تیسری کتاب (زبور ۷۳۔۸۹)
زبور ۷۳ : ایمان کا معما
۷۳:۱ میرا نام آسف ہے اور مَیں شروع میں ہی ایک بات کی وضاحت کر دینا چاہتا ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ خدا اسرائیل یعنی پاک دلوں پر مہربان ہے۔ یہ اِس قدر واضح حقیقت ہے کہ کوئی بھی اِس میں شک نہیں ڈال سکتا۔
۷۳: ۲، ۳ لیکن ایک ایسا وقت بھی آیا کہ مَیں نے سوال کرنا شروع کر دیا۔اِس موضوع پر میرے نقطہ نگاہ میں ڈگمگاہٹ آ گئی اور وقتی طور پر میرا ایمان لغزش کا شکار ہو گیا۔ مَیں نے سوچنا شروع کر دیا کہ شریر کس قدر خوش حال ہیں۔ اُن کے پاس بہت سی دولت ہے، وہ ہر لحاظ سے خوش ہیں اور اُنہیں کوئی دُکھ نہیں۔ آخرکار میرے دل میں یہ خواہش اُبھرنے لگی کہ کاش مَیں بھی اُن کی طرح ہوتا۔
۷۳: ۴۔ ۹ ہر طرح سے اُن کے حالات سازگار ہیں۔ ایمانداروں کی نسبت اُن کا جسمانی دُکھ کم ہوتا ہے۔ اُن کے جسم صحت مند اور توانا ہیں (کیونکہ اُنہیں ہر طرح کی سہولتیں میسر ہیں)۔ وہ ہماری طرح کے شریف لوگوں کے دُکھوں اور مصیبتوں سے محفوظ ہیں۔ اور اگر اُن پر بڑی سے بڑی مصیبت آئے بھی تو اُنہوں نے ہر ایک متوقع نقصان کے لئے بیمہ کرا رکھا ہے۔ اِس لئے عجب نہیں کہ وہ بہت زیادہ پُراعتماد ہیں۔ وہ مور کی طرح متکبر اور شیرببر کی طرح ظالم ہیں۔ جیسے اُن کے جسم چربی سے پھولے ہوئے ہیں، ویسے ہی اُن کے ذہنوں میں بُری تدبیریں بھری پڑی ہیں۔ وہ گستاخ بھی ہیں۔ وہ اپنے کارندوں کا مذاق اُڑاتے اور اُنہیں لعن طعن کرتے رہتے ہیں۔ وہ اُن کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں گویا کہ وہ غلاظت ہیں اور اُنہیں مسلسل دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ حتیٰ کہ خدا بھی اُن کی بدفطرتی سے محفوظ نہیں۔ اُن کی گفتگو میں کفر ہے اور وہ گستاخی سے اُس کی ذات کے خلاف کفر بکتے ہیں۔ اُن کی زبانیں زمین کی سیر کرتی ہیں گویا کہ وہ یہ کہہ رہے ہوں ’’ مَیں آ رہا ہوں، میرے راستہ سے ہٹ جاؤ۔‘‘
۷۳: ۱۰۔۱۲ عام لوگوں کی اکثریت یہ سوچتی ہے کہ وہ بڑے لوگ ہیں۔ وہ سرنگوں ہو کر اُن کی تعظیم کرتے ہیں۔ شریر خواہ کچھ بھی کرے لوگ اُسے غلط نہیں کہیں گے۔ اور یوں ظالم کی گستاخی کو تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ اُن کا خیال ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو یقیناًوہ نہیں جانتا کہ کیا کچھ ہو رہا ہے۔ اِس لئے وہ اپنی عیاری اور بدی کی زندگی میں اپنے آپ کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ وہ عشرت کی زندگی بسر کرتے اور امیر سے امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔
۷۳: ۱۳، ۱۴ چنانچہ مَیں نے سوچنا شروع کر دیا کہ شرافت، دیانت داری اور عزت کی زندگی گزارنے سے مجھے کیا فائدہ ہوا؟ مَیں نے گھنٹوں تک دعا میں وقت گزارا ہے، خدا کے کلام کا مطالعہ کیا ہے۔ خداوند کے کام کے لئے مَیں نے روپیہ تقسیم کیا ہے۔ نجی اور عوامی سطح پر مَیں نے بڑی جاں فشانی سے خداوند کی گواہی دی ہے۔ تو بھی مجھے اِس کے عوض روزانہ دُکھ اور سزا ملی ہے۔ کیا ایمان کی زندگی کی بھی کوئی قدر و قیمت ہے؟
۷۳: ۱۵ تاہم مَیں نے اپنے شکوک و شبہات دوسرے ایمانداروں کو نہیں بتائے، کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ ایسا قدم اُٹھانا خطرناک ہے۔ مجھے اکثر وہ شخص یاد آتا ہے جس نے کہا، ’’مجھے اپنی یقینی باتوں کے بارے میں بتایئے، کیونکہ میرے اندر پہلے سے ہی بہت سے شکوک ہیں۔‘‘ چنانچہ مَیں نے اپنے تمام شکوک اپنی ذات تک محدود رکھے تاکہ مَیں کسی سادہ اور ایماندار روح کے لئے ٹھوکر کا باعث نہ بنوں۔
۷۳: ۱۶ لیکن ابھی تک سارا سلسلہ میرے لئے ایک معما تھا کہ شریر پھلتے پھولتے جبکہ راست باز مصیبت اُٹھاتے ہیں۔ یہ سمجھنا میرے لئے مشکل لگتا تھا۔ اِس مسئلے کو حل کرتے کرتے مَیں تھک گیا تھا۔
۷۳: ۱۷ تب ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا۔ ایک دن مَیں خدا کے مَقدِس میں گیا، یروشلیم کی ظاہری ہیکل میں نہیں بلکہ آسمانی ہیکل میں۔ مَیں ایمان سے اُس میں داخل ہوا۔ جب مَیں خدا سے یہ شکایت کر رہا تھا کہ شریر اِس زندگی میں بارور ہوتے ہیں، تو فوراً میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ’’لیکن آنے والی زندگی میں اُن کا کیا انجام ہو گا؟‘‘ جوں جوں مَیں نے اُن کے ابدی انجام پر غور کیا، توں توں ہر ایک بات واضح ہو گئی۔
۷۳: ۱۸۔۲۰ چنانچہ مَیں خداوند سے یوں مخاطب ہوا: اے خداوند! اب مجھے احساس ہوا کہ تمام ظاہری حالت کے باوجود شریر کی زندگی پائیدار نہیں ہے۔ وہ کھڑی چٹان کے پھسلنے والے کنارے پر چل رہے ہیں۔ جلد یا بدیر وہ گر کر تباہ ہو جائیں گے۔ دم بھر میں وہ فنا ہو جائیں گے ۔۔ وہ ایسے خوفناک حادثہ سے دوچار ہوں گے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ میرے لئے وہ خواب کی مانند ہیں جیسے جب کوئی شخص صبح کے وقت بیدار ہو ۔۔ وہ چیزیں جو خواب دیکھنے والے کو پریشان کر رہی تھیں، وہ محض وہم تھیں اور اُن کی کوئی وقعت نہیں تھی۔
۷۳: ۲۱۔ ۲۲ مجھے اب معلوم ہوا کہ مَیں جن چیزوں پر رشک کر رہا تھا، وہ محض سائے تھے۔ یہ میری حماقت تھی کہ مَیں بے دینوں کی ظاہری خوش حالی و ترقی پر کڑھتا تھا۔ تیرے انصاف پر سوال کرتے ہوئے مَیں انسان کی طرح نہیں بلکہ حیوان کی طرح عمل کر رہا تھا۔ مجھے میرے رویہ کے لئے معاف کر۔
۷۳: ۲۳، ۲۴ میرے جاہلانہ رویے کے باوجود تُو نے مجھے نہیں چھوڑا۔ مَیں برابر تیرے ساتھ ہوں اور تُو نے میرا ہاتھ پکڑ رکھا ہے جیسے باپ اپنے بچے کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ میری ساری زندگی میں تُو اپنی مصلحت سے میری راہنمائی کرتا ہے اور آخر کار تُو اپنے جلال میں مجھے قبول فرمائے گا۔
۷۳: ۲۵،۲۶ میرے لئے یہی کافی ہے کہ تُو جو آسمان پر ہے میرا تیری ذات سے تعلق ہے اور زمین پر تیرے سوا میری اَور کوئی آرزو نہیں ہے۔ مجھے کوئی پروا نہیں کہ بے دینوں کے پاس دولت ہے۔ مَیں تیری ذات سے مطمئن ہوں اور تُو ہی میرا سب کچھ ہے۔ گو میرا جسم زائل ہو جائے اور میرے دل کی دھڑکنیں بند ہو جائیں، لیکن خدا میری زندگی کی قوت ہے اور ابد تک مجھے کسی چیز کی کمی نہیں ہو گی۔
۷۳: ۲۷، ۲۸ جو تجھ سے جہاں تک ممکن ہو دُور رہنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ تیرے بغیر فنا ہو جائیں گے۔ لیکن جہاں تک میرا تعلق ہے، جہاں تک ممکن ہو مَیں تیرے نزدیک رہنا چاہتا ہوں۔ مَیں نے اپنے آپ کو تیری حفاظت میں سونپ دیا ہے اور مَیں ہر ایک سننے والے کے سامنے تیرے کاموں کا بیان کروں گا۔
مقدس کتاب
۱ بَیشک خُدا اِسرائیل پر یعنی پاک دِلوں پر مہربان ہے۔
۲ لیکن میرے پاؤں تو پھِسلنے کو تھے۔میرے قدم قریباًٍ لغزِش کھا چُکے تھے۔
۳ کیونکہ میَں شریروں کی اقبالمندی دیکھتا تو مغروروں پر حسد کرتا تھا۔اِسلئِے کہ اُنکی موت مین جان کنی نہیں بلکہ اُنکی موت بنی رہتی ہے۔
۴
۵ وہ اور آدمیوں کی طرح مُصیبت میں نہیں پڑتے نہ اَور لوگوں کی طرح اُن پر آفت آتی ہے۔
۶ اِسلئِے غرور اُن کے گلے کا ہار ہے۔گویا وہ ظُلم سے مُلبس ہیں۔
۷ اُنکی آنکھیں چربی سے اُبھری ہوُئی ہیں۔ اُنکے خیالات حدّ سے بڑھ گئے ہیں۔
۸ وہ ٹھٹھا مارتے اور شرارت سے ظُلم کی باتیں کرتے ہیں۔ وہ بڑا بول بولتے ہیں۔
۹ اُنکے مُنہ آسمان پر ہیں۔ اُنکی زُبانیں زمین کی سیر کرتیں ہیں۔
۱۰ اِسلئے اُسکے لوگ اِس طرف رجُوعُ ہوتے ہیں اور جی بھر کر پیتے ہیں۔
۱۱ وہ کہتے ہیں خُدا کو کیَسے معلوُم ہے؟ کیا حق تعالیٰ کو کُچھ علم ہے؟
۱۲ اِن شریروں کو دیکھو! یہ سدا چَین سے رہتے ہوئے دولَت بڑھاتے ہیں۔
۱۳ یقیناً میَں نے عبث اپنے دِل کو صاف اور اپنے ہاتھوں کو پاک کیا۔
۱۴ کیونکہ مجھ پر دِن بھر آفت رہتی ہے اور میَں ہر صُبح تنبِیہ پاتا ہوُں۔
۱۵ اگر میَں کہتا کہ یوُں کہوُنگا تو تیرے فرزندوں کی نسل سے بے وفائی کرتا۔
۱۶ جب میَں سوچنے لگا کہ اِسے کیسے سمجھوُں تو یہ میری نظر میں دُشوار تھا۔
۱۷ جب تک کہ میَں نے خُدا کے مقدِس میں جاکر اُنکے انجام کو نہ سوچا۔
۱۸ یقیناً تُو اُنکو پھِسلنی جہگوں میں رکھتا ہے۔ اور ہلاکت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
۱۹ وہ دم بھر میں کیَسے اُجڑ گئے! وہ حادثَوں سے بالکُل فنا ہو گئے۔
۲۰ جَیسے جاگ اُٹھنے والا خواب کو وَیسے ہی تُو اَے خُداوند! جاگ کر اُنکی صُورت کو ناچیز جانیگا۔
۲۱ کیونکہ میرا دِل رنجیدہ ہوا اور میرا جِگر چھِد گیا تھا۔
۲۲ میَں بے عقل اور جاہل تھا۔ میَں تیرے سامنےجانور کی مانِند تھا۔ تُو بھی میَں برابر تیرے ساتھ ہوں۔تُو نے میرا دہنا ہاتھ پکڑ رکھا ہے۔
۲۳
۲۴ تُو اپنی مصلحت سے میری رہنمائی کریگا اور آخر کار مجھے جلال میں قبول فرمائے گا۔
۲۵ آسمان پر تیرے سِوا میرا کون ہے؟ اور زمین پر تیرے سِوا میَں کِسی کا مُشتاق نہیں۔
۲۶ گو میرا جسم اور میرا دِل زائل ہو جائیں تو بھی خُدا ہمیشہ میرے دِل کی قُوت اور بخرہ ہے۔
۲۷ کیونکہ دیکھ! وہ جو تجھ سے دور ہیں فنا ہو جائینگے۔تُو نے اُن سب کو جہنوں نے تجھ سے بیوفائی کی ہلاک کردیا ہے۔
۲۸ لیکن میرے لئے یہی بھلا ہے کہ خُدا کی نزدیکی حاصل کرُوں۔ میَں نے خُدا وند خُدا کو اپنی پناہگاہ بنالِیا ہے۔ تاکہ تیرے سب کاموں کو بیان کروُں۔