلیاہ اور حنوک کو بلانے کے سلسلے میں استعمال کیا تھا۔
۴۹: ۱۶۔۱۹ چنانچہ ایماندار کو فی الحقیقت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں جب بے دین دولت مند ہوتا اور اُس کے گھر کی آرائش و زیبائش بڑھتی جاتی ہے۔ یہ دُنیا ہی اُس کا فردوس ہے جس سے وہ لطف اندوز ہو سکے گا۔ مرنے پر وہ اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا سکے گا۔ وہ خالی ہاتھ قبر میں جائے گا اور اُس کی دولت اُس کے ساتھ نہیں جائے گی۔ جب تک وہ زندہ ہے، اُس کا خیال ہے کہ کوئی اُسے اُس کی خوشیوں سے محروم نہیں کر سکے گا۔ دوسرے اُس کی تعریف کرتے ہیں کہ اُس نے اتنی کامیابی سے اپنی شان و شوکت میں اضافہ کر لیا ہے۔ لیکن جلد یا بدیر وہ اپنے آباو اجداد کی طرح مر جائے گا اور اُن کی طرح طویل تاریک رات گزارے گا۔
۴۹: ۲۰ ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ جس سے کوئی شخص اپنی دنیوی دولت اور وقار سے چمٹا ہی رہے۔ جیسے جانور مر جاتے ہیں ویسے ہی اُس کے لئے بھی موت یقینی ہے۔
شاید کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ راست باز اور شریر دونوں مر جاتے ہیں۔ یہ درست ہے۔ اگر خداوند پہلے نہ آئے تو ہم سب مر جائیں گے۔ لیکن اِس زبور کا مطلب یہ ہے کہ شریر اپنی ساری دولت اپنے پیچھے چھوڑ جاتے ہیں، جبکہ راست باز اپنی لامحدود دولت کے ابدی انعام کو حاصل کرنے کے لئے مرتے ہیں۔
مَیں ایک آخری خیال پیش کرنا چاہتا ہوں: اکثر اوقات بائبل میں دولت مند کو شریر آدمی کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔ ہمیں اِس بات پر غور کرنا چاہئے۔ بائبل میں یہ نہیں کہا گیا کہ امیر بننا گناہ ہے بلکہ اِس میں خدا کی نسبت دولت پر بھروسا رکھنے کی مذمت کی گئی ہے۔ یہ بڑا مشکل کام ہے کہ انسان کے پاس دولت ہو اور وہ اُس پر بھروسا نہ رکھے۔ بائبل میں زر کی دوستی کی مذمت کی گئی ہے۔ اِس میں ظلم اور بد دیانتی سے دولت کو اکٹھا کرنے کو بھی بُرا قرار دیا گیا ہے۔ اور بائبل میں اِس امر کی بھی مذمت کی گئی ہے کہ انسان دولت کو اکٹھا کرکے دُکھی دُنیا کی ضروریات کا خیال نہ رکھے۔
مقدس کتاب
۱ اَے سب اُمتو!یہ سنو۔ اَے جہان کے سب باشِندو کان لگاؤ۔
۲ کیا ادنٰی کیا اعلیٰ۔ کیا امیر کیا فقیِر۔
۳ میرے مُنہ سے حِکمت کی باتیں نِکلینگی اور میرے دِل کا خیال پُر خِرد ہو گا۔
۴ میَں تمثِیل کی طرف کان لگاؤنگا۔میَں اپنا مُعمؑا سِتار بیان کرونگا۔
۵ میَں مُصیبت کے دِنوں میں کیوں ڈروں جب میرا تعاقب کرنے والی بدی مجھے گھیرے ہو؟
۶ جو اَپنی دولت پر بھروسہ رکھتے اور اپنے مال کی کثرت پر فخر کرتے ہیں۔
۷ اُن میں سے کوئی کسی طرح اپنے بھائی کا فدیہ نہیں دے سکتا نہ خُدا کو اُسکا مُعاوضہ دے سکتا ہے۔
۸ (کیونکہ اُنکی جان کا فدیہ گِراں بہا ہے۔ وہ ابدتک ادا نہ ہو گا)۔
۹ تاکہ وہ ابدتک جِیتا رہے اور قبر کو نہ دیکھے ۔
۱۰ کیونکہ وہ دیکھتاہے کہ دانشِمند مر جاتے ہیں۔ بیوُقُوفو حَیوان خصلت باہم ہلاک ہوتے ہیں۔اور اپنی دولت اوروں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔
۱۱ اُنکا دلی خیال یہ ہے کہ اُنکے گھر ہمیشہ تک اور اُنکے مسکن پُشت در پُشت بنے رہیں گے۔وہ اپنی زمین اپنے ہی نام سے نامزد کرتے ہیں
۱۲ پر اِنسان عزت کی حالت میں قائم نہیں رہتا۔ وہ جانوروں کی مانند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔
۱۳ اُن کا یہ طریق اُن کی حماقت ہے۔ تُو بھی اُن کےلوگ اُنکی باتوں کو پسندکرتے ہیں۔
۱۴ وہ گویا پاتال کار یوڑٹھرائےگئے َموت اُ ن کی پا سبان ہوگی۔دِیانت دار صُبح کو اُن پر مُسلط ہوگا اور اُن کا لُقمہ ہو کر بے ٹھِکا نا ہو گا ۔
۱۵ لیکن خُدا میری جان کو پا تال کے اِ ختیار سے چُھرا لیے گا کیونکہ وُہی مجھُے قُبو ل کرے گا۔
۱۶ جب کو ئی مال دار ہو جائے ۔ جب اُس کے گھر کی حشمت بڑھے تو تُو خو ف نہ کر
۱۷ کیونکہ وہ مر کر کچھُ ساتھ نہ لے جائے گا َ۔ اُسکی حشمت اُس کے ساتھ نہ جائے گی ۔
۱۸ خواہ جیتے جی وہ اپنی جان مبارک کہتا رہا ہو ۔ اور جب تُو اپنا بھلا کرتا ہے۔ تو لو گ تعرُ یف کر تے ہیں۔)
۱۹ تُو بھی وہ اپنے با پ دادا کی گر دہ سے جاملے گا ۔ وہ روشنی کو ہر گز نہ دیکھےگے۔
۲۰ آ دمی جو عزت کی حالت میں رہتا ہےپر خِرد نہیں رکھتا جانوروں کی مانِند ہے جو فنا ہو جاتے ہیں۔