زبُور ۱۴۶

زبور ۱۴۶ :‏ یعقوب کے خدا کی جلالی صفات

۱۴۶:‏ ۱ پہلی آیت میں زبور نویس اپنے آپ کو دو دفعہ ’’خداوند کی حمد‘‘ کرنے کے لئے دعوت دیتا ہے۔ 

۱۴۶:‏ ۲ دوسری آیت میں دو اعلان ہیں جو وہ پہلی آیت کے جواب میں کرتا ہے۔ ’’ مَیں عمر بھر خداوند کی حمد کروں گا۔ جب تک میرا وجود ہے مَیں اپنے خدا کی مدح سرائی کروں گا۔‘‘ یہ کسی انسان کا اپنی ذات سے بہترین مکالمہ ہے۔ 

۱۴۶:‏ ۳‏، ۴ باقی ماندہ زبور میں اِس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ ہم کیوں انسان پر نہیں بلکہ خدا پر کلی طور پر بھروسا کر سکتے ہیں۔ اُمرا پر بھی بھروسا نہیں کیا جا سکتا جنہیں اعلیٰ طبقے کے لوگ تصور کیا جاتا ہے۔ بہترین انسان بھی محض انسان ہیں۔ چہ جائیکہ کہ وہ دوسروں کو بچائیں وہ تو اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے۔ جب انسان کے دل کی دھڑکن بند ہو جاتی ہے تو وہ مر جاتا ہے‏، اُسے دفن کر دیا جاتا ہے اور وہ خاک میں مل جاتا ہے۔ اُس کے تمام اعلیٰ منصوبے فنا ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ہم انسان کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ وہ ناقابلِ اعتماد ‏، کمزور‏، فانی اور ناپائیدار ہے۔ 

۱۴۶:‏ ۵ خوشی‏، مدد اور اُمید کا واحد راستہ یہ ہے کہ یعقوب کے خدا پر بھروسا رکھیں‏، یعنی اُس پر جو غیرمستحق کا خدا ہے۔ درج ذیل وہ چند وجوہات ہیں کہ ہم اُس پر کیوں اعتماد کریں:‏ 

۱۴۶:‏۶ قادرِ مطلق خالق۔ اُس نے آسمان‏، زمین ‏، سمندر اور کائنات کی تمام مخلوقات کو بنایا۔ اگر وہ یہ کر سکتا ہے تو وہ اَور کیا کچھ نہیں کر سکتا؟ 

قابلِ اعتماد۔ وہ سچائی کو ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔ اُس کے لئے جھوٹ بولنا اور اپنی بات سے پھر جانا ناممکن ہے۔ اُس پر اعتماد کرنے میں کوئی خطرہ نہیں۔ وہ بے وفا نہیں ہوتا۔

۱۴۶:‏ ۷ بے کسوں کا مددگار۔ وہ چاہتا ہے کہ راست بازوں کو انصاف ملے اور بالآخر اُن کے موقف کی کامیابی ہو۔ عین ممکن ہے کہ حالات اُس کے لئے سازگار نہ ہوں‏، لیکن وہ بالآخر کامیاب ہو گا۔

پروردگار۔ وہ روحانی اور جسمانی معنوں میں بھوکوں کو کھانا دیتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے نعمت کدہ میں لا کر ہمارے لئے خوبصورت دسترخوان بچھاتا ہے۔

مخلصی دینے والا۔ وہ انسانی ظلم‏، گناہ کی زنجیروں‏، دنیا کی گرفت‏، شیطان کی غلامی اور خود غرضی کی زندگی گزارنے والے قیدیوں کو رہائی دیتا ہے۔

۱۴۶:‏ ۸ بصارت دینے والا۔ خداوند اندھوں کی آنکھیں کھولتا ہے۔ بعض جسمانی طور پر‏، بعض ذہنی‏، بعض روحانی‏، بعض پیدائشی‏، بعض حادثاتی اور بعض اپنی مرضی سے اندھے ہیں۔ اِن میں سے کوئی بھی ایسا مریض نہیں ہے جسے وہ شفا نہ دے سکتا ہو۔

اُٹھا کھڑا کرنے والا۔ وہ غم‏، مصیبت‏، دکھ اور فکر مندی کے بوجھ تلے دبی ہوئی پریشان روحوں کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔ 

نیک لوگوں سے پیار کرنے والا بارنز لکھتا ہے‏، ’’ یہ خدا کی صفت ہے اور یہ ستائش کی بنیاد ہے کہ وہ اُن لوگوں کو پیار کرتا ہے جو شریعت کی فرماں برداری کرتے اور نیک کام کرتے ہیں۔‘‘

۱۴۶:‏ ۹ جلاوطنوں کا محافظ۔ وہ پردیسیوں‏، مسافروں اور جلاوطنوں کی فلاح میں دلچسپی لیتا ہے۔ یہوواہ زائرین کا حقیقی مدد گار ہے۔ 

بے کسوں کا دوست۔ وہ یتیموں اور بیواؤں اور انسانی مدد سے محروم اور دیگر تمام لوگوں کو سنبھالتا ہے۔

بدوں کو سزا دینے والا۔ وہ بے دینوں کے بہترین منصوبوں کو خاک میں ملا دیتا ہے اور شریروں کی راہ ٹیڑھی کر دیتا ہے۔

۱۴۶:‏ ۱۰ ابدی بادشاہ۔ انسان کے فانی ہونے کے مقابلے میں خدا ابدی ہے۔ ’’خداوند ابد تک سلطنت کرے گا … پشت در پشت۔ خداوند کی حمد کرو۔‘‘

کیا آپ خوش نہیں کہ آپ اُسے جانتے ہیں؟

مقدس کتاب

۱ خُداوند کی حمد کرو! اَے میری جان خُداوند کی حمد کر!
۲ میَں عُمر بھر خُداوند کی حمد کرونگا۔جب تک میرا وجود ہے میَں اپنے خُداوند کی مدح سرائی کرونگا۔
۳ نہ اُمرا پر بھروسہ کرو نہ آدم ذاد پر۔ وہ بچا نہیں سکتا۔
۴ اُسکا دم نکل جاتا ہے تو وہ مٹی میں مِل جاتا ہے۔ اُسی دِن اُسکے منصوبے فنا ہو جاتے ہیں ۔
۵ خُوش نصیب ہے وہ جِسکا مددگار یعقُؔوب کا خُدا ہے۔ اور جِسکی اُمید خُداوند اُسکے خُدا سے ہے۔
۶ جِس نے آسمان اور زمین اور سُمندر کو اور جو کچھ اُن میں ہے بنایا۔ وہ سچّائی کو ہمیشہ قائم رکھتا ہے۔
۷ جو مظلوُموں کا انصاف کرتا ہے۔ جو بھوکوں کو کھانا دیتا ہے۔ خُداوند قیدیوں کو آزاد کرتا ہے۔
۸ خُداوند اندھوں کی آنکھیں کھولتا ہے۔ خُداوند جھُکے کو اُٹھا کھڑا کرتا ہے۔ خُداوند صادقوں سے مُحبت رکھتا ہے۔
۹ خُداوند پردیسیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ یتیم اور بیوہ کو سنبھالتا ہے۔ لیکن شریروں کی راہ ٹیڑھی کر دیتا ہے۔
۱۰ خُداوند ابد تک سلطنت کریگا۔ اَے صیِوُؔن! تیرا خُدا پُشت در پُشت ۔خُداوند کی حمد کرو۔