زبور ۱۳۷ : اے یروشلیم ! اگر مَیں تجھے بھولوں
اپریل ۱۹۴۸ء میں یروشلیم میں یہودیوں کا علاقہ محاصرہ میں تھا۔ خوراک تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ایک دن یہ خبرعام ہو گئی کہ تل ابیب سے خوراک سے بھرے ہوئے ٹرک پہنچ رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگ ٹرکوں کو خوش آمدید کہنے کے لئے باہر نکلے۔ جب ٹرکوں پر اُن کی نگاہ پڑی تو کیا دیکھتے ہیں کہ سب سے اگلے ٹرک کے سامنے رنگ کے ساتھ کسی نے یہ لکھا ہوا تھا:
’’اے یروشلیم ! اگر مَیں تجھے بھولوں…‘‘
چنانچہ زبور ۱۳۷:۵ کے الفاظ یہودیوں کے لئے اُن کی اسیری اور پراگندگی کی ہنگامہ خیز تاریخ میں جدوجہد کا نعرہ بن گیا۔
۱۳۷: ۱ یہ زبور بابلی اسیری سے واپس آنے کے بعد لکھا گیا جس میں صیون سے جلاوطنی کی تلخ یادوں کو بیان کیا گیا ہے۔
اپنے فارغ وقت میں (شاید سبت کے روز) وہ دعا کے لئے بابل کی ندیوں کے پاس فراہم ہوتے۔ بے شمار یادوں سے اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے۔ وہ صیون کو یاد کرتے۔ اُن کے لئے یہ ساری دنیا کا روحانی مرکز تھا اور اُن کی زندگیوں کا مرکز بھی تھا۔ اُنہیں عظیم مقدس اجتماعات کے دوران روحانی خوشی یاد آتی۔ لیکن اب وہ وہاں عبادت کے لئے نہیں جا سکتے تھے کیونکہ مقدس مقامات اب نامختون غیر قوموں کے ناپاک ہاتھوں میں تھے۔ جب وہ بابل کی ندیوں کو دیکھتے تو اُنہیں اپنے آنسوؤں اور دُکھوں کی ندیوں کی تصویر نظر آتی، جیسا کہ یرمیاہ نے دعا کی، ’’میری دُخترِ قوم کی تباہی کے باعث میری آنکھوں سے آنسوؤں کی نہریں جاری ہیں‘‘ (نوحہ ۳: ۴۸)
۔ ’’کاش کہ میرا سر پانی ہوتا اور میری آنکھیں آنسوؤں کا چشمہ تاکہ مَیں اپنی بنتِ قوم کے مقتولوں پر شب و روز ماتم کرتا‘‘ (یرمیاہ ۹:۱)۔
۱۳۷: ۲ اُنہوں نے اپنی ستاروں کو بید کے درختوں پر ٹانگ دیا یا ہم دورِ حاضر کی زبان میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ اُنہوں نے اُنہیں الماری میں رکھ دیا کیونکہ موسیقی کے سازوں کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ انسانی نقطہ نظر سے وہ کس بات کے لئے گائیں! چونکہ گانے کے لئے گیت کوئی نہیں تھا، اِس لئے سازوں کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
۱۳۷: ۳ اکثر ایسا ہوا کہ بابلی فاتحین نے اُنہیں کوئی عبرانی لوک گیت سنانے کے لئے کہا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے وہ اُن کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہوں۔ وہ کہتے ’’ہمیں کوئی خوشی کا گیت سناؤ جو تم اپنے وطن میں گایا کرتے تھے۔‘‘
۱۳۷: ۴ یہ کس طرح ہو سکتا تھا! یہودی کبھی بھی ایسا گیت گانے کے لئے تیار نہ تھے۔ اِس لئے کہ اُن کے دل ٹوٹے ہوئے تھے ، اور اِس لئے بھی کہ بت پرست بے دینوں کے ملک میں خدا کا گیت گانا بالکل بے محل ہوتا۔ یہ تو یروشلیم کو بھولنے کے مترادف تھا۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ خداوند کی باتوں کو دُنیا کی باتوں کے ساتھ ملانا اخلاقی طور پر نامناسب ہے۔ ایف۔بی۔مائر نے لکھا، ’’اجنبیوں کا ملک اور خدا کا گیت یکجا نہیں ہو سکتے۔‘‘
۱۳۷: ۵، ۶ اب زبور نویس اپنے ملک میں واپس آ چکا ہے اور وہ اپنے لوگوں کے عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ یروشلیم اُن کی زندگی کا محور ہو گا۔ ہمیں یہاں یاد رکھنا چاہئے کہ یروشلیم خداوند کی علامت ہے جس نے وہاں سکونت کی۔ اگر کوئی ایسا وقت آ جائے کہ وہ صیون سے اپنی جبلی وابستگی کو چھوڑ دے تو اُس کی سزا یہ ہو کہ اُس کا دہنا ہاتھ سوکھ جائے اور وہ پھر کبھی ستار کے تاروں کو نہ چھیڑ سکے۔ ہاں اگر کبھی ایسا ہو کہ وہ اپنے دل میں یروشلیم کو ترجیح نہ دے تو اُس کی زبان اُس کے تالو سے چپک جائے تاکہ وہ آئندہ صیون کے قدیم اور سریلے گیتوں کو نہ گا سکے۔
۱۳۷: ۷ اپنے آپ پر مشروط لعنتوں کے بعد وہ اُن لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جن کا مقدس شہر کی بربادی میں ہاتھ تھا۔
مثال کے طور پر بنی ادوم کو لیجئے۔ اُنہوں نے ایک اتحاد قائم کیا اور حملہ آوروں سے کہا کہ اِسے مکمل طور پر برباد کر دیں۔ وہ للکار کر کہتے تھے کہ ’’اِسے ڈھا دو۔ اِسے بنیاد تک ڈھا دو۔‘‘ خداوند شہر کی بربادی کے لئے اُن کی وحشی اور ظالمانہ خواہش کو یاد کرے۔
۱۳۷ : ۸ اِس کے علاوہ بابل نے بھی بڑے وحشیانہ انداز میں تباہی کی۔ گویہ قوم خدا کے ہاتھ میں اُس کی قوم کو سزا دینے کی آلۂ کار بنی تاہم اُس نے بابلیوں کے بے رحم ظلم کو معاف نہ کیا۔
’’ مَیں اپنے لوگوں پر غضب ناک ہوا۔ مَیں نے اپنی میراث کو ناپاک کیا اور اُن کو تیرے ہاتھ میں سونپ دیا۔ تُو نے اُن پر رحم نہ کیا۔ تُو نے بوڑھوں پر بھی اپنا بھاری جوا رکھا‘‘ (یسعیاہ ۴۷:۶)۔
’’ مَیں اُن قوموں سے جو آرام میں ہیں نہایت ناراض ہوں کیونکہ جب مَیں تھوڑا ناراض تھا تو اُنہوں نے اُس آفت کو بہت زیادہ کر دیا۔‘‘(زکریاہ ۱:۱۵)
زبور نویس کے ذہن میں بابل کی تباہی یقینی تھی۔ انبیا نے اِس کی پیش گوئی کر دی تھی (یسعیاہ ۱۳: ۱۔۲۲، یرمیاہ ۵۰: ۱۵ ،۲۸ ، ۵۱:۶،۳۶)۔ جو اُس کی تباہی کریں گے، اُنہیں یہ تسلی ہو گی کہ وہ خدا کی عدالت کا آلہ کار ہیں۔
۱۳۷: ۹ زبور کی آخری آیت پیچیدہ ہے۔
’’وہ مبارک ہو گا جو تیرے بچوں کو لے کر چٹان پر پٹک دے۔‘‘
جو لوگ عہد جدید کی عدم تشدد کی تعلیم کے ماحول میں پلے ہیں، یہ آیت اُن کے لئے نہایت سخت انتقامی اور محبت سے خالی نظر آتی ہے۔ بے چارے معصوم اور بے کس بچوں سے کیوں اِس قدر غیر انسانی سلوک کیا جائے؟
اِس سوال کے جواب میں ہم درج ذیل وضاحت پیش کریں گے۔
اوّل : یہ آیت خدا کا کلام ہے جو لفظی اور کلی طور پر الہامی ہے۔ چنانچہ اگر کوئی مشکل ہے تو وہ خدا کے کلام میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے۔
دوم: بابل کے بچوں کی تباہی کے بارے میں یسعیاہ نے یہ پیش گوئی کی تھی:
’’اُن کے بال بچے اُن کی آنکھوں کے سامنے پارہ پارہ ہوں گے۔اُن کے گھر لوٹے جائیں گے اور اُن کی عورتوں کی بے حرمتی ہو گی۔‘‘ (یسعیاہ ۱۳: ۱۶)
چنانچہ زبور نویس صرف وہی بات کر رہا ہے جو خدا نے پہلے کہہ دی ہے (سوائے اِس حصے کے کہ وہ مبارک ہو گا جو خدا کی طرف سے سزا دے گا)۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کبھی کبھی چھوٹے بچوں کو بھی اپنے والدین کے گناہ کے نتائج بھگتنے پڑتے ہیں (دیکھیں خروج ۲۰: ۵، ۳۴:۷ ، گنتی ۱۴:۱۸ ، استثنا ۵:۹)۔ کوئی بھی شخص دوسروں سے علیٰحدہ و تنہا زندگی نہیں گزارتا۔ جو کچھ وہ اچھا یا بُرا کرتا ہے، اِس سے دوسرے لوگ بھی متاثر ہوتے ہیں۔ گناہ کی تلخی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جب اِس کا ارتکاب کیا جاتا ہے تو اِس کی المناک سزا میں دیگر لوگ بھی شامل ہو جاتے ہیں۔
بد دعا والے اِن پیروں میں ہم اِس حقیقت سے دو چار ہوتے رہتے ہیں کہ ایسا رویہ یا سلوک جو موسیٰ کی شریعت کے تحت زندگی گزارنے والے کے لئے موزوں تھا، فضل کے تحت رہنے والے مسیحی کے لئے موزوں نہیں ہے۔ خداوند یسوع نے پہاڑی وعظ میں اِس ناتے سے بہت کچھ کہا (دیکھیں متی ۵: ۲۱۔۴۸)۔
آپ اِس آیت کی تفسیر خواہ کسی طرح بھی کریں، اِس کا روحانی اطلاق بالکل واضح ہے۔ ہمیں اپنی زندگیوں میں چھوٹے گناہوں سے بھی سختی سے نپٹنا چاہئے۔ ہمیں اُنہیں برباد کر دینا چاہئے ورنہ وہ ہمیں برباد کر دیں گے۔اِس سلسلے میں سی۔ ایس۔ لوئیس کہتا ہے:
مَیں باطنی دنیا میں ایسی بُری باتوں کو جانتا ہوں جو شیرخوار بچوں کی مانند ہیں۔ شروع میں تو اُن کے بارے میں زیادہ بُرا نہیں منایا جاتا، لیکن آہستہ آہستہ وہ بڑھ کر ہمیں نقصان پہنچاتی ہیں۔ وہ ہم سے عشق کرتی ہیں اور خاص التجاؤں اور خوشامد سے کام کرتی ہیں۔ وہ اِس قدر نازک اور بے کس لگتی ہیں کہ ہم اُن پر ترس کھا کر اُنہیں پالتے ہیں۔ اِن خوبصورت شیرخواروں کے بارے میں زبور نویس کی نصیحت سب سے بہتر ہے: اِنہیں لے کر چٹان پر پٹک دیں۔
مقدس کتاب
۱ ہم بابل کی ندیوں پر بیٹھے اور صیِؔوُن کو یاد کر کے روئے۔
۲ وہاں بَید کے درختوں پر اُنکے وسط میں ہم نے اپنی سِتاروں کو ٹانگ دیا۔
۳ کیونکہ وہاں ہمکو اسیر کرنے والوں نے گیت گانے کا حُکم دیا۔ اور تباہ کرنے والوں نے خُوشی کا اور کہا صیِوُؔن کے گیتوں میں سے ہمکو کوئی گیت سُناؤ ۔
۴ ہم پردیس میں خُداوند کو گیت کیَسے گائیں؟
۵ اَے یروشؔلیم ! اگر میں تجھے بھُولوُں تو میرا دہنا ہاتھ اپنا ہُنر بھوُل جائے۔
۶ اگر میَں تجھے یاد نہ رکھوں اگر میَں یروشؔلیم کو اپنی بڑی سے بڑی خُوشی پر ترجیح نہ دوں تو میری زُبان میرے تالو سے چپ جائے۔
۷ اَے خُداوند! یروشؔلیم کے دِن کو بنی ادوؔم کے خلاف یاد کر جو کہتے تھے اِسے ڈھادو۔ اِسے بنیاد تک ڈھا دو۔
۸ اَے بابل کی بیٹی! جو ہلاک ہونے والی ہے۔ وہ مُبارِک ہو گا جو تجھے اُس سُلوُک کا جو تُو نے ہم سے کیا بدلہ دے۔
۹ وہ مُبارک ہو گا جو تیرے بچوں کو لے کر چٹان پر پٹک دے۔