زبور ۱۲۶ : آنسوؤں سے بونا اور خوشی سے کاٹنا
۱۲۶:۱ جب اسیری میں یہودیوں کے پاس یہ فرمان پہنچا تو فارس کے شاہ خورس نے حکم دیا کہ اسیروں کو اُن کے ملک میں واپس جانے دیا جائے تو سب یہودی دم بخود رہ گئے۔ یہ اتنی پُرمسرت خبر تھی کہ یقین نہیں آرہا تھا۔ اسیری کے طویل سالوں میں اُن میں سے اکثر لوگ یہ سوچتے تھے کہ وہ غالباً پھر کبھی یروشلیم کو نہیں دیکھیں گے۔ لیکن بالآخر اُنہیں یہ خبر مل ہی گئی۔ جب وہ اپنا تھوڑا بہت مال اسباب سفر کے لئے اکٹھا کر رہے تھے، تو اُن کی حالت ایسے تھی جیسے کوئی نیند میں چل رہا ہو۔
۱۲۶: ۲ لوگ جذباتی کیفیت میں عام حالات سے زیادہ باتیں کر رہے تھے، کیونکہ ستر سالوں میں پہلی بار اُنہوں نے خوشی کی کوئی خبر سنی تھی۔ واقعی یہ اُن کے لئے شادمانی کی خبر تھی۔ اب اپنے گھر واپس جانے کا وقت آ گیا تھا۔ تیاریاں کرتے وقت وہ قہقہے لگاتے اور گیت گاتے رہے۔ یہ کیفیت اُن کے لئے بالکل نئی تھی۔
۱۲۶: ۳ یہ غیر یہودی ہمسائیوں کے لئے بہت بڑی گواہی تھی۔ وہ محسوس کر رہے تھے کہ جو کچھ یہودیوں کے لئے ہوا اُس کی فطری طور پر تشریح نہیں کی جا سکتی۔ اُنہوں نے تسلیم کیا کہ عبرانی لوگوں کے خدا نے معجزانہ طور پر اُن کے لئے کام کیا ہے۔ بنی اسرائیل زمین کی سب قوموں سے بڑھ کر خدا کی محبت اور نگہبانی کا محور تھے۔
شکر گزار اسیر خوشی سے غیر قوموں سے متفق تھے کہ اُن کی مخلصی صرف اور صرف خداوند کی طرف سے ہے۔
’’خداوند نے ہمارے لئے بڑے بڑے کام کئے ہیں اور ہم شادمان ہیں۔‘‘
۱۲۶: ۴ لیکن جب یہ بدحال بقیہ اپنے ملک میں واپس جا رہا تھا تو اُن کے پاس اپنے تن کے کپڑوں کے علاوہ بہت کم تھا۔ اُنہیں افرادی قوت، مالیات اور تحفظ کی ضرورت تھی۔ لہٰذا اُن کی دعا یہ تھی:
’’اے خداوند جنوب کی ندیوں کی طرح ہمارے اسیروں کو واپس لا۔‘‘
جنوب میں صحرا تھا۔ یہ بالکل سنسان اور بنجر تھا۔ لیکن شدید بارش کے بعد خشک ندیاں پانی سے لبریز ہو جاتیں اور بیابان میں ہر طرف سبزہ نظر آنے لگتا تھا۔ چنانچہ واپس آنے والے جلا وطن دعا کرتے ہیں کہ یہ تھوڑے سے لوگ بہت بڑی بھیڑ بن جائے، یعنی آخر کار تمام بارہ قبیلے واپس لائے جائیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ خداوند از سر نو تعمیر اور بحالی کے لئے وسائل مہیا کرے۔ وہ ضرورت کی باقی ہر ایک چیز کے لئے التجا کرتے ہیں جو اُنہیں ملک میں خوش حال بنائے۔
۱۲۶: ۵، ۶ خصوصی طور پر واپسی کے بعد اُن کا پہلا سال مشکل تھا۔ کوئی ایسی فصل نہیں تھی جس کی کٹائی کی جا سکتی۔ اُنہیں از سرِ نو فصلیں بو کر فصل کی کٹائی کا انتظار کرنا تھا۔ اُنہیں یہ دَور بڑی سادگی سے گزارنا تھا اور خوراک کے محدود وسائل کو ممکنہ طور پر کفایت شعاری سے استعمال کرنا تھا۔
پہلی فصل کے لئے بیج بوتے وقت وہ غم اور پریشانی کا شکار ہیں۔ کسانوں کے کھتے میں پہلے سے اناج کی کمی ہے۔ یا تو وہ اُسے اب اپنے خاندان کی خوراک کے لئے استعمال کریں یا پھر اُس میں سے زیادہ تر کو اِس اُمید سے بو دیں کہ اُنہیں آنے والے دنوں میں کافی فصل حاصل ہو گی۔ وہ بونے کا فیصلہ کرتے ہیں، لیکن جب وہ اپنی چادر میں سے مٹھی بھر کر بیج تیار شدہ زمین میں بکھیرتے ہیں تو اُن کے آنسو اُن کی چادر پر گرتے ہیں۔ وہ اپنے بچوں اور بیوی کے بارے میں سوچتے ہیں کہ اُنہیں کھانے کے لئے بہت کم ملے گا اور فصل کٹائی تک اُنہیں کس حد تک صبر اور ایثار سے رہنا ہو گا۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ گویا وہ اُن کے منہ سے نوالے چھین رہے ہیں۔
لیکن واپس آنے والے جلاوطنوں کو خوشی کی بات بتائی جاتی ہے:
’’جو آنسوؤں کے ساتھ بوتے ہیں وہ خوشی کے ساتھ کاٹیں گے۔ جو روتا ہوا بیج بونے جاتا ہے وہ اپنے پُولے لئے ہوئے شادمان لوٹے گا۔‘‘
چنانچہ وہ جا کر بیج بوتے ہیں۔ اُن کا موجودہ دُکھ اُس وقت خوشی میں بدل جائے گا جب وہ پکی ہوئی فصل کے پولے اپنے کھتوں میں لائیں گے۔
اِس اصول کا اطلاق روحانی عمل داری پر بھی ہوتا ہے۔ شاید انجیل کی بشارت کے لئے قربانیاں دینی پڑیں اور مصیبتیں برداشت کرنی پڑیں۔ لیکن یہ اُس خوشی کے مقابلے میں کوئی وقعت نہیں رکھتیں جو ہم اُس وقت محسوس کریں گے جب دیکھیں گے کہ لوگوں نے نجات پائی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے آسمان پر خدا کے برہ کی ستائش کریں گے۔
کسی نے بڑی خوبصورت بات کی ہے ’’جنہوں نے روحوں کو مسیح کے لئے جیت لیا ہے اُنہوں نے پہلے روحوں کے لئے آنسو بہائے ہیں۔‘‘
مقدس کتاب
۱ جب خُداوند صیِوُؔن کے اسیروں کو واپس لایا تو ہم خواب دیکھنے والے کی مانند تھے۔
۲ اُس وقت ہمارے مُنہ میں ہنسی اور ہماری زُبان پر راگنی تھی۔تب قوموں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ خُداوند نے اُنکے لئے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔
۳ خُداوند نے ہمارے لئے بڑے بڑے کام کئے ہیں۔ اور ہم شادمان ہیں۔
۴ اَے خُداوند! جنُوب کی ندیوں کی طرح ہمارے اسیروں کو وآپس لا۔
۵ جو آنسوُؤں کے ساتھ بوتے ہیں وہ خُوشی کے ساتھ کاٹینگے۔
۶ جو روتا ہُؤا بیج بونے جاتا ہے وہ اپنے پولے لئے ہُوئے شادمان لُوٹیگا۔