زبُور ۱۰۶

زبور ۱۰۶ :‏ تاریخ سے سبق

زبور نویس اِس زبور میں یہ دیکھتا ہے کہ خدا اپنی قوم کی تاریخ میں بھلائی‏، صبر اور دائمی محبت کا اظہار کرتا آیا ہے۔

گو ہم زبور نویس کو نہیں جانتے‏، لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ ایک دیندار یہودی تھا جس نے یہ زبور اُس وقت لکھا جب اُس کی قوم اسیری میں تھی (‏آیت ۴۷)‏۔ یہ زبور بنیادی طور پر قومی گناہ کا اقرار ہے (‏آیات ۶۔۴۶)‏‏، لیکن اِس میں حمد (‏آیات ۱۔۳‏،۴۸)‏ اور مناجات کے (‏آیات ۴‏،۵‏،۴۷)‏ عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔

حمد (‏۱۰۶ :‏ ۱۔۳)‏

۱۰۶:‏۱ خدا تعالیٰ کی حضوری میں آتے ہوئے وہ ستائش سے زبور کا آغاز کرتا ہے۔ وہ اِلٰہی پھاٹکوں اور اُس کے مقدّس مقاموں میں شکرگزاری کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ ’’خداوند کی حمد کرو‘‘ عبرانی لفظ ’’ہالیلویاہ‘‘ کا ترجمہ ہے۔ گیت کا آغاز اور اختتام اِسی لفظ سے ہوا ہے۔

ہمیں مسلسل خدا کی شکرگزاری کرنی چاہئے‏، کیونکہ وہ ہم سب کے لئے بھلا ہے۔ اُس کی شفقت ابدی ہے ۔۔ ہمارا وجود اِس کا ثبوت ہے۔ جس کے ہم مستحق ہیں یعنی غضبِ اِلٰہی کے‏، اگر ہمیں مل جاتا تو ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتے۔

۱۰۶ :‏ ۲‏، ۳ انسانی زبان خدا کے لوگوں کی خاطر اُس کی معجزانہ مداخلت کو بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اُس نے جو کچھ کیا ہے‏، اُس کی شکرگزاری کے لئے ابدیت کا عرصہ بھی کم ہے۔

خداوند مجھے یاد کر (‏۱۰۶:‏ ۴‏، ۵)‏

حمد کے بعد شخصی التجا آتی ہے۔ مصنف اسرائیل کی بحالی اور مسیح بادشاہ کی جلالی حکومت کے انتظار میں دعا کرتا ہے کہ وہ اُس دن کی مبارک حالی میں شامل ہو سکے جب خدا اپنے لوگوں پر جن کا اُس نے فدیہ دیا ہے‏، فضل کرے گا۔ اُس کی آرزو ہے کہ وہ اسرائیل کے غم کی طویل رات کے بعد دائمی خوشی اور خوش حالی سے لطف اندوز ہو۔ اُس کی خواہش ہے کہ وہ خدا کے قدیم زمینی لوگوں کے جلال میں شریک ہو سکے۔ اُس کی آرزو صلیب پر مرتے ہوئے ڈاکو کی سی ہے‏، ’’اے خداوند! جب تُو اپنی بادشاہی میں آئے تو مجھے یاد رکھنا‘‘ (‏لوقا ۲۳:‏ ۴۲)‏۔

بحرقلزم پر بغاوت (‏۱۰۶ :‏ ۶۔ ۱۲)‏

اب زبور نویس اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہے۔ دعائے ربانی کی طرح اِس میں پہلے تعریف اور بعد میں التجا کی گئی ہے (‏’’ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے‘‘)‏‏، پھر معافی کی التجا کی گئی ہے (‏’’ہمارے قرض ہمیں معاف کر‘‘)‏۔

جب کوئی شخص نہ صرف اپنے گناہوں کا بلکہ اپنی قوم کے گناہوں کا بھی اقرار کرتا ہے تو یہ حقیقی روحانی بلوغت کی علامت ہے۔ دل کی گہرائیوں سے یہ کہنا کس قدر مشکل ہے:‏

’’ہم نے اور ہمارے باپ دادا نے گناہ کیا
ہم نے بدکاری کی۔ ہم نے شرارت کے کام کئے۔‘‘

جب ہم اسرائیل کے گناہوں پر غور کریں‏، تو ہم اُن سے حقارت نہ کریں۔ کیا ہم اُن سے بہتر ہیں؟ اُن کی گمراہی کو یاد کرتے ہوئے ہم اپنی گمراہی کو یاد کریں اور توبہ کے لئے گھٹنوں کے بل جھک جائیں۔

  • اُن کی ناشکرگزاری۔ اُنہوں نے خدا کے اُن عجائب کی مناسب طور پر قدر نہ کی‏، یعنی اُن عجائب کی جو اُس نے اُن کی مخلصی کے حصول کے لئے ظاہر کئے۔
  • اُن کی احسان فراموشی۔ اُنہوں نے خدا کی بے شمار رحمتوں کو بہت جلدی اپنے ذہنوں سے بھلا دیا۔
  • اُن کی بغاوت۔ جب وہ بحرقلزم پر آئے تو اُنہوں نے شکایت کی کہ خدا اُنہیں نکال لایا ہے تاکہ وہ بیابان میں ہلاک ہو جائیں‏، اُن کے لئے بہتر ہوتا کہ وہ مصر میں ہی رہتے (‏خروج ۱۴:‏ ۱۱‏، ۱۲)‏۔

لیکن خدا کی محبت اُن کے گناہوں کے سبب سے ختم نہ ہوئی۔ اُس نے اُن کی بغاوت میں بھی اپنے آپ کو خادم اور نجات دہندہ کی صورت میں ظاہر کیا۔ اُس نے اُنہیں مخلصی دی۔ یہ اُس کی قدرت کا کس قدر عظیم اظہار تھا! اُس کی جھڑکی سے بحرقلزم کا پانی دو ٹکڑے ہو گیا اور یہودیوں کے لئے خشک راستہ بن گیا تاکہ وہ گزر جائیں۔ جب وہ دوسری طرف پہنچ کر تعاقب کرنے والے دشمنوں سے بچ گئے تو پانی پھر اپنی جگہ پر واپس چلا گیا۔ جب اسرائیلیوں نے یہ عجیب واقعات دیکھے‏، تو وہ اُس پر ایمان رکھنے اور اُس کی حمد کے گیت گانے سے کس طرح رہ سکتے تھے؟

صحرا میں شکایتیں (‏۱۰۶ :‏ ۱۳۔۱۵)‏

لیکن بہت جلد گناہ کا ایک اَور دَور شروع ہو گیا۔

  • اُن کی کوتاہ یاد داشت۔ جو معجزات دکھائے گئے تھے‏، وہ اُنہیں فوراً بھول گئے۔
  • اُن کی ہٹ دھرمی۔ اُنہوں نے اُس کی ہدایت کا انتظار نہ کیا۔
  • اُن کی حرص۔ خوراک حاصل کرنے کے سلسلے میں وہ اپنے آپ کو کنٹرول نہ کر سکے (‏گنتی ۱۱:‏ ۱۔۳۵)‏۔
  • اُن کا خدا کو غصہ دلانا۔ اُنہوں نے خدا کو آزمایا۔

اِس بار خدا نے اُنہیں وہ کچھ دیا جو وہ مانگتے تھے‏، لیکن ساتھ ہی اُن میں مہلک وبا بھی بھیج دی (‏گنتی ۱۱:‏ ۲۰)‏۔ اُن کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہم محتاج ہو کر خدا کی مرضی کے مطابق دعا کریں ‏، کیونکہ جیسا کہ میتھیو ہنری نے کہا‏، ’’جو کچھ ہم حرص سے مانگتے ہیں‏، وہ اکثر غضب کی صورت میں دیا جاتا ہے۔‘‘

باغی ۔۔ داتن اور ابیرام (‏۱۰۶ :‏ ۱۶۔۱۸)‏

اُن کا خدا کی مقرر کردہ قیادت کو رد کرنا

قورح اور اون سمیت داتن اور ابیرام‏، موسیٰ اور ہارون کے خلاف بغاوت میں قیادت کر رہے تھے (‏گنتی ۱۶:‏ ۱۔۳۰)‏۔ وہ خدا کے اِن دو بندوں سے حسد کرتے تھے۔ اور وہ کہانت کے عہدے میں بھی دخل اندازی کرنا چاہتے تھے۔ خدا کے مقدس لوگوں یعنی خدا کے مخصوص نمائندوں کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے وہ خدا کے قانون کے خلاف بغاوت کر رہے تھے۔ اِس کا یہ نتیجہ ہوا کہ زمین پھٹ گئی اور اُن قائدین اور اُن کے خاندانوں کو نگل گئی۔ ساتھ ہی آگ نے اُن ڈھائی سو لوگوں کو بھی بھسم کر دیا جنہوں نے خداوند کے حضور بخور جلایا تھا (‏گنتی ۱۶:‏ ۳۱۔۳۵)‏۔

سونے کا بچھڑا (‏۱۰۶ :‏ ۱۹۔۲۳)‏

بنی اسرائیل کی بت پرستی۔ موسیٰ کے کوہِ سینا پر سے خدا کی شریعت کو لانے سے پہلے‏، لوگوں نے سونے کا بچھڑا بنایا اور اُس کی پرستش کی (‏خروج ۳۲:‏ ۴)‏۔ اُنہوں نے خدا کے جلال کو گھاس کھانے والے بیل کی شکل سے بدل دیا۔ بجائے اِس کے کہ وہ تسلیم کرتے کہ خدا مصر سے نکالنے کی وجہ سے اُن کا نجات دہندہ ہے‏، اُنہوں نے یہ تعظیم ایک بے جان بچھڑے کو دی۔ اگر موسیٰ اُن کی سفارش نہ کرتا تو خدا ایک لمحہ میں اُنہیں بھسم کر ڈالتا۔ جیسے ڈھال ایک سپاہی کی جان کو بچا لیتی ہے‏، ویسے ہی موسیٰ خدا اور لوگوں کے بیچ میں آ گیا اور خدا کے قہر کو ٹال دیا۔

جاسوسوں کی طرف سے بُری خبریں (‏۱۰۶ :‏ ۲۴۔۲۷)‏

قادس برنیع میں اُن کی بے وفائی (‏گنتی ۱۴:‏ ۲‏،۲۷‏،۲۸)‏۔ خداوند نے اُن سے سہانے ملک کا وعدہ کیا تھا اور یہ ملک اپنے محل وقوع‏، آب و ہوا اور وسائل کے لحاظ سے مثالی تھا۔ اِس وعدے کے مطابق وہ ملک میں داخل ہو سکتے اور اُس پر قبضہ کر سکتے تھے۔ لیکن اُنہوں نے اُس کے وعدے پر اعتقاد نہ رکھا اور ملک کو حقیر جانا۔ ایمان کے ساتھ آگے بڑھنے کے بجائے وہ اپنے ڈیروں میں بڑبڑائے۔ چنانچہ خدا نے قسم کھائی کہ وہ اِس نسل کو بیابان میں تباہ کر دے گا اور اُن کی نسل کو قوموں کے درمیان پراگندہ کر دے گا۔

موآبی قوم کے ساتھ مل کر گناہ کا ارتکاب (‏۱۰۶:‏ ۲۸۔۳۱)‏

بعل فغور کی پرستش۔ اسرائیلی مردوں نے نہ صرف موآبی عورتوں کے ساتھ حرام کاری کی‏، بلکہ مُردوں کے لئے قربانی کرنے میں بھی اُن کے ساتھ شامل ہوئے۔ بعل فغور کی پرستش کرتے ہوئے وہ دیگر بے دین رسومات میں بھی شریک ہوئے (‏گنتی ۲۵:‏ ۳۔۸)‏۔ خدا اِس قدر غضب ناک ہوا کہ اُس نے وبا بھیجی جس سے ہزاروں لوگ مر گئے۔ جب فنیحاس نے دیکھا کہ ایک اسرائیلی ایک غیرقوم عورت کو اپنے ڈیرے میں لے جا رہا ہے تو اُس نے دونوں کو مار ڈالا۔ وبا تو رُک گئی لیکن اِس سے پہلے چو بیس ہزار لوگ مر چکے تھے۔ یہ عمل اُس کی راست بازی کا مثبت ثبوت تھا اور اِس کے بدلے اُسے امن کے عہد کا انعام ملا۔ خداوند نے کہا:‏

سو تُو کہہ دے کہ مَیں نے اُس سے اپنا صلح کا عہد باندھا اور وہ اُس کے لئے اور اُس کے بعد اُس کی نسل کے لئے کہانت کا دائمی عہد ہو گا کیونکہ وہ اپنے خدا کے لئے غیرت مند ہوا اور اُس نے بنی اسرائیل کے لئے کفارہ دیا (‏گنتی ۲۵:‏ ۱۲‏،۱۳)‏۔

مریبہ پر پریشانی (‏۱۰۶ :‏ ۳۲‏،۳۳)‏

موسیٰ کا گناہ (‏گنتی ۲۰ :‏ ۲۔۱۳)‏۔ بنی اسرائیل نے مریبہ کے چشمہ پر بڑی ہٹ دھرمی سے بے اعتقادی کا اظہار کیا۔ اُنہوں نے موسیٰ پر الزام لگایا کہ وہ اُنہیں بیابان میں اِس لئے لے آیا کہ وہ پیاس سے مر جائیں۔ خدا کے حکم کے مطابق چٹان سے کہنے کے بجائے اُس نے چٹان کو عصا سے دو بار مارا۔ وہ لوگوں کی سرکشی کے خلاف بے سوچے بول اُٹھا۔ اِس کے نتیجے میں خدا نے حکم دیا کہ وہ موعودہ ملک میں بنی اسرائیل کو لے کر داخل ہونے نہیں پائے گا۔ 

کنعان میں ۔۔ وہی پرانی داستان (‏۱۰۶:‏ ۳۴۔۳۹)‏

کنعان کی نئی فضا بھی بنی اسرائیل کی فطرت کو تبدیل نہ کر سکی‏، جیسا کہ ثابت ہوا:‏

۱۰۶:‏ ۳۴ غیر قوم باشندوں کو ہلاک کرنے میں اُن کی ناکامی سے۔ گھٹیا کنعانی لوگ نسل انسانی کا بیمار عضو تھے۔ سینکڑوں سال تک اُن کی برداشت کرنے کے بعد خدا نے فیصلہ کیا کہ اِس کا واحد حل یہ ہے کہ اُنہیں کاٹ ڈالے۔ اُس نے جراحی کا یہ کام اسرائیل کے سپرد کیا۔ لیکن وہ اُس کے حکم کی تعمیل میں ناکام رہے (‏قضاۃ ۱:‏ ۲۷۔۳۶)‏۔

۱۰۶ :‏ ۳۵ غیر اقوام کے ساتھ میل جول بڑھانے سے۔ بت پرستوں کے ساتھ دوستی اور مخلوط شادیوں سے اسرائیل نے اپنے مذہب اور اخلاق کو بگاڑ لیا۔ 

۱۰۶ :‏ ۳۶ اپنی بت پرستی سے۔بہت جلد یہودی حقیقی اور زندہ خدا کی پرستش کے بجائے بتوں کی پرستش کرنے لگے۔

۱۰۶:‏ ۳۷۔۳۹ انسانی قربانیوں سے۔ خصوصی طور پر اُنہوں نے شیاطین کو خوش کرنے کے لئے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو قربان کرنے سے خداوند کے خلاف بغاوت کی (‏۲۔سلاطین ۳:‏ ۲۷‏، ۲۱:‏۶ ؛ حزقی ایل ۱۶:‏ ۲۰‏،۲۱)‏۔ خدا کی برگزیدہ قوم کے بیٹے اور بیٹیاں کنعان کے گندے بتوں کے سامنے قربان کئے گئے اور ملک خون سے ناپاک ہو گیا۔

عدالت کا وقت (‏۱۰۶ :‏ ۴۰۔۴۶)‏

بارنز لکھتا ہے ’’خداوند نے ناراض ہو کر اپنے لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا گویا وہ اُس کے لئے مکروہ ہوں۔‘‘ اُس نے اُنہیں غیر اقوام یعنی مسوپتامیہ کے لوگوں‏، مدیانیوں‏، فلستیوں اور دیگر اقوام کے حوالے کر دیا۔ بے دین قوموں نے یہودیوں پر حکمرانی کی‏، اُن پر ظلم کیا اور اُنہیں دکھ دیا۔ اِس سلوک کے باوجود لوگ یہوواہ کے خلاف گناہ اور بغاوت پر قائم رہے۔ لیکن جب کبھی اُنہوں نے توبہ کرتے ہوئے اُس کی طرف رجوع کیا‏، خدا نے اُن پر رحم کی نظر کی۔ اپنے عہد کو یاد رکھتے ہوئے وہ سزا سے باز آیا اور اپنی وفادار محبت کا اظہار کیا۔ حتیٰ کہ اُن کی اسیری کے تاریک لمحات میں خداوند نے اُن کے اسیر کرنے والوں کے ذریعے رحم کیا۔ یہ اِس بات کی بہت خوبصورت مثال ہے کہ خدا کا رحم عدل پر غالب آتا ہے۔ 

بچانا اور پھر سے اکٹھا کرنا (‏۱۰۶ :‏ ۴۷)‏

زبور نویس دعا کرتا ہے کہ خدا اقوام عالم میں اپنی پراگندہ قوم کو پھر سے اکٹھا کرے۔ اِس کے نتیجے میں وہ خدا کے قدوس نام کی ستائش کریں گے۔ اُس کے لوگ اُس کی ستائش کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔ 

ستائش (‏۱۰۶:‏ ۴۸)‏

خوشی کے اِن الفاظ سے ہم نہ صرف زبور کے اختتام پر بلکہ زبور کی چوتھی کتاب کے اختتام پر پہنچتے ہیں۔ لیکن اِس اختتام پر اِس آزمائش سے گریز کریں کہ اِس زبور کو ایک دَور تک ہی محدود رکھیں۔ اِس کے پیغام کو بنی اسرائیل کی شریر قوم تک محدود نہ کریں۔ لازم ہے کہ ہم بھی اپنی تاریخ کو اِس آئینہ میں دیکھیں۔ ۱۔کرنتھیوں ۱۰:‏۱۱ میں ہم واضح طور پر پڑھتے ہیں:‏

’’یہ باتیں اُن پر عبرت کے لئے واقع ہوئیں اور ہم آخری زمانہ والوں کی نصیحت کے واسطے لکھی گئیں۔‘‘

  • یہ آیت ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم ناشکرگزار نہ ہوں۔ اگر بنی اسرائیل کو مصر کی غلامی سے قدرت و قوت کے ذریعے مخلصی کے لئے شکرگزار ہونا چاہئے تھا‏، تو اِس سے زیادہ ہمیں گناہ اور شیطان کی غلامی سے مسیح کے خون کے وسیلے سے مخلصی کے لئے کیوں نہ شکرگزار ہونا چاہئے!
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم بھول نہ جائیں۔ ہم کس قدر آسانی سے خداوند یسوع کے دُکھوں اور موت کو بھول جاتے ہیں۔ 
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم نہ بڑبڑائیں۔ ہمارا کچھ ایسا طرزِ زندگی بن گیا ہے کہ ہم موسم‏، اپنے حالاتِ زندگی‏، چھوٹی چھوٹی مشکلات‏، حتیٰ کہ شوربے کے گاڑھا یا پتلا ہونے کے بارے میں بھی بڑبڑاتے ہیں۔ 
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم ہٹ دھرم نہ ہوں۔ ہم خدا کی مرضی پر اپنی مرضی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ’’سو اُس نے اُن کی مراد تو پوری کر دی پر اُن کی جان کو سکھا دیا‘‘ (‏آیت ۱۵)‏۔
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم خدا کی طرف سے مقرر کردہ قیادت کے خلاف نکتہ چینی نہ کریں‏، خواہ یہ حکومت‏، کلیسیائی کمیٹی‏، دفتر یا گھر میں والدین کی قیادت کیوں نہ ہو۔ 
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم بت پرستی نہ کریں خواہ یہ روپے پیسے‏، گھر‏، جائیداد‏، تعلیم‏،عہدے‏، لذت یا دنیوی کامیابیوں کی بت پرستی کیوں نہ ہو۔
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم خدا کے وعدوں پر بے اعتقادی کا اظہار نہ کریں۔ اِس گناہ نے بنی اسرائیل کو ۳۸ سال تک بیابان میں آوارگی کی سزا دی اور اِس گناہ کے مرتکب لوگوں کو موعودہ ملک میں داخل ہونے سے محروم رکھا۔ 
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ بد اخلاقی کا شکار نہ بنیں۔ بعل فغور کی پرستش میں جنسی گناہ بھی پایا جاتا تھا۔ خدا کا رویہ اِس گناہ کے خلاف یہ ہے کہ اُس نے مجرموں کو ہلاک کر ڈالا۔
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم نام نہاد ’’معمولی سی نافرمانی‘‘ کے مرتکب نہ ہوں۔ موسیٰ نے چٹان سے کہنے کے بجائے اُسے مارا۔ شاید ہمیں یہ کوئی بڑی نافرمانی معلوم نہ ہو‏، لیکن کسی طرح کی نافرمانی بھی معمولی نہیں ہوتی۔
  • یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم بے ایمانوں سے شادی نہ کریں۔ خدا علیٰحدگی کا خدا ہے۔ وہ اِس سے نفرت کرتا ہے جب اُس کے لوگ ناہموار جوئے کے ذریعے بگڑ جاتے ہیں۔
  • بالآخر یہ ہمیں آگاہ کرتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو قربان نہ کریں۔ اکثر اوقات مسیحی والدین اپنے بچوں کے سامنے خداوند کے کام کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم اپنے بچوں کی اِس طور سے تربیت کرتے ہیں کہ وہ ہماری خواہش کے مطابق کاروبار یا اپنے پیشوں میں بڑا نام پیدا کریں۔ ہم دُنیا کے لئے اُن کی پرورش کرتے ہیں ۔۔ اور یوں جہنم کے لئے اُنہیں پالتے پوستے ہیں۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کی حمد کرو۔خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ وہ بھلا ہے۔اور اُسکی شفقت ابدی ہے۔
۲ کَون خُداوند کی قُدرت کے کاموں کو بیان کر سکتا ہے۔یا اُسکی پُوری ستایش سُنا سکتا ہے؟
۳ مُبارِک ہیں وہ جو عدل کرتے ہیں اور وہ جو ہر وقت صداقت کے کام کرتا ہے۔
۴ اِے خُداوند! اُس کرم سے جو تُو اپنے لوگون پر کرتا ہے مجھے یاد کر۔ اپنی نجات مجھے عنایت فرما۔
۵ تاکہ میَن تیرے برگزیدوں کی اقبالمندی دیکھوں اور تیری قوم کی شادمانی سے شاد رہوں۔اور تیری میراث کے لوگوں کے ساتھ فخر کروں۔
۶ ہم نے اور ہمارے باپ دادا نے گُناہ کیا ۔ ہم نے بدکاری کی ۔ ہم نے شرارت کے کام کئے ۔
۷ ہمارے باپ دادا مِصر میں تیرے عجائب نہ سمجھے۔اُنہوں نے تیری شفقت کی کثرت کو یاد نہ کیا ۔ بلکہ سُمندر پر یعنی بحرِ قُلؔزم پر باغی ہوئے۔
۸ تو بھی اُس نے اُنکو اپنے نام کی خؒاطر بچایا۔تاکہ اپنی قُدرت ظاہر کرے۔
۹ اُس نے بحرِ قُلؔزم کو ڈانٹا اور وہ سُوکھ گیا۔وہ اُنکو گہراؤ میں سے ایسے نکال لے گیا جَیسے بیابان مین سے۔
۱۰ اور اُس نے اُنکو عداوت رکھنے والے کے ہاتھ سے بچایا۔اور دُشمن کے ہاتھ سے چُھڑایا۔
۱۱ سُمندر نے اُنکے مُخالِفوں کو چِھپا لیا۔ اُن میں سے ایک بھی نہ بچا۔
۱۲ تب اُنہوں نے اُسکے قول کا یقین کیا اور اُسکی مدح سرائی کرنے لگے۔
۱۳ پھر وہ جلد اُسکے کاموں کو بھُل گئے اور اُسکی مشورت کا انتظار نہ کیا۔
۱۴ بلکہ بیابان میں بڑی حِرص کی۔ اور صحرا میں خُدا کو آزمایا۔
۱۵ سو اُس نے اُنکی مُراد تو پُوری کردی۔پر اُنکی جان کو سُکھا دیا۔
۱۶ اُنہوں نے خیمہ گاہ میں موُؔسیٰ پر اور خُداوند کے مُقدس مرد ہارُؔون پر حسد کیا۔
۱۷ سو زمین پھٹی اور داتن کو نگل گئی اور ابیؔرام کی جماعت کو کھا گئی۔
۱۸ اور اُنکے جتَھےمیں آگ بھڑک اُٹھی اور شعُلوں نے شریروں کو بھسم کر دیا۔
۱۹ اُنہوں نے حورؔب میں ایک بچھڑا بنایا اور ڈھالی ہُوئی مُورت کو سجدہ کیا۔
۲۰ یُوں اُنہوں نے خُدا کے جلال کو گھاس کھانے بیَل کی شکل سے بدل دیا۔
۲۱ وہ اپنے مُنّجی خُدا کو بھول گئے۔ جِس نے مصر میں بڑے بڑے کام کئے۔
۲۲ اور حؔام کی سرزمین میں عجائب اور بحرِقُؔلزم پر دہشت انگیز کام کئے۔
۲۳ اِسلئے اُس نے فرمایامیَں اُنکو ہلاک کر ڈالتا اگر میرا برگزیدہ مؔوُسیٰ میرے حُضُور بیچ میں نہ آتا کہ میرے قہر کو ٹال دے تا نہ ہو کہ میَں اُن کو ہلاک کروں۔
۲۴ اور اُنہوں نے اُس سُہانے مُلک کو حقیر جانااور اُس کے قول کا یقین نہ کیا۔
۲۵ بلکہ وہ اپنے ڈیروں میں بُڑبڑائے اور خُداوند کی بات نہ مانی۔
۲۶ تب اُس نے اُن کے خلاف قسم کھائی کہ میَں اُن کو بیابان مین پست کروں گا۔
۲۷ اور اُنکی نسل کو قوموں کے درمیان گِرا دوُنگا۔ اور اُنکو مُلک مُلک مین تتِر بتر کرونگا۔
۲۸ وہ بعؔل فغُور کو پاُجنے لگے۔ اور بتوں کی قُربانیا ں کھانے لگے۔
۲۹ یُوں اُنہوں نے اپنے اعمال سے اُسکو خشمناک کیا اور وبا اُن میں پھوٹ نکلی۔
۳۰ تب فنِؔیحاس اُٹھا اور بیچ میں آیا اور وبا رُک گئی۔
۳۱ اور یہ کام اُسکے حق میں پُشت در پُشت ہمیشہ کے لئے راستبازی گِنا گیا۔
۳۲ اِسلئے کہ اُنہوں نے اُسکی روُح سے سرکشی کی اور مؔوُسیٰ بے سوچے بول اُٹھا۔
۳۳
۳۴ اُنہوں نے اُن قوموں کو ہلاک نہ کیا جَیسا خُداوند نے اُن کو حُکم دیا تھا ۔
۳۵ بلکہ اُن قوموں کے ساتھ مل گئے اور اُن کے سے کام سیکھ گئے۔
۳۶ اور اُنکے بتوں کی پرستیش کرنے لگے جو اُنکے لئے پھندہ بن گیا۔
۳۷ بلکہ اُنہوں نے اپنے بیٹے بیٹیوں کو شیاطین کے لئے قُربان کیا۔
۳۸ اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹے بیٹیوں کا خُون بہایا۔جِنکو اُنہوں نے کنعؔان کے بُتوں کے لئے قُربان کر دیا اور مُلک خُون سے ناپاک ہو گیا۔
۳۹ یُوں وہ اپنے ہی کاموں سے آلودہ ہو گئے اور اپنے فعِلوں سے بیوفا بنے۔
۴۰ اِسلئے خُداوند کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اُسے اپنی میراث سے نفرت ہو گئی۔
۴۱ اور اُس نے اُنکو قوموں کے قبضہ میں کر دیا۔ اور اُن سے عداوت رکھنے والے اُن پر حُکمران ہو گئے۔
۴۲ اُنکے دُشمنوں نے اُن پر ظُلم کیا اور وہ اُنکے محکام ہو گئے۔
۴۳ اُس نے تو بارہا اُن کو چُھڑایا لیکن اُن کو مشورہ باغیانہ ہی رہا۔ اور وہ اپنی بدکاری کے باعث پست ہو گئے۔
۴۴ تو بھی جب اُس نے اُنکی فریاد سُنی تو اُنکے دُکھ پر نظر کی۔
۴۵ اور اُس نے اُنکے حق میں اپنے عہد کو یاد کیا اور اپنی شفقت کی کثرت کے مُطابق ترس کھایا۔
۴۶ اُس نے اُنکو اسیر کرنے والوں کے دِل میں اُنکے لئے رحم ڈالا۔
۴۷ اَے خُداوند! ہمارے خُدا! ہمکو بچا لے۔ اور ہمکو قوموں میں سے اکٹھا کر لے۔تاکہ ہم تیرے قُدوس نام کا شُکر کریں اور للکارتے ہوئے تیری ستایش کریں۔
۴۸ خُداوند اِسراؔئیل کا خُدا ازل سے ابدتک مُبارِک ہو! اور ساری قوم کہے آمین۔ خُداوند کی حمد کرو۔