زبُور ۳۶

زبور ۳۶:‏ آسمان تک خدا کی شفقت

۳۶:‏ ۱۔۴ داؤد کے دل میں جو خیال ہے وہ شریر کی بدی کی واضح تصویر کو پیش کرتا ہے۔ گناہ گار کے دل میں اگر خدا کا خوف ہو بھی تو وہ اُسے ترک کر دیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو اِس خیال سے تسلی دیتا ہے کہ اُس کے جرائم نہ تو ثابت ہوں گے اور نہ اُن کی سزا ہی ملے گی۔ اُس کی باتیں بدی اور فریب سے بھری ہوتی ہیں۔ وہ معزز اور قانون کا احترام کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔ اُس وقت جب اُسے سونا چاہئے‏، وہ شرارت کے نئے منصوبے بناتا رہتا ہے اور ارادتاً بُری راہ پر چلتا ہے۔ وہ بڑی خوشی سے بدی کے خیال کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔

۳۶:‏ ۵ ایسے گناہ گار کے بگاڑ کے مقابلے میں خدا کی وفاداری اَور نمایاں ہو جاتی ہے۔ مثلاً اُس کی شفقت آسمان تک بلند ہے۔ بارنز لکھتا ہے:‏

یہ بہت زیادہ بلند ہے‏، آسمانوں تک‏، اِس قدر بلند جس حد تک انسان تصور کر سکے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کی شفقت کا اظہار آسمان پر ہوتا ہے… اور نہ یہ کہ اِس کا منبع ہی آسمان ہے (‏گو یہ دُرست ہے)‏ بلکہ یہ کہ یہ بہت ہی بلند ہے‏، اِس قدر بلند جہاں تک انسان کی نگاہ جا سکے۔

خدا کی وفاداری افلاک تک بلند ہے‏، یعنی یہ لامحدود ہے۔ اے۔ ڈبلیو۔ پنک لکھتا ہے :‏

یہ کس قدر خوب صورت الفاظ ہیں ’’تیری وفاداری افلاک تک بلند ہے۔‘‘ خدا کی لاتبدیل وفاداری ناقابلِ فہم تصور ہے۔ خدا کے متعلق ہر شے عظیم‏، وسیع اور لاثانی ہے۔ وہ کبھی بھولتا نہیں‏، کبھی ناکام نہیں ہوتا‏، کبھی پس و پیش نہیں کرتا‏، کبھی اپنے وعدہ سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ خداوند اپنے ہر ایک وعدہ اور پیش گوئی پر قائم رہتا ہے‏، ہر ایک دھمکی اور عہد کی ہر ایک بات پر وہ پورا اُترتا ہے کیونکہ ’’خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے اور نہ وہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلے۔ کیا جو کچھ اُس نے کہا اُسے نہ کرے؟ یا جو فرمایا ہے اُسے پورا نہ کرے؟‘‘ (‏گنتی ۲۳:‏ ۱۹)‏۔ چنانچہ ایماندار خوشی سے پکار اُٹھتا ہے‏، ’’یہ خداوند کی شفقت ہے کہ ہم فنا نہیں ہوئے کیونکہ اُس کی رحمت لازوال ہے۔ وہ ہر صبح تازہ ہے۔ تیری وفاداری عظیم ہے‘‘ (‏نوحہ ۳:‏ ۲۲‏،۲۳)‏۔

۳۶:‏ ۶ خدا کی صداقت اُس کے بنائے ہوئے پہاڑوں کی مانند مضبوط‏، قائم‏، غیر متزلزل اور مکمل طور پر قابل بھروسا ہے۔ اُس پر ہمیشہ بھروسا کیا جا سکتا ہے کہ وہ وہی کام کرے گا جو راست اور دُرست ہے۔ اِس کا صلیب پر کامل طور پر اظہار کیا گیا۔ خدا کی صداقت کا تقاضا ہے کہ گناہ کی سزا دی جائے۔اگر ہمیں ہمارے گناہوں کی سزا دی جاتی تو ہم ابدی طور پر برباد ہو جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کے مبارک بیٹے نے ہمارے گناہوں کو اپنے اوپر اُٹھا لیا۔ خدا کی صداقت اِس حد تک غیر لچک دار ہے کہ جب اُس نے ہمارے گناہوں کو اپنے بے گناہ بیٹے پر دیکھا‏، تو اُس نے اُسے پوری سزا دی۔ اب خدا کے پاس ایک راست بنیاد ہے جس کی بنا پر وہ بے دین گناہ گاروں کو بچا سکتا ہے۔ مسیح کے فدیہ کے وسیلہ سے سزا دی جا چکی ہے۔ 

خدا کے احکام بہت بڑی گہرائیوں کی مانند ہیں۔ اِس کا مطلب ہے کہ اُس کے احکام‏، فیصلے‏، خیالات اور منصوبے بہت گہرے‏، پیچیدہ اور باحکمت ہیں۔ خدا کی اِس صفت پر غور کرتے ہوئے پولس رسول پکار اُٹھا :‏ ’’واہ! خدا کی دولت اور حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے! اُس کے فیصلے کس قدر اِدراک سے پرے اور اُس کی راہیں کیا ہی بے نشان ہیں‘‘ (‏رومیوں ۱۱:‏۳۳)‏۔

’’اے خداوند! تُو انسان اور حیوان دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔‘‘ یہاں دنیوی نجات کا ذکر کیا گیا ہے— یعنی کہ خدا کی پروردگاری اپنی مخلوق کو محفوظ رکھتی ہے۔ یہ کس قدر بڑی رحمت ہے! ذرا غور فرمایئے کہ اِتنے زیادہ انسانوں‏، جانوروں‏، پرندوں اور مچھلیوں کی نگہداشت کتنا بڑا کام ہے۔ جہاں تک انسان کا تعلق ہے‏، خدا نے اُس کے سر کے تمام بال گنے ہوئے ہیں‏، بلکہ کوئی چڑیا بھی آسمانی باپ کی مرضی کے بغیر زمین پر نہیں گرتی۔ 

۳۶:‏۷ انسانی زندگی میں خدا کی شفقت سے بڑھ کر اَور کوئی شے قیمتی نہیں ہے۔یہ ابدی‏، مطلق العنان‏، لامحدود اور لا تبدیل ہے اور کوئی شے بھی اِس سے خدا کے فرزند کو جدا نہیں کر سکتی۔ ۱۷۴۳ء میں جان برائن نے لکھا:‏ 

کوئی زبان خدا کی محبت کی وسعت کو پورے طور پر بیان نہیں کر سکتی یا کوئی ذہن بھی اِسے سمجھ نہیں سکتا۔ یہ ’’جاننے سے باہرہے‘‘ (‏افسیوں ۳:‏۱۹)‏۔ الٰہی محبت کے بارے میں ایک محدود ذہن کے وسیع ترین خیالات‏، لامحدود طور پر اِس کی حقیقی ماہیت سے کمتر ہیں۔ آسمان زمین سے اِس قدر بلند نہیں جس قدر خدا کی شفقت‏، انسان کے بلند ترین خیالات سے بعید ہے۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے جو تمام پہاڑوں سے بلند ہوتا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا چشمہ ہے جس میں سے اُن سب کے لئے جو اِس میں دلچسپی رکھتے ہیں تمام ضروری شفقت بہتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بنی آدم اُس کے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔ افسوس کہ تمام لوگ خدا کے پُرمحبت تحفظ سے لطف اندوز نہیں ہونا چاہتے۔ لیکن یہ سہولت توسب کے لئے ہے اور بے شمار لوگوں نے اُن بے مثال بازوؤں کے نیچے سکون‏، تازگی اور تحفظ حاصل کیا ہے۔

۳۶:‏ ۸ وہاں نہ صرف تحفظ ہے بلکہ کثرت سے نعمتیں بھی ہیں۔ ’’وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خوب آسودہ ہوں گے۔ تُو اُن کو اپنی خوشنودی کے دریا میں سے پلائے گا۔‘‘ خدا کے گھر کے کھانے کے مزے اور کثرت کا کون سا کھانا مقابلہ کر سکتا ہے؟ اور اِس کے مقابلے میں کیسی خوشنودی حاصل ہو سکتی ہے؟ جیسا کہ ایف۔بی۔ مائر نے نشاندہی کی کہ خدا غم تو پیالوں کے حساب سے‏، لیکن خوشی دریاؤں کے حساب سے دیتا ہے۔

۳۶:‏ ۹ مسیح زندگی کا چشمہ یا منبع ہے۔ ’’اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی‘‘ (‏یوحنا ۱:‏۴)‏۔ اُس کے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھتے ہیں۔ جیسے فطری روشنی چیزوں کو اُن کے اصلی روپ میں بے نقاب کر دیتی ہے‏، بعینہٖ خدا کا نور ہمیں توفیق دیتا ہے کہ چیزوں کو ویسے دیکھیں جیسے وہ دیکھتا ہے۔ یہ ہمیں اِس قابل بناتا ہے کہ ہم روحانی حقیقتوں‏، دُنیا‏، دوسروں اور اپنے آپ کے بارے میں صحیح اندازہ لگا سکیں۔

مناظر کی تصویر کشی کرنے والے مصور کرات نے ایک دفعہ کہا ’’ جب مَیں قدرت کے کسی خوبصورت منظر میں موجود ہوتا ہوں تو مَیں اپنی تصویروں سے خفا ہو جاتا ہوں۔‘‘ فنکار قدرت کے جلال کے منظر میں خاکسار بن جاتا ہے۔ دُنیا کی روشنی میں اپنے آپ کو جانچتے ہوئے شاید ہم مطمئن ہو سکتے ہیں‏، لیکن خداوند کی روشنی میں اپنے آپ کو جانچنے اور اِلٰہی معیار کے مطابق ناپنے سے ہمارا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔

۳۶:‏ ۱۰‏، ۱۱ خدا کے کمالات کی چوٹیوں پر چڑھنے کے بعد یسی کا بیٹا انسانی ضرورت کی وادی میں واپس اُتر آتا ہے اور شریر سے تحفظ کے لئے مسلسل دعا کرتا ہے۔ آیت ۱۱‏، آیت ۱۰ کی وضاحت کرتی ہے۔ داؤد التجا کرتا ہے کہ خدا اپنی شفقت کو متواتر جاری رکھے اور اِس شفقت کا اظہار یہ ہو کہ مغرور آدمی کو اُس پر لات اُٹھانے اور شریر کے ہاتھ کو اُسے ہانکنے سے باز رکھے۔ 

۳۶:‏ ۱۲ اُس کی دعا کا جواب مل چکا ہے۔ ایمان زبور نویس کو توفیق دیتا ہے کہ اُس نے بدکرداروں کو گرے ہوئے اور کمزوروں کو پھر اُٹھتے ہوئے دیکھا۔

مقدس کتاب

۱ شریر کی بدی سے میرے دِل میں خیال آتا ہےکہ خُدا کا خوف اُس کے پیش نظر نہیں۔
۲ کیونکہ وہ اپنے آپ کو اپنی نظر میں اِس خیال سے تسلی دیتا ہے کہ اُس کی بدی نہ تو فاش ہوگی نہ مکروہ سمجھی جائیگی۔
۳ اُس کے مُنہ میں بدی اور فریب کی باتیں ہیں۔ وہ دانش اور نیکی سے دست بردار ہوگیا ہے۔
۴ وہ اپنے بستر پر بدی کے منصوبے باندھتا ہے۔ وہ ایسی راہ اختیار کرتا ہے جو اچھی نہیں وہ بدی سے نفرت نہیں کرتا۔
۵ اَے خُداوند! آسمان میں تیری شفقت ہے۔ تیری وفاداری افلاک تک بلند ہے۔
۶ تیری صداقت خُدا کے پہاڑوں کی مانند ہے تیرے احکام نہایت عمیق ہیں۔ اَے خُداوند! تُو انسان اور حیوان دونوں کو محفوظ رکھتا ہے۔
۷ اَے خُدا! تیرے شفقت کیا ہی بیش قیمت ہے بنی آدم تیرے بازوؤں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں۔
۸ وہ تیرے گھر کی نعمتوں سے خوب آسودہ ہونگے۔ تُو اُن کی اپنی خوشنودی کے دریا میں سے پلائیگا۔
۹ کیونکہ زندگی کا چشمہ تیرے پاس ہے۔ تیرے نور کی بدولت ہم روشنی دیکھینگے۔
۱۰ تیرے پہچاننے والوں پر تیری شفقت دائمی ہو اور راست دلوں پر تیری صداقت۔
۱۱ مغرور آدمی مجھ پر لات نہ اُٹھانے پائے اور شریر کا ہاتھ مجھے ہانک نہ دے۔
۱۲ بدکردار وہاں گرے پڑے ہیں۔ وہ گرا دِئے گئے ہیں اور پھر اُٹھ نہ سکینگے۔