زبور ۱۰۲ : کوہِ کلوری پر تثلیث
اِس زبور کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ متکلمین کو پہچانا جائے۔
- صلیب پر لٹکا ہوا مسیح، خدا سے ہم کلام ہے (آیات ۱۔۱۱)۔
- باپ اپنے پیارے بیٹے کو جواب دیتا ہے۔ ہم یہ بات آیت ۱۲ کا عبرانیوں ۱:۸ سے موازنہ کرنے سے جانتے ہیں (آیات ۱۲۔۱۵)۔
- متکلم ناقابلِ شناخت ہے، لیکن ہمارا اندازہ یہ ہے کہ یہ روح القدس ہے جو مسیح کے تحت اسرائیل کی بحالی کا بیان کر رہا ہے (آیات ۱۶۔۲۲)۔
- جب نجات دہندہ خدا کے ہاتھوں ہمارے گناہوں کے لئے دُکھ اُٹھاتا ہے تو ایک بار پھر اُس کی آواز سنائی دیتی ہے (آیات ۲۳، ۲۴ الف)۔
- جب ہم اِس حصے کا عبرانیوں ۱: ۱۰۔۱۲ سے موازنہ کرتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خدا باپ اپنے بیٹے سے ہم کلام ہو رہا ہے (آیت ۲۴ ب۔۲۸)۔
اِس زبور میں ہم وہ گفتگو سن سکتے ہیں جو کلوری پر تثلیث کے اقانیم کے درمیان ہو رہی تھی۔
۱۰۲:۱، ۲ جب ہم آیات ۱،۲ میں مصیبت زدہ کی دعا پڑھتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ یہ احساس رہنا چاہئے کہ خدا کے ازلی بیٹے نے اپنے آپ کو یہاں تک خالی کر دیا کہ اُس نے صلیب بلکہ صلیبی موت گوارا کی۔
یہاں وہ خداوند سے التجا کرتا ہے کہ وہ اُس کی دعا کو سنے، مصیبت میں اُس کے قریب رہے اور جلد اُس کی دعا کا جواب دے۔
۱۰۲ : ۳۔۷ اِس کے بعد وہ بعض ایک دُکھوں کا بیان کرتا ہے جن کو مردِ غمناک کی حیثیت سے برداشت کرنے کے لئے اُسے بلایا گیا تھا۔ اُسے احساس تھا کہ اُس کی زندگی ختم ہو رہی ہے اور اُس کی زندگی کے دن دھوئیں کی مانند اُڑے جاتے ہیں۔ اُس کا بدن حرارت سے جل رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اُس کے اعضا سوکھ رہے ہوں، یہاں تک کہ اُس کی بھوک بھی اُڑ چکی تھی۔ اُس کی تکلیف اِس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گیا تھا۔ وہ بیابان میں پرندے یا سنسان کھنڈرات میں اُلو کی مانند تنہائی اور اُداسی کی تصویر تھا۔ اُس کی نیند اُڑ چکی تھی۔ خدا اور انسانوں نے اُسے چھوڑ دیا تھا، وہ چڑیا کی مانند چھت پر اکیلا تھا۔
۱۰۲ : ۸۔۱۱ اُس کے دشمن مسلسل اُس کی بے عزتی کرتے رہتے تھے۔ وہ اُس کے نام کو لعنت کے لئے استعمال کرتے تھے۔ غم کی راکھ اُس کی روٹی تھی اور اُس کے پانی میں غم کے آنسو ملے ہوئے تھے۔
اِس ساری صورتِ حال میں اُسے یہ احساس تھا کہ وہ خدا کے غضب اور قہر کے سبب سے دُکھ برداشت کر رہا ہے۔ خدا اُس سے شخصی طور پر نہیں بلکہ ہمارے گناہوں کے باعث ناراض تھا جنہیں خدا کا برہ مصلوب ہوتے ہوئے اپنے بدن پر اُٹھائے ہوئے تھا۔ خدا نے اُسے چھوڑ دیا اور اُس نے محسوس کیا کہ اُسے اُٹھایا گیا اور پھینک دیا گیا ہے۔ اُس کے دن شام کے سایوں کی طرح ختم ہو رہے تھے اور اُس کی زندگی گھاس کی طرح مرجھا رہی تھی۔
۱۰۲: ۱۲۔۱۵ خدا اب یسوع مسیح کو یقین دہانی اور حوصلہ افزائی کے الفاظ میں جواب دیتا ہے۔ بیٹے کو خداوند کے لقب سے مخاطب کرتے ہوئے وہ اُسے یاد دلاتا ہے کہ وہ ہمیشہ تک رہے گا اور سب قوموں کو اُس کے نام کا خوف ہو گا۔ گو وہ مر جائے تاہم وہ جی اُٹھے گا اور آسمان پر صعود فرمائے گا۔ پھر وہ یہوداہ کے قبیلے کے ببر کی حیثیت سے زمین پر واپس آئے گا اور صیون پر رحم کرے گا۔ یہ وہ وقت ہو گا جب ترک کی ہوئی قوم پر ترس کھایا جائے گا۔ فی الحال اپنی بحالی کی منتظر اسرائیل قوم صیون کے پتھروں کو پیار کرتی اور اُس کی خاک پر ترس کھاتی ہے۔ لہٰذا آج تک یہودی لوگ دیوارِ گریہ یعنی مغربی دیوار کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُن کا یروشلیم کے پرانے شہر سے بہت زیادہ جذباتی لگاؤ ہے۔ جب صیون دوبارہ اپنے بادشاہ کو خوش آمدید کہے گا تو غیرقوموں کو خداوند کے نام کا خوف ہو گا اور زمین کے سب بادشاہ اُسے خراجِ عقیدت پیش کریں گے۔
۱۰۲: ۱۶۔۲۲ اِن آیات میں صیغہ متکلم اور صیغہ حاضر کو چھوڑ کر صیغہ غائب استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ روح القدس کی آواز ہے جو مستقبل میں مسیح کی حکومت کے دوران اسرائیل کی بحالی کا ذکر کر رہا ہے۔ مسیح بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ واپس آئے گا اور صیون کو ازسرِنو تعمیر کرے گا۔ اُس دن اُس کی پراگندہ قوم کی دعاؤں کا جواب دیا جائے گا۔ اُس دن معلوم ہو گا کہ اُن کی دعائیں رائیگاں نہیں گئیں۔ مستقبل کی نسل خدا کے عجیب و غریب کاموں کے بارے میں پڑھ سکے گی کہ خداوند نے کیسے آسمان پر سے نگاہ کی، اور اُس نے اپنے ستائے ہوئے اور منتشر لوگوں کی دعاؤں کو کس طرح سنا اور اُن کو ملک اسرائیل میں واپس لایا۔ جب قومیں خداوند کی پرستش کے لئے یروشلیم میں جمع ہوں گی تو وہ بتائیں گی کہ اُس نے قیدیوں اور مجرموں کو کیسے آزاد کیا۔ وہ اسرائیل کے ساتھ خداوند کے پُرفضل سلوک کے لئے اُس کی ستائش کریں گی۔
۱۰۲: ۲۳۔۲۸ اب زبور میں اُس وقت کا بیان کیا گیا ہے جب خداوند نے صلیب پر اپنی جان دی۔ وہ تقریباً تینتیس سالہ جوان تھا۔ لیکن عنفوان شباب میں اُس کا زور گھٹا دیا گیا۔ اُس کی عمر کوتاہ کر دی گئی۔ چنانچہ وہ دعا کرتا ہے ’’اے میرے خدا! مجھے آدھی عمر میں نہ اُٹھا۔‘‘
خداوند خدا کی طرف سے فوری جواب آتا ہے (آیت ۲۴ ب)، ’’تیرے برس پشت در پشت ہیں۔‘‘ ہمیں معلوم ہے کہ خدا یہاں ہم کلام ہے کیونکہ اِس کے بعد کے الفاظ عبرانیوں ۱: ۱۰۔۱۲ میں خدا باپ سے منسوب کئے گئے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے کہ خدا اپنے بیٹے کے بارے میں کیا شہادت دیتا ہے:
- وہ تخلیق کے کام میں سرگرم رکن تھا: اُس نے قدیم سے زمین کی بنیاد ڈالی اور آسمان اُس کے ہاتھ کی صنعت ہیں۔
- تخلیق برباد ہو جائے گی، لیکن وہ قائم رہے گا۔ تخلیق پوشاک کی طرح پرانی ہو جائے گی اور اُسے بہتر پوشاک سے تبدیل کیا جائے گا۔ لیکن مسیح لاتبدیل اور ابدی ہے۔
- اور نہ صرف اُس کی ابدیت بلکہ اُس کے لوگوں اور اُن کی نسل کی ابدیت بھی محفوظ ہے۔ اُس کے بندوں کے فرزند محفوظ طریقہ سے سکونت کریں گے اور اُن کی نسل اُس کی حفاظت میں رہے گی۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! میری دُعا سُن اور میری فریاد تیرے حُضُور پہنچے۔
۲ میری مُصیبت کے دِن مجھ سے روپوش نہ ہو۔ اپنا کان میری طرف جھُکا جِس دِن میں فریاد کروں مجھے جلد جواب دے۔
۳ کیونکہ میرے دِن دھوئیں کی طرح اُڑ جاتے ہیں۔ اور میری ہڈیاں ایندھن کی طرح جل گئیں۔
۴ میرا دِل گھاس کی طرح جھُلسکر سُوکھ گیا۔ کیونکہ میَں اپنی روٹی کھانا بھول جاتا ہوں۔
۵ کراہتے کراہتے میری ہڈیاں میرے گوشت سے جالگیں۔
۶ میَں جنگلی حواصِل کی مانند ہُوں۔ میَں ویرانے کا اُلوّ بن گیا۔
۷ میَں بیَخواب اور اُس گورے کی مانند ہو گیا ہُوں جو چھت پر اکیلا ہو۔
۸ میرے دُشمن مجھے دِن بھر ملامت کرتے ہیں۔ میرے مُخالِف دیوانہ ہو کر مجھ پر لعنت کرتے ہیں۔
۹ کیونکہ میَں نے روٹی کی طرح راکھ کھائی اور آنسُو مِلا کر پانی پیا۔
۱۰ یہ تیرے غضب اور قہر کے سبب سے ہے کیونکہ تُو نے مجھے اُٹھایا اور پھر پٹک دیا۔
۱۱ میرے دِن ڈھکنے والے سایہ کی مانند ہیں۔ اور میَں گھاس کی طرح مُرجھا گیا ہوں،
۱۲ لیکن تُو اَے خُداوند! ابدتک رہیگا۔ اور تیری یادگار پُشت در پُشت رہیگی۔
۱۳ تُو اُٹھیگا اور صِیوُؔن پر رحم کریگا۔ کیونکہ اُس پر ترس کھانے کا وقت ہے ہاں اُس کا مُعیِن وقت آ گیا ہے۔
۱۴ اِسلئے کہ تیرے بندے اُسکے پتھروں کو چاہتے اور اُسکی خاک پر ترس کھاتے ہیں۔
۱۵ اور قوموں کو خُداوند کے نام کا اور زمین کے سب بادشاہوں کو تیرے جلال کا خُوف ہو گا۔
۱۶ کیونکہ خُداوندنے صِیُوؔن کو بنایا ہے۔ وہ اپنے جلال میں ظاہر ہُؤا ہے۔
۱۷ اُس نے بے کسوں کی دُعا پر توجّہُ کی اور اُن کی دُعا کو حقیر نہ جانا۔
۱۸ یہ آیندہ پُشت کے لئے لِکھا جائیگا۔اور ایک قوم پیدا ہو گی جو خُداوند کی ستایش کریگی۔
۱۹ کیونکہ اُس نے اپنے مقدِس پر سے نگاہ کی ۔ خُداوند نے آسمان پر سے زمین پر نطر کی۔
۲۰ تاکہ اسیر کا کراہنا سُنے اور مرنے والوں کو چھُڑالے۔
۲۱ تاکہ لوگ صِیُؔون میں خُداوند کے نام کا اظہار اور یروشؔلیم میں اُس کی تعریف کریں۔
۲۲ جب خُداوند کی عبادت کے لئے قومیں اور مملکتیں مِلکر جمع ہوں۔
۲۳ اُس نے راہ میں میرا زور گھٹا دیا ۔ اُس نے میری عمر کوتاہ کر دی۔
۲۴ میَں نے کہا اَے خُدا! مجھے آدھی عمر میں نہ اُٹھا تیرے برس پُشت در پُشت ہیں۔
۲۵ تُو نے قدیم سے زمین کی بنیاد ڈالی۔ آسمان تیرے ہاتھ کی صعنت ہے۔
۲۶ وہ نیست ہو جائینگے پر تُو باقی رہیگا۔ بلکہ وہ سب پوشاک کی مانند پُرانے ہو جائینگے تُو اُنکو لِباس کی مانند بدلیگا اور وہ بدل جائینگے۔
۲۷ پر تُو لا تبدیل ہے۔ اور تیرے برس لااِنتہا ہونگے۔
۲۸ تیرے بندوں پرزند برقرار رہینگے اور اُنکی نسل تیرے حُضُور قائم رہیگی۔