زبُور ۱۰۷

پانچویں کتاب (‏زبور ۱۰۷۔۱۵۰)‏

زبور ۱۰۷ :‏ خداوند کے چھڑائے ہوئے یہی کہیں

خدا کے لوگوں کی زندگی میں اکثر ایک سلسلہ پایا جاتا ہے۔ اولاً خداوند کے لوگ اُس سے برگشتہ ہوتے ہیں‏، اُس کے کلام کی نافرمانی کرتے ہیں۔ پھر وہ اپنی گمراہی کے تلخ نتائج بھگتتے ہیں۔ اِس کے بعد وہ گناہ کا اقرار کرتے ہوئے خدا سے فریاد کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ اُن کا گناہ معاف کرتا اور ایک بار پھر اُنہیں برکت کے مقام پر بحال کرتا ہے۔ یوں مسرف بیٹے کی قدیم کہانی دہرائی جاتی ہے۔ 

اِس چکر پر غور کرنے سے دوبنیادی حقائق سامنے آتے ہیں۔ پہلی حقیقت تو یہ ہے کہ انسانی دل زندہ خدا سے مسلسل برگشتہ ہونے پر مائل رہتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ جب اُس کے لوگ توبہ کرکے اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں تو خدا اپنے بے بیان رحم سے اُنہیں بحال کرتا ہے۔ 

اِس زبور میں خدا کی شفقت بھری مخلصی چار مختلف تصاویر میں پیش کی گئی ہے:‏

  • بیابان میں کھوئے ہوؤں کے لئے مخلصی (‏آیات ۴۔۹)‏
  • قیدیوں کے لئے مخلصی (‏آیات ۱۰۔۱۶)‏
  • سخت بیماروں کی صحت یابی (‏آیات ۱۷۔۲۲)‏
  • شدید طوفان میں ملاحوں کے لئے مخلصی (‏آیات ۲۳۔۳۲)‏

تعارف (‏۱۰۷:‏ ۱۔۳)‏

سب سے پہلے موضوع کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ خداوند کی شکرگزاری کے لئے بلاہٹ دی جاتی ہے۔ دو وجوہات دی گئی ہیں:‏ خداوند بھلا ہے اور اُس کی شفقت ابدی ہے۔ دونوں وجوہات مسلسل شکرگزاری کے لئے خاطرخواہ سبب ہے۔ 

پھر لوگوں کے ایک گروہ کی نشاندہی کی جاتی ہے جنہیں اُس کی خاص بھلائی اور محبت حاصل ہوئی ہے یعنی وہ لوگ جنہیں اُس نے ایذارسانی‏، غلامی‏، ظلم اور مصیبت سے چھڑایا ہے اور اُنہیں عالمگیر پراگندگی سے واپس ملک میں لایا ہے۔ زبور نویس خاص کر بنی اسرائیل قوم کی بات کر رہا ہے ‏، لیکن ہم اِن آیات کے اطلاق کو اِس قوم تک ہی محدود نہیں رہنے دیں گے‏، کیونکہ ہمیں بھی گناہ کی منڈی سے فدیہ دے کر چھڑایا گیا ہے۔ خدا کے چھڑائے ہوؤں کی حیثیت سے ہم بھی شکرگزاری کے ترانے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

بیابان میں کھوئے ہوؤں کے لئے مخلصی (‏۱۰۷ :‏ ۴۔۹)‏

پہلی تصویر میں واضح طور پر اسرائیل کے سنسان ‏، ویران بیان میں چالیس سالہ سفر کا ذکر کیا گیا ہے۔ لوگ پریشان ہو گئے۔ وہ بھوکے تھے۔ وہ پیاسے تھے۔ وہ بے دل ہو گئے تھے۔ تب اُنہوں نے خداوند سے فریاد کی۔ اچانک بیابان میں اُن کی آوارگی ختم ہو گئی۔ خداوند اُنہیں سیدھی راہ سے موآب کے میدانوں تک لے گیا اور وہاں سے ہو کر وہ کنعان کے ملک میں داخل ہو گئے۔ وہاں اُنہیں ایک شہر ملا جس میں پہنچ کر اُنہوں نے محسوس کیا کہ گویا وہ اب اپنے گھر میں آ گئے ہیں۔ اُنہیں اور ہم سب کو مسلسل خداوند کی لازوال محبت اور اپنے لوگوں پر شفقت کے لئے شکر کرنا چاہئے‏، کیونکہ موعودہ ملک میں وہ ترستی جان کو آسودہ کرتا اور بھوکی جان کو نعمتوں سے مالا مال کرتا ہے۔

قیدیوں کے لئے مخلصی (‏۱۰۷:‏ ۱۰۔۱۶)‏

۱۰۷:‏ ۱۰۔ ۱۲ اب بابلی اسیری کا ذکر آتا ہے۔ زبور نویس ستر سال کو قید سے تشبیہ دیتا ہے۔ بابل ایک تاریک اور اندھیری کوٹھڑی تھی۔ بنی اسرائیل یوں محسوس کرتے تھے کہ وہ قیدیوں کی مانند زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہیں (‏گو بابل کے حالات مصر کے حالات سے کم تکلیف دہ تھے)‏۔ خداوند کے کلام سے سرکشی اور اِسے مسترد کرنے کے باعث اُنہیں اسیری میں بھیجا گیا۔ سخت مشقت سے کچلے ہوئے وہ بھاری بوجھ تلے گر پڑے اور کوئی اُن کا ساتھ دینے والا نہ تھا۔ 

۱۰۷:‏ ۱۳۔۱۶ لیکن جب اُنہوں نے خداوند سے فریاد کی تو اُس نے اُنہیں تاریکی کی سرزمین سے رہائی دی اور اُن کی اسیری کے بندھن توڑ ڈالے۔ اب صرف یہ رہ گیا ہے کہ وہ خداوند کی لاتبدیل محبت اور اُن کی خاطر سب اچھے کاموں کے لئے اُس کا شکر ادا کریں۔ 

’’کیونکہ اُس نے پیتل کے پھاٹک توڑ دیئے اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالا۔‘‘

اِس آیت سے ہم اخذ کرتے ہیں کہ زبور نویس اِس حصے میں بابل کی اسیری کی بات کر رہا ہے۔ اِس کا تعلق یسعیاہ ۴۵:‏ ۲ سے ملتا ہے جہاں خداوند نے ہوبہو ایسے ہی الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسیری کو ختم کرنے کا بیان کیا۔ خورس سے ہم کلام ہوتے ہوئے اُس نے کہا:‏ 

’’ مَیں تیرے آگے آگے چلوں گا اور ناہموار جگہوں کو ہموار بنا دوں گا۔ مَیں پیتل کے دروازوں کو ٹکڑے ٹکڑے کروں گا اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالوں گا۔‘‘

سیاق و سباق سے بالکل عیاں ہے کہ وہ بابل کی اسیری کے اختتام کی بات کر رہا تھا۔ 

سخت بیماروں کی صحت یابی (‏۱۰۷:‏ ۱۷۔۲۲)‏

۱۰۷:‏ ۱۷۔۲۰ اِس تیسرے حصے میں بنی اسرائیل کا مسیح کی پہلی آمد سے تعلق ہو سکتا ہے۔ قوم اُس وقت بیمار تھی۔ وہ ابھی ابھی مکابیوں کے آزمائشی دَور میں سے گزرے تھے۔ بعض احمق تھے اور اپنی بدکاریوں کے سبب سے سزا برداشت کر رہے تھے۔ اُن کی بھوک جاتی رہی اور وہ بڑی تیزی سے موت کے پھاٹکوں کے قریب آ رہے تھے۔ خدا نے اپنا کلام نازل کر کے اُن کو شفا دی۔ یہاں اُس کے کلام سے مراد یسوع مسیح ہے جو اسرائیل کے گھرانے میں آیا اور شفائیہ خدمت سرانجام دی۔ اناجیل میں ہم کتنی دفعہ پڑھتے ہیں کہ ’’اُس نے سب بیماروں کو اچھا کر دیا۔‘‘ متی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بیماروں کو شفا دینے سے یسعیاہ نبی کے ذریعے کی گئی پیش گوئی پوری ہوئی‏، ’’اُس نے آپ ہماری کمزوریاں لے لیں اور بیماریاں اُٹھا لیں‘‘ (‏متی ۸:‏۱۷)‏۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سب اسرائیلیوں کو تو شفا نہ ملی‏، توہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ سب اسرائیلی موعودہ ملک میں داخل نہ ہوئے اور نہ تمام بابل کی اسیری سے ہی واپس آئے۔

۱۰۷:‏ ۲۱‏، ۲۲ زبور نویس پھر لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ خداوند کی شفقت اور اُس کے عجائب کے لئے اُس کی ستائش کریں۔ خدا نے اپنے بیٹے کو انعام کے طور پر دیا۔ یہ ہمارے لئے اُس کی شکرگزاری کی قربانیاں گزراننے اور اُس کے کاموں کو گیتوں میں بیان کرنے کی خصوصی وجہ ہے۔ 

شدید طوفان میں ملاحوں کے لئے مخلصی (‏۱۰۷:‏ ۲۳۔ ۳۲)‏

۱۰۷:‏ ۲۳۔۲۷ آخری تصویر بہت زور دار ہے۔ یہ ملاحوں کی تصویر ہے جو جہازوں پر سمندر میں جاتے تھے۔ جب کبھی وہ سمندری طوفان میں پھنس جاتے تو وہ کسی حد تک خداوند کی قدرت کے بارے میں جانتے تھے۔ پہلے تو طوفانی ہوا چلتی ہے اور اِس کے بعد لہریں پہاڑوں کی مانند بلند ہوتی ہیں۔ جہاز لہروں پر اُچھلتا ہے اور اُس کی لکڑی ٹوٹتی پھوٹتی ہے۔ اِس صورتِ حال میں مضبوط ترین جہاز بھی کھولتے ہوئے کڑاہے میں ماچس کی ڈبیا کی مانند ہو گا۔ ایسے طوفان میں بہت بہادر اور مضبوط ملاح بھی حوصلہ ہار جاتے ہیں۔ وہ متوالے شخص کی مانند جھومتے ہوئے جہاز پر اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ اُنہیں شدید احساس ہوتا ہے کہ اُن کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ 

۱۰۷:‏ ۲۸۔۳۰ یہ حیران کن امر نہیں کہ ایسے موقعوں پر کفر بکنے والے بے دین ملاح بھی دعا کرتے ہیں۔ اور خداوند اپنے فضل سے مایوسی میں اُن کی دعاؤں کو سنتا ہے۔ وہ آندھی کو تھما دیتا ہے اور لہریں موقوف ہو جاتی ہیں۔ اب کس قدر سکون ہے! یہ لوگ پھر سمندر پر سفر کے لئے جاتے ہیں اور اُس بندرگاہ پر پہنچ جاتے ہیں جو اُن کی منزل مقصود تھی۔

۱۰۷ :‏ ۳۱‏، ۳۲ اپنی مصیبت سے مخلصی پانے والے ملاحوں کو خداوند کی وفادار شفقت کے لئے شکرگزاری کرنا نہیں بھولنا چاہئے۔ اُنہیں خداوند کی ستائش کے لئے بزرگوں کی مجلس میں اور لوگوں کے مجمع میں حمد کرتے ہوئے اپنی منتوں کو پورا کرنا چاہئے۔

کیا ہم سے غلطی ہو گی اگر ہم اِس کا اطلاق آخری ایام پر بھی کریں؟ اِس ناتے سے یہ اسرائیل قوم کے آخری طوفان کی تصویر ہے اور اِس کے بعد وہ سلامتی کی بادشاہی میں داخل ہو جائے گی۔ یہ طوفان بڑی مصیبت کی نشاندہی کرتا ہے۔ سمندر مضطرب اور بے چین غیراقوام کی علامت ہے۔ ملاح بنی اسرائیل قوم ہیں جو یعقوب کی مصیبت کے ایام میں دیگر قوموں میں مارے مارے پھرتے رہے۔ قوم کا ایک ایماندار بقیہ خداوند کی طرف رجوع کرتا ہے۔ تب خدا شخصی طور پر مداخلت کرتا ہے تاکہ دُنیا میں واپس آ کر سلامتی اور خوش حالی کی حکومت قائم کرے۔ 

حکومت اور خدا کا فضل (‏۱۰۷ :‏ ۳۳۔۴۳)‏

۱۰۷:‏ ۳۳‏، ۳۴ زبور کی باقی ماندہ آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ جب اُس کے لوگ نافرمانی کرتے اور پھر فرماں برداری کرتے ہیں تو اِس کا کیا رد عمل ہوتا ہے۔ اپنی قدرتِ کاملہ سے وہ دریاؤں کو خشک کر دیتا اور چشموں کو سکھا دیتا ہے۔ جب لوگ اُسے رد کر دیتے ہیں تو زرخیز زمین کو صحرائے شور بنا دینا اُس کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

۱۰۷:‏ ۳۵۔۳۸ لیکن وہ اپنے لائحہ عمل کو بدل بھی سکتا ہے اور جب سلامتی کا شہزادہ ہزار سالہ دَور میں بادشاہی کے لئے واپس آئے گا تو بالکل یہی ہو گا۔ نجب میں کثرت سے پانی کے چشمے جاری ہو جائیں گے۔ ریگستان ایسا باغ ہو گا کہ اُسے بہت اچھی طرح سے سیراب کیا جائے گا۔ جو مقامات صدیوں سے بے آباد پڑے ہیں‏، وہاں رہائشی منصوبے قائم کر دیئے جائیں گے۔ بیابان اچانک قابل کاشت بن جائیں گے۔ اجناس‏، سبزیوں اور پھلوں کی بکثرت پیداوار ہو گی۔ اُس کی برکت سے ہر جگہ فصلیں وافر مقدار میں اپنا حاصل دیں گی اور چوپائے بیمار نہ ہوں گے۔

۱۰۷:‏ ۳۹۔۴۳ تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ وہ شریر حکمرانوں سے کس طرح پیش آتا ہے۔

’’پھر ظلم و تکلیف اور غم کے مارے وہ گھٹ جاتے اور پست ہو جاتے ہیں۔ وہ اُمرا پر ذلت انڈیل دیتا ہے اور اُن کو بے راہ ویرانے میں بھٹکاتا ہے۔‘‘ 

یہ فرعون‏، ہیرودیس اور ہٹلر کا مقدر تھا اور بڑی مصیبت کے وقت یہ بدکار حکومت کا مقدر بھی ہو گا۔

خدا محتاج کو مصیبت سے نکالتا اور اُسے بڑا گھرانا عطا کر کے برکت دیتا ہے۔ جب نیک لوگ یہ دیکھتے ہیں تو وہ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں اور جب بے دین اور شریر لوگ دیکھتے ہیں تو وہ ہکا بکا رہ جاتے ہیں۔

دانا لوگ قوموں اور انسانوں کے مقدر کے پیچھے خدا کا ہاتھ دیکھیں گے اور وہ تاریخ اور حالاتِ حاضرہ سے سبق سیکھیں گے۔ خصوصی طور پر وہ خداوند کی شفقت پر غور کریں گے کہ اُس کا اُن لوگوں سے کیسا سلوک ہے جو اُس کے کلام پر عمل کرتے ہیں۔

مقدس کتاب

۱ خُداوند کا شُکر کرو کیونکہ بھلا ہے۔اور اپسکی شفقت ابدی ہے۔
۲ خُداوند کے چُھڑائے ہُوئے یہی کہیں۔جِنکو اُس نے فدیہ دے کر مُخالِف کے ہاتھ سے چُھڑالیا۔
۳ اور اُن کو مُلک مُلک سے جمع کیا۔ پُورب سے اور پّچھم سے ۔ اُتّر سے اور دکِھّن سے ۔
۴ وہ بیابان میں صحرا کے راستے پر بھٹکتے پھرے۔ اُنکو بسنے کے لئے کوئی شہر نہ ملا۔
۵ وہ بھوکے اور پیاسے تھےاور اُن کا دِل بیٹھا جاتا تھا۔
۶ تب اپنی مُصیبت میں اُنہوں نے خُداوند سے فریاد کی۔ اور اُس نے اُنکو اُنکے دُکھوں سے رہائی بخشی۔
۷ وہ اُنکو سیدھی راہ سے لے گیا۔ تاکہ بسنے کے لئے کِسی شہر میں جاپہنُچیں۔
۸ کاشکہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اُسکے عجائب کی خاطر اُسکی ستایش کرتے!
۹ کیونکہ وہ ترستی جان کو سیر کرتا ہے۔اور بھوکی جان کو نعمتوں سے مالامال کرتا ہے۔
۱۰ جو اندھیرے اور مَوت کے سایہ میں بیٹھے مُصیبت اور لوہے سے جکڑے ہوئے تھے۔
۱۱ چونکہ اُنہوں نے خُداوند سے سرکشی کی اور حق تعالیٰ کی مشورت کو حقیر جانا۔
۱۲ اِسلئے اُس نے اُنکا دِل مُشقّت سے عاجز کر دیا۔ وہ گِر پڑے اور کوئی مددگار نہ تھا۔
۱۳ تب اپنی مُصیبت میں اُنہوں نے خُداوند سے فریاد کی اور اُس نے اُنکو اُنکے دُکھوں سے رہائی بخشی۔
۱۴ وہ اُنکو اندھیرے اور موَت کے سایہ سے نکال لایا اور اُنکے بندھن توڑ ڈالے۔
۱۵ کاشکہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اُسکے عجائب کی خاطر اُسکی ستایش کرتے!
۱۶ کیونکہ اُس نے پیتل کے پھاٹک توڑ دئے۔ اور لوہے کے بینڈوں کو کاٹ ڈالا۔
۱۷ احمق اپنی خطاؤں کے سبب سے اور اپنی بدکاری کے سبب مُصیبت میں پڑتے ہیں۔
۱۸ اُنکے جی کو ہر طرح کے کھانے سے نفرت ہو جاتی ہے۔ اور وہ موت کے پھاٹکوں کے نزدیک پہنچ جاتے ہیں۔
۱۹ تب وہ اپنی مُصیبت میں خُدا وند سے فریاد کرتے ہیں اور وہ اُنکو اُنکے دُکھوں سے رہائی بخشتا ہے۔
۲۰ وہ اپنا کلام نازل فرما کر اُن کو شفا دیتا ہے اور اُن کو اُنکی ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے۔
۲۱ کاشکہ لوگ خُداوند کی شفقت کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اُسکے عجائب کی خاطر اُسکی ستایش کرتے!
۲۲ وہ شُکر گُزاری کی قُربانیاں گُذرانیں۔ اور گاتے ہوئے اُس کے کامون کا بیان کریں۔
۲۳ جو لوگ جہازوں میں بحر پر جاتے ہیں اور سُمندر پر کاروبار میں لگے رہتے ہیں۔
۲۴ وہ سُمندر میں خُداوند کے کاموں کو اور اُسکے عجائب کو دیکھتے ہیں۔
۲۵ کیونکہ وہ حُکم دے کر طوفانی ہوا چلاتا ہے جو اُس میں لہریں اُٹھاتی ہے۔
۲۶ وہ آسمان تک چرھتے اور گہراو میں اُترتے ہیں پریشانی سے اُنکا دِل پانی پانی ہو جاتا ہے۔
۲۷ وہ جھومتے اور متوالے کی طرح لڑکھڑاتے اور حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔
۲۸ تب وہ اپنی مُصیبت میں خُداوند سے فریاد کرتے ہیں اور وہ اُنکو اُنکے دُکھوں سے رہائی بخشتا ہے۔
۲۹ وہ آندھی کو تھما دیتا ہے اور لہریں موقوف ہو جاتی ہیں۔
۳۰ تب وہ اُس کے تھم جانے سے خُوش ہوتے ہیں۔یُوں وہ اُن کو بندرگاہِ مقصُد تک پہنچا دیتا ہے۔
۳۱ کاشکہ لوگ خُداوند کی ستایش کی خاطر اور بنی آدم کے لئے اُس کے عجائب کی خاطر اُسکی ستایش کرتے!
۳۲ وہ لوگوں کے مجمع میں اُس کی بڑائی کریں اور بزرگوں کی مجلس میں اُسکی حمد۔
۳۳ وہ دریاؤں کو بیابان بنا دیتا ہے۔ اور پانی کے چشموں کو خُشک زمین ۔
۳۴ وہ زرخیز زمین کو صحِرایِ شور کر دیتا ہے۔ اِسلئے کہ اُسکے باشندے شریر ہین۔
۳۵ وہ بیابان کو جھیل بنا دیتا ہے۔اور خُشک زمین کو پانی کے چشمے۔
۳۶ وہاں وہ بھوکوں کو بساتا ہے۔تاکہ بسنے کے لئے شہر تیار کریں۔
۳۷ اور کھیت بوئیں اور تاکِستان لگائیں۔ اور پیداوار حاصِل کریں۔
۳۸ وہ اُنکو برکت دیتا ہے اور وہ بہت بڑھتے ہیں اور وہ اُنکے چَوپایوں کو کم نہیں ہونے دیتا۔
۳۹ پھِر ظُلم و تکلیف اور غم کے مارے وہ گھٹ جاتے اور پست ہو جاتے ہیں۔
۴۰ وہ اُمرا پر زِلّت اُنڈیل دیتا ہے۔اور اُنکو بے راہ ویرانہ میں بھٹکاتا ہے۔
۴۱ تَو بھی وہ مُحتاج کو مُصیبت سے نکال کر سرفراز کرتا ہے۔ اور اُس کے خاندان کو ریوڑ کی طرح بڑھاتا ہے۔
۴۲ راستباز یہ دیکھ کر خُوش ہُوں گے اور سب بدکاروں کا مُنہ بند ہو جائیگا ۔
۴۳ دانا اِن باتوں پر توجّہ کریگا اور وہ خُداوند کی شفقت پر غور کرینگے۔