زبُور ۳۱

زبور ۳۱:‏ تیرے ہاتھ میں

زبور ۳۱ کی پانچویں آیت ہمیں چوکس کر دیتی ہے کہ اِس کا موت کا دُکھ سہنے والے برّہ کے ساتھ گہرا تعلق ہے‏، کیونکہ یہ الفاظ صلیب پر سے یسوع مسیح کا ساتواں کلمہ تھے:‏ 

’’اے باپ! مَیں اپنی روح تیرے ہاتھوں میں سونپتا ہوں‘‘ (‏لوقا ۲۳:‏ ۴۶)‏۔

یاد رکھیں اگر زبور کی ایک آیت کا مسیح سے تعلق ہے تو لازم نہیں کہ دوسری آیات کا بھی اُس سے تعلق ہو‏، تاہم اِس خصوصی زبور میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ تقریباً ہر ایک آیت کا اُس کی ذات سے تعلق ہے۔ 

لیکن اِس زبور کا تجزیہ کرنے میں ایک مشکل درپیش ہے۔ مسیح کے دُکھوں‏، موت‏، دفن کئے جانے اور جی اُٹھنے کو باترتیب اور تسلسل کے ساتھ نہیں پیش کیا گیا۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مزامیر نظمیں ہیں اور اِن نظموں کا مقصد یہ ہے کہ اِنہیں گایا جائے‏، یہ نہ تو عقائدی مضامین ہیں اور نہ ہی وعظ ہیں۔

مخلصی کے لئے دعا (‏۳۱:‏ ۱۔۵ الف)‏

۳۱:‏ ۱ افتتاحیہ آیات میں خداوند یسوع مسیح صلیب پر سے اپنے باپ سے دعا کر رہا ہے۔ ایک کامل انسان کی حیثیت سے اُس کا کلی طور سے خدا پر انحصار تھا۔ اب اپنے بہت زیادہ دُکھوں کے لمحات میں بھی وہ خدا پر توکل کا ازسرِ نو اعلان اور دعویٰ کرتا ہے کہ وہی اُس کی واحد اور تسلی بخش پناہ گاہ ہے۔ وہ التجا کرتا ہے کہ خدا باپ پر توکل رکھنے کے ضمنمیں اُسے کبھی شرمندہ نہ ہونے دیا جائے۔ یہ بہت زور دار دعا ہے جس میں خدا کو یاد دلایا گیا ہے کہ اُس کے نام کا وقار لازمی طور پر اُس کے بیٹے کے جی اُٹھنے سے منسلک ہے۔ باپ کے لئے یہ صداقت کا عمل ہو گا کہ وہ یسوع مسیح کو مُردوں میں سے جلائے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ ثابت ہو گا کہ نجات دہندہ نے غلط جگہ پر اپنا توکل رکھا اور یوں اُسے ندامت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

۳۱:‏ ۲‏،۳ یکہ و تنہا دُکھ اُٹھانے والا خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ کلوری کی طرف اپنا کان جھکائے اور پھر فریاد کرتا ہے کہ فوری طور پر اُس کی التجا کو سنے اور اُسے چھڑانے کے لئے جلدی آئے۔ وہ خداوند سے مزید درخواست کرتا ہے کہ وہ اُس کی پناہ کے لئے چٹان ہو اور وہ اُس کے لئے محکم قلعہ ہو جس میں وہ ہر ایک مصیبت سے محفوظ ہو۔

بے شک خدا پہلے ہی اُس کی چٹان‏، قلعہ اور واحد پناہ گاہ تھا۔

’’میری تو کوئی اَور پناہ گاہ نہیں ہے۔
میری بے کس اور لاچار روح تجھ پر تکیہ کرتی ہے۔
اے خداوند! مجھے تنہا نہ چھوڑ
اب بھی میری مدد کر اور مجھے تسلی دے۔‘‘
(‏چارلس ویزلی)‏

ایک بار پھر مسیح اپنی التجا کی بنیاد اِس حقیقت پر رکھتا ہے کہ خدا کی عزت خطرے میں ہے۔ ’’اِس لئے اپنے نام کی خاطر میری راہبری اور راہنمائی کر۔‘‘ کیا خدا نے راست باز کو مخلصی دلانے کا وعدہ نہیں کیا تھا؟ بے شک کیا تھا! اب اُس سے التجا کی جا رہی ہے کہ وہ اپنی عزت اور وقار کی خاطر خداوند یسوع مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کرکے جلال دے۔

۳۱:‏ ۴ نجات دہندہ کو پکڑنے اور اُس پر غالب آنے کے لئے بڑی احتیاط سے موت کا جال بچھایا گیا تھا۔ یہاں مسیح خدا سے فریاد کرتا ہے کہ اُسے اِس جال سے نکال لے اور اُسے قبر سے آزاد کرے کیونکہ یہوواہ اُس کی مضبوط اور محفوظ پناہ گاہ ہے۔

۳۱:‏ ۵ الف لوقا لکھتا ہے کہ یسوع نے بڑی بلند آواز سے آیت ۵ الف کے الفاظ کا اقتباس کیا۔ کسی نے اُس کی زندگی کو اُس سے چھینا نہیں‏، بلکہ اُس نے رضاکارانہ طور پر اپنے پورے ہوش و حواس سے جان دی۔ اُس وقت کے بعد صدیوں سے قریب الموت مقدسین نے اِن الفاظ کو دہرایا ہے مثلاً لوتھر‏، ناکس‏، ہس اور دیگر افراد نے۔

جی اُٹھنے کے لئے شکر گزاری (‏۳۱:‏ ۵ب۔۸)‏

۳۱:‏۵ ب ‏، ۶ آیت ۵ کے درمیان ایک واضح وقفہ ہے۔ موت کی جگہ جی اُٹھنے کا ذکر آتا ہے اور التجا کی جگہ ستائش کی جاتی ہے۔ اپنے وعدے کے مطابق خدا نے اپنے قدوس کو موت اور قبر سے مخلصی دلائی۔ زندہ خدا پر ایمان رکھنا اُس کے بیٹے کے لئے درست ثابت ہوا۔ اِس کے مقابلے میں جو جھوٹے معبودوں پر بھروسا رکھتے ہیں اُنہیں یہوواہ کی طرف سے نفرت حاصل ہوتی ہے۔

۳۱:‏ ۷۔۸ مصیبت کے وقت خدا کی ابدی محبت اُس کے بیٹے پر سایہ کئے ہوئے تھی‏، اِس لئے شکر گزاری کا گیت اب آسمان کا رُخ کرتا ہے۔ اِسی محبت نے یسوع کے دشمنوں کو نظرانداز نہ کیا اور نہ اُسے دشمن کے قبضے میں چھوڑ دیا بلکہ اِس نے بالآخر نجات دہندہ کو دشمنوں کے ہاتھ (‏قبر)‏ سے نکالا اور اُس کے پاؤں کشادہ جگہ یعنی جی اُٹھنے کی سرزمین پر رکھے۔

شدید پریشانی (‏۳۱:‏ ۹۔۱۳)‏

۳۱:‏۹‏،۱۰ لیکن اب ہم پھر یسوع کی گرفتاری اور مصلوبیت سے پہلے کے وقت کی طرف واپس آتے ہیں۔ جب مردِ غم ناک دشمنوں کی سخت نفرت برداشت کر رہا تھا‏، تو ہم اُسے دعا کرتے ہوئے سنتے ہیں۔ آدمیوں میں حقیرو مردود اپنی تکلیف میں یہوواہ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اُس سے التجا کرتا ہے کہ وہ مہربانی سے اُس کی صورتِ حال پر غور کرے۔ بہت زیادہ غم سے اُس کی آنکھیں دھندلا رہی تھیں اور کراہنے سے اُس کی روح اور بدن فنا ہو رہے تھے۔ وہ غم سے تھک چکا تھا اور کراہنے سے اُس کا زور جاتا رہا۔ مصیبت سے اُس کی قوت ختم ہو چکی تھی اور اُس کی ہڈیاں کمزور ہو چکی تھیں۔

میرا زور میری بدکاری کے باعث سے جاتا رہا۔ اِس کا ہم صرف اس طرح نجات دہندہ پر اطلاق کر سکتے ہیں کہ ’’میری بدکاری‘‘کا مطلب ہماری بدکاری اخذ کریں‏، جسے اُس نے ہمارے فدیہ دینے والے کی حیثیت سے اپنے اوپر اُٹھا لیا۔ ورنہ اِس آیت سے مسیح کے بارے میں مفہوم اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ 

۳۱:‏۱۱۔۱۳ اِس کے بعد صابر مصیبت زدہ اپنے بارے میں بیان کرتا ہے کہ اُس کے سارے دُشمن اُس سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ اپنے پڑوسیوں کے لئے خوف ناک منظر ہے۔ وہ اُسے آتے دیکھ کر گلی میں دوسری طرف سے گزر جاتے ہیں۔ وہ حتیٰ المقدور اُس سے گریز کرتے ہیں۔ اُنہوں نے بہت جلدی اُسے بھلا دیا اور اُسے ٹوٹے برتن کی طرح پھینک دیا۔ اُس نے سنا کہ اُس کے خلاف بہتان تراشی کی مہم جاری ہے۔ وہ صبح و شام خوف زدہ رہتا تھا کیونکہ وہ اُسے مارنے کے لئے اُس کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔ 

کسی بھی شخص کے لئے حقارت اور مصیبت کی یہ تصویر دل گداز اور افسوس ناک ہے۔ جب ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ کائنات کے خالق اور زندگی اور جلال کے بادشاہ کو بیان کرنے کے لئے لکھا گیا تو ہم کیا کہیں گے!

مخلصی کے لئے دعا (‏۳۱:‏ ۱۴۔۱۸)‏

۳۱:‏ ۱۴۔ ۱۷ الف غم اور آہوں سے پُرایمان دعا جنم لیتی ہے۔ جسے لوگوں نے رد کیا وہ اقرار کرتا ہے کہ یہوواہ اُس کی اُمید اور خدا اُس کی زندگی ہے۔ وہ اِس حقیقت سے بے بیان تسلی پاتا ہے کہ اُس کے ایام خداوند کے ہاتھ میں ہیں۔ ہر دَور کے خدا پر ایمان رکھنے والے اِس اطمینان میں شریک ہوئے ہیں۔

اعتماد اور اطاعت کی اِس تصدیق کے بعد خداوند یسوع مسیح خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُسے خصوصی طور پر اُس کے دُکھ دینے والے دشمنوں کے ہاتھوں سے چھڑائے۔ وہ درخواست کرتا ہے کہ باپ مہر سے اُس پر نگاہ کرے۔ وہ موت سے مخلصی کے لئے التجا کرتا ہے اور یہ التجا خداوند کی دائمی محبت پر مبنی ہے۔ پھر وہ اُس سے دعا کرتا ہے کہ وہ اُسے کبھی مایوس نہ ہونے دے کیونکہ وہ یہوواہ کو اپنا واحد نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ زبان میں تقریر کے فن کا اظہار ہے اور زبان میں زور دار انداز استعمال کیا گیا ہے۔ درحقیقت یہ ممکن نہیں تھا کہ مسیح کو یہوواہ پر بھروسا کرنے کی وجہ سے ندامت کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ اِ س حقیقت کو جانتا تھا اور ہم بھی اِسے جانتے ہیں۔ لیکن جب ہم جذباتی دعا اور غنائیہ شاعری پڑھتے اور اِس سے صرف لغوی معانی اخذ کرنا چاہتے ہیں تو ہم کافی حد تک اِس کا مفہوم کھو دیتے ہیں۔ 

۳۱:‏ ۱۷ ب۔۱۸ شریروں کی طرف رُخ کرکے مسیح دعا کرتا ہے کہ اُنہیں شرمندہ کیا جائے‏، جو پاتال میں خاموش ہو جائیں گے۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اُن کے جھوٹے لبوں کو بند کر دیا جائے کیونکہ وہ خدا کے مقدس بیٹے پر بہتان تراشی کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اِن آیات کا معیار مسیحی معیار سے ادنیٰ ہے‏، لیکن آپ جس قدر جرائم پیشہ لوگوں کی بے رحمی‏، اُن کے شرم ناک جرائم اور مظلوم کی بے گناہی پر غور کریں گے‏، اُسی قدر آپ یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ یہ زبان اِس قدر سخت نہیں ہے۔ 

خدا ایک عظیم پناہ گاہ (‏۳۱:‏ ۱۹‏،۲۰)‏

ایک بار پھر زبور نویس پریشانی سے خوشی اور التجا سے شکرگزاری کی طرف آتا ہے۔ پُروقار لَے کے ساتھ خداوند یسوع مسیح اپنے باپ کی تعریف کرتا ہے کہ وہ لاثانی پناہ گاہ ہے۔ وہ خدا کی تصویر کچھ یوں پیش کرتا ہے کہ وہ اپنے ایماندار لوگوں کے لئے نیکی کے نہ ختم ہونے والے ذخیرہ کا منتظم ہے۔ وہ اُن سب پر جو اُس میں پناہ ڈھونڈتے ہیں منتظر رہتا ہے کہ بنی آدم کی موجودگی میں وہ کثرت سے اِس خزانے سے اُنہیں فیض یاب کرے۔ خدا کی حضوری وہ مقام ہے جہاں اُس کے برگزیدہ مقدسین‏، انسان کی کینہ پرور سازشوں سے بچنے کے لئے پناہ حاصل کر سکتے ہیں۔ 

شخصی شکرگزاری (‏۳۱:‏ ۲۱‏،۲۲)‏

جب دشمن خداوند یسوع کو محاصرہ کئے ہوئے شہر کی طرح مکمل طور پر گھیرے میں لئے ہوئے تھے‏، تو اُسے خدا کی بھلائی کا عجیب و غریب تجربہ ہوا۔ اُس کے خطرے کی آگاہی سے اُسے یوں محسوس ہو رہا تھا گویا یہوواہ نے اُسے مکمل طور پر چھوڑ دیا ہے۔ گو صلیب پر اِن تین خوف ناک گھنٹوں کے دوران اُسے چھوڑ دیا گیا‏، تاہم خدا نے اُس کی فریاد کو سنا اور اُسے موت کی حالت سے زندہ کیا۔

خداوند سے محبت رکھو! (‏۳۱:‏ ۲۳‏،۲۴)‏

خدا کی محبت کا مزہ چکھ کر مسیح بھی اُس (‏خدا)‏ سے محبت رکھتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص کو خدا سے محبت رکھنا چاہئے۔ یہوواہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے ایمانداروں کی حفاظت کرے اور سرکش باغیوں کو خاطر خواہ سزا دے۔

کوئی بھی ایماندار جو بڑی مشکلات سے دوچار ہے‏، اِس یقین دہانی سے دلیری اور جرأت حاصل کرے کہ خداوند پر اُمید رکھنا کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! میرا تُوکل تجھ پر ہے۔ مجھے کبھی شرمندہ نہ ہونے دے۔ اپنی صداقت کی خاطر مجھے رہائی دے۔
۲ اپنا کان میری طرف جھکا۔ جلد مجھے چھُڑا۔ تُو میرے لئے مضُبوط چٹان میرے بچانے کو پناہ گاہ ہو۔
۳ کیونکہ تُو ہی میری چٹان اور میرا قلعہ ہے۔ اِس لئے اپنے نام کی خاطر میری رہبری اور رُہنمائی کر۔
۴ مجھے اُس جال سے نکال لے جو اُنہوں نے چھپکر میرے لئے بچھایا ہے۔ کیونکہ تُو ہی میرا محکم قلعہ ہے۔
۵ مَیں اپنی رُوح تیرے ہاتھ میں سَونپتا ہوں۔ اَے خُداوند! سچائی کے خُدا! تُو نے میرا فدیہ دیا ہے۔
۶ مجھے اُن سے نفرت ہے جو جھُوٹے معبودوں کو مانتے ہیں۔ میرا تُوکل تو خُداوند ہی پر ہے۔
۷ میں تیری رحمت سے خُوش وخُرم رہونگا کیونکہ تُو نے میرا دُکھ دیکھ لیا ہے۔ تُو میری جان کی مُصیبتوں سے واقف ہے۔
۸ تُو نے مجھے دُشمن کے ہاتھ میں اسِیر نہیں چھوڑا۔ تُو نے میرے پاؤں کُشادہ جگہ میں رکھے ہیں۔
۹ اَے خُداوند! مجھ پر رحم کر کیونکہ مَیں مُصیبت میں ہوں۔ میری آنکھ بلکہ میری جان اور میرا جسم سب رنج کے مارے گھُلے جاتے ہیں۔
۱۰ کیونکہ میری جان غم میں اور میری عُمر کراہنے میں فنا ہوئی ۔ میرا زور میری بدکاری کے باعث سے جاتا رہا اور میری ہڈیاں گھُل گئیں۔
۱۱ مَیں اپنے سب مخالفوں کے سبب سے اپنے ہمسایوں کے لئے ازبس انگُشت نُما اور اپنے جان پہچانوں کے لئے خَوف کا باعث ہوں۔ جنہوں نے مجھ کو باہر دیکھا مجھ سے دُور بھاگے۔
۱۲ مَیں مردہ کی مانند دِل سے بھُلا دِیا گیا ہوں۔ مَیں ٹوٹے برتن کی مانند ہوں۔
۱۳ کیونکہ مَیں نے بہتوں سے اپنی بدنامی سُنی ہے۔ ہر طرف خَوف ہی خَوف ہے۔ جب اُنہوں نے مل کر میری خلاف مشورہ کیا۔ تو میری جان لینے کا منُصوبہ باندھا۔
۱۴ لیکن اَے خُداوند! میرا تُوکل تجھ پر ہے۔ مَیں نے کہا تُو میرا خُدا ہے۔
۱۵ میرے ایّام تیرےہاتھ میں ہیں۔ مجھے میرے دُشمنوں اور ستانے والوں کے ہاتھ چھُڑا۔
۱۶ اپنے چہرے کو اپنے بندہ پر جلوہ گر فرما۔ اپنی شفقت سے مجھے بچالے۔
۱۷ اَے خُداوند! مجھے شرمندہ نہ ہونے دے کیونکہ مَیں نے تجھ سے دُعا کی ہے۔ شریر شرمندہ ہو جائیں اور پاتال میں خاموش ہوں۔
۱۸ جھُوٹے ہونٹ بند ہو جائیں جو صادقوں کے خلاف غُرور اور حقارت سے تکبُر کی باتیں بولتے ہیں۔
۱۹ آہ! تُو نے اپنے ڈرنے والوں کے لئے کیسی بڑی نعمت رکھ چھوڑی ہے۔ جسے تُو نے بنی آدم کے سامنے اپنے تُوکل کرنے والوں کے لئے تیار کیا۔
۲۰ تُو اُن کو اِنسان کی بندشوں سے اپنی حضُوری کےپردہ میں چھپالیگا۔ تُو اُن کو زبان کے جھگڑوں سے شامیانہ میں پوشیدہ رکھیگا۔
۲۱ خُداوند مُبارک ہو۔ کیونکہ اُس نے مجھ کو مُحکم شہر میں اپنی عجیب شفقت دکھائی۔
۲۲ مَیں نے تو جلد بازی سے کہا تھا کہ مَیں تیرے سامنے سے کاٹ ڈالا گیا۔ تُو بھی جب مَیں نے تجھ سے فریاد کی تو تُونے میری مِنت کی آواز سُن لی۔
۲۳ خُداوند سے محبت رکھو اَے اُس کے سب مقدسو! خُداوند ایمانداروں کو سلامت رکھتا ہے۔ اور مغروروں کو خُوب ہی بدلہ دیتا ہے۔
۲۴ اَے خُداوند پر آس رکھنے والو! سب مضُبوط ہو اور تُمہارا دِل قوی رہے۔