زبُور ۸۸

زبور ۸۸:‏ غمناک ترین زبور

جب ہم زبور ۸۸ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم انسانی غم اور مصیبت کی انتہاتک پہنچ جاتے ہیں۔ زبور نویس کا مرض لاعلاج ہے۔ اب تو اُسے مردہ خانے میں لے جایا جائے گا‏، چند لمحوں کے بعد اُس کے چہرے پر چادر ڈال دی جائے گی اور پھر اُس کے وارث اُسے اُٹھا کر لے جائیں گے۔

۸۸:‏ ۱‏، ۲ اِس زبور کا واحد روشن پہلو خدا کا نام ہے جس سے اِس کا آغاز ہوتا ہے۔ ’’اے خداوند! میرے نجات دینے والے خدا۔‘‘ گابلین کہتا ہے کہ یہ روشنی کی واحد کرن ہے جو مایوسی میں چمکتی ہے۔ یہ وہ ستارہ ہے جو آدھی رات کی گہری تاریکی میں چمکتا ہے۔ 

لیکن اِس کے فوراً بعد مصنف اپنی مایوس کن صورتِ حال کا اندوہناک بیان کرتا ہے۔ وہ دن رات خداوند کے حضور فریاد کرتا رہا ہے‏، لیکن ابھی تک اُسے آرام نہیں ملا۔ خدا اُس کی دعا کو سن کر کب اُس کی مدد کرے گا؟

۸۸:‏ ۳۔۷ اُس کی زندگی دُکھوں سے بھری پڑی ہے اور وہ بغیر کسی رکاوٹ کے موت اور قبر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اُسے مُردہ قرار دے دیا گیا ہے۔ اُسے پہلے ہی مُردوں میں شمار کر دیا گیا ہے۔ اگر اُس میں کوئی تھوڑی بہت قوت تھی‏، وہ بھی ختم ہو گئی ہے۔ اب اُسے مُردوں کے درمیان ڈال دیا گیا ہے جیسے کوئی بے ہوش سپاہی میدانِ جنگ میں لاشوں کے درمیان پڑا ہو یا جیسے جنگ میں مرنے والوں کو ایک مشترکہ قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ اُسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ خدا نے اُسے بھلا دیا ہے اور اُسے الٰہی مدد کی کسی بھی طرح کی اُمید سے کاٹ ڈالا گیا ہے۔ جیسے کسی قیدی کو تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے ویسے ہی خدا نے اُسے پاتال کی تہہ یعنی خوف‏، تاریکی اور اذیت کے تہ خانہ میں چھوڑ دیا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ اِس کی صرف ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے:‏ خدا اُس سے ناراض ہے اور وہ الٰہی عدالت کی تند موجوں میں غرق ہو رہا ہے۔

۸۸:‏ ۸‏، ۹ اُس کے جان پہچانوں نے اُسے چھوڑ دیا ہے گویا کہ وہ کوڑھی ہے۔ وہ اُس سے ایسے سلوک کرتے ہیں جیسے کہ وہ کوئی خوف ناک بھوت ہو یا کوئی لعنتی شے۔ اُسے ایک ایسی کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا ہے جہاں سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے۔ اُس کی آنکھوں میں وہ پہلے جیسی چمک باقی نہیں رہی اور اُس کی دعا کا بھی کوئی جواب نہیں ملتا۔ وہ ہر روز ہاتھ اُٹھا کر خداوند سے فریاد کرتا ہے‏، لیکن کچھ نہیں ہوتا۔

۸۸:‏ ۱۰ تب وہ بہت سے سوالوں کے ساتھ خدا کو چیلنج کرتا ہے کہ زبور نویس کی موت سے کیا فائدہ حاصل ہو گا۔ اِن سوالوں سے عہدعتیق کے مقدسین کا موت اور اِس کے بعد کے بارے میں محدود علم کا انکشاف ہوتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ مرتے وقت ہم مسیح کے پاس جاتے ہیں اور یہ ہمارے لئے نفع ہے (‏فلپیوں ۱:‏۲۳)‏۔ وہ سوالات درج ذیل ہیں:‏

کیا وہ جو مر گئے ہیں خدا اُن کو عجائب دکھاتا ہے؟ اِس کا جواب ہے ’’ نہیں‘‘۔ شریعت کے تحت رہنے والے یہودی کی نظر میں موت ایک ایسا مقام ہے جہاں کوئی تعمیری کام ممکن نہیں۔ 

کیا جو مر گئے ہیں اُٹھ کر اُس کی تعریف کریں گے؟ جو مر گئے اُن کے بارے میں یہ تصور تھا کہ وہ سائے جیسے تھے اور کسی طرح سے بھی خدا کی تعریف نہیں کر سکتے تھے۔

۸۸:‏ ۱۱‏، ۱۲ کیا خدا کی دائمی شفقت کا چرچا گور میں ہو گا‏، یا اُس کی وفاداری کا اِظہار جہنم یعنی تباہی کے مقام میں ہو گا؟

چونکہ یہ اعتقاد تھا کہ پاتال کے دُھول والے تاریک کمروں میں کسی طرح کی بات یا عمل ممکن نہیں‏، اِس لئے یقیناًیہ خدا کے اپنے مفاد میں تھا کہ جہاں تک ہو سکے وہ اُن لوگوں کو زندہ رکھے جو پُرخلوص طور سے اُس کی ستائش کرتے ہیں۔

۸۸:‏ ۱۳۔۱۸ اب زبور نویس مزید شدت سے خدا سے التجا کرتا ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے‏، ہر صبح اُس کی دُکھ بھری دعا سنی جائے گی۔ وہ بہت پریشانی کے ساتھ اظہار کرتا ہے کہ خدا نے اُسے مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے اور اُس پر کبھی بھی رحم کی نظر نہیں کی۔ اُس کے لڑکپن سے اُس کی زندگی مسلسل مصیبت اور موت سے عبارت رہی ہے۔ الٰہی خوف کے مارے وہ حواس باختہ اور بے بس ہو چکا ہے۔ خدا کا قہرِشدید اُس پر طوفانی لہر کی طرح آ پڑا ہے اور اُس کی دہشت نے اُس کا کام تمام کر دیا ہے۔ تند و تیز سیلاب نے اُسے گھیر رکھا ہے اور طوفانی لہروں نے مل کر اُس پر حملہ کیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خدا نے اُس کے دوست و احباب کو اُس سے دُور کر دیا ہے۔ تاریکی اُس کی واحد ساتھی ہے۔ 

یوں یہ غمناک ترین زبور اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ پوچھیں کہ یہ زبور بائبل میں کیوں موجود ہے‏، تو آئیے ہم جے۔ این۔ ڈاربی کی گواہی سنیں۔ اُس نے بتایا کہ ایک وقت تھا جب کلامِ مقدس کا یہی حصہ اُس کی مدد کا باعث ہوا ‏، کیونکہ اُسے معلوم ہوا کہ اُس سے پہلے کوئی اَور شخص بھی اِس قدر دکھی تھا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُدا میری نجات دینے والے خُدا! میَں نے رات دِن تیرے حضور فریاد کی ہے۔
۲ میری دُعا تیرے حضُور پہنچے۔ میری فریاد پر کان لگا۔
۳ کیونکہ میرا دِل دُکھوں سے بھرا ہے۔اور میری جان پاتال کے نزدِیک پہنچ گئی ہے۔
۴ میَں گور میں اُترنے والوں کے ساتھ گِنا جاتا ہُوں۔میَں اُس شخص کی مانند ہُوں جو بالُکل بے کس ہو۔
۵ گویا مقتولوں کی مانند جو قبر میں پڑے ہیں مُردوں کے درمیان ڈال دیا گیا ہوں جِنکو تُو پھِر کبھی یاد نہیں کرتا۔ اور وہ تیرے ہاتھ سے کاٹ ڈالے گئے۔
۶ تُو نے مجھے گہراؤ میں۔ اندھیری جگہ میں۔ پاتال کی تہ میں رکھا ہے۔
۷ مجھ پر تیرا قہر بھاری ہے۔ تُو نے اپنی سب مُوجوں سے مجھے دُکھ دُیا ہے ۔
۸ تُو نے میر ے جان پہچا نو ں کو مجھُ سے دوُر کر دیا۔ تُو نے مجھےُ اُنکے نزدیک گھَنو نا بنا دِیا ۔
۹ میر ی آ نکھ دُکھ سے دُھند لا چلی ۔ اَے خُدا وند!میُں نے ہر روز تجھُ سے دُعا کی ہے ۔مَیں نے اپنے ہا تھ تیری طرف پھیلائے ہیں ۔ کیا تُو مرُدوں کو عجا ئب دِکھا ئے گا ؟ کیا جو مرگئے ہیں ۔ اُ ٹھکر تیر ی تعر یف کر ینگے ؟ کیا تیر ی شفقت کا چر چا گو ر میں ہو گا یا تیر ی وفا داری کا جہنم میں ؟
۱۰
۱۱
۱۲ کیا تیر ے عجا ئب کو اندھیرے میں پہچا نینگے اور تیر ی صداقت کو فر امو شی کی سر زمین میں؟
۱۳ پر اَے خُداوند !میں نے تیری دُہا ئی دی ہے اور صُبح کو میر ی دُعا تیر ے حُضور ُپہُنچے گی۔
۱۴ اَے خُدا وند !تُو کیوں میری جان کو تر ک کرتا ہے ؟ تُو اپنا چہر ہ مجھ سے کیو ں چھپاتا ہے؟
۱۵ میَں لڑکپن سے ہی مُصیبت زدہ اور قریبُ المو ُت ہو ں ۔مَیں تیرے ڈر کے ما رے حو اس با ختہ ہو گیا ۔
۱۶ تیرا قہر شدِ ید مجھ پر آ پڑا ۔تیر ی دہشتُ نے میرا کام تما م کر دیا۔
۱۷ اُس نے دِن بھر سیَلاب کی طرح میرا اِحاطہ کیا۔ اُس نے مجھے با لکل گھیر لیا۔
۱۸ تُو نے دوست واحبا ب کو مجھ سے دور کیا ۔اورمیرے جان پہچا نوں کو اندھیرے میں ڈال دِیا ہے۔