زبُور ۴۰

زبور ۴۰:‏ رہائی یافتہ

مشہور الفاظ ’’ قربانی اور نذر کو تُو پسند نہیں کرتا‘‘ (‏آیات ۶۔۸)‏ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ زبور مسیح کے متعلق ہے۔ اِن الفاظ کا عبرانیوں ۱۰:‏۵ میں خداوند یسوع پر اطلاق کیا گیا ہے۔ لیکن اِس زبور میں یہ مشکل درپیش ہے کہ پہلے حصہ میں اُس کے جی اُٹھنے کا ذکر ہے‏، جبکہ آخری حصہ میں صلیب پر اُس کی اذیت کا بیان کیا گیا ہے۔ اِس اُلٹی ترتیب کی وضاحت کرنا اِس قدر آسان نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پہلی آیات میں نجات دہندہ کی اپنے جی اُٹھنے پر نگاہیں ہیں اور یوں بیان کر رہا ہے گویا کہ یہ پہلے وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ اِس تفسیر میں ہم پورے زبور کا خداوند یسوع پر اطلاق کریں گے— پہلے اُس کے جی اُٹھنے اور پھر اُس کے صلیبی دُکھوں پر۔ 

۴۰:‏۱ متکلم مسیح یسوع ہے۔ اُس نے صبر سے خداوند پر آس رکھی کہ وہ اُس کی دعا کو سنے اور اُسے موت سے مخلصی دلائے۔ ہمارے خداوند کو بھی ہمیشہ دعا کا فوری جواب نہ ملا۔ لیکن اُسے احساس تھا کہ ’’دیر‘‘ کا لازمی طور پر مطلب ’’انکار‘‘ نہیں ہے۔ خدا ہماری دعا کا اُس وقت جواب دیتا ہے جب ہماری زندگیاں اُس کے مقصد کی تکمیل کے لئے مناسب ہوں۔

۴۰:‏ ۲ نجات دہندہ موت سے اپنی جلالی مخلصی کا موازنہ ہولناک گڑھے اور کیچڑ کی دلدل سے نکالے جانے سے کرتا ہے۔ کون تصور کر سکتا ہے کہ زندگی دینے والے کے لئے گناہ‏، شیطان‏، موت اور قبر پر فتح کا کیا مطلب تھا۔ 

گو مسیح کی مخلصی منفرد حیثیت کی حامل تھی‏، اِس سے کمتر معنوں میں ہم بھی زندگی کی دلدل اور کیچڑ سے خدا کی نجات بخش قدرت کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں زندگی اِن گہرے گڑھوں سے بھری پڑی ہے۔ غیرتبدیل شدہ شخص جسے روح القدس نے اُس کی گناہ آلودہ حالت کا احساس دلایا ہے‏، خصوصی طور پر ہولناک گڑھے میں ہے۔ برگشتہ ایماندار بھی اپنے آپ کو فریب دہ دلدل میں پھنسا ہوا پاتا ہے۔ بیماری‏، مصیبت اور غم کی دلدل بھی ہے۔ اکثر اوقات جب ہم راہنمائی کے متلاشی ہوتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم قیدخانے کی ایک تاریک کوٹھڑی میں ہیں۔ نیز ہم بعض اوقات اپنے آپ کو غم‏، تنہائی اور دل شکنی کی دلدل میں پاتے ہیں۔ یہ ناقابل فراموش تجربات ہیں‏، ایسے اوقات میں ہم دعا اور فریاد کرتے اور کراہتے ہیں‏، لیکن کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں اپنے خداوند کے نمونے سے سیکھنا ہے کہ ہمیں صبر سے خداوند کی آس رکھنا ہے۔ خدا اپنے وقت اور اپنے انداز سے ہمارے پاس آئے گا‏، ہمیں گڑھے سے نکالے گا‏، ہمارے پاؤں چٹان پر رکھے گا اور ہماری روش قائم کرے گا۔

۴۰:‏ ۳ ملاحظہ فرمایئے کہ خدا نہ صرف ہماری ستائش کا منبع ہے بلکہ ہمارا محور بھی ہے۔ وہ ہمارے منہ میں نیا گیت ڈالتا ہے‏، یعنی اپنی ستائش کا گیت۔

ہماری مخلصی کا نتیجہ نہ صرف خدا کی تعریف ہے‏، بلکہ یہ دوسروں کے لئے گواہی کا سبب بھی بنتی ہے۔ ’’بہتیرے دیکھیں گے اور ڈریں گے اور خداوند پر توکل کریں گے۔‘‘ یہ بات واضح طور پر ہمارے خداوند یسوع کے جی اُٹھنے پر صادق آئی۔ ایمان کے زائرین کی لامتناہی تعداد کا تصور کیجئے جو خالی قبر کے معجزہ کے ذریعہ زندہ خدا کے لئے جیتے گئے ہیں۔ 

۴۰:‏ ۴ جب وہ اُن لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جنہوں نے دیکھ لیا اور جانچ لیا ہے کہ خداوند بھلا ہے‏، تو جی اُٹھا ہوا نجات دہندہ روحانی زندگی کے لئے عظیم ترین اور بنیادی سچائی کو بیان کرتا ہے‏، ’’مبارک ہے وہ آدمی جو خداوند پر توکل کرتا ہے۔‘‘ زندگی میں حقیقی تکمیل اور خوشی صرف خدا پر توکل کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اِس کے علاوہ اَور کوئی طریقہ کار نہیں ہے۔ ہماری تخلیق ہی اِس انداز سے ہوئی ہے کہ ہمارے مقدر کی تکمیل اُسی وقت ممکن ہے جب ہم تسلیم کریں کہ خدا ہمارا خداوند اور مالک ہے۔ اوگسطین اِسے یوں لکھتا ہے:‏ ’’اے خداوند! تُو نے ہمیں اپنے لئے بنایا ہے اور ہمارے دلوں کو اُس وقت تک سکون نہیں ملے گا‏، جب تک ہم تجھ میں سکون حاصل نہ کر لیں۔‘‘ 

مبارک شخص نہ صرف خدا کا طالب ہوتا ہے بلکہ وہ مغرور لوگوں اور جھوٹے بتوں کے پیروکاروں کی طرف بھی مائل نہیں ہوتا۔ وہ زندگی کے دو بڑے فریبوں سے دھوکا نہیں کھاتا:‏ اِس تصور سے کہ مغرور آدمی کی عزت کرنا بہت ضروری ہے اور اِس تصور سے کہ مادیت‏، عیش و نشاط اور جنسی لذت انسانی دل کو مطمئن کر سکتی ہے۔ مبارک آدمی انسان کے بجائے خدا کی پسندیدگی کا خیال رکھتا ہے‏، کیونکہ اُسے یہ احساس ہوتا ہے کہ کامل خوشی بتوں کے پجاریوں کی رفاقت میں نہیں بلکہ خدا کی حضوری میں حاصل ہوتی ہے۔

۴۰:‏ ۵ خدا کی مہربانیاں بے شمار ہیں۔ اُس کے اپنے لوگوں کے لئے فضل کے خیال اور کام ادراک سے باہر ہیں۔ کون اُس کی فطری تخلیق کی لامحدود تفصیلات کو پورے طور پر بیان کر سکتا ہے؟ کون اُس کی روحانی برکتوں یعنی چناؤ‏، تقدیر‏، راست بازی‏، مخلصی‏، کفارہ‏، معافی‏، نجات‏، نئی پیدائش‏، روح القدس کی ایماندار میں سکونت‏، روح کی مہر‏، روح القدس کی حقیقت‏، مسح‏، تقدیس‏، اِبنیت‏، وراثت اور جلال کی وسعت کو سمجھ سکتا ہے ۔۔۔ ’’اگر مَیں اُن کا ذکر اور بیان کرنا چاہوں تو وہ شمار سے باہر ہیں۔‘‘

۴۰:‏ ۶ جیسا کہ ہم نے بیان کیا زبور کی آیات ۶۔۸ واضح طور پر مسیح کے متعلق ہیں۔ عبرانیوں ۱۰:‏ ۵۔۹ میں ہم سیکھتے ہیں کہ یہ الفاظ خدا کے بیٹے کی زبان تھے جب وہ اِس دُنیا میں تھا۔ دراصل وہ یہ کہہ رہا تھا کہ گو خدا نے اسرائیل قوم کے لئے قربانی اور نذر کو مقرر کیا تھا‏، لیکن اِنہوں نے کبھی بھی اُس (‏خدا)‏ کے حتمی مقصد کو پیش نہ کیا۔ وہ کسی آنے والی بہتر شے کی علامت اور سایہ کے طور پر ترتیب دی گئی تھیں۔ عارضی خلا کو پُر کرنے کے لئے اُن کی ضرور اہمیت تھی۔ لیکن خدا کبھی اُن سے مطمئن نہیں تھا‏، اُس کی نگاہ میں وہ آئیڈیل سے کمتر اہمیت کی حامل تھیں کیونکہ وہ گناہ کے مسئلہ کا حتمی حل پیش نہیں کر سکتی تھیں۔ سوختنی اور خطا کی قربانیوں کی کمزوریوں کے پیش نظر خدا نے اپنے پیارے بیٹے کے کان کھول دیئے۔ اِس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ نجات دہندہ کے کان کھولے گئے تاکہ وہ باپ کی مرضی کو سنے اور پورا کرے۔ مسیح رضامندی اور فرماں برداری کے رویے کے ساتھ اِس دُنیا میں آیا۔

’’ تُو نے میرے کان کھول دیئے ہیں۔‘‘ اِس کو ایک انگریزی ترجمہ میں یوں کہا گیا ہے:‏ ’’ تُو نے میرے کان چھید دیئے ہیں۔‘‘ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اِس کا خروج ۲۱:‏ ۵‏،۶ کے عبرانی غلام کی طرف اشارہ ہے۔ اگر غلام ساتویں سال میں آزاد نہ ہونا چاہتا تو اُس کا کان ستاری سے دروازہ کی چوکھٹ پر چھیدا جاتا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اپنے آقا کا غلام بن جاتا۔ مسیح اِس کی علامت تھا‏، کیونکہ وہ اپنے تجسم میں اپنی مرضی سے خادم بنا (‏فلپیوں ۲:‏ ۷)‏ اور وہ اپنی دوسری آمد تک اپنے لوگوں کی خدمت کرتا رہے گا (‏لوقا ۱۲:‏ ۳۷)‏۔ 

’’ تُو نے میرے کان کھول دیئے ہیں‘‘ اِس جملے کا عبرانیوں ۱۰:‏ ۵ میں اقتباس کیا گیا ہے‏، لیکن اِس کے الفاظ تبدیل کر دیئے گئے ہیں ’’میرے لئے ایک بدن تیار کیا۔‘‘ جہاں تک اِس تبدیلی کے اختیار کا تعلق ہے‏، وہی روح القدس جس نے پہلے زبور ۴۰ کے الفاظ کے لئے الہام دیا‏، یقینی طور پر اُسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ عہدجدید میں اِس کا اقتباس کرتے ہوئے اِس کی وضاحت بھی کر دے۔ ’’کان چھیدنے‘‘ کا لغوی مطلب غالباً وہ محاورہ ہے جس میں ایک حصہ یا جزو (‏یہاں کان)‏ سے کُل (‏یہاں بدن)‏ اخذ کیا جاتا ہے۔ عہدجدید میں معانی کی وضاحت کرتے ہوئے تجسم کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

۴۰:‏ ۷ ‏،۸ مسیح مجبوراً انسان نہ بنا بلکہ دِلی خوشی سے یہ قدم اُٹھایا۔ اِس موقع پر اُس نے کہا‏، ’’ دیکھ! مَیں آیا ہوں۔ کتاب کے طومار میں میری بابت لکھا ہے۔ اے میرے خدا! میری خوشی تیری مرضی پوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دل میں ہے۔‘‘ عہد عتیق کے شروع سے آخر تک پیش گوئیاں کی گئی ہیں کہ مسیح اِس دُنیا میں نہ صرف آئے گا بلکہ وہ خوشی سے باپ کی مرضی کو پورا کرنے کے لئے آئے گا۔ خدا کی مرضی نہ صرف اُس کے ذہن میں تھی بلکہ اُس کے دل پر بھی کندہ تھی۔

۴۰:‏ ۹‏، ۱۰ اِن آیات میں اُس کی زمینی خدمت کو بیان کیا گیا ہے۔ اُس نے بڑے مجمع یعنی اسرائیل کے گھرانے میں نجات کی بشارت دی۔ اِن باتوں کا اعلان کرنے کے لئے خدا نے اُسے حکم دیا تھا‏، اور اِس سلسلے میں اُس نے کوئی چیز بھی نہ چھپائی۔ اُس نے خدا کی نجات بخش مدد‏، دائمی وفاداری اور دائمی محبت کی سچائیوں کا محض ذخیرہ نہیں کر رکھا تھا۔

۴۰:‏ ۱۱ زبور کی باقی آیات (‏۱۱۔۱۷)‏ ہمیں پھر صلیب کی طرف لے آتی ہیں۔ ہمیں نجات دہندہ کی پریشانی میں نہایت دلدوز فریاد سنائی دیتی ہے۔ اِس سے پہلے آیت ۱۰ میں جو کچھ کہا گیا ہے اُس کے ساتھ اِس کا گہرا تعلق ہے۔ تعلق یہ ہے:‏ ’’ مَیں نے لوگوں کو تیری نجات ‏، تیری وفاداری اور تیری دائمی محبت کے بارے میں بتایا ہے۔ اب اپنے رحم کو روکنے سے میری گواہی کی نفی نہ کر۔ تیری شفقت اور سچائی برابر میری حفاظت کریں۔‘‘

۴۰:‏ ۱۲ اُس کی اِس پریشان کن التجا کا فوری موقع یہ تھا کہ کلوری کی شدید ایذائیں اُسے کچل رہی تھیں۔ یہ بے شمار برائیاں ‏، بے شمار گناہوں کا نتیجہ تھیں۔ لیکن جب وہ کہتا ہے ’’میری بدی‘‘ توہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ہماری بدیاں تھیں— وہ گناہ جن کی سزا برداشت کرنے کے لئے اُس نے معاہدہ کیا تھا۔ اُس کا دُکھ اِس قدر شدید تھا کہ اُس کا جی چھوٹ گیا تھا۔ کون اُس کی اذیت کی گہرائیوں کو تصور میں لا سکتا ہے جو اُس نے اِس لئے برداشت کی تاکہ ہمیں معافی حاصل ہو سکے!

۴۰:‏ ۱۳ اذیت کی انتہا میں مسیح نے فوری مدد کے لئے آسمان کے دروازوں پر دستک دی۔ گویا اُس کی التجا یہ تھی ’’مہربانی کرکے مجھے چھڑائیں اور مہربانی سے ابھی چھڑائیں۔‘‘ اِس قسم کی دعا کامیاب ہوتی ہے۔ اِس قسم کی دعا قادرِ مطلق کو عمل کے لئے تحریک دیتی ہے۔ 

۴۰:‏ ۱۴‏، ۱۵ جہاں تک اُس کے دشمنوں کا تعلق ہے وہ التجا کرتا ہے کہ اُن کی سزا اُن کے جرائم کے مطابق ہو۔ وہ اُس کی جان لینا چاہتے ہیں‏، اِس لئے اُس کی یہ خواہش ہے کہ وہ شرمندہ اور خجل ہوں۔ چونکہ وہ اُس کی ابتر حالت پر خوش ہوتے ہیں اِس لئے وہ چاہتا ہے کہ وہ رسوائی کے سبب سے تباہ ہو جائیں۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ یہ جذبات خدائے محبت کے برعکس اور متضاد ہیں تو مَیں اُنہیں صرف یہ یاد دلاؤں گا کہ محبت کا انکار کرنے سے انسان ارادتاً اپنی سزا کا انتخاب کرتا ہے۔

۴۰:‏ ۱۶ جہاں تک خدا کے دوستوں کا تعلق ہے مسیح دعا کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ خداوند میں خوش رہیں‏، کہ خدا کے سب طالب اُس میں خوش و خرم ہوں اور نجات کے عاشق مسلسل یہ کہیں ’’خداوند کی تمجید ہو۔‘‘

۴۰:‏۱۷ جہاں تک مسیح یسوع کا تعلق ہے‏، اُس کی قوت کم اور ضرورت بڑی ہے۔ لیکن اُسے اِس بات سے تسلی ہوتی ہے کہ خداوند اُس کی فکر کرتا ہے۔ 

جہاں تک خدا باپ کا تعلق ہے وہ اپنے پیارے بیٹے کا مددگار اور چھڑانے والا ہے۔ چنانچہ خداوند یسوع دعا کرتے ہوئے اپنی التجا کے آخری حصہ میں کہتا ہے ’’اے میرے خدا! دیر نہ کر۔‘‘ جواب آتے دیر نہیں لگتی۔ جیسا کہ ہم نے زبور کے پہلے حصے میں دیکھا‏، تیسرے دن باپ نے نیچے آ کر اُسے ہولناک گڑھے سے نکال دیا۔ 

یوں لگتا ہے کہ اِس زبور میں پہلے دعا کا جواب ملتا ہے اور بعد میں دعا کا ذکر ہے۔ یہ اِس بات کی یاد دلاتا ہے:‏ ’’ مَیں اُن کے پکارنے سے پہلے جواب دوں گا اور وہ ہنوز کہہ نہ چکیں گے کہ مَیں سن لوں گا‘‘ (‏یسعیاہ ۶۵:‏ ۲۴)‏۔

مقدس کتاب

۱ میں نے صبر سے خُداوند پر آس رکھی۔ اُس نے میری طرف مائل ہو کر میری فریاد سُنی۔
۲ اُس نے مجھے ہولناک گڑھے اور دلدل کی کیچڑ میں سے نکالا اور اُس نے میرے پاؤں چٹان پر رکھے اور میری روش قائم کی۔
۳ اُس نے ہمارے خُدا کی ستایش کا نیا گیت میرے مُنہ میں ڈالا۔ بہتیرے دیکھینگے اور ڈرینگے اور خُداوند پر تُوکل کرینگے۔
۴ مُبارک ہے وہ آدمی جو خُداوند پر تُوکل کرتا ہے اور مغروروں اور دروغ دوستوں کی طرف مائل نہیں ہوتا۔
۵ اَے خُداوند میرے خُدا! جو عجیب کام تُو نے کِئے اور تیرے خیال جو ہماری طرف ہیں وہ بہت سے ہیں۔ میں اُن کو تیرےحضور ترتیب نہیں دے سکتا اگر میں اُن کا ذکر اور بیان کرنا چاہوں تو وہ شمارسے باہر ہیں۔
۶ قُر بانی اور نذر کو تُو پسند نہیں کرتا۔ تُو نے میرے کان کھول دِئے ہیں۔ سوختنی قُربانی اور خطا کی قُربانی تُو نے طلب نہیں کی۔
۷ تب میں نے کہا دیکھ! میں آیا ہوں۔ کتاب کے طُومار میں میری بابت لکھا ہے۔
۸ اَے میرے خُدا! میری خُوشی تیری مرضی پُوری کرنے میں ہے بلکہ تیری شریعت میرے دِل میں ہے۔
۹ میں نے بڑے مجمع می صداقت کی بشارت دی ہے دیکھ! میں اپنا مُنہ بند نہیں کُرونگا۔ اَے خُداوند! تُو جانتا ہے۔
۱۰ میں نے تیری صداقت اپنے دِل میں چھپا نہیں رکھی۔ میں نے تیری شفقت اور سچائی بڑے مجمع سے نہیں چھپائی ۔
۱۱ اَے خُداوند! تُو مجھ پر رحم کرنے میں دریغ نہ کر۔ تیری شفقت اور سچائی برابر میری حفاظت کریں۔
۱۲ کیونکہ بے شمار بُرائیوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ میری بدی نے مجھے آپکڑا ہے۔ ایسا کہ میں آنکھ نہیں اُٹھا سکتا۔ وہ میری سر کے بالوں سے بھی زیادہ ہیں۔ سو میرا جی چھوٹ گیا۔
۱۳ اَے خُداوند! مہربانی کر کے مجھے چھڑا۔ اَے خُداوند! میری مدد کے لئے جلدی کر۔
۱۴ جو میری جان کو ہلاک کرنے کے درپے ہیں وہ سب شرمندہ اور خجل ہوں۔ جو میری نقصان سے خُوش ہیں۔ وہ پسپا اور رُسوا ہوں۔
۱۵ جو مجھ پر اہاہاہا کرتے ہیں وہ اپنی رُسوائی کے سبب سے تباہ ہو جائیں۔
۱۶ تیرے سب طالب تجھ میں خُوش وخُرم ہوں۔ تیری نجات کےعاشق ہمیشہ کہا کریں خُداوند کی تمجید ہو!
۱۷ پر میں مسکین اور محتاج ہوں۔ خُداوند میری فکر کرتا ہے۔ میرا مدد گار اور چھڑانے والا تُو ہی ہے۔