زبور ۳۳: ایک نیا گیت
اِس زبور کی پہلی آیت گذشتہ زبور کی آخری آیت سے واضح تعلق رکھتی ہے۔ دونوں میں مصنف، صادق کو تاکید کرتا ہے کہ وہ خداوند میں شادمان ہو۔ لیکن یہ زبور اِس مضمون کی وضاحت کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ راست باز کے لئے حمد کرنا کیوں زیبا ہے۔
ہمیں ضرور اِس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ یہاں سرگرم دشمنوں، ایذارسانی اور دُکھوں کا کوئی ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پُرسکون منظر ہے کہ اسرائیل امن سے سکونت پذیر ہے اور خداوند کو عالم گیر طور پر قادر مطلق تسلیم کیا گیا ہے۔ چنانچہ اِس زبور کا تعلق مسیح کی بادشاہت سے ہے، جب غیر قوموں کا ظلم اور یعقوب کی مصیبتوں کا وقت ختم ہو جائے گا۔
۳۳:۱، ۲ پہلی سات آیات میں اسرائیل کو اور اِس کے بعد آیت ۸ میں غیر قوموں کو ستائش کی بلاہٹ دی جاتی ہے۔ ستائش اِس قدر دلکش اور تحریک دینے والی ہے کہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور سریلے ساز یعنی ستار اور دس تار کا بربط اِس کے ساتھ استعمال کئے جائیں۔
۳۳: ۳ نیا گیت مخلصی کا گیت ہے۔ یہ گناہ کی معافی سے جنم لیتا ہے (زبور ۳۲) اور یہ ہر اُس شخص کا گیت ہے جو مسیح کے قیمتی لہو سے پاک ہوا ہے۔ لیکن یہ گیت مخلصی یافتہ اسرائیل ہزار سالہ بادشاہت کے شروع میں خاص طور پر گائیں گے (مکاشفہ ۱۴: ۳)۔
۳۳: ۴ نئے گیت میں خدا کے کلام اور اُس کے تمام کاموں کی تعریف کی گئی ہے۔ اُس کا کلام بالکل راست اور سچا، لاتبدیل اور قابلِ اعتماد ہے۔ وہ سارے کام وفاداری سے کرتا ہے۔ اُسے تخلیق کے کام میں ملاحظہ فرمائیے ’’بیج بونا اور فصل کاٹنا، سردی اور تپش، گرمی اور جاڑا، دن اور رات‘‘ (پیدائش ۸: ۲۲)۔ ہم اُسے اُس کی پرورد گاری میں بھی دیکھتے ہیں، ’’سب چیزیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خدا کے ارادے کے موافق بلائے گئے ہیں‘‘ (رومیوں ۸: ۲۸)۔ ساتھ ہی ہم اُسے مخلصی کے کام میں دیکھتے ہیں۔ ’’اگر اپنے گناہوں کا اقرار کریں تو وہ ہمارے گناہوں کے معاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچا اور عادل ہے‘‘ (۱۔یوحنا ۱:۹)۔
۳۳:۵ خدا نہ صرف راست، وفادار اور صداقت اور انصاف کو پسند کرنے والا ہے، بلکہ خدا کی شفقت کی شہادتیں ہر جگہ موجود ہیں۔
۳۳: ۶،۷ خدا کی عظمت کو ہم اِس حقیقت میں دیکھتے ہیں کہ اُس نے آسمان اور ستاروں کا سارا لشکر، بہت زیادہ قوت صرف کرنے سے نہیں بلکہ اپنے طاقتور کلام سے پیدا کیا۔ جیسے اُس نے یہ کام آسانی سے کیا اُسی طرح وہ سمندروں کو اُن کی مقررہ حدوں میں مقید رکھتا ہے۔
۳۳: ۸، ۹ خدا اِس قدر عظیم ہے کہ تمام بنی نوع انسان اُس کی تعظیم کریں اور دل کی گہرائیوں سے اُس کی عزت کریں۔ اُس کے کلام میں ایسی قوت تھی کہ اُس سے مادہ پیدا ہوا۔ اُس کے حکم سے ساری کائنات معرضِ وجود میں آ گئی۔
۳۳: ۱۰، ۱۱ ساری انسانی تاریخ میں بے دین قوموں نے متحد ہو کر خدا کے کام میں رکاوٹ ڈالی تاکہ اُس کے لوگوں کو برباد کریں، لیکن خدا اپنے دشمنوں کی بڑی ہوشیاری سے تیار کردہ سازشوں کو درہم برہم کرکے رکھ دیتا ہے۔ اُس کے مقاصد کی تکمیل میں کوئی چیز حائل نہیں ہو سکتی۔ اُس کی بات حرفِ آخر ہو گی اور جو منصوبہ وہ تیار کرے گا وہ پایۂ تکمیل تک پہنچے گا۔
۳۳: ۱۲ لہٰذا برکت کا راز خدا کے ساتھ تعاون کرنے میں پوشیدہ ہے۔ وہ قوم مبارک ہے جو یہوواہ کو اپنا خدا تسلیم کرتی ہے۔ یہ ’’وہ اُمت ہے جس کو اُس نے اپنی ہی میراث کے لئے برگزیدہ کیا۔‘‘
۳۳: ۱۳۔۱۷ جب خدا آسمان پر سے نیچے دیکھتا ہے تو اُسے تمام بنی نوع انسان نظر آتے ہیں۔ کوئی چیز اُس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں۔ جو کچھ ہو چکا وہ اُسے دیکھتا ہے اور جو کچھ ہونے والا ہے اُسے بھی جانتا ہے۔ وہ ہر ایک دل کے خیال اور نیت کو جانتا ہے۔ وہ بعض ایسے لوگوں کو بھی دیکھتا ہے جو جسمانی ہتھیاروں کے ساتھ لڑتے ہیں— اور وہ اُن کی حماقت پر ہنستا ہے۔ اِس قسم کے لوگ زندہ خدا پر بھروسا رکھنے کے بجائے اپنی بری، بحری اور فضائی فوج پر بھروسا کرتے ہیں۔ وہ کب اِس حقیقت کو جانیں گے کہ بہترین لڑاکا فوج بھی اُنہیں فتح سے ہمکنار نہیں کر سکتی؟
۳۳: ۱۸، ۱۹ خدا اُن کو بھی دیکھتا ہے جو نجات کے لئے اُس پر بھروسا رکھتے اور سارے وسائل کے لئے اُس کی شفقت پر تکیہ کرتے ہیں۔ وہ ایسے لوگوں سے خوش ہوتا ہے۔ وہ بڑی شفقت سے اُن پر نگاہ کرتا ہے۔
۳۳: ۲۰۔۲۲ ایسا تو کوئی سوال نہیں کہ زبور نویس اور اُس کے لوگوں کا کس طبقہ سے تعلق ہے۔ اُن کا یہوواہ پر بھروسا ہے کہ وہی اُن کی کُمک اور سِپر ہے۔ اُنہوں نے اُس کے مقدس نام پر اعتماد کرکے حقیقی خوشی حاصل کر لی ہے۔ اُن کی تو صرف یہ التجا ہے کہ جب وہ مسلسل اُس کی ذات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں، تو خداوند کی شفقت اُن کے شاملِ حال رہے۔
مقدس کتاب
۱ اَے صادقو! خُداوند میں شادمان رہو۔ حمد کرنا راست بازوں کو زیبا ہے۔
۲ سِتارکے ساتھ خُداوند کا شُکر کرو۔ دس تار کی بربط کے ساتھ اُس کی ستایش کرو۔
۳ اُس کے لئے نیا گیت گاؤ۔ بلند آواز کے ساتھ اچھی طرح بجاؤ ۔
۴ کیونکہ خُداوند کا کلام راست ہے اور اُس کے سب کام باوفا ہیں۔
۵ وہ صداقت اور اِنصاف کو پسند کرتا ہے۔ زمین خُداوند کی شفقت سے معمور ہے۔
۶ آسمان خُداوند کے کلام سے اور اُس کا سارا لشکر اُس کے مُنہ کے دم سے بنا۔
۷ وہ سُمندر کا پانی تُو دے کی مانند جمع کرتا ہے۔ وہ گہرے سُمندروں کو مخزنوں میں رکھتا ہے۔
۸ ساری زمین خُداوند سے ڈرے۔ جہان کے سب باشندے اُس کا خَوف رکھیں۔
۹ کیونکہ اُس نے حُکم دِیا اور واقع ہوا۔
۱۰ خُداوند قوموں کی مشورت کوباطل کر دیتا ہے۔ وہ اُمتوں کے منصُوبوںہ کو ناچیز بنا دیتا ہے۔
۱۱ خُداوند کی مصلحت ابد تک قائم رہیگی۔ اور اُس کے دِل کے خیال نسل در نسل۔
۱۲ مُبارک ہے وہ قوم جس کا خُداخُداوند ہے اور وہ اُمت جس کو اُس نے اپنی ہی میراث کے لئے برگزیدہ کیا۔
۱۳ خُداوند آسمان پر سے دیکھتا ہے۔ سب بنی آدم پر اُس کی نگاہ ہے۔
۱۴ اپنی سکونت گاہ سے وہ زمین کے سب باشندوں کو دیکھتا ہے۔
۱۵ وہی ہے جو اُن سب کے دلوں کو بناتا اور اُن کے سب کاموں کا خیال رکھتا ہے۔
۱۶ کسی بادشاہ کو فوج کی کثرت نہ بچائیگی اور کسی زبردست آدمی کو اُس کی بڑی طاقت رہائی نہ دیگی۔
۱۷ بچ نکلنے کے لئے گھوڑا بیکار ہے۔ وہ اپنی شہزوری سے کسی کو نہ بچائیگا۔
۱۸ ویکھو! خُداوند کی نگاہ اُن پر ہے جو اُس سے ڈرتے ہیں۔ جو اُس کی شفقت کے اُمیدوار ہیں۔
۱۹ تاکہ اُن کی جان مَوت سے بچائے اور قحط میں اُن کو جیتا رکھے۔
۲۰ ہماری جان کو خُداوند کی آس ہے۔ وہی ہماری کمک اور ہماری سِپر ہے۔
۲۱ ہمارا دِل اُس میں شادمان رہیگاکیونکہ ہم نے اُس کے پاک نام پر تُوکل کیا ہے۔
۲۲ اَے خُداوند! جیسی تجھ پر ہماری آس ہے۔ ویسی ہی تیری رحمت ہم پر ہو!