کتابِ مقدس کی تفسیر
ایوب کی کتاب
Job
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’میرے خیال میں بائبل میں یا بائبل کے باہر، ادبی لحاظ سے اِس سے بہتر تحریر موجود نہیں۔‘‘ (تھامس کارلائل)
۱۔ فہرستِ مسلمہ میں منفرد مقام
پوری کتاب مقدس میں ایوب کی کتاب اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے۔ یہ طویل ڈرامائی مکالمات میں شاعرانہ ہیئت میں لکھی گئی ہے اور یہ تواریخی نثر کے آغاز و انجام کے درمیان کئی پہلوؤں والے ہیرے کی طرح موجود ہے۔ بنیادی طور پر عبرانی زبان میں لکھی گئی یہ کتاب پورے طور پر شاعری کی کتاب ہے، سوائے ابواب ۱،۲، ۳۲: ۱۔ ۶ الف اور ۴۲: ۷۔ ۱۷ کے۔
سموئیل ریدات (Ridout) کتابِ مقدس میں اِس کے مقام کے بارے میں اپنے تاثرات یوں بیان کرتا ہے:
’’اس کی ضخامت اور اِس کے مضامین پر طائرانہ نگاہ ڈالنے سے ہم یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ ایوب کی کتاب خدا کے کلام کا ایک نہایت ہی اہم حصہ ہے۔ تاہم اکثر لوگ اِسے نظر انداز کرتے ہیں۔ کئی تو اِس کے مضامین سے بھی واقف نہیں ہیں۔‘‘
ایوب کی کتاب کی زبان دانی کی خوبصورتی کا بعض اوقات تو بے دین لوگوں نے بھی اعتراف کیا ہے۔
عظیم مصلح مارٹن لوتھر جو خود بھی بہت اچھا لکھاری اور مترجم تھا نے کہا کہ ’’ایوب کی کتاب،کتابِ مقدس کی دیگر کتابوں میں سب سے زیادہ خوبصورت اور اعلیٰ ہے۔‘‘ الفریڈ ٹینی سن جو انگلستان کا نہایت اعلیٰ پائے کا شاعر تھا، اُس نے ایوب کی کتاب کے بارے میں کہا، ’’یہ قدیم و جدید ادب میں سب سے اعلیٰ نظم ہے۔‘‘
جہاں تک کتاب کے مضامین کا تعلق ہے، اِس امر کی نشان دہی کی گئی ہے کہ ایوب زندگی، موت، دُکھ اور موت کے بعد کی زندگی کے بارے میں جو سوال کرتا ہے اور جن باتوں کی اُسے آرزو تھی، وہ سب ہمارے درمیانی خداوند یسوع میں پوری ہوئیں۔
۲۔ مصنف
ایوب کی کتاب کسی گمنام مصنف کی تصنیف ہے، گو یہودی روایت کے مطابق موسیٰ اِس کا مصنف ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ الیہو، سلیمان، حزقیاہ، عزرا، یا کوئی گمنام یہودی جو ۵۰۰ تا ۲۰۰ ق۔م کے درمیان رہتا تھا، یا بذاتِ خود ایوب نے یہ کتاب لکھی۔ چونکہ ایوب اِس کتاب میں مذکورہ واقعات کے بعد ۱۴۰ اضافی سالوں کے لئے زندہ رہا اور وہ تمام واقعات اور گفتگو کے تجربہ سے گزرا، اِس لئے بہت ممکن ہے کہ وہی اِس کتاب کا مصنف ہو۔
۳۔ سنِ تصنیف
اکثر لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ ایوب نے ابرہام کی پیدائش سے پہلے زندگی گزاری۔ اِس صورت میں ایوب کی کتاب کے واقعات ابرہام سے پہلے ہوئے۔ بہت سی ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایوب کو تاریخ کے اِس حصہ سے منسوب کیا گیا ہے۔ اوّل اِس کتاب میں کوئی صاف ذکر نہیں کہ وہ یہودی تھا۔ اِس میں خروج اور موسوی شریعت کا کوئی ذکر نہیں، بلکہ یہ امر بالکل واضح ہے کہ ایوب اپنے خاندان میں کہانت کی خدمت سرانجام دیتا تھا (۱:۵) اور اِس قسم کی خاندانی کہانت ابرہام کے دور میں رائج تھی۔ دولت کا تعین مویشیوں اور دیگر جانوروں سے کیا گیا ہے اور یہ خیال بھی ابرہام کے دَور میں پایا جاتا ہے۔ ایوب دو سو سال سے زائد عمر تک زندہ رہا اور زندگی کا یہ عرصہ ابرہام کے دَور سے پہلے کا تھا۔ علما موسیقی کے سازوں (۲۱:۱۲) اور روپے کی ساخت (۴۲:۱۱) کی بنا پر بھی ایوب کی کتاب کو پیدائش کی کتاب کے پہلے حصہ سے منسوب کرتے ہیں۔
جہاں تک اِس کتاب کے سنِ تصنیف کا تعلق ہے، علما نے ۰۰ا۲ ق۔م سے لے کر ۲۰۰ ق۔م تک پیش کیا ہے۔ غالباً یہ کتاب ابرہام سے کچھ پہلے کے دَور یا سلیمان کے دَور میں قلم بند ہوئی۔ دَورِ حاضر کے لوگوں کی یہ سوچ ہے کہ اِتنی طویل اَور پیچیدہ تقاریر کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اُن کے فوری بعد اُنہیں لکھ لیا جائے۔ لیکن قدیم مشرقی اور سامی لوگوں کی زبانی یاد رکھنے کی صلاحیت نہایت مشہور اور قابلِ اعتبار تھی۔
سلیمانی دَور کے لئے سب سے بہتر دلیل کتاب کے مضامین اور اسلوبِ بیان ہے۔ یہ حکمت کا ادب ہے۔ عہدعتیق کے راسخ الاعتقاد علما مثلاً F.Delitzsch اور مرل ایف۔ اُنگر نے کتاب کی قطعی تحریر کے لئے سلیمانی تاریخ کو پیش کیا ہے، لیکن اُنہوں نے طویل اور صحیح زبانی روایت کے لئے بھی گنجائش رکھی ہے۔
۴۔ پس منظر اورموضوع
پولس رسول ایوب ۵:۱۳ سے ۱۔کرنتھیوں ۳:۱۹ میں اقتباس کرتا ہے، ’’وہ حکیموں کو اُن ہی کی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے۔‘‘ حزقی ایل ۱۴:۱۴ میں ایوب کو ایک تواریخی کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے نہ کہ ایک افسانوی کردار کے طور پر ۔ اِس کا ذکر یعقوب ۵:۱۱ میں بھی کیا گیا ہے، ’’تم نے ایوب کے صبر کا حال تو سنا ہی ہے اور خدا کی طرف سے جو اِس کا انجام ہوا اُسے بھی معلوم کر لیا جس سے خدا کا بہت ترس اور رحم ظاہر ہوتا ہے۔‘‘
کتاب کا مضمون انسانی مصیبت کا بھید اور انسانی تکلیف کا مسئلہ ہے۔ سب لوگ مصیبت کیوں اُٹھاتے ہیں اور خصوصی طور پر راست باز کیوں دُکھ پاتے ہیں؟ ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے خداوند یسوع مسیح کے، غالباً ایوب پر ایک ہی دن میں سب سے زیادہ مصیبتیں نازل ہوئیں۔ خدا نے ایوب کی زندگی میں یہ مصیبتیں نازل ہونے دیں تاکہ خدا کے ساتھ اُس کی رفاقت گہری ہو جائے۔ شاید اِس کتاب کا یہ بھی مقصد تھا کہ یہودی قوم پر آنے والی مصیبتوں کی طرف اشارہ کرے۔
اگر یہودیوں کو دُکھ اُٹھانے والے مسیح کو تسلیم کرنا تھا تو اِس امر کی وضاحت ضروری تھی کہ مصیبتیں لازماً کسی شخص کے انفرادی گناہوں کی وجہ سے نازل نہیں ہوتیں۔ مسیح نے ہمارے لئے دُکھ اُٹھایا۔ راست باز نے ناراستوں کے لئے دُکھ برداشت کئے۔
اِس کتاب کے کئی پارے یسوع مسیح کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
- ۹:۳۳ ’’ہمارے درمیان کوئی ثالث نہیں جو ہم دونوں پر اپنا ہاتھ رکھے‘‘ (مسیح درمیانی ہے جو خدا اور انسان کے درمیان خلیج کو پُر کر سکتا ہے)۔
- ۱۶:۸۔ ۱۹۔ ایوب کے دُکھ۔ اِس پارے میں بہت سے تاثرات کا زبور کی کتاب میں مسیح کے دُکھوں پر اطلاق کیا گیا ہے۔
- ۱۶:۲۱ ’’تاکہ وہ آدمی کے حق کو اپنے ساتھ اور آدم زاد کے حق کو اُس کے پڑوسی کے ساتھ قائم رکھے۔‘‘ (خداوند یسوع مسیح ہمارا وکیل ہے جو باپ کے پاس ہمارے مقدمہ کے لئے شفاعت کرتا ہے)۔
- ۱۹: ۲۵، ۲۶ ’’لیکن مَیں جانتا ہوں کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے۔‘‘ (مسیح کو نجات دہندہ اور آنے والے بادشاہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے)۔
- ۳۳:۲۴ ’’اُسے گڑھے میں جانے سے بچا لے، مجھے فدیہ مل گیا ہے۔‘‘ (مسیح کے کفارہ کے ذریعہ ایمانداروں کو جہنم کے گڑھے سے مخلصی دلائی جاتی ہے)۔
ایوب کی کتاب کے کئی بیانات کے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ اِس میں سائنس کا ترقی یافتہ علم پایا جاتا ہے:
- بخارات و بارش کا چکر (۳۶:۲۷،۲۸)
- ہوا اور موسموں کی سمتیں (۳۹:۹، ۱۷)
- انسانی جسم کی تشکیل و ساخت (۳۳:۶)
- زمین کا خلا میں معلق ہونا (۲۶:۷)
- سمندر کی تہ کے حالات (۳۸:۱۶)
- بادل و بجلی کا تعلق (۳۷:۱۱)
- آسمانی سیاروں کے مدار اوراُن کے زمین پر اثرات (۳۸:۳۲،۳۳)
| خاکہ | ||||
| باب | ||||
| ۱۔ | تمہید: ایوب کی آزمائش | ۱،۲ | ||
| الف۔ | پہلا منظر: عوض کی سرزمین | ۱:۱۔۵ | ||
| ب۔ | دوسرا منظر: آسمان ۔۔ خدا کی حضوری | ۱:۶۔ ۱۲ | ||
| ج۔ | تیسرا منظر: عوض کی سرزمین ۔۔ایوب کی جائیداد اور اولاد پر مصیبت | ۱:۱۳۔ ۲۲ | ||
| د۔ | چوتھا منظر: آسمان ۔۔ پھر خدا کی حضوری | ۲:۱۔ ۶ | ||
| ہ۔ | پانچواں منظر: عوض ۔۔ایوب پر مصیبتیں | ۲:۷۔ ۱۳ | ||
| ۲۔ | ایوب اور اُس کے دوستوں کے درمیان مباحثہ | ۳۔۳۱ | ||
| الف۔ | تقاریر کا پہلا دَور | ۳۔۱۴ | ||
| ۱ | ایوب کا تمہیدی نوحہ | ۳ | ||
| ۲ | الیفز کی پہلی تقریر | ۴،۵ | ||
| ۳ | ایوب کا جواب | ۶،۷ | ||
| ۴ | بلدد کی پہلی تقریر | ۸ | ||
| ۵ | ایوب کا جواب | ۹،۱۰ | ||
| ۶ | ضوفر کی پہلی تقریر | ۱۱ | ||
| ۷ | ایوب کا جواب | ۱۲۔۱۴ | ||
| ب۔ | تقاریر کا دوسرا دَور | ۱۵۔ ۲۱ | ||
| ۱ | الیفز کی دوسری تقریر | ۱۵ | ||
| ۲ | ایوب کا جواب | ۱۶،۱۷ | ||
| ۳ | بلدد کی دوسری تقریر | ۱۸ | ||
| ۴ | ایوب کا جواب | ۱۹ | ||
| ۵ | ضوفر کی دوسری تقریر | ۲۰ | ||
| ۶ | ایوب کا جواب | ۲۱ | ||
| ج۔ | تقاریر کا تیسرا دَور | ۲۲۔ ۳۱ | ||
| ۱ | الیفز کی تیسری تقریر | ۲۲ | ||
| ۲ | ایوب کا جواب | ۲۳،۲۴ | ||
| ۳ | بلدد کی تیسری تقریر | ۲۵ | ||
| ۴ | ایوب کا جواب | ۲۶ | ||
| ۵ | ایوب کی اختتامی تقریر | ۲۷۔ ۳۱ | ||
| ۳۔ | الیہو کی مداخلت | ۳۲- ۳۷ | ||
| الف۔ | الیہو کی تقریر، ایوب کے تینوں دوستوں کے سامنے | ۳۲ | ||
| ب۔ | الیہو کی ایوب کے لئے تقریر | ۳۳ | ||
| ج۔ | الیہو کی دوسری تقریر، ایوب کے تینوں دوستوں کے سامنے | ۳۴ | ||
| د۔ | الیہو کی دوسری تقریر، ایوب کے سامنے | ۳۵۔۳۷ | ||
| ۴۔ | خداوند کا مکاشفہ | ۳۸:۱۔ ۴۲:۶ | ||
| الف۔ | خدا کا ایوب کو پہلا چیلنج | ۳۸:۱ ۔۴۰:۲ | ||
| ۱ | تعارف | ۳۸: ۱۔ ۳ | ||
| ۲ | بے جان تخلیق کے عجائب سے چیلنج | ۳۸:۴۔ ۳۸ | ||
| ۳ | جاندار تخلیق کے عجائب سے چیلنج | ۳۸:۳۹۔ ۴۰:۲ | ||
| ب۔ | ایوب کا جواب | ۴۰:۳۔ ۵ | ||
| ج۔ | خدا کا ایوب کو دوسرا چیلنج | ۴۰:۶۔ ۴۱:۳۴ | ||
| ۱ | ایوب کو مرد کی طرح جواب دینے کے لئے چیلنج | ۴۰:۶۔ ۱۴ | ||
| ۲ | ایوب کو چیلنج کیا گیا کہ وہ ہپوپوٹیمس پر غور کرے | ۴۰:۱۵۔۲۴ | ||
| ۳ | ایوب کو چیلنج کیا گیا کہ وہ لویاتان پر غور کرے | ۴۱ | ||
| د۔ | ایوب کا عاجزانہ جواب | ۴۲:۱۔ ۶ | ||
| ۵۔ | اختتامیہ : ایوب کی فتح | ۴۲:۷۔ ۱۷ | ||
| الف۔ | ایوب کے دوستوں کی ملامت اور بحالی | ۴۲:۷۔ ۹ | ||
| ب۔ | ایوب کی خوش حالی بحال کی گئی | ۴۲: ۱۰۔۱۷ | ||
| ۶۔ | نتیجہ: ایوب کی کتاب سے اسباق | |||