زبور ۱۷: ایک دائمی معما
جب ہم کوئی برائی کرتے اور اُس کی خاطر دُکھ اُٹھاتے ہیں، تو ہمارا اپنا ضمیر ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری سزا واجبی ہے۔ لیکن جب ہماری مصیبت کا تعلق کسی بُرائی سے نہ ہو تو پھر؟ اِس قسم کا دُکھ اُٹھانا — پطرس کے مطابق ’’راست بازی کی خاطر دُکھ اُٹھانا‘‘ خدا کے فرزند کے لئے ایک دائمی معما ہے۔
داؤد بھی کئی بار ایسے تجربات سے دوچار ہوا۔ لیکن وہ جانتا تھا کہ اِس کے بارے میں کیا کرے۔ وہ اپنا مقدمہ صادق منصف کے پاس لے گیا۔ اُسے اعتماد تھا کہ وہاں اُس کا صحیح فیصلہ ہو گا۔
بعض اوقات داؤد ببانگِ دہل اپنی راست بازی، دیانت داری اور فرماں برداری کے لئے احتجاج کرتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ وہ بے گناہی کا دعویٰ کر رہا ہو۔ لیکن فی الحقیقت ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ داؤد زندگی کے دیگر حصوں میں اپنے بے گناہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر رہا، بلکہ وہ محض موجودہ حالات کے لئے یہ دعویٰ کرتا ہے۔ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ اُس نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے اُس نے اپنے دشمنوں کو موجودہ دشمنی کے لئے اشتعال دلایا ہو۔
ہم داؤد کے مقدمے کا خلاصہ درج ذیل الفاظ میں پیش کر سکتے ہیں:
۱۷: ۱۔۲ اے خداوند! مَیں تجھ سے التجا کرتا ہوں کہ میرے موقف کو سن لے کیونکہ میرا موقف درست ہے۔ مَیں جو کچھ کہتا ہوں غور سے سن لے، کیونکہ ناحق مجھے ایذا دی جا رہی ہے۔ انصاف کی درخواست کے لئے مَیں من و عن بتا رہا ہوں۔ اِس میں کسی طرح کا کوئی فریب نہیں ہے اور نہ مَیں سچائی کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تیری عدالت میں میری التجا ہے کہ مجھے بری کر دے۔ تیری آنکھیں مقدمہ کے ہر ایک پہلو کو دیکھیں اور تُو راستی کی حمایت میں فیصلہ کر دے۔
۱۷: ۳۔۵ اگر تُو میرے دل کو آزمائے، اگر تُو رات کے اندھیرے اور روشنی میں میری تفتیش کرے — خواہ تُو کتنی ہی پورے طور پر میری تفتیش کرے — تو تجھے معلوم ہو جائے گا کہ میرے مخالفین جس طرح سے مجھے پریشان کر رہے ہیں، اُن کے پاس اِس کے لئے کوئی خاطر خواہ وجہ نہیں ہے۔ مَیں دیانت داری سے سچ سچ کہتا ہوں۔ جہاں تک لوگوں کی عمومی بدی کا تعلق ہے، مَیں تیرے کلام یعنی بائبل کی پیروی میں تشدد سے باز رہا ہوں۔ اپنی طاقت پر نہیں بلکہ تیرے حکموں اور وعدوں پر انحصار کرتے ہوئے، مَیں تیری فرماں برداری کی راہوں پر چلا ہوں۔ میرے قدم نہیں پھسلے، جب میرے پاس موقع بھی تھا مَیں نے اپنے دشمنوں کے خلاف تشدد نہیں کیا۔
۱۷: ۶،۷ اب مَیں اپنا موقف تیرے سامنے پیش کرتا ہوں۔ مَیں تجھ سے انصاف کی اپیل کرتا ہوں اور مجھے اعتماد ہے کہ تُو میری عرض کو سن کر مجھے جواب دے گا۔ تُو اُن لوگوں کا نجات دہندہ ہے جو تیرے دہنے ہاتھ اپنے دشمنوں سے پناہ مانگتے ہیں۔ اب جب کہ میں بھاگا ہوا تیرے پاس آتا ہوں تو خصوصی طور پر مجھے اپنی عجیب شفقت دکھا۔
۱۷: ۸۔۱۲ ’’مجھے آنکھ کی پُتلی کی طرح محفوظ رکھ۔‘‘ ’’پلکیں، پپوٹے، ابرو، ہڈی کا خانہ اور آنکھ کے مالک کا ہاتھ آنکھ کی پُتلی کو محفوظ رکھتے ہیں‘‘ (ایف۔بی۔مائر)۔ مجھے اپنے پُرمحبت اور محفوظ پَروں کے سایہ میں چھپا لے۔ تب مَیں اُن شریروں سے محفوظ ہو جاؤں گا جو مجھے میری ہر ایک چیز سے محروم کرکے میری جان تک لینا چاہتے ہیں۔ تُو اچھی طرح جانتا ہے کہ اُن کے سخت دل رحم سے خالی ہیں اور اُن کے منہ بڑا بول بولتے ہیں کہ وہ میرا کیا حشر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چپکے سے میرا پیچھا کرتے ہیں۔ اب اُنہوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ وہ اِس ارادے سے تاک لگائے بیٹھے ہیں کہ آخری چوٹ سے میرا کام تمام کر دیں۔ وہ بھوکے شیر کی طرح وحشی درندے ہیں اور جوان شیر کی طرح جھاڑیوں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ وہ میرے ٹکڑے ٹکڑے کر دینے کے لئے تیار ہیں۔
۱۷: ۱۳،۱۴ اے خداوند! ضرور ہے کہ تُو میرا دفاع کرے۔ اُن کا سامنا کرکے اُنہیں پٹک دے۔ اپنی تلوار سے مجھے شریروں کے چنگل سے آزاد کرے۔ اُن کا تعلق تو صرف اُن چیزوں سے ہے جو وہ اِس زندگی میں حاصل کر سکتے ہیں۔ تُو نے اُنہیں بہت زیادہ مادی چیزیں دی ہیں۔ حتیٰ کہ اُن کے بچوں کے پاس بھی وافر مقدار میں چیزیں ہیں— اِس قدر زیادہ کہ وہ اپنے بچوں کے لئے بھی چھوڑ جائیں گے۔
۱۷: ۱۵ جہاں تک میرا تعلق ہے اُنہیں یہ سب کچھ حاصل کر لینے دے۔ میری دلچسپی مادی خزانوں کی نسبت روحانی اقدار میں ہے۔ میرے لئے یہی کافی ہے کہ مَیں تیرا دیدار حاصل کروں کہ تُو مجھے مجرم گناہ گار نہیں بلکہ راست باز قرار دے۔ جب مَیں جاگوں گا تو تیری شباہت سے سیر ہوں گا۔
ای۔ بینڈر سموئیل نے نشاندہی کی ہے کہ آیت ۱۵ میں ۱۔یوحنا ۳: ۲ کا ہر ایک عنصر موجود ہے۔
| سب سے اعلیٰ تسلی: | ۱۔یوحنا: ابھی تک ظاہر نہیں ہوا کہ ہم کیا کچھ ہوں۔ اتنا جانتے ہیں… |
| زبور: مَیں … سیر ہوں گا۔ | |
| عظیم تبدیلی: | ۱۔یوحنا: ہم اُس کی مانند ہوں گے۔ |
| زبور: مَیں تیری شباہت سے سیر ہوں گا۔ | |
| وسیع رویا: | ۱۔یوحنا۔ اُس کو ویسا ہی دیکھیں گے جیسا وہ ہے۔ |
| زبور۔ مَیں تیرا دیدار حاصل کروں گا۔ |
۱۔کرنتھیوں ۱۵: ۵۱۔۵۵ اور مکاشفہ ۲۲:۴ بھی ملاحظہ فرمائیے۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! حق کو سُن۔ میری فریاد پر تُوجہ کر۔ میری دُعا پر جو بے ریالبوں سے نکلتی ہے کان لگا ۔
۲ میرا فیصلہ تیرے حضُور سے صادر ہو تیری آنکھیں راستی کو دیکھیں۔
۳ تُو نے میرے دِل کو آزما لیا ہے۔ تُو نے رات کو میری نگرانی کی۔ تُو نے مجھے پرکھا اور کچھ کھوٹ نہ پایا۔ میں نے ٹھان لیا ہے کہ میرا مُنہ خطا نہ کرے۔
۴ انسانی کاموں میں تیرے لبوں کے کلام کی مدد سے میں ظالموں کی راہوں سے باز رہاہوں۔
۵ میرے قدم تیر راستوں پر قائم رہے ہیں۔ میرے پاؤں پھسلے نہیں۔
۶ اَے خُدا! میں نے تجھ سے دُعا کی ہے کیونکہ تُو مجھے جواب دیگا۔ میری طرف کان جھُکا اور میری عرض سُن لے۔
۷ تُو جو اپنے دہنے ہاتھ سے اپنے توکل کرنے والوں کو اُ نکے مخالفوں سے بچاتا ہے اپنی عجیب شفقت دِکھا!
۸ مجھے آنکھ کی پُتلی کی طرح محفوظ رکھ۔ مجھے اپنے پروں کے سایہ میں چھپا لے۔
۹ اُن شریروں سے جو مجھ پر ظلم کرتے ہیں میرے جانی دُشمنوں سے جو مجھے گھیرے ہوئے ہیں۔
۱۰ اُنہوں نے اپنے دِلوں کو سخت کیا ہے۔ وہ اپنے مُنہ سے بڑا بول بولتے ہیں۔
۱۱ اُنہوں نے قدم قدم پر ہمکو گھیرا ہے۔ وہ تاک لگائے ہیں کہ ہمکو زمین پر پٹک دیں۔
۱۲ وہ اُس ببر کی مانند ہے جو پھاڑنے پر حِریص ہو۔ وہ گویا جواب ببر ہے جو پوشیدہ جگہوں میں دبکا ہوا ہے۔
۱۳ اُٹھ اَے خُداوند! اُس کا سامنا کر۔ اُسے پٹک دے۔ اپنی تلوار سے میری جان کو شریر سے بچالے۔
۱۴ اپنے ہاتھ سے اَے خُداوند!مجھے لوگوں سے بچا۔ یعنی دُنیا کے لوگوں سے جنکا بخرہ اِسی زندگی میں ہے اور جنکا پیٹ تُو اپنے ذخیرہ سے بھرتا ہے۔ اُنکی اَولاد بھی حسبِ مُراد ہے۔ وہ اپنا باقی مال اپنے بچوں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔
۱۵ پر میں تو صداقت میں تیرا دیدار حاصل کُرونگا۔ میں جب جاگونگا تو تیری شباہت سے سیر ہونگا۔