زبُور ۱۰۱

زبور ۱۰۱ :‏ شاہی فیصلے

جو خواہشات داؤد اپنے اور عوام کے لئے رکھتا تھا اُن کی پوری تکمیل اُس کی زندگی میں نہ ہوئی۔ لیکن وہ اُس وقت ضرور تکمیل تک پہنچیں گی جب یسوع مسیح آ کر داؤد کے تخت پر بیٹھے گا۔ جب داؤد نے عنانِ حکومت سنبھالی تو یہ زبور اُس کا منشور تھا۔

۱۰۱:‏ ۱ وہ شفقت اور عدل کی تعریف کرنے سے زبور کا آغاز کرتا ہے۔ شاید بنیادی طور پر وہ خدا کی شفقت اور عدل کی بات کر رہا ہے ۔۔ یعنی بنی اسرائیل پر خدا کی شفقت اور اُس کے دشمنوں پر عدل کی بات ‏، کیونکہ وہ اِس کے فوراً بعد لکھتا ہے ’’اے خداوند! مَیں تیری مدح سرائی کروں گا۔‘‘

ا۱۰:‏ ۲ بعدازاں وہ اپنی شخصی زندگی کے لئے بعض خوبیوں کی آرزو کرتا ہے۔ وہ پُرعزم طریقے سے ایسی راہ پر چلے گا جو بے الزام ہو گی‏، یعنی وہ اِس قدر دھیان سے خداوند کی تعلیم پر عمل کرے گا کہ اُس کی ملامت کے لئے کوئی مناسب جواز نہیں ہو گا۔ اُس کی آرزوؤں میں اِس قدر سرگرمی اور خلوص ہے کہ وہ کہتا ہے ’’ تُو میرے پاس کب آئے گا؟‘‘ اِس کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں:‏

اُس کی آرزو ہے کہ خدا آ کر دیکھے کہ وہ راستی سے چلتا ہے‏، اُسے اُس عہد کی تکمیل کی خواہش ہے جو خدا نے اُس سے باندھا کہ زمین پر حتمی طور پر خدا کی بادشاہت قائم ہو گی (‏۲۔سموئیل باب ۷)‏۔

وہ محسوس کرتا ہے کہ اُسے خدا کی حضوری کی ضرورت ہے کہ وہ خود اُس کے عزائم کی تکمیل کرے۔

اُس نے عزم کیا ہے کہ وہ اپنے گھر میں خلوص دلی سے چلے گا۔ اپنی گھریلو زندگی میں وہ راستی اور خلوص دلی سے عمل کرے گا۔ وہ کسی طرح کی گڑبڑ نہیں کرے گا اور اُس میں دوغلا پن نہیں ہو گا۔ 

۱۰۱:‏ ۳‏، ۴ جب وہ یہ کہتا ہے کہ وہ کسی خباثت کو مدنظر نہیں رکھے گا‏، تو اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھٹیا شخص‏، منصوبہ اور سرگرمی کی تصدیق نہیں کرے گا۔

جہاں تک گمراہ لوگوں کے کام کا تعلق ہے‏، وہ اِس سے نفرت کرتا ہے اور اِس کی آلودگی سے اپنے آپ کو آزاد رکھے گا۔ جو راستی اور سچائی کی راہ سے پھر چکے ہیں وہ اُن سے رفاقت نہیں رکھے گا۔

ایک اَور خامی جس سے وہ دُور رہنا چاہتا ہے وہ ہے کج دلی‏، جو ہمیشہ جھوٹ اور بُرائی کی طرف راغب رہتی ہے۔ وہ اِس قسم کی بدی میں شامل نہیں ہو گا اور اُس کے بااعتماد صلاح کاروں میں اِس قسم کا کوئی شخص نہیں ہو گا۔ اُس کا درست فیصلہ یہ ہے:‏ ’’مَیں کسی برائی سے آشنا نہیں ہوں گا۔‘‘ اِس کا اُس کی اپنی زندگی یا اُس کے درباریوں سے تعلق بھی ہو سکتا ہے۔ اِس لئے ایک انگریزی ترجمہ میں یوں لکھا ہے کہ ’’ مَیں کسی بُرے شخص سے آشنا نہیں ہوں گا۔‘‘ یہاں الفاظ ’’ آشنا ہوں گا ‘‘ کا مطلب ہے حمایت و حوصلہ افزائی کے ساتھ قبول کرنا۔

۱۰۱ :‏ ۵ جو شخص اپنے ہمسائے کی غیبت (‏بدگوئی)‏ کرتا ہے وہ کاٹ ڈالا جائے گا۔ ’’کاٹ ڈالنا‘‘ ’’ہلاک کر ڈالنے‘‘ کی نسبت زیادہ موزوں ترجمہ ہے۔ اور اِس کا یہ مطلب نہیں کہ اُسے ہلاک کر ڈالا جائے گا‏، بلکہ یہ کہ اُسے بادشاہ کے انتظام کے تحت اُس کی حیثیت و عہدہ کو ختم کر دیا جائے گا یا اُسے خاموش کر دیا جائے گا۔

اِس بات کا اطلاق بلند نظر اور مغرور شخص پر بھی ہوتاہے۔ وہ شاہی محل میں عہدیدار نہیں رہے گا۔ 

۱۰۱ :‏ ۶ بادشاہت میں خدمت کے لئے سب سے بڑی اہلیت اخلاقی اور روحانی صحت ہے۔ ملک کے وفادار لوگ بادشاہ کے معاون ہوں گے اور جن لوگوں کی زندگیاں صاف ہیں وہ اُس کے خادم ہوں گے۔

۱۰۱ :‏ ۷‏، ۸ جہاں تک کج دلوں‏، فریبی لوگوں اور جھوٹوں کا تعلق ہے‏، وہ شاہی ملازمت کے اہل نہیں ہوں گے۔ دروغ گو لوگوں سے اُس کا کوئی سرو کار نہیں ہو گا۔

بالآخر بادشاہ نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ہر طرح کی بُرائی سے فوری طور پر سختی سے نمٹا جائے۔ یہاں بھی آیت ۵ کی طرح ’’ہلاک کرنے‘‘ کا یہ مطلب ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو خداوند کے شہر یروشلیم سے خارج کر دیا جائے یا سزا دی جائے۔ ضرور ہے کہ ہر طرح کی برائی ملک سے اُکھاڑ پھینکی جائے اور تمام شریروں کو یہوواہ کے شہر سے کاٹ ڈالا جائے۔

مقدس کتاب

۱ میَں شفقت اور عدل کا گیت گاؤں گا۔اَے خُداوقند ! میَں تیری مدح سرائی کرونگا۔
۲ میَں عقلمندی سے کامل راہ پر چلونگا۔ تُو میرے پاس کب آئے گا؟ گھر میں میری روِش خُلوصِ دل سے ہو گی ۔
۳ میَن کِسی خباثت کو مدِنظر نہیں رکھونگا۔ مجھے کج رفتاروں کے کام سے نفرت ہے۔ اُسکو مجھ سے کچھ سروکار نہ ہوگا۔
۴ کج دِلی مجھ سے دور ہو جائیگی۔ میَں کسی بُرائی سے آشنا نہ ہونگا۔
۵ جو در پردہ اپنے ہمسایہ کی غیبت کرے میَں اُسے ہلاک کر ڈالونگا۔ میَں بُلند نظر اور مغرور دِل کی برداشت نہ کرونگا۔
۶ مُلک کے ایمانداروں پر میری نگاہ ہو گی تاکہ وہ میرے ساتھ رہیں۔ جو کامل راہ پر چلتا ہے وہی میری خدمت کریگا۔
۷ دغا باز میرے گھر میں رہنے نہ پائے گا۔دروغگو کو میرے رُوبروُ قیام نہ ہو گا۔
۸ میَں ہر صُبح مُلک کے سب شریروں کو ہلاک کیا کرونگا تاکہ خُداوند کے شہر سے بدکاروں کا کاٹ ڈالوں۔