زبور ۲۲: مسیح اپنے دُکھوں اور جلال میں
۲۲: ۱۔۲ بڑی سنجیدگی سے اِس زبور کی طرف بڑھیں، کیونکہ یہ مقدس جگہ ہے۔ آپ گلگتا کے پاس آئے ہیں جہاں اچھے چرواہے نے اپنی بھیڑوں کے لئے جان دی ہے۔ تین گھنٹوں تک گہری تاریکی نے زمین کو چھپائے رکھا۔ اب تنہا عمانوایل کی فریاد اِس کائنات میں گونجتی ہے: ’’ اے میرے خدا! اے میرے خدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟‘‘
اِس دِل دوز سوال کے پس پشت ایک خوف ناک حقیقت پوشیدہ ہے — خدا نے۔ دُکھ اُٹھانے والے نجات دہندہ کو فی الحقیقت اور کلی طور پر چھوڑ دیا۔ ازلی بیٹا جو ہمیشہ باپ کی خوشی کا محور تھا، اب چھوڑا گیا۔ کامل انسان جس نے بڑی فرماں برداری سے خدا کی مرضی کو پورا کیا، باپ سے منقطع تعلقات کے خوف ناک غم کے تجربہ سے دوچار ہوا۔
خدا کے پاک اور بے عیب بیٹے نے تاریکی کے اُن تین طویل گھنٹوں میں ابدی جہنم کے خوف کا دُکھ کیوں برداشت کیا؟ کتابِ مقدس اِس کا جواب دیتی ہے: اوّل، خدا پاک ، راست باز اور عادل ہے اور اِس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ جہاں بھی ہو اس کی سزا دے گا۔ اُس سے چشم پوشی کرنا یا اُسے نظر انداز کرنا خدا کے لئے ناممکن ہے۔ اِس سے ہم دوسرے نکتے پر پہنچتے ہیں۔ گو مسیح نے خود کوئی گناہ نہیں کیا تھا، لیکن اُس نے ہمارے گناہ اپنے اوپر اُٹھا لئے۔ اُس نے رضاکارانہ طور پر ہماری بدکاریوں کی سزا برداشت کرنے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ جو قرض ہمیں دینا تھا، اُس کے حساب سے مِنہا کر لیا گیا اور اُس نے رضامندی سے ہماری ضمانت دی۔ لیکن اب خدا کیا کرے؟ اُس کی راست بازی کے تمام اوصاف کا یہ تقاضا ہے کہ گناہ کی سزا دی جائے۔ تاہم وہ یہاں نیچے نگاہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے کہ اُس کا اکلوتا بیٹا قربانی کا برہ بنا ہوا ہے۔ اُس کی محبت کا محور اُس کا بیٹا ہمارے گناہوں کو اُٹھاتا ہے۔ جب خدا دیکھتا ہے کہ ہمارے گناہ اُس کے پیارے بیٹے پر لدے ہوئے ہیں تو خدا کیا کرے گا؟
اِس میں کبھی کوئی ایسا شک نہیں تھا کہ خدا کیا کرے گا۔ اُس نے دانستہ طور پر اپنی راست بازی کے غضب کو اپنے پیارے بیٹے پر انڈیل دیا۔ قربانی کے اِس معصوم برہ پر الٰہی سزا کا خوف ناک طوفان ٹوٹ پڑا۔ ہماری خاطر خدا نے مسیح کو چھوڑ دیا تاکہ ہم کبھی نہ چھوڑے جائیں۔
یوں جب ہم مسیح کے شدید دُکھوں کے بارے میں پڑھتے ہیں تو ہمیں کلی طور پر یہ شعور ہونا چاہئے کہ یہ سب کچھ اُس نے ہماری خاطر برداشت کیا۔ ہمیں ہر ایک بیان کے ساتھ الفاظ ’’میرے لئے‘‘ کا اضافہ کر دینا چاہئے۔ اُسے ’’میرے لئے‘‘ چھوڑ دیا گیا۔ جب مَیں اُس کی یہ فریاد سنتا ہوں کہ ’’تُو میری مدد اور میرے نالہ و فریاد سے کیوں دُور رہتا ہے؟‘‘ تو مَیں جانتا ہوں کہ یہ ’’میرے لئے‘‘ تھا۔ اور یہ ’’میرے لئے‘‘ تھا کہ آسمان دن اور رات کو اُس کے لئے خاموش رہے۔
۲۲: ۳ ایک طرح سے نجات دہندہ نے اپنے چھوڑے جانے کے تجربہ کی اِن الفاظ میں وضاحت کی ’’لیکن تُو قدوس ہے، تُو جو اسرائیل کی حمد و ثنا پر تخت نشین ہے۔‘‘ خدا کی محبت کا تقاضا تھا کہ گناہ کی مزدوری کی ادائیگی کی جائے۔ اُس کی قدوسیت جس بات کا تقاضا کرتی تھی اُس کی محبت نے اُس تقاضے کو پورا کر دیا۔ اُس نے اپنے بیٹے کو بھیجا کہ وہ فدیہ کی موت مرے۔ اب سخت انصاف مزید تقاضا نہیں کر سکتا اور رحم اپنے ذخیرہ کو بانٹ سکتا ہے۔
۲۲: ۴،۵ لیکن ایک بار پھر سنئے۔ نجات دہندہ ابھی تک اپنے باپ سے گفتگو کر رہا ہے اور اُسے یاد دلاتا ہے کہ قدیم بزرگوں کو تو اُس نے نہ چھوڑا اور جب اُنہوں نے ایمان سے فریاد کی تو کبھی ایسا نہ ہوا کہ اُس نے اُنہیں جواب نہ دیا۔ جب اُنہوں نے مخلصی کے لئے فریاد کی تو اُس نے کبھی بھی اُنہیں مایوس نہ کیا۔ اُن کے گناہوں اور اُن کی سرکشی کے باوجود خدا نے کسی بھی موقع پر اُنہیں نہ چھوڑا۔ یہ سزا خدا کے بے عیب برہ کے لئے رکھی گئی تھی۔
۲۲: ۶،۷ نہ صرف یہ کہ خدا نے اُسے چھوڑ دیا بلکہ لوگوں نے بھی اُسے حقیر جانا اور رد کر دیا۔ جس مخلوق کو اُس نے بنایا، اُن کے لئے مسیح انسان نہیں بلکہ محض کیڑا تھا۔ جن لوگوں کو وہ نجات دینے کے لئے آیا تھا وہ اُن کی حقارت اور رد کرنے کی تلخی کو جانتا تھا۔ حتیٰ کہ جب مسیح صلیب پر لٹکا ہوا تھا تو تماشائی ہجوم، اُن سے ازل سے محبت کرنے والے کا مذاق اڑا رہا تھا۔ یہ امر ناقابلِ یقین لگتا ہے کہ اُنہوں نے طنزیہ گیت گایا جس میں اُنہوں نے اُس کی ظاہری بے بسی اور خدا پر اُس کے توکل کے بے اثر ہونے کا مذاق اڑایا۔
۲۲: ۸ ’’اپنے کو خداوند کے سپرد کر دے۔ وہی اُسے چھڑائے۔ جبکہ وہ اُس سے خوش ہے تو وہی اُسے چھڑائے۔‘‘ صلیب کے پاس مذاق اڑانے والے ہجوم نے بالکل یہی کہا (متی ۲۷: ۳۹،۴۳)۔
۲۲: ۹۔۱۱ لیکن اب ابن آدم انسان کے بجائے خدا سے مخاطب ہوتا اور بیت لحم کو یاد کرتا ہے۔ خدا ہی اُسے ماں کے پیٹ سے باہر لایا تھا۔ خدا نے ہی اُس کی شیرخواری کے ایام کی کمزوری میں اُسے محفوظ رکھا۔ خدا نے ہی اُسے لڑکپن اور جوانی کے دنوں میں سنبھالا۔ ماضی میں محبت کے تعلق کی بنا پر وہ خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ کچل ڈالنے والی اور تنہائی کی آزمائش میں اُس کے قریب آئے۔
۲۲: ۱۲،۱۳ کلوری کے پاس نفرت سے بھرے ہجوم میں اکثریت اسرائیلی لوگوں کی تھی۔ مسیح اُنہیں بسن کے زور آور سانڈوں اور پھاڑنے اور گرجنے والے شیروں سے تشبیہ دیتا ہے۔ یردن کے مشرق میں بسن کا علاقہ زرخیز چراگاہوں اور مضبوط اور پلے ہوئے جانوروں کے لئے مشہور تھا۔ بعد میں عاموس نے عیش پرست اسرائیلیوں کو بسن کی گائیوں سے تشبیہ دی (عاموس ۴:۱)۔ جب مسیح یہاں بسن کے سانڈوں کی بات کرتا ہے، تو وہ اپنے ہم وطنوں کی بات کرتا ہے جو اُس کو مار دینے کے لئے اُس کا گھیرا تنگ کر رہے تھے۔ وہ نہ صرف سینگ مار کر زخمی کرنے والے سانڈوں کی مانند تھے بلکہ وہ گرجنے اور پھاڑنے والے سانڈ تھے۔ اسرائیل کا مسیح آ چکا تھا اور وہ اُس پر ایسے جھپٹ رہے تھے جیسے شیر برہ پر جھپٹتے ہیں۔
۲۲: ۱۴،۱۵ مسیح کے جسمانی دُکھوں کی تکلیف بیان سے باہر تھی۔ وہ تھک چکا تھا، وہ پانی کی طرح بہہ چکا تھا۔ صلیب پر لٹکنے سے وہ ہڈیاں اُکھڑ جانے کی اذیت میں تھا۔ اُس کے اندرونی اعضا میں شدید پریشانی تھی۔ مثلاً اُس کا دل موم کی مانند اُس کے سینہ میں پگھل گیا۔ وہ ناقابل برداشت حد تک کمزور ہو چکا تھا۔ اُس کی قوت ٹھیکرے کی مانند خشک ہو چکی تھی۔ شدید پیاس سے اُس کا بُرا حال تھا۔ اُس کی زبان تالو سے چپک گئی۔ اِس کا تو یہی مطلب ہے کہ خدا اُسے موت کی خاک میں ملا دینا چاہتا تھا۔
۲۲: ۱۶،۱۷ جیسے اُس نے ایذا رساں یہودیوں کو سانڈوں اور شیروں سے تشبیہ دی، ویسے ہی وہ غیر قوم مصلوب کرنے والوں کو کتوں سے تشبیہ دیتا ہے۔ یہودی ، غیرقوموں کے لئے یہ عام نام استعمال کرتے تھے (متی ۱۵: ۲۱ ۔۲۸)۔ یہاں خصوصی طور پر رومی سپاہیوں کی طرف اشارہ ہے جو اُسے پھاڑنے والے پاگل کتوں کی طرح گھیرے ہوئے تھے۔ اُن بدکاروں نے اُس کے ہاتھ اور پاؤں چھیدے تھے۔ جب وہ اُس کے نیم برہنہ بدن کو دیکھ رہے تھے تو وہ اُس کی تنی ہوئی کھال میں اُبھری ہوئی ہڈیوں کو دیکھ سکتے تھے۔ اِس سے اُنہیں خوشی اور سکون ملتا تھا۔
۲۲: ۱۸ اِس زبور کی کئی عظیم نبوتوں میں سے ایک پیش گوئی یہ بھی تھی کہ وہ مسیح کے کپڑوں کو بانٹیں گے اور اُس کی پوشاک پر قرعہ ڈالیں گے۔ ملاحظہ فرمائیے کہ یہ کئی سو سال بعد وقوع پذیر ہوا۔
جب سپاہی یسوع کو مصلوب کر چکے تو اُس کے کپڑے لے کر چار حصے کئے۔ ہر سپاہی کے لئے ایک حصہ اور اُس کا کرتہ بھی لیا۔ یہ کرتہ بن سلا سراسر بُنا ہوا تھا اِس لئے اُنہوں نے آپس میں کہا کہ اِسے پھاڑیں نہیں بلکہ اِس پر قرعہ ڈالیں تاکہ معلوم ہو کہ کس کا نکلتا ہے (یوحنا ۱۹: ۲۳،۲۴)۔
۲۲: ۱۹۔۲۱ اِس زبور میں آخری بار نجات دہندہ خدا کی حضوری اور مدد کے لئے التجا کرتا ہے۔ وہ تلوار سے بچاؤ اور کتوں کے قابو سے مخلصی کے لئے درخواست کرتا ہے۔ دونوں حوالوں کا تعلق غیرقوموں سے ہے۔ تلوار رومی حکومت کا نشان ہے (رومیوں ۱۳:۴)۔ یہاں اِسے رومی حکومت کے سزائے موت کے اختیار کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ اوپر وضاحت کی گئی ہے، کتوں سے مراد غیرقوم سپاہی ہیں۔ پھر آیت ۲۱ میں مسیح التجا کرتا ہے کہ ببر کے منہ اور سانڈوں کے سینگوں سے چھڑایا جائے۔ جیسا کہ ہم نے آیات ۱۲ اور ۱۳ میں دیکھا، یہ یہودی لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے پیلاطس سے کہا، ’’ہم اہلِ شریعت ہیں اور شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے‘‘ (یوحنا ۱۹:۷)۔
’’ تُو نے … مجھے چھڑایا ہے‘‘ آیات ۲۱ اور ۲۲ کے درمیان ایک نمایاں اور فتح مند تبدیلی نظر آتی ہے۔ یہ الفاظ زبور کے دونوں حصوں کو ملاتے ہیں۔ شاعری اب درد ناک فریاد سے خوشی کے گیت کی طرف بڑھتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح کے دُکھ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکے ہیں۔ اُس کا نجات بخش کام پورا ہو چکا ہے۔ صلیب، تاج میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اب زبور نویس ہمیں مسیح کی پہلی آمد سے دوسری آمد اور کلوری سے کوہِ زیتون کی طرف لے جاتا ہے۔
۲۲: ۲۲ زبور میں اِس مقام پر مسیح زمین پر حکمرانی کے لئے واپس آ چکا ہے۔ اسرائیل کا وفادار بقیہ مسیح کی بادشاہت میں داخل ہو چکا ہے۔ اسرائیل کا مسیح اپنے یہودی بھائیوں کو گواہی دینے کے لئے تیار ہے کہ اُس نے زبور کے پہلے حصہ میں جو دعائیں کیں خدا نے وفاداری سے اُن کا جواب دیا۔ اب مسیح جماعت میں خدا کی ستائش کرتا ہے۔
۲۲: ۲۳،۲۴ اگلی دو آیات میں بتایا گیا ہے کہ مسیح نجات یافتہ اسرائیل کو اُس موقع پر کیا کہے گا۔ مسیح تین نام استعمال کرکے اُن سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: ’’خداوند سے ڈرنے والو‘‘، ’’اے یعقوب کی اولاد‘‘ اور ’’اے اسرائیل کی نسل‘‘۔ وہ اُنہیں نصیحت کرتا ہے کہ وہ اُس کی ستائش کریں، اُس کی تمجید کریں اور اُس کا ڈر مانیں۔ اِس رویہ کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اُن درد ناک فریادوں کا جو تاریک کلوری سے آسمان پر گئیں، جواب دے دیا ہے۔ خدا نے اپنے پیارے بیٹے کے دُکھوں سے نفرت نہیں کی اور نہ اُس نے دائمی طور پر اُس سے اپنا منہ چھپایا بلکہ ’’ خدا نے … اُسے بہت سربلند کیا اور اُسے وہ نام بخشا جو سب ناموں سے اعلیٰ ہے تاکہ یسوع کے نام پر ہر ایک گھٹنا جھکے، خواہ آسمانیوں کا ہو، خواہ زمینیوں کا، خواہ اُن کا جو زمین کے نیچے ہیں۔ اور خدا باپ کے جلال کے لئے ہر ایک زبان اقرار کرے کہ یسوع مسیح خداوند ہے‘‘ (فلپیوں ۲: ۹۔۱۱)۔
۲۲: ۲۵ مسیح کی ستائش کا محور خدا ہے۔ ’’بڑے مجمع میں میری ثنا خوانی کا باعث تُو ہی ہے۔‘‘ اپنے دُکھ کے عالم میں مسیح نے خداوند کی تعریف و ثنا خوانی کی اور علانیہ طور پر نذر گزراننے کا وعدہ کیا تھا اور اب وہ خداوند سے ڈرنے والوں کے سامنے یہ نذریں ادا کرے گا۔
۲۲: ۲۶ زبور کی آخری چھ آیات میں مقرر تبدیل ہوتا ہے۔اب روح القدس بولتا ہے اور ہزار سالہ دَور میں امن اور ترقی کے دوران مثالی حالات کا بیان کرتا ہے۔
اُس وقت غربت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ’’حلیم کھائیں گے اور سیر ہوں گے۔‘‘
زمین حمد و ستائش سے معمور ہو گی۔ ’’خداوند کے طالب اُس کی ستائش کریں گے۔‘‘ اِن تمام پرستاروں کو روح القدس برکت دیتا ہے: ’’تمہارا دل ابد تک زندہ رہے!‘‘
۲۲: ۲۷ عالم گیر سطح پر بیداری آئے گی۔ ساری دُنیا خداوند کو یاد کرے گی کہ مسیح نے کلوری پر کیا کیا اور اُس کی طرف رجوع لائے گی۔ قوموں کے سب گھرانے متحد ہو کر ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہوئے سجدہ کریں گے۔
۲۲: ۲۸،۲۹ خداوند خود عالم گیر سطح پر حکومت کرے گا۔ وہ تخت کا حق دار ہے اور وہ قوموں پر حکومت کرے گا۔ دُنیا کے عظیم لوگ اُس کی حکومت کے مطیع ہوں گے اور تمام فانی انسان اُس کے حضور جھکیں گے، یعنی وہ سب جو خاک میں مل جاتے ہیں اور جو اپنی جان کو جیتا نہیں رکھ سکتے۔
۲۲: ۳۰،۳۱ مسیح کی شہرت قائم رہے گی۔ ایک نسل کے بعد دوسری نسل اُس کی بندگی کرے گی اور اُس کی خوبیوں کو بیان کرے گی۔ ایک نسل سے دوسری نسل تک ایک خاص پیغام پہنچایا جائے گا: مسیح نے راستی سے مخلصی کے عظیم کام کو مکمل کیا۔ زبور ۲۲، صلیب پر چوتھے کلمہ یعنی کفارہ کی پکار سے شروع ہوتا ہے۔ اور یہ اِن الفاظ کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے کہ ’’اُس نے یہ کام کیا ہے‘‘ اور یہ بالکل مسیح کے صلیب پر ساتویں کلمہ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے: ’’تمام ہوا‘‘ (یوحنا ۱۹: ۳۰)۔ تمام صدیوں کے دوران یہ خوش خبری ایک نسل سے دوسری نسل تک بڑی شکرگزاری سے پہنچائی جائے گی کہ ’’مسیح نے یہ کام کیا ہے۔‘‘
مقدس کتاب
۱ اَے میرے خُدا! اَے خُدا! تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دِیا؟ تُو میری مدد اور میرے نالہ وفریاد سے کیوں دُور رہتا ہے؟
۲ اَے میرے خُدا! مَیں دِن کو پُکارتا ہوں پر تُو جواب نہیں دیتا اور رات کو بھی اور خاموش نہیں ہوتا۔
۳ لیکن تُو قدوس ہے۔ تُو جو اسرائیل کی حمدوثنا پر تخت نشین ہے۔
۴ ہمارے باپ دادا نے تجھ پر تُوکل کیا۔ اُنہوں نے تُوکل کیا اور تُو نے اُن کو چھُڑایا۔
۵ اُنہوں نے تجھ سے فریاد کی اور رہائی پائی۔ اُنہوں نے تجھ پر تُوکل کیا اور شرمندہ نہ ہوئے۔
۶ پر مَیں تو کیڑا ہوں۔ انسان نہیں۔ آدمیوں میں انگشت نُما ہوں اور لوگوں میں حقیر۔
۷ وہ سب جو مجھے دیکھتے ہیں میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں۔ وہ مُنہ چِڑاتے۔ وہ سر ہلا ہلا کرکہتے ہیں۔
۸ اپنے کو خُداوند کے سپُرد کردے۔ وہی اُسے چھُڑائے ۔ جبکہ وہ اُس سے خُوش ہے تُو وہی اُسے چھُڑائے۔
۹ پر تُو ہی مجھے پیٹ سے باہر لایا۔ جب مَیں شیر خوار ہی تھا تُو نے مجھے تُوکل کرنا سکھایا۔
۱۰ مَیں پیدائش ہی سے تجھ پر چھوڑا گیا۔ میری ماں کے پیٹ ہی سے تُو میرا خُدا ہے۔
۱۱ مجھ سے دُور نہ رہ کیونکہ مصیبت قریب ہے۔ اِس لئےکہ کوئی مددگار نہیں۔
۱۲ بہت سے سانڈوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ بسن کے زور آور سانڈ مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔
۱۳ وہ پھاڑنے اور گرجنے والے ببر کی طرح مجھ پر اپنا مُنہ پسارے ہوئے ہیں۔
۱۴ مَیں پانی کی طرح بہ گیا۔ میری سب ہڈیاں اُکھڑ گئیں میرا دِل موم کی مانند ہوگیا۔ وہ میرے سینہ میں پگھل گیا۔
۱۵ میری قُوت ٹھیکرے کی مانند خُشک ہوگئی اور میری زبان میرے تالُو سے چپک گئی اور تُو نے مجھے موت کی خاک میں مِلادیا ۔
۱۶ کیونکہ کُتوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ بدکاروں کی گُروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے۔ وہ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں چھیدتے ہیں۔
۱۷ میں اپنی سب ہڈیاں گِن سکتا ہوں۔ وہ مجھے تاکتے اور گُھورتے ہیں۔
۱۸ وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں اور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالتے ہیں۔
۱۹ لیکن تُو اَے خُداوند! دُور نہ رہ۔ اَے میرے چارہ ساز! میری مدد کے لئے جلدی کر۔
۲۰ میری جان کو تلوار سے بچا۔ میری جان کو کتُّے کے قابُو سے۔
۲۱ مجھے ببر کے مُنہ سے بچا۔ بلکہ تُو نے سانڈوں کے سینگوں میں سے مجھے چھُڑایا ہے۔
۲۲ مَیں اپنے بھائیوں سے تیرے نام کا اِظہار کُرونگا۔ جماعت میں تیری ستائش کُرونگا۔
۲۳ اَے خُداوند سے ڈرنے والو! اُس کی ستائش کرو۔ اَے یعقوب کی اَولاد ! سب اُس کی تمجید کرو اور اَے اسرائیل کی نسل! سب اُس کا ڈر مانو۔
۲۴ کیونکہ اُس نے نہ تو مصیبت زدہ کی مُصیبت کو حقیر جانا نہ اُس سے نفرت کی۔ نہ اُس سے اپنا مُنہ چھپایا۔ بلکہ جب اُس نے خُدا سے فریاد کی تو اُس نے سُن لی۔
۲۵ بڑے مجمع میں میری ثنا خوانی کا باعث تُو ہی ہے۔ میں اُس سے ڈرنے والوں کے رُوبُرو اپنی نذریں ادا کُرونگا ۔
۲۶ حلِیم کھائینگے اور سیر ہونگے۔ خُداوند کے طالب اُس کی ستائش کرینگے۔ تُمہارا دِل ابد تک زندہ رہے!
۲۷ ساری دُنیا خُداوند کو یاد کریگی اور اُس کی طرف رجوع لائیگی اور قوموں کے سب گھرانے تیرے حضُور سجدہ کرینگے۔
۲۸ کیونکہ سلطنت خُداوند کی ہے۔ وہی قوموں پر حاکم ہے۔
۲۹ دُنیا کے سب آسُودہ حال لوگ کھائینگے اور سجدہ کرینگے۔ وہ سب جو خاک میں مِل جاتے ہیں اُس کے حضُور جھکینگے ۔ بلکہ وہ بھی جو اپنی جان کو جیتا نہیں رکھ سکتا۔
۳۰ ایک نسل اُس کی بندگی کریگی۔ دُوسری پُشت کو خُداوند کی خبر دی جائیگی۔
۳۱ وہ آئینگے اور اُس کی صداقت کو ایک قوم پر جو پیدا ہوگی یہ کہکر ظاہر کرینگے کہ اُس نے یہ کام کِیا ہے۔