تفسیر
۱- سلام ودُعا (۲،۱:۱)
۱:۱- شمعوؔن پطرس اپنے آپ کو’’مسیح کا بندہ اور رسُول‘‘ کے طور پر مُتعارف کراتا ہے۔ اِس سے ہم پر فوراً ہی اُس کی سادگی اور حلیمی ظاہر ہونے لگتی ہے۔ وُہ اِلہٰی تقرر کے مُطابق تو ’’رسُول‘‘ تھا جبکہ ’’بندہ‘‘ وہ اپنی مرضی سے بنا تھا۔ وُہ اپنے لئے شاندار القاب اِستعمال نہیں کرتا۔ وُہ صِرف اپنے جی اُٹھے نجات دہندہ کی خِدمت کی ذِمّہ داری کے لئے شُکر گزار تھا۔ ہمیں اُن لوگوں کے مُتعلق جنہیں یہ خط لِکھا گیا صِرف اِتنا بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے بھی وُہی ’’قیمتی ایمان پایا‘‘ جو پَطرس اور اُس کے ساتھیوں کا تھا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وُہ غیر قَوم اِیمان داروں کو لِکھ رہا ہے جِس کا بُنیادی نکتہ یہ ہے کہ اُنہیں بھی وُہی ’’ایمان‘‘ مِلا جو ایماندار یہُودیوں کو مِلا تھا جِس میں کِسی طرح کی کمی نہیں تھی۔ وُہ تمام لوگ جو خُدا کے فضل سے بچ جاتے ہیں وُہ اُن سب کو مُساوی طور پر قبول کرتا ہے خواہ وُہ یہُودی ہوں یا غیر قوم، مَرد ہوں یا مستورات، غُلام ہوں یا آزاد-
’’اِیمان‘‘ سے مُراد وُہ سب ہے جو اُنہوں نے مسیحی ایمان کو قبول کرتے وقت حاصِل کیا تھا۔ وُہ اِس کی مزید تشریح کرتا ہے کہ یہ ’’اِیمان‘‘ ’’ہمارے خُدا اور مُنجّی یسؔوع مسیح کی راست بازی‘‘ سے ہے۔ اُس کا مطلب یہ ہے کہ ’’خُدا‘‘ نے مُناسب سمجھا کہ وُہ اُن لوگوں کو جو خُداوند ’’یسوع‘‘ پر ایمان لاتے ہیں یہ ’’ایمان‘‘ مُساوی بُنیاد پر دے۔ مسیح کی مَوت، تدفین اور جی اُٹھنے نے ایک راست بنیاد مُہّیا کر دی ہے جِس کی بِنا پر ’’خُدا‘‘ گنہگاروں پر اپنا فضل کر سکتا ہے بشرطیکہ وُہ ’’ایمان‘‘ لائیں۔ گُناہ کا قرض پُوری طرح اَدا کیا جا چُکا ہے، اِس لئے اب خُدا اُن گُنہگاروں کو جو اُس کے بیٹے پر اِیمان لاتے ہیں راست باز ٹھہراسکتا ہے۔ نئے عہدنامہ میں خُداوند کے بُہت سے القابات ہیں۔ اُن میں سے ایک ’’خُدا اور منجّی‘‘ ہے جو خُداوند یؔسوع کی کامل الوہیّت کو ظاہر کرتا ہے۔ اگر وُہ الہٰی ذات نہیں تو اِن الفاظ کا کوئی مطلب نہیں۔
۲:۱- رسُول کی اپنے قارئین کے لئے عظیم دُعا یہ ہے کہ ’’خُداوند یؔسوع کی پہچان‘‘ کے وسِیلہ سے اُن پر ’’فضل اور اِطمینان … زیادہ ہوتا رہے‘‘۔ وُہ چاہتا ہے کہ اپنی روز مّرہ کی زِندگی میں وُہ قائم رکھنے اور قوّت دینے والے خُدا کے ’’فضل‘‘ کی اِس ’’پہچان‘‘ کو حاصِل کریں۔ وُہ چاہتا ہے کہ خُدا کا ’’اطمینان‘‘ جو اِنسانی سمجھ سے باہر ہے اُن کے دِلوں کی حفاظت کرتا رہے۔ لیکن یہ تھوڑی مِقدار کی صُورت میں نہ دِیا جائے۔ وُہ چاہتا ہے کہ یہ برکات مِقدار میں ’’زیادہ‘‘ ہوتی رہیں نہ کہ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں دی جائیں۔
لیکن یہ برکات کیسے ’’زیادہ‘‘ ہو سکتی ہیں؟ ’’خُدا اور ہمارے خُداوند یؔسوع کی پہچان‘‘ کے وسیلہ سے۔ ہم جِتنا زیادہ ’’خُدا‘‘ کو جانیں گے ہمیں اتنا ہی زیادہ ’’فضل اور اطمینان‘‘ کا تجربہ ہوگا۔ اچھّا ہوگا کہ اگر ہم خُدا تعالیٰ کی حضُوری میں سکُونت کریں بجائے اِس کے کہ ہم وہاں کبھی کبھار ہی جائیں۔ وُہ لوگ جو گِردو نواح میں رہنے کی بجائے مَقدس میں رہتے ہیں خُدا کے ’’فضل اور اطمینان‘‘ کے بھید کو جان جاتے ہیں۔