زبُور ۴۳

زبور ۴۳ :‏ اپنے نور اور اپنی سچائی کو بھیج

یہ گذشتہ زبور سے پیوستہ ہے۔ اِن کا تعلق ایک دوسرے سے اِس قدر گہرا ہے کہ نیو انگلش بائبل میں اِنہیں اِس طور سے پیش کیا گیا ہے گویا کہ یہ ایک ہی زبور ہو۔

۴۳:‏ ۱‏، ۲ یہاں ہم ایک جلاوطن کی مسلسل دعا سنتے ہیں جو صیون میں عبادت کرنا چاہتا ہے‏، لیکن ایک بے دین قوم اور ایک نا انصاف آدمی اُس کی مخالفت کرتا ہے۔ 

سب سے پہلے التجا کی گئی ہے کہ خدا دعا گو کو راست باز قرار دے اور اُس کی مدد کرے۔ زبور نویس خدا سے درخواست کرتا ہے کہ وہ بے دین قوم اور مردِ گناہ کے مقابلے میں اپنے لوگوں کا دفاع کرے۔ ایماندار کے لئے یہ بہت اذیت ناک بات ہے جب وہ خدا میں پناہ ڈھونڈتا ہے اور پھر بھی یہ محسوس کرتا ہے کہ خدا نے اُسے ترک کر دیا ہے۔ یہ ایماندار کے لئے ایک بھید ہے کہ اگرچہ وہ جیت کی طرف ہے تو بھی اُسے کبھی نہ کبھی دشمن کی ایڑی تلے دُکھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

۴۳:‏ ۳ اِس کے بعد صیون کی جانب واپسی کے لئے خصوصی اور مثبت دعا پیش کی گئی ہے۔ زبان کی خوبصورتی منفرد ہے:

’’اپنے نور اور اپنی سچائی کو بھیج۔ وہی میری رہبری کریں۔
وہی مجھ کو تیرے کوہِ مُقدّس
اور تیرے مسکنوں تک پہنچائیں۔‘‘

زبور نویس خدا کی حضوری کی روشنی اور خدا کے وعدہ کی سچائی پر مشتمل حفاظتی دستہ کا طلب گار تھا۔ یہ اُس کی راہنمائی کریں اور رحمت اور بھلائی اُس کے پیچھے پیچھے چلیں (‏زبور ۲۳:‏ ۶)‏۔ تو وہ پُریقین تھا کہ وہ خوشی کے ساتھ خدا کے کوہِ مُقدّس پر واپس جائے گا۔

۴۳:‏ ۴ آیات ۳‏،۴ میں ارتقا ملاحظہ فرمائیے:‏

’’تیرے کوہِ مُقدّس تک‏، تیرے مسکنوں تک
خدا کے مذبح کے پاس‏، خدا کے حضور جو میری کمال خوشی ہے۔‘‘

حقیقی پرستار کبھی بھی جغرافیائی محل وقوع یا کسی عمارت یا مذبح سے مطمئن نہیں ہوتا۔ لازم ہے کہ وہ بذاتِ خود خداوند کی حضوری میں پہنچے۔

۴۳:‏ ۵ خدا کے حضور جانے کی اُمید سے خوش ہو کر مصنف ایک بار پھر اپنی بے دلی اور پریشانی کو ڈانٹتا ہے۔ وہ اِس بات پر زور دیتا ہے کہ خدا پر ایمان رکھ تو یقیناًوہ تیری مراد کو پورا کرے گا۔ کسی نے دیگر الفاظ میں یوں کہا ہے:‏

’’اے میری جان! مطمئن رہ‏، کیونکہ تیرا آسمانی اور بہترین دوست تجھے خاردار راستوں میں سے نکال کر خوش کن انجام تک پہنچائے گا۔‘‘ 

مقدس کتاب

۱ اَے خُدامیرا اِنصاف کراوربے دِین قُوم کے مُقابلہ میں میری وکالت کر اور دغاباز اور بے اِنصاف آدمی سے مجھےُچھُڑا۔
۲ کیونکہ تُوہی میر ی قُوت کاخُدا ہے۔تُونے کیوںمجھےترک کر دیا؟ مٔیں دُشمن کےظُلم کے سبب سے کیوں ماتم کرتا پھرِتا ہوںٖ؟
۳ اپنے نُور اور اپنی سچائی کو بھیج۔ وہی میری رہبری کریں ۔ وہی مُجھ کو تیرے کوہ مُقدس اورتیرے مسکنوں تک پہنچائیں۔
۴ تب میں خُدا کے مذبح کے پاس جاؤں گا۔ خُدا کے حضور جو میری کمال خُوشی ہے۔ اَے خُدا! میرے خُدا! میں سِتار بجا کر تیری سِتائش کروُنگا۔
۵ اَے میری جان تو کیوں گرِی جاتی ہے ؟تُو اندر ہی اندر کیوں بے چَین ہے؟ خُدا سے اُمید رکھ کیونکہ وہ میرے چہرے کی رَونق اور میرا خُدا ہے میں پھرِ اُسکی سِتائش کرونگا۔