زبور ۱۳: کب تک؟
الفاظ ’’کب تک؟‘‘ چار بار زبور نویس کی زبان پر آتے ہیں۔ دشمن (شاید ساؤل) اُس کا تندی سے پیچھا کر رہا ہے اور داؤد سوچ رہا ہے کہ خدا کے رتھوں کے آنے میں کیوں دیر ہو رہی ہے۔ کیا اُس کو پریشان کرنے والی چار مصیبتوں سے آزاد کرنے کے لئے کبھی مدد نہیں آئے گی؟
- اُس نے محسوس کیا کہ گویا خدا اُسے بھول چکا ہے۔
- اُس نے سوچا کہ وہ خدا کی حمایت سے کاٹ ڈالا گیا ہے۔
- وہ ہر روز اپنی روح میں بہت زیادہ افسردگی و پریشانی کے تجربہ میںسے گزر رہا ہے۔
- وہ مسلسل ہارتے ہوئے ذلت کا سامنا کر رہا ہے۔
۱۳: ۱۔۴ ضرور ہے کہ خدا داؤد کی قابل رحم حالت پر نگاہ ڈالے اور فوری طور پر اُس کے لئے مدد بھیجے تاکہ اُس پر سے دو مصیبتیں ٹل جائیں۔ پہلی مصیبت تو داؤد کی موت ہے اور دوسری مصیبت یہ تھی کہ اُس کے دشمن گھمنڈ سے خوشی منائیں گے۔ اگر خداوند داؤد کی آنکھوں میں چمک بحال نہیں کرتا تو وہ جلد ہی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے موت سے بند ہو جائیں گی۔ اگر یہوواہ اُسے فتح نہیں بخشتا تو دشمن بہت جلد فخر کرنا شروع کر دیں گے کہ وہ جیت گئے ہیں اور کہ داؤد کو کلی طور پر شکست ہو چکی ہے۔
۱۳: ۵،۶ اب نتائج کے سلسلے میں کوئی شک نہیں ہے۔ زبور نویس کا ایمان ہے کہ جواب آ رہا ہے۔ خداوند کی رحمت پر توکل کرتے ہوئے وہ جانتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں سے مخلصی پانے کا جشن منانے کے لئے زندہ رہے گا۔ متوقع نجات کے لئے وہ خداوند کی بے بیان مہربانیوں کے لئے اُس کی حمد کا گیت گا سکتا ہے۔
یہ زبور خداوند کی طرف سے بھیجی ہوئی ہماری اکثر آزمائشوں کی طرح ہے۔ یہ آہ سے شروع ہوتا ہے اور گیت سے اختتام پذیر ہوتا ہے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند کب تک؟ کیا تُو ہمیشہ مجھے بھولا رہیگا؟ تُو کب تک اپنا چہرہ مجھ سے چھپائے رکھے گا؟
۲ کب تک میں جی ہی جی میں منصُوبہ باندھتا رہوں اور سارے دِن اپنے دِل میں غم کیا کروں؟ کب تک میرا دُشمن مجھ پر سر بلند رہیگا؟
۳ اَے خُداوند میرے خُدا! میری طرف توجہ کر اور مجھے جواب دے۔ میری آنکھیں روشن کر۔ ایسانہ ہو کہ مجھے موت کی نیند آجائے۔
۴ ایسا نہ ہو کہ میرا دُشمن کہے کہ میں اِس پر غالب آگیا۔ نہ ہو کہ جب میں جُنبش کھاؤں تو میرے مخالف خُوش ہوں۔
۵ لیکن میں نے تو تیری رحمت پر توکل کیا ہے۔ میرا دِل تیری نجات سے خُوش ہوگا۔
۶ میں خُداوند کا گیت گاؤنگا کیونکہ اُس نے مجھ پر احسان کیا ہے۔