دھیان اور گروُہی مطالعۂ بائبل کے لئے بُہت مفید ثابُت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
«بلند خیالی، تصور کی رفعت اور وسیع مواد کو عظیم نظریات کے تابع رکھنے میں دونوں عہدناموں میں سے کوئی تاریخی کتاب بھی متؔی رسول کی اِنجیل کی ہمسری نہیں کر سکتی»۔ (تھیوڈور ژاہن۔ Theodor Zahn)
۱۔ مُستند کتابوں میں بے مثال مقام
متؔی رسول کی اِنجیل پُرانے اور نئے عہدناموں کے درمیان ایک کامِل پُل ہے۔ اِس کے اِفتتاحی الفاظ ہی ہمیں ماضی میں پُرانے عہدنامہ میں خُدا کی اُمت کے جدِ اَمجد ابرہام اور بنی اِسرائیل کے عظیم بادشاہ داؔؤد کے رُوبرو لاکھڑا کرتے ہیں۔ مضامین کے چناؤ، یہُودی رنگ، عبرانی صحائف سے متعدد اِقتباسات اور نئے عہدنامہ میں اپنے مقام کے باعث متؔی کی اِنجیل دُنیا کو مسیحی پیغام سے متعارف کرانے کے لئے نہایت موزوں ہے۔
چاروں اناجیل میں اِسے طویل مدت سے ترتِیب کے لحاظ سے پہلا مقام حاصل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بالکُل جدید دَور تک عالمگِیر سطح پر یہی مانا جاتا تھا کہ یہی پہلی اِنجیل ہے جو ضبط ِتحریر میں لائی گئی تھی۔ دُوسری وجہ یہ ہے کہ متؔی کا اندازِ بیان واضح اور منظم و مُرتب ہے، اِس لئے کلیسیا یا جماعت میں پڑھنے کے لئے بالکُل موزوں ہے۔ چنانچہ یہ ہر دِل عزیز اِنجیل رہی ہے بلکہ بعض اوقات اِس لحاظ سے یُوحناؔ کی اِنجیل سے مقابلہ کرتی رہی ہے۔
البُتہ راسخ العقیدہ ہونے کے لئے یہ ایمان رکھنا ضروری نہیں کہ متؔی کی اِنجیل ہی سب سے پہلے تحریر ہوئی تھی۔ تاہم اِبُتدائی مسیحی تقریباً سب کے سب یہُودی مذہب سے آئے تھے اور اُن کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اور یہ بات بالکُل منطقی معلوم ہوتی ہے کہ پہلے مسیحیوں کی ضُرورتکو پہلے پورا کرنے کی کوشِش کی گئی تھی۔
۲۔ مُصنِفّ
خارجی شہادت قدیم بھی ہے اور عالمگِیر بھی کہ متؔی محصول لینے والا، جِس کو لاوی بھی کہتے ہیں، اُس نے پہلی اِنجیل قلم بَند کی۔ چونکہ وُہ رسولی گروُہ کا نمایاں رُکن نہیں تھا اِس لئے اگر اِس اِنجیل کے ساتھ اُس کا کوئی تعلق نہیں تھا تو اِس پہلی اِنجیل کو اُس کے نام سے منسوب کرنا عجیب معلوم ہوتا ہے۔
قدیم دستاویز «دِدَخے» (بارہ رسولوں کی تعلیمات)، پھر یوسطین شہید، کرنتھس کا دیونوسیاس، انطاکیہ کا تھیفلس اور اتھینے کا اثیناگرس اِس اِنجیل کو مُستنَد قرار دیتے ہیں۔ کلیسیا کے مورِخ یوسیبیُس نے لِکھا ہے کہ پپیاس کہتا ہے کہ «متؔی نے ’لوگیا‘ (یسؔوع کے مقولات) کو عبرانی زبان میں رقم کیا اور ہر شخص اپنی لیاقت و صلاحیت کے مطابق اِن کی تشریح کرتا تھا۔» ایرینیُس، پنطیُس اور اورغین بنیادی طور پر اِس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ «عبرانی» سے عام طور پر مراد وُہ ارامی بولی ہے جِس میں ہمارے خُداوند کے زمانے کے عبرانی لوگ روزمرہ بات چیت کیا کرتے تھے۔ نئے عہدنامہ میں یہ لفظ اِسی مفہُوم میں استعمال ہُوا ہے۔ لیکن یہ «لوگیا» ہیں کیا؟ اِس یٗونانی لفظ کا عام مطلب «غیبی آواز» یا «آسمانی وحی» ہے جیسا کہ پُرانے عہدنامہ میں خُدا کی «وحی» درَج ہے۔ لیکن پپیاس کے بیان میں اِس کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا۔ اِس بیان کے بارے میں تین بڑے نظریات ہیں:
- اِس سے مراد متؔی کی اِنجیل ہے یعنی متؔی نے اِس اِنجیل کا ایک ایڈیشن ارامی زبان میں لِکھا، جِس کا خاص مقصد یہُودی وں کو مسیح کے لئے جیتنا اور عبرانی مسیحیوں کو تعلیم دینا تھا مگر بعد میں ایک یٗونانی ایڈیشن بھی تیار کیا گیا۔
- اِس میں صِرف یسؔوع کے «مقولات» درَج تھے، بعد میں اِن کو اِنجیل میں ضم کر دیاگیا۔
- اِس میں «شہادتیں» یعنی پُرانے عہدنامہ کے وُہ اِقتباسات درَج تھے جن سے ثابُت ہوتا ہے کہ یسؔوع «مسیحِ مَوعُود» ہے۔ نظریہ نمبر ۳ کی نسبُت نظریہ نمبر ۱ اور نمبر ۲ زیادہ قابلِ قبول ہیں۔
متؔی کی یٗونانی اگرچہ ترجمہ معلوم نہیں ہوتی، مگر ایسی وسیع اور مشہور روایت (اور قدیم زمانے میں اِس سے کِسی نے اِختلاف بھی نہیں کیا) کی کُچھ نہ کُچھ بنیاد تو ہو گی۔ روایت کہتی ہے کہ متؔی پندرہ برس تک فلستین میں منادی کرتا رہا۔ پھر دوسرے علاقوں میں تبلیغ کرنے کو نکل گیا۔ عین ممکن ہے کہ ۴۵ء کے لگ بھگ اُس نے اپنے پیچھے اِنجیل کا ارامی مسودہ (یا مسیح کے صِرف «مباحث») چھوڑا ہو۔ یہ اُن یہُودی وں کے لئے تھا، جنہوں نے یسؔوع کو اپنا «مسیحِ مَوعُود» مان لیا تھا اور بعد میں عالمگِیر استعمال کے لئے یٗونانی ایڈیشن تیار کیا ہو۔ متؔی کے ہم عصر یوسیفس نے بھی اِسی قِسم کا کام کیا تھا۔ اِس یہُودی مُصنِفّ نے اپنی کتاب «یہُودی جنگیں» کا پہلا مسودہ ارامی زبان میں تیار کیا اور پھر حتمی کتاب یٗونانی میں لِکھی۔
اِس پہلی اِنجیل کی داخلی شہادتیں اِس دین دار یہُودی سے بُہت موافقت رکھتی ہیں جو پُرانے عہدنامہ سے محبُت رکھتا تھا اور جِس کو خُدا نے احتیاط اور توجہ کے ساتھ تصنِیف و تالیف کی نعمت سے نوازا تھا۔ وُہ رؔومی حکومت کا سرکاری ملازم تھا۔ اِس حیثیت سے وُہ اپنی قوم کی زبان (ارامی) اور حاکموں کی زبان (رؔومی اپنی سلطنت کے مشرقی حصوں میں لاطینی نہیں بلکہ یٗونانی زبان استعمال کرتے تھے) دونوں میں دسترس رکھتا تھا۔ لہٰذا اعداد و شمار کی تفاصیل، روپے پیسے سے متعلق تماثیل اور مالی اصطلاحات ایک محصول لینے والے کے ساتھ گہری مُطابقت رکھتی ہیں۔ اِسی طرح منظم اور اجمالی اندازِ بیان بھی مُطابقت رکھتا ہے۔
اِتنی عالمگِیر خارجی اور قوی داخلی شہادتوں کے باوجود آزاد خیال عِلما کی اکثریت اِس روایتی نظریے کو ردّ کرتی ہے کہ محصول لینے والا متؔی اِس اِنجیل کا مُصنِفّ ہے۔ وُہ اِس کی دو وجوُہات پیش کرتے ہیں:
اوّل:اگر یہ مان لیا جائے کہ ضبط ِتحریر میں آنے والی پہلی اِنجیل «مرقسؔ کی اِنجیل» ہے (آج کل بُہت سے حلقوں میں اِس نظریے کو «حتمی حقیقت» سمجھا جاتا ہے) تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک رسول اور عینی شاہد مرقسؔ کے مواد کا اِس قدر استعمال کرے (مرقسؔ کا ۹۳ فیصد مواد دُوسری اناجیل میں موجود ہے)؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ اوّل تو یہ ثابُت نہیں ہو سکا کہ مرقسؔ کی اِنجیل سب سے پہلے لِکھی گئی تھی۔ قدیم ترین شہادت کہتی ہے کہ متؔی کی اِنجیل کو اوّلیت حاصل ہے۔ اور چونکہ ابُتدائی مسیحی زیادہ تر یہُودی تھے، اِس لئے یہ دِل یل بُہت وزن رکھتی ہے۔ لیکن اگر ہم مرقسؔ کی مبینہ اوّلیت کو مان بھی لیں (اور اکثر راسخ الاعتقاد مانتے بھی ہیں) تو متؔی یقینا پہچان لیتا کہ مرقسؔ کی تحریر (جیسا کہ قدیم روایت کہتی ہے) زیادہ تر جوشیلے اور سرگرم شمعون پَطرسؔ کی یادداشتوں پر مشتمل ہے کیونکہ پَطرسؔ متؔی کا ساتھی رسول تھا (مرقسؔ کا تعارُف دیکھئے)۔
دوم:اِس اِنجیل کے متؔی (یا کِسی بھی عینی شاہد) کی تصنِیف ہونے کے خلاف دُوسری دِل یل یہ ہے کہ اِس میں واضح تفاصیل کا فقدان ہے۔ مرقسؔ کے بارے میں کوئی عالم بھی دعویٰ نہیں کرتا کہ وُہ مسیح کی خدمت کا عینی گواہ تھا۔ مگر مرقسؔ ایسی رنگین اور دِل چسپ تفاصیل درَج کرتا ہے جن سے تاثر ملتا ہے کہ وُہ خود موقعے پر موجود تھا۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک عینی گواہ صِرف واقعاتی انداز میں تحریر کرے؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ محصول لینے والے کی شخصیت کا تقاضا یہی تھا۔ یہ لاوی ہمارے خُداوند کے مباحث اور تعلیمات کو زیادہ جگہ دینا چاہتا ہے اِس لئے غیر ضروری تفاصیل سے گریز کرتا ہے۔ یہ دِل یل اُس صورت میں اَور بھی وزنی ہو گی کہ اگر مرقسؔ نے اِنجیل پہلے لِکھی تھی تو متؔی نے دیکھ لیا ہو گا کہ پَطرسؔ کی ذاتی یادداشتوں کی بڑی عمدہ نمائندگی ہو چکی ہے۔
۳۔ سنِ تصنِیف
وسیع حلقے یقین رکھتے ہیں کہ متؔی نے اِنجیل (یا کم سے کم یسؔوع کے مقولات کا مجموعہ) کا پہلا ایڈیشن ارامی زبان میں تیار کیا۔ اگر یہ درست ہے تو ۴۵ء یعنی یسؔوع مسیح کے صعود سے پندرہ برس بعد کی تاریخ قدیم روایت کے ساتھ بالکُل موافقت رکھتی ہے۔ اِس صورت میں وُہ اِنجیل کا مکمل اور یٗونانی زبان کا مُستنَد ایڈیشن ۵۰ء تا ۵۵ء یا کِسی قدر اَور تاخیر کے ساتھ پیش کر سکتا تھا۔
ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ یہ اِنجیل یروشلؔیم کی بربادی (۷۰ء) کے بعد لِکھی گئی تھی۔ اِس نظریہ کے پیچھے یہ بے اعتقادی کارفرما ہے کہ یسؔوع مستقبل کے واقعات کی تفصیلی پیش گوئی نہیں کر سکتا تھا۔ اِس کے علاوُہ وُہ اِستدِل الی نظریات بھی ہیں جو خُدا کی طرف سے اِلہام کا اِنکار کرتے ہیں۔
۴۔ پسِ منظر اور مَوضُوع
جب یسؔوع نے متؔی کو بلایا تو وُہ جواں سال شخص تھا۔ وُہ پیدائشی یہُودی ، تربیت اور پیشے کے اعتبار سے محصول لینے والا تھا۔ اُس نے مسیح کی خاطر سب کُچھ ترک کر دیا۔ اِس کے عوض اُسے مسیح کے بارہ شاگردوں میں شامِل ہونے کا اعزاز حاصل ہُوا۔ دوسرا اعزاز یہ ہے کہ اُسے وُہ کتاب لِکھنے کے لئے منتخب کِیا گیا جِسے ہم «پہلی اِنجیل» کہتے ہیں۔ عام خیال ہے کہ متؔی ہی لاوی ہے (مرقسؔ ۲:۱۴؛ لُوقاؔ ۵:۲۷)۔
اپنی اِنجیل میں متؔی کا مقصد یہ ثابُت کرنا ہے کہ یسؔوع ہی بنی اِسرائیل کا وُہ مسیحِ مَوعُود ہے جِس کے وُہ مدتوں سے منتظر تھے۔ اور وُہی داؔؤد کے تخت کا واحد قانونی دعوے دار ہے۔
یہ کتاب مسیح کی زندگی کا مکمل اور جامع بیان ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ اِس کا آغاز مسیح یسؔوع کے نَسب نامے اور اِبُتدائی زندگی کے بیان سے ہوتا ہے۔ اِس کے فوراً بعد یسؔوع کی عام خدمت کا بیان ہے جو اُس نے تقریبا تیس سال کی عمر میں شروع کی تھی۔ رُوح القُدس کی راہنمائی اور ہدایت سے متؔی اپنے نجات دہندہ کی زندگی اور خدمت کے اُن پہلوؤں کا اِنتخاب کرتا ہے جو تصدیق کرتے ہیں کہ وُہ خُدا کا ممسوح ہے۔ رفتہ رفتہ کتاب اپنے نقطۂ عروج کی طرف بڑھتی ہے اور خُداوند یسؔوع کے مقدمے اور پیشی، موت، تدفین، جی اُٹھنے اور صعود کا بیان سامنے آتا ہے۔ اور اِسی نقطۂ عروج میں اِنسان کی نجات کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اِسی لئے اِس کتاب کو اِنجیل (خوشخبری) کا نام دیا گیا ہے۔ اِس لئے نہیں کہ یہ اُس راہ کو متعین کرتی ہے جِس پر چل کر بنی نوعِ اِنسان نجات حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ اِس لئے کہ یہ مسیح کی قربانی اور کفارے کے کام کا بیان کرتی ہے جِس سے نجات ممکن ہوئی۔
ہمارا مقصد تفسیر الکتاب کو جامع اور تکنیکی کتاب بنانا نہیں ہے بلکہ قاری کو خود غور و فِکر اور مطالعہ کرنے کی تحریک دِل انا ہے۔ سب سے بڑا مقصد قاری کے دِل میں یہ تڑپ پیدا کرنا ہے کہ «بادشاہ» جلد دوبارہ آ جائے۔
| خاکہ | ||
| باب | ||
| ۱۔ | مسیحِ مَوعُود اور بادشاہ کا نَسب نامہ اور پیدائش | ۱ |
| ۲۔ | مسیحِ مَوعُود اور بادشاہ کے ابُتدائی سال | ۲ |
| ۳۔ | مسیحِ مَوعُود کی خدمت کے لئے تیاری اور خدمت کا آغاز | ۳،۴ |
| ۴۔ | بادشاہی کا آئین (دستور العمل) | ۵-۷ |
| ۵۔ | مسیحِ مَوعُود کی قُدرت اور فضل کے مُعجزات اور لوگوں پر اُن کے مُختلفِ اثرات | ۸:۱- ۹:۳۴ |
| ۶۔ | المسیح اپنے رسولوں کو اِسرائیل کے پاس بھیجتا ہے | ۹:۳۵ -۱۰:۴۲ |
| ۷۔ | مخالفت میں اضافہ اور رَدّ کیا جانا | ۱۱،۱۲ |
| ۸۔ | اِسرائیل کے رَدّ کرنے کے باعث بادشاہ بادشاہی کی ایک نئی عبوری شکل کا اعلان کرتا ہے | ۱۳ |
| ۹۔ | مسیحِ مَوعُود کے فضلِ فراواں کی بڑھتی ہوئی مخالفت | ۱۴:۱-۱۶:۱۲ |
| ۱۰۔ | بادشاہ اپنے شاگردوں کو تیار کرتا ہے | ۱۶:۱۳-۱۷:۲۷ |
| ۱۱۔ | بادشاہ اپنے شاگردوں کو ہدایات دیتا ہے | ۱۸-۲۰ |
| ۱۲۔ | بادشاہ کا پیش کیا جانا اور ردّ کیا جانا | ۲۱-۲۳ |
| ۱۳۔ | کوُہ زیتون پر بادشاہ کا وعظ | ۲۴،۲۵ |
| ۱۴۔ | بادشاہ کا دُکھ اُٹھانا اور موت | ۲۶،۲۷ |
| ۱۵۔ | بادشاہ کی فتح | ۲۸ |