زبُور ۲۵

زبور ۲۵:‏ خداوند کا راز

اِس زبور کے مضمون میں یکسانیت کو تلاش کرنا مشکل ہے‏، اِس کے بجائے یہ زبور دعاؤں اور گیان دھیان کا ایک گلدستہ دکھائی دیتا ہے۔

۲۵:‏ ۱۔۳ سب سے پہلے تحفظ کی دعا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ داؤد کے دشمن کبھی بھی اُس سے دُور نہیں ہیں۔ یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ وہ صرف اور صرف خداوند پر بھروسا رکھ سکتا ہے‏، وہ مدد کے لئے اُس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ داؤد کی دوہری درخواست یہ ہے کہ یہوواہ پر توکل کرنے سے وہ کبھی مایوس نہیں ہو گا اور کہ اُس کے دشمنوں کو اُس پر شادیانہ بجانے کا موقع نہیں ملے گاکہ خدا نے اپنے فرزند کو ناکام ہونے دیا۔ یہ اُس کی اُن سب کے لئے دعا ہے جو خداوند پر بھروسا رکھتے ہیں۔ جو لوگ ارادتاً جھوٹ بولتے اور بے وفائی کرتے ہیں‏، اُن کے لئے اُس کی دعا ہے کہ وہ بہت زیادہ شرمندہ ہوں۔

۲۵:‏ ۴‏،۵ اگلے حصے میں زبور نویس شاگرد کی حیثیت پیش کرتا ہے۔ وہ خداوند کی راہوں کو جاننا چاہتا ہے‏، اُس کے راستوں پر چلنا چاہتا ہے اور اُس کی سچائی میں نشو و نما پانا چاہتا ہے۔ کیوں؟ اِس لئے کہ وہ خدا کو پیار کرتا ہے جس نے اُسے نجات دی ہے۔ وہ توقع کرتا ہے کہ خدا اُس کے لئے سب کچھ کرے گا۔

۲۵:‏۶‏،۷ اب داؤد ایک گناہ گار کی حیثیت سے معافی مانگنے کے لئے سامنے آتا ہے۔ وہ خداوند کو اُس کی رحمتیں اور شفقتیں یاد دلاتا ہے اور التجا کرتا ہے کہ وہ یاد کرے کہ اُس نے ماضی میں ایسے فضل کا اظہار کیا۔ بے شک ایسی درخواستیں خدا کے فضل کے ادھورے ادراک کا تصور پیش کرتی ہیں‏، لیکن ہمیں ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ داؤد عکس اور سایہ کے دَور میں رہتا تھا جب کہ ہم خوش خبری کے دَور کی پوری روشنی سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔۔۔ داؤد کی جوانی کے گناہ اُسے پریشان کر رہے تھے۔ اکثر لوگوں کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے۔ زبور نویس بڑی عاجزی سے خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُن گناہوں کو بھول جائے اور اُسے اپنی شفقت اور نیکی کی خاطر یاد رکھے۔ یہ جان کر ہمیں کس قدر سکون ملتا ہے کہ ہمارے گناہ لہو سے ڈھانپے گئے ہیں اور وہ اِس قدر دُور پھینک دیئے گئے ہیں جیسے مشرق سے مغرب دُور ہے۔ وہ خدا کے بھول جانے کے سمندر میں دفن ہو چکے ہیں اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے معاف ہو چکے ہیں۔

۲۵:‏ ۸۔۱۰ داؤد اب دعا سے گیان دھیان کی طرف آتا ہے۔ جب وہ یہوواہ کی تعلیمی خدمت کے بارے میں سوچتا ہے تو وہ اُس کی تعریف و توصیف میں کھو جاتا ہے۔ چونکہ خداوند نیک اور راست ہے اِس لئے وہ گناہ گاروں کو سچائی‏، انصاف اور نجات کی تعلیم دیتا ہے۔ سب سے اہم خوبی جو ہمیں اُس سے سیکھنے کی ضرورت ہے وہ ہے حلم و انکساری۔ ہمیں اِس قدر انکساری کا اظہار کرنا چاہئے کہ ہم اپنی جہالت کو تسلیم کرتے ہوئے مزید تربیت کی ضرورت محسوس کریں۔ اگر ہم تربیت پذیر ہیں تو ہم بہت جلدی سیکھ جائیں گے کہ کیا دُرست ہے‏، یعنی خداوند کی کیا مرضی ہے۔ جو خداوند کے کلام کی فرماں برداری کرتے ہیں وہ اِس حقیقت سے واقف ہیں کہ زندگی خدا کی پائیدار محبت اور وفاداری سے بھری پڑی ہے۔

۲۵:‏ ۱۱ داؤد اب دوبارہ معافی کے لئے مختصراً دعا کرتا ہے۔ وہ اپنے جرم کا پورے طور پر قائل ہے اِس لئے اُس کی التجا اِس حقیقت پر مبنی ہے:‏ ’’اپنے نام کی خاطر۔‘‘ ہمارا نام ہماری نمائندگی کرتا ہے‏، لہٰذا زبور نویس یہاں یہ کہنا چاہتا ہے:‏ ’’اپنے کردار کی خاطر‏، خاص طور پر اپنے رحم اور فضل کی خاطر۔‘‘ معافی صرف اور صرف خدا کے پُرشفقت کردار پر مبنی ہے۔ یہاں داؤد کی کسی اپنی خوبی کا ذکر تک نہیں ہے۔

۲۵:‏۱۲‏،۱۳ ایک بار پھر وہ اپنی دعا کو روک کر اپنے آپ سے روحانی باتیں کرتا ہے۔ جو شخص خداوند سے ڈرتا ہے وہ خدا کی نعمتوں سے بہت زیادہ لطف اندوز ہوتا ہے۔ اِس قسم کا شخص واضح اور بے خطا راہنمائی‏، شخصی ترقی‏، خاندانی تحفظ اور اِلٰہی رفاقت سے مستفید ہو گا۔

۲۵:‏ ۱۴ بلاشبہ یہ اِس زبور کی سنہلی آیت ہے:‏

’’خداوند کے راز کو وہی جانتے ہیں جو اُس سے ڈرتے ہیں
اور وہ اپنا عہد اُن کو بتائے گا۔‘‘

دانی ایل پر غیرقوموں کی عجیب و غریب رویتوں کا مکاشفہ ہوا‏، جن پر بالآخر ہمارے نجات دہندہ خداوند یسوع مسیح کی حتمی بادشاہت سبقت لے جائے گی۔ یوحنا کو جس نے یسوع کی چھاتی کا سہارا لیا‏، پتمس کی جلالی رویا دی گئی۔

۲۵:‏ ۱۵ داؤد اپنے آپ کو اِس خدا ترس گروہ میں شامل کرتا ہے۔ اُمید اور توقع رکھتے ہوئے اُس کی آنکھیں مسلسل آسمان کی طرف لگی رہتی ہیں اور وہ پُراعتماد ہے کہ جن حالیہ مصیبتوں اور پریشانیوں کے جال میں وہ پھنسا ہوا ہے خداوند اُسے اُن سے چھڑائے گا۔

۲۵:‏ ۱۶۔۲۱ جال کے ذکر سے داؤد کے روحانی استغراق میں خلل واقع ہو جاتا ہے اور وہ اپنی موجودہ بُری حالت کے بارے میں دعا کرتا ہے۔ وہ بے کس اور مصیبت زدہ ہے۔ اُس کے دل کے دُکھ بہت بڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ وہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ رحم سے اُس کی طرف رجوع کرے اور اُسے دل کے بوجھ سے رہائی دے‏، اُس کی ساری مصیبتوں پر نگاہ کرے اور اُس کے تمام گناہوں کو معاف کرے۔ داؤد خداوند سے یہ بھی التجا کرتا ہے کہ وہ اُسے اُس کے دشمنوں اور اُن کی سخت نفرت سے محفوظ رکھے اور یوں یہوواہ پر اُس کا بھروسا درست ثابت ہو جائے۔ جب وہ یہ دعا کرتا ہے ’’دیانت داری اور راست بازی مجھے سلامت رکھیں‘‘ تو وہ اپنی دیانت داری کی بات نہیں کر رہا بلکہ خدا کی دیانت داری کی۔ وہ خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اُس پر بھروسا رکھنے والے کو رہائی دلا کر اپنی راست بازی ظاہر کرے۔

۲۵:‏ ۲۲ آخری آیت میں داؤد اسرائیل کے ساتھ مل کر قوم کی مخلصی کے لئے دعا کرتا ہے۔ لگتا ہے کہ ایسا زبور آنے والی مصیبت کے ایام میں دین دار یہودی بقیہ کی زبان بن جائے گا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! مَیں اپنی جان تیری طرف اُٹھاتا ہوں۔
۲ اَے میرے خُدا! میں نے تجھ پر تُوکل کیا۔ مجھے شرمندہ ہونے دے۔ میرے دُشمن مجھ پر شادیانہ نہ بجائیں۔
۳ بلکہ جو تیرے منتظر ہیں اُن میں سے کوئی شرمندہ نہ ہوگا۔ پر جو ناحق بے وفائی کرتے ہیں وہی شرمندہ ہونگے۔
۴ اَے خُداوند! اپنی راہیں مجھے دِکھا اپنے راستے مجھے بتادے۔
۵ مجھے اپنی سچائی پر چلا اور تعلیم دے۔ کیونکہ تُو میرا نجات دینے والا خُدا ہے۔ مَیں دِن بھر تیرا ہی منتظر رہتا ہوں۔
۶ اَے خُداوند اپنی رحمتوں اور شفقتوں کو یاد فرما کیونکہ وہ ازل سے ہیں۔
۷ میری جوانی کی خطاؤں اور میرے گناہوں کو یاد نہ کر۔ اَے خُداوند! اپنی نیکی کی خاطر اپنی شفقت کے مُطابق مجھے یاد فرما۔
۸ خُداوند نیک اور راست ہے۔ اِ س لئے وہ گنہگاروں کو راہ ِ حق کی تعلیم دیگا۔
۹ وہ حلیموں کو اپنی راہ بتائیگا۔
۱۰ جو خُداوند کے عہد اور اُس کی شہادتوں کو مانتے ہیں۔ اُن کے لئے اُس کی سب راہیں شفقت اور سچائی ہیں۔
۱۱ اَے خُداوند! اپنے نام کی خاطر میری بدکاری مُعاف کردے کیونکہ وہ بڑی ہے۔
۱۲ وہ کون ہے جو خُداوند سے ڈرتا ہے؟ خُداوند اُس کو اُسی راہ کی تعلیم دیگا جو اُسے پسند ہے۔
۱۳ اُس کی جان راحت میں رہےگی۔ اور اُس کی نسل زمین کی وارث ہوگی۔
۱۴ خُداوند کے راز کو وہی جانتے ہیں جو اُس سے ڈرتے ہیں اور وہ اپنا عہد اُن کو بتائیگا۔
۱۵ میری آنکھیں ہمیشہ خُداوند کی طرف لگی رہتی ہیں کیونکہ وہی میرا پاؤں دام سے چھُڑائیگا۔
۱۶ میری طرف مُتوجہ ہو اور مجھ پر رحم کر کیونکہ مَیں بیکس اور مُصیبت زدہ ہوں۔
۱۷ میرے دِل کے دُکھ بڑھ گئے۔ تُو مجھے میری تکلیفوں سے رہائی دے۔
۱۸ تُو میری مُصیبت اور جانفشانی کو دیکھ اور میرے سب گُناہ مُعاف فرما۔
۱۹ میرے دُشمنوں کو دیکھ کیونکہ وہ بہت ہیں اور اُن کو مجھ سے سخت عداوت ہے۔
۲۰ میری جان کی حفاظت کر اور مجھے چھُڑا۔ مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کیونکہ میرا تُوکل تجھ ہی پر ہے۔
۲۱ دیانت داری اور راستبازی مجھے سلامت رکھیں۔ کیونکہ مجھے تیری ہی آس ہے۔
۲۲ اَے خُدا! اسرائیل کو اُس کے سب دُکھوں سے چھُڑالے۔