زبُور ۳۹

زبور ۳۹ :‏ باطنی آگ

۳۹:‏ ۱۔ ۳ زبور نویس دیگر الفاظ میں یہ کہتا ہے:‏ مَیں نے مصمم ارادہ کر رکھا تھا کہ مَیں اپنی شدید بدحالی کے باوجود خداوند کے خلاف نہ تو شکایت کروں گا اور نہ اُس کے خلاف بغاوت ہی کروں گا۔ مَیں نے قسم کھائی تھی کہ مَیں غیرایمانداروں کے سامنے اپنے منہ کو بند رکھوں گا۔ مَیں نہیں چاہتا تھا کہ اُنہیں خدا کی پروردگاری کے خلاف بات کرنے کا موقع ملے۔ چنانچہ مَیں وہاں بالکل گونگا اور خاموش رہا اور مَیں نے اپنے جذبات کو دبائے رکھا۔ لیکن اِس کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ میرا دل ناراض اور دُکھ سے جل رہا تھا۔ مَیں بالکل نہ سمجھ سکا کہ خداوند نے کیوں مجھے اِس قدر زیادہ دُکھ برداشت کرنے دیا۔ جوں جوں مَیں نے اپنی روح کی تلخی کو اپنے اندر دبائے رکھا‏، توں توں یہ دباؤ بڑھتا گیا۔ آخر میرے تمام دبے ہوئے جذبات سوالیہ دعا میں ظاہر ہو گئے۔ 

۳۹:‏ ۴۔۶ اے خداوند! کب تک یہ ڈراؤنا خواب جاری رہے گا؟ مجھے بتا کہ میرا کتنا وقت باقی ہے اور یہ کب ختم ہو جائے گا؟ میری زندگی کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی بالشت بھر کی ہے‏، اگر اِس کا تیری ابدیت سے موازنہ کیا جائے تو میری زندگی کا دورانیہ قابلِ ذکر نہیں ہے۔ ہم سب بنی نوع انسان بخارات کی طرح بے ثبات ہیں۔ ہم واہمہ کی طرح زندگی گزار دیتے ہیں۔ ہم اِدھر اُدھر دوڑ دھوپ کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اِس سے بالآخر کیا حاصل ہوتا ہے؟ ہم زندگی بھر کنجوسی کرکے بچت کرتے رہتے ہیں اور یہ سب کچھ اپنے پیچھے احمقوں یا اجنبیوں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔

۳۹:‏ ۷‏،۸ اے خداوند! میرے پاس کیا اُمید ہے؟ میری واحد اُمید تجھ ہی سے ہے۔ تیرے بغیر میرے پاس کچھ نہیں۔ مجھ کو میری سب خطاؤں سے رہائی دے— خاص کر اُن گناہوں سے جن کی وجہ سے میری زندگی میں یہ خوفناک مصیبت آئی ہے۔ مَیں احمقوں کو اپنی مصیبت پر خوش ہوتے ہوئے برداشت نہیں کر سکتا۔

۳۹:‏ ۹‏،۱۰ تُو جانتا ہے کہ مَیں اِس مصیبت کے آنے سے کیسے خاموش رہا ہوں‏، کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ تُو نے اِس مصیبت کی اجازت دی تھی۔ لیکن مَیں اَب تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ تنبیہ کرنے والا اپنا ہاتھ مجھ سے ہٹا لے۔ مَیں تیرے ہاتھ کی مار سے فنا ہوا جاتا ہوں۔ 

۳۹:‏ ۱۱ اے خداوند! جب تُو کسی شخص کو اُس کے گناہ کے لئے مختلف طریقوں سے سزا دیتا ہے‏، تو وہ ایسے برباد ہو جاتا ہے جیسے کہ ایک قیمتی لباس کو کیڑا کھا جائے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ہم سب بخارات کی طرح بے ثبات ہیں۔

۳۹:‏ ۱۲‏،۱۳ چنانچہ اے خداوند! مَیں تیرے پاس آتا ہوں اور تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ میری دعا کو سن لے۔ میری ہنگامی درخواست کو سن اور اِس کا جواب دے۔ میرے آنسو بے تاثیر نہ رہیں۔ بہرکیف مَیں تیری اِس دُنیا میں رات بھر کا مہمان اور اپنے آبا و اجداد کی طرح خانہ بدوش ہوں۔ مَیں تجھ سے صرف یہ دعا کرتا ہوں کہ تُو مجھے سزا دینے کے لئے اپنا غصہ روک لے اور اِس سے پیشتر کہ مَیں اِس دُنیا سے چلا جاؤں ایک مختصر عرصے کے لئے مجھے خوشی اور صحت سے لطف اندوز ہونے دے۔

مقدس کتاب

۱ زبُور ۳۹ میں نے کہا میں اپنی راہ کی نگرانی کرونگا تاکہ میری زبان سے خطا نہ ہو جب تک شریر میرے سامنے ہے میں اپنے مُنہ کو لگام دِئے رہونگا۔
۲ میں گونگا بن کر خاموش رہا اور نیکی کی طرف سے بھی خاموشی اِختیار کی اور میرا غم بڑھ گیا۔
۳ میرا دِل اندر ہی اندر جل رہا تھا۔ سوچتے سوچتے آگ بھڑک اُٹھی۔ تب میں اپنی زبان سے کہنے لگا۔
۴ اَے خُداوند! ایسا کہ کہ میں اپنے انجام سے واقف ہو جاؤں اور اِس سے بھی کہ میری عمر کی میعاد کیا ہے۔ میں جان لوں کہ کیسا فانی ہوں۔
۵ دیکھ! تُو نے میری عمر بالشت بھر کی رکھی ہے اور میری زندگی تیرے حضور بے حقیقت ہے یقیناً ہر انسان بہترین حالت میں بھی بالکل بے ثبات ہے(سلاہ)۔
۶ درحقیقت انسان سایہ کی طرح چلتا پھرتا ہے۔ یقیناً وہ فضول گھبراتے ہیں۔ وہ ذخیرہ کرتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ اُسے کون لیگا۔
۷ اَے خُداوند! اب میں کس بات کے لئے ٹھہراہوں؟ میری اُمید تجھ ہی سے ہے۔
۸ مجھ کو میری سب خطاؤں سے رہائی دے۔ احمقوں کو مجھ پر انگشت نمائی نہ کرنے دے۔
۹ میں گونگا بنا۔ میں نے مُنہ نہ کھولا۔ کیونکہ تُو ہی نے یہ کیا ہے۔
۱۰ مجھ سے اپنی بلا دُور کردے۔ میں تو تیرے ہاتھ کی مار سے فنا ہوا جاتا ہوں۔
۱۱ جب تُو انسان کو بدی پر ملامت کرکے تنبیہ کرتا ہے تو اُس کے حُسن کو پتنگے کی طرح فنا کردیتا ہے۔ یقیناً ہر انسان بے ثبات ہے (سلاہ)۔
۱۲ اَے خُداوند! میری دُعا سُن اور میری فریادپر کان لگا۔ میری آنسوؤں کو دیکھ کر خاموش نہ رہ کیونکہ میں تیرے حضور پردیسی اور مُسافر ہوں۔ جیسے میرے سب باپ دادا تھے۔
۱۳ آہ! مجھ سے نظر ہٹا لے تاکہ تازہ دم ہو جاؤں۔ اِس سے پہلے کہ رحلت کروں اور نابُود ہو جاؤں۔