میکاہ تعارف


کتابِ مقدس کی تفسیر

میکاہ

Micah

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’غریبوں اور مسکینوں کے ایک سرگرم اور قابلِ قدر حامی سے ملنا بہت اچھی بات ہے __ ایسا حامی جو دلیری اور جرأت سے موثر پیغام دیتا ہے۔ میکاہ اپنے ہم وطنوں کو بہت اچھی طرح جانتا تھا اِس لئے وہ اِنصاف اور رواداری کے چیلنج کو ایسے واضح اور صاف رنگوں میں پیش کرنے کے قابل تھا۔ اُسے مظلوموں سے گہری ہمدردی تھی جو اُس کے ناقابلِ فراموش الفاظ میں آج بھی زندہ ہے۔ وہ اپنے دوستوں اور پڑوسیوں سے ہونے والی طبقاتی نااِنصافی کو دیکھتا تو اُس کی روح کے اندر راست غصہ بھڑک اُٹھتا تھا۔ دیہات سے آنے والے اس نوجوان مبلغ میں یہوداہ کے کسانوں اور کاشت کاروں کو اپنا ایک زبردست حمایتی مل گیا۔‘‘ (‏Kyle M. Yates)‏

۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفردمقام

انبیائے اصغر میں میکاہ چوتھی بڑی کتاب ہے۔ نئے عہدنامے میں پانچ دفعہ اِس سے اِقتباس کیا گیا ہے۔ ایک بار ہمارے خداوند نے اِس کا حوالہ دیا۔ متی ۲:‏۶ کا مشہور اِقتباس میکاہ ۵:‏۲ سے ہے۔ اِس آیت میں پیش گوئی ہے کہ مسیحِ موعود (‏مسایاح)‏ بیت لحم افراتاہ میں جنم لے گا۔ دوسرا بیت لحم اوپر شمال میں واقع تھا۔ 

میکاہ کی ایک اَور مسحور کن خصوصیت paronomasia کی صنعت یعنی ذُومعنویت کا استعمال ہے۔ بہت سے لوگ الفاظ کے ساتھ کھیلنا پسند کرتے ہیں۔ عبرانی ادب میں پرانے عہدنامے جیسی سنجیدہ تحریروں میں بھی رعایتِ لفظی اور ذومعنویت کا بہت استعمال ہوا ہے۔ میکاہ ۱:‏ ۱۰۔۱۵ میں اِس کا وہ مشہور نمونہ پیش کرتا ہے جسے بعض علما لاطینی کے شاعر سیسرو (‏Cicero)‏ کی فصاحت و بلاغت کے ہم پلہ قرار دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے اِس صنفِ ادب کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ کسی دو زبانوں میں یکساں ذُومعنویت موجود نہیں ہوتی۔ 

۲۔ مصنف

میکاہ نام میکایاہ اور میکایاہو کی مختصر شکل ہے۔ اِس کا مطلب ہے وہ جو یہوواہ کی مانند ہے۔ یہ نام اعلان کرتا ہے کہ نبی واحد حقیقی خدا __ اِسرائیل کے خدا کا بندہ ہے۔ اکثر نبیوں کی طرح خدا کا نام (‏ایل یا یاہ)‏ اُس کے نام کا حصہ ہے۔ ۷:‏ ۱۸ میں غالباً اُس نے اپنے نام پر رعایتِ لفظی (‏ضلع جُگت)‏ کی ہے جہاں وہ پوچھتا ہے‏، ’’تجھ سا خدا کون ہے …؟‘‘

میکاہ یسعیاہ کا ہم عصر تھا‏، لیکن معاشرتی لحاظ سے نچلے طبقے سے تھا۔ اُس کا آبائی قصبہ مورشت تھا جو جات کے قریب اور یروشلیم سے تقریباً ۲۵ میل (‏۴۰ کلو میٹر)‏ دُور جنوب مغرب میں واقع تھا۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

میکاہ نے تقریباً ۷۴۰ ق م سے ۶۸۷ ق م تک نبوت کی۔ اِن سالوں کے دوران یہوداہ میں یکے بعد دیگرے یوتام‏، آخز اور حزقیاہ بادشاہ ہوئے۔ اگرچہ اُس کا خاص اور زیادہ پیغام یہوداہ کے لئے تھا تاہم میکاہ نے شمالی سلطنت کے اسیری میں جانے کی بھی پیش گوئی کی جو ۷۲۲/ ۷۲۱ ق م میں پوری ہوئی۔ عین ممکن ہے اُس نے پیغامات دینے کے کچھ عرصہ بعد اِن کو تحریر کیا اور کتابی صورت دی۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

اِسرائیل اور یہوداہ کا زرعی نظام ایسا تھا کہ دولت کی تقسیم مساوی ہوتی تھی۔ لیکن آٹھویں صدی ق م کے آتے آتے اِس پرانے نظام کی جگہ رفتہ رفتہ مادہ پرستی نے لے لی۔ یہ نیا نظام لالچ اور طمع پر مبنی تھا۔ اُس نے معاشرے کو امیر اور غریب کے دو واضح طبقوں میں تقسیم کر دیا۔ دولت مند زمین دار امیر سے امیر تر اور نادار کاشت کار (‏مزارع)‏ غریب سے غریب تر ہوتے گئے۔ غریب طبقہ نقل مکانی کر کے شہروں میں جانے لگا جہاں ایک طرف افلاس اور جرائم کا دور دَورہ تھا اور دوسری طرف اعلیٰ طبقے کی عیش و عشرت اور غریبوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم تھا۔ 

بے دین اور بت پرست اقوام کے ساتھ تجارت اپنے ساتھ جھوٹے مذہبی شعائر‏، رسوم اور اخلاقی پستی بھی لے آئی تھی۔ مختصراً یہ کہ معاشرے کی حالت وہی ہو گئی تھی جو دَورِ جدید میں مغرب کے مبینہ مسیحی معاشرے میں نظر آتی ہے۔ 

اِس تاریک اور دُنیاداری کے پس منظر میں میکاہ نے نبوت کی اور لکھی اور اِس کا تانا بانا خاص طور سے سامریہ‏، یروشلیم اور بیت لحم کے تین شہروں کے گرد بُنا۔

 

خاکہ
    باب
۱۔ اِسرائیل اور یہوداہ کے خلاف قہر کی پیش گوئی ‏ ۱‏
۲۔ دولت مند ظالموں کا انجامِ بد ‏۲:‏ ۱۔۱۱‏
۳۔ بحالی کا وعدہ ‏۲:‏ ۱۲‏،۱۳‏
۴۔ حاکموں‏، جھوٹے نبیوں اور کاہنوں کو مجرم ٹھہرایا جاتا ہے  ‏ ۳‏
۵۔ مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کی شان اور حشمت ‏ ۴‏
۶۔ مسیحِ موعود (‏مسایاح)‏ کی آمد کا وعدہ ‏ ۵‏
۷۔ اِسرائیل عدالت کے کٹہرے میں ‏ ۶‏
۸۔ قوم اپنی بدحالی پر ماتم کرتی ہے ‏۷:‏ ۱۔۱۰‏
۹۔ مستقبل میں اِسرائیل کے لئے مبارک حالی ‏۷:‏ ۱۱۔۲۰‏