زبُور ۱۶

زبور ۱۶:‏ مسیح جی اُٹھا

زبور ۱۶ کو سمجھنے کی کنجی اعمال ۲:‏ ۲۵۔۲۸ میں پائی جاتی ہے جہاں پطرس آیات ۸۔۱۱ کا مسیح کے جی اُٹھنے کے سلسلے میں اقتباس کرتا ہے۔ آیئے اِس کنجی سے دروازے کو کھولیں اور سنیں کہ ہمارا عظیم خداوند اپنی موت سے تھوڑی دیر قبل اپنے باپ سے کیا دعا کرتا ہے۔

۱۶:‏ ۱‏،۲ انسان کامل کی حیثیت سے‏، کلی طور پر خدا پر انحصار کرتے ہوئے مسیح اپنے تحفظ کے لئے اُسے پکارتا ہے جو اُس کی واحد پناہ گاہ ہے۔ اپنی تیس سالہ زمینی زندگی کے دوران‏، نجات دہندہ نے نہ صرف خدا کو اپنا خداوند تسلیم کیا بلکہ خوشی سے اقرار کیا کہ خدا اُس کا سب کچھ ہے۔ یہ الفاظ ’’تیرے سوا میری بھلائی نہیں‘‘ نجات دہندہ کی بے گناہی کا انکار نہیں‏، بلکہ یہ ایک دل گداز گواہی ہے کہ مسیح نے ہمیشہ ظاہر کیا کہ خدا ہی اُس کے لئے سب کچھ ہے۔ یہ گواہی زبور ۷۳:‏ ۲۵ کی پرستش سے قابلِ موازنہ ہے:‏ ’’آسمان پر تیرے سوا میرا کون ہے؟ اور زمین پر تیرے سوا مَیں کسی کا مشتاق نہیں۔‘‘

۱۶:‏ ۳ مسیح کی زندگی میں خدا کی مرکزیت‏، ملک کے مقدسین سے محبت رکھنے کو خارج نہیں کرتی بلکہ دونوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے:‏ خدا سے محبت رکھنے کا مطلب ہے کہ اُس کے لوگوں سے محبت کی جائے (‏۱۔یوحنا ۵:‏۱‏،۲)‏۔ خداوند یسوع مسیح مقدسین کو زمین کے برگزیدہ لوگ سمجھتا ہے جن میں اُس کی خوشنودی ہے۔

۱۶:‏ ۴ خدا کے حقیقی پرستاروں کے مقابلہ میں وہ لوگ کھڑے ہیں جو غیر معبودوں کی پرستش کرتے ہیں۔ بت پرستی اپنے عقیدت مندوں کی زندگیوں میں بہت زیادہ غم لاتی ہے۔ شاید بت پرستوں کی سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ وہ اُسی چیز کی مانند بن جاتے ہیں جس کی وہ پرستش کرتے ہیں۔ خدا کا مقدس بیٹا اُن کی خون والی قربانیوں کی رفاقت میں شریک نہیں ہوتا۔ وہ کسی صورت میں اُن کے نام تک کا ذکر نہیں کرے گا تاکہ کہیں اِس سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ وہ اُن کو اور اُن کی بے دین رسموں کو برداشت کرتا ہے۔

۱۶:‏ ۵‏،۶ جہاں تک اُس کی شخصی زندگی کا تعلق ہے‏، مسیح کا چنا ہوا حصہ اور پیالہ خداوند ہے۔ اُس کی تمام دولت اور خوشیوں کا محافظ خدا ہے۔ خداوند ہی اُس کی میراث کی حدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ جب وہ غور کرتا ہے کہ خدا باپ نے کس حکمت اور خوبصورتی سے اُس کی زندگی کی ہر تفصیل کی منصوبہ بندی کی ہے‏، تو وہ اِس کا خوبصورت جگہ اور دل پسند میراث سے مقابلہ کرتا ہے‏، ایک ایسی میراث سے جو کلی طور پر اچھی چیزوں پر مشتمل ہے۔ اگر ہم خدا کی رفاقت میں رہتے ہیں تو ہم بھی اپنی زندگیوں کی باترتیب حالت کے لئے شکر گزاری کر سکتے ہیں۔ جب ہم بڑبڑاتے یا شکایت کرتے ہیں‏، تو ہم خدا کی حکمت‏، محبت اور قدرت پر عدمِ اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ 

۱۶:‏ ۷ یہاں مسیح خداوند تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے کہ اُس نے کتنی وفاداری سے اُس کی ساری زندگی میں راہنمائی کی اور اُسے نصیحت دی ہے۔ حتیٰ کہ بے خوابی کے لمحات میں جب وہ دعا کرتا اور خدا کے کلام پر غور و خوض کرتا تو اُس کا دل اُس کی تربیت کرتا تھا۔ اُس نے وقت ضائع نہ کیا بلکہ اُن مقدس لمحات میں اُسے تسلی اور برکت حاصل ہوئی۔ کتنی دفعہ مسیح کا تجربہ اُس کے لوگوں کی زندگیوں میں بھی ظاہر ہوا ہے!

زبور ۱۶ کی باقی آیات کو پطرس نے پنتکست کے دن مسیح کے جی اُٹھنے کے حوالہ کے اقتباس کے طور پر پیش کیا:‏

داؤد اُس کے حق میں کہتا ہے کہ’ مَیں خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے دیکھتا رہا کیونکہ وہ میری دہنی طرف ہے تاکہ مجھے جنبش نہ ہو۔ اِسی سبب سے میرا دل خوش ہوا اور میری زبان شاد بلکہ میرا جسم بھی اُمید میں بسا رہے گا۔ اِس لئے کہ تُو میری جان کو عالمِ ارواح میں نہ چھوڑے گا۔ اور نہ اپنے مقدس کے سڑنے کی نوبت پہنچنے دے گا۔ تُو نے مجھے زندگی کی راہیں بتائیں۔ تُو مجھے اپنے دیدار کے باعث خوشی سے بھردے گا۔‘

اے بھائیو! مَیں قوم کے بزرگ داؤد کے حق میں تم سے دلیری کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ موا اور دفن بھی ہوا اور اُس کی قبر آج تک ہم میں موجود ہے۔ پس نبی ہو کر اور یہ جان کر کہ خدا نے مجھ سے قسم کھائی ہے کہ تیری نسل سے ایک شخص کو تیرے تخت پر بٹھاؤں گا۔ اُس نے پیشین گوئی کے طور پر مسیح کے جی اُٹھنے کا ذکر کیا کہ نہ وہ عالمِ ارواح میں چھوڑا گیا نہ اُس کے جسم کے سڑنے کی نوبت پہنچی۔ اِسی یسوع کو خدا نے جلایا جس کے ہم سب گواہ ہیں۔ پس خدا کے دہنے ہاتھ سے سربلند ہو کر اور باپ سے وہ روح القدس حاصل کرکے جس کا وعدہ کیا گیا تھا اُس نے یہ نازل کیا جو تم دیکھتے اور سنتے ہو (‏اعمال ۲:‏ ۲۵۔۳۳)‏۔

اب ملاحظہ فرمائیے پطرس نے جو نکات پیش کئے:‏ 

  1. داؤد مسیح کے بارے میں بات کر رہا تھا (‏آیت ۲۵)‏۔ داؤد اپنے بارے میں یہ بات
    نہیں کہہ سکتا تھا کیونکہ اُس کی لاش ابھی تک یروشلیم میں ایک قبر میں ہے۔
  2. نبی کی حیثیت سے زبور نویس جانتا تھا کہ خدا مسیح کو زندہ کرے گا‏، اِس سے پیشتر کہ
    وہ اپنے تخت پر بادشاہی کرے۔
  3. اِس لئے داؤد نے پیش گوئی کی کہ خدا مسیح کی روح کو پاتال میں نہیں رہنے دے گا
    اور نہ وہ مسیح کے بدن کو سڑنے ہی دے گا۔
  4. فی الحقیقت خدا نے مسیح کو مردوں میں سے جلایا اور جو کچھ پنتکست کے دن وقوع پذیر
    ہوا وہ اِس لئے ہوا کہ مسیح خدا کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا۔

یہ باتیں ذہن میں رکھ کر آیئے ہم اِس زبور کی اختتامی آیات پر غور کریں۔ 

۱۶:‏۸ اوّلاً‏، مسیح دعویٰ کرتا ہے کہ اُس نے خداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔ یہوواہ ہی وہ ذاتِ واحد تھی جس کے لئے وہ زندگی گزارتا تھا۔ اُس نے اپنی مرضی سے کوئی کام نہ کیا بلکہ ہر کام میں فرماں برداری کے ساتھ باپ کی مرضی کو پورا کیا۔

’’چونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہو گی۔‘‘ کتابِ مقدس میں دہنے ہاتھ کا یہ مطلب ہے:‏

  • قوت (‏زبور ۸۹:‏۱۳)‏ شادمانی (‏زبور ۱۶:‏۱۱)‏
  • حفاظت (‏زبور ۲۰:‏۶)‏
  • حمایت (‏زبور ۸۰:‏۱۷)‏
  • عزت (‏زبور ۴۵:‏ ۹‏، ۱۱۰:‏۱)‏
  • مدد (‏زبور ۱۸:‏۳۵)‏

یہاں حفاظت اور تحفظ کی بات کی گئی ہے۔

۱۶:‏ ۹‏،۱۰ خدا کی طرف سے تحفظ اور مسلسل حفاظت کی یقین دہانی حاصل کرکے نجات دہندہ بڑے وثوق سے مستقبل کا مقابلہ کرتا ہے۔ اُس کا دِل خوش ہے‏، اُس کی روح شادمان ہے اور اُس کا جسم محفوظ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ خدا اُس کی روح کو پاتال میں نہیں رہنے دے گا اور نہ اُس کے بدن کو سڑنے ہی دے گا۔ دوسرے لفظوں میں مسیح کو مردوں میں سے زندہ کیا جائے گا۔

لفظ ’’پاتال‘‘ (‏Sheol)‏ وضاحت طلب ہے۔ پرانے عہدنامہ میں یہ لفظ ’’قبر‘‘‏، ’’نچلی دُنیا‘‘ اور ’’بے بدن‘‘ حالت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ یہ نئے عہدنامہ میں مستعمل لفظ ’’Hades‘‘کے مترادف ہے۔ پاتال اِس قدر جغرافیائی مقام کو نہیں جس قدر یہ مردے کی حالت کو ظاہر کرتا ہے — یعنی جسم سے شخصیت کی جدائی۔ یہ ایماندار اور بے ایمان‏، ہر ایک مرے ہوئے شخص کی حالت کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ جبکہ دوسری طرف نئے عہدنامہ میں اِس کے مترادف لفظ Hades کا صرف بے ایمانوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔ لفظ ’’پاتال‘‘ بہت ہی مبہم لفظ تھا۔ موت کے بعد زندگی کی یہ صاف اور واضح تصویر پیش نہیں کرتا تھا۔ 

نئے عہدنامہ میں یہ معانی بالکل تبدیل ہو چکے ہیں۔ مسیح نے زندگی اور بقا کو خوش خبری کے وسیلہ سے روشن کر دیا (‏۲۔تیم ۱:‏۱۰)‏۔ آج ہم جانتے ہیں کہ جب کوئی بے ایمان شخص مرتا ہے تواُس کی روح اور جان عالمِ ارواح میں دُکھ کی حالت میں ہوتی ہیں (‏لوقا ۱۶:‏ ۲۳)‏‏، جب کہ اُس کا بدن قبر میں ہوتا ہے۔ ایماندار کی روح اور جان آسمان پر مسیح کے پاس جاتی ہیں (‏۲۔کرنتھیوں ۵:‏ ۸؛ فلپیوں ۱:‏ ۲۳)‏‏، جبکہ اُس کا خاکی بدن قبر میں ہوتا ہے۔

جب نجات دہندہ نے کہا ’’ تُو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دے گا‘‘ تو اُس نے آئندہ زمانہ سے متعلق اپنے علم کو ظاہر کیا کہ وہ اُسے بے دھڑ حالت میں نہیں رہنے دے گا۔ گو وہ پاتال میں گیا‏، لیکن وہ وہاں نہ رہا۔

خدا نے جسم کے سڑنے کے عمل کی اجازت نہ دی اور تین دن اور رات بے جان جسم کو سڑنے سے بچایا۔

۱۶:‏ ۱۱ آخری آیت میں ہمارے مبارک خداوند کو کامل بھروسا ہے کہ خدا اُسے زندگی کی راہ دکھائے گا— وہ راہ جو موت سے زندگی کی طرف پھر واپس آتی ہے۔ بالآخر اِسی راستہ سے وہ پھر آسمان پر خدا کی حضوری میں جائے گا۔ وہاں اُسے کامل شادمانی اور دائمی خوشی حاصل ہو گی۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا! میری حفاظت کر کیونکہ میں تجھ ہی میں پناہ لیتا ہوں۔
۲ میں نے خُداوند سے کہا ہے تُو ہی رب ہے۔ تیرے سوا میری بھلائی نہیں۔
۳ زمین کے مقدس لوگ وہ برگزیدہ ہیں جن میں میری پوری خوشنودی ہے۔
۴ غیر معبودوں کے پیچھے دوڑنے والوں کا غم بڑھ جائیگا۔ میں اُنکے سے خُون والے تپاون نہیں تپاؤنگا۔
۵ خُداوند ہی میری میراث اور میرے پیالے کا حصہ ہے۔ تُو میرے بخرے کا محافظ ہے۔
۶ جریب میرے لئے دِلپسند جگہوں میں پڑی بلکہ میری میراث خوب ہے!
۷ میں خُداوند کی حمد کرونگا جس میں مجھے نصیحت دی ہے۔ بلکہ میرا دِل رات کو میری تربیت کرتا ہے۔
۸ میں نے خُداوند کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھا ہے۔ چونکہ وہ میرے دہنے ہاتھ ہے اِس لئے مجھے جنبش نہ ہوگی۔
۹ اِسی سبب سے میرا دِل خُوش اور میری رُوح شادمان ہے۔ میرا جسم بھی امن وامان میں رہےگا۔
۱۰ کیونکہ تُو نہ میری جان کو پاتال میں رہنے دیگا نہ اپنے مُقدس کو سٹرنے دیگا۔
۱۱ تُو مجھے زندگی کی راہ دِکھائیگا ۔ تیرے حضُور میں کامل شادمانی ہے۔ تیرے دہنے ہاتھ میں دائمی خُوشی ہے۔