زبُور ۱۲۴

زبور ۱۲۴ :‏ اگر خداوند ہماری طرف نہ ہوتا

۱۲۴:‏۱ ’’اگر خداوند ہماری طرف نہ ہوتا …‘‘

سب کچھ کا انحصار اِس پر تھا کہ خداوند اُن کی طرف ہو اور خدا کا شکر ہے کہ وہ واقعی اُن کی طرف تھا۔

غالباً یہودیوں کے علاوہ کوئی اَور ایسی قوم نہیں جو اتنی دفعہ بال بال بچ گئی۔ قوانینِ قدرت کے مطابق تو اُنہیں بہت پہلے ختم ہو جانا چاہئے تھا۔ اگر ہم محاصروں‏، قتلِ عام‏، گیس چیمبروں‏، آگ کی بھٹیوں اور بموں کو یاد کریں تو یہ ایک معجزہ ہے کہ وہ آج اتنی تعداد میں زندہ ہیں۔ اِس کی ایک واضح وجہ یہ ہے کہ خداوند اُن کی طرف تھا۔ 

افسوس کہ قوم اِس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھی۔ اکثر اوقات اُنہوں نے فتوحات کو اپنی چالاکی اور طاقت سے منسوب کر لیا۔ لیکن ہمیشہ ایسے دیندار یہودی تھے جنہیں احساس تھا کہ خداوند کے بغیر اُن کا وجود ختم ہو جاتا۔

۱۲۴:‏ ۲۔۵ زبور نویس اُن دنوں کے بارے میں سوچتا ہے جب دشمن بڑی تعداد میں بہتر اسلحہ سے لیس اسرائیل کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ خوراک کی بہم رسانی خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی۔ طبی وسائل جاتے رہے۔ ذرائع مواصلات کٹ گئے۔ جو کچھ موجود تھا اُسی میں سے ضروریات پوری کرنی تھیں۔ وہ مکمل طور پر گر چکے تھے۔ اُن کے دشمن اُنہیں سمندر میں دھکیل دینا چاہتے تھے۔ رہائی کے آثار کم تھے۔

۱۲۴:‏ ۶‏، ۷ وحشی درندوں کی مانند دشمن اُنہیں زندہ نگل جانا چاہتے تھے۔ وہ غیر اقوام کی فوجی قوت سے تباہ ہونے والے تھے۔ 

لیکن غیر متوقع طور پر کچھ وقوع پذیر ہوا۔ خداوند نے دشمن کو آپس میں لڑا دیا۔ اُنہیں یہودیوں کے بارے میں غلط رپورٹیں دی گئیں۔ یا کسی لیڈر کی موت پر وہ پریشان ہو گئے یا جب وہ فتح کے قریب پہنچ چکے تھے تو جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔

لیکن دوسری طرف خداوند نے یہودیوں کو غیر متوقع خوراک کے ذخائر دے دیئے یا خداوند نے کہیں باہر سے اُنہیں مدد دلا دی۔ ہر صورت میں حالات کی تبدیلی اِس قدر عظیم تھی کہ یہ صرف خدا کے ہاتھوں سے ممکن تھا۔ 

روحانی عقل کے حامل لوگ اپنی پُراسرار اور معجزانہ مخلصی کے لئے خداوند کے نام کو جلال دیتے ہیں۔ غیر قوم وحشی درندے‏، اسرائیل کے چھوٹے گلے کو نگل نہ سکے۔ خدا کے لوگ اُس گھات سے بچ گئے جو اُن کے غیر قوم چڑی ماروں نے اُنہیں پھنسانے کے لئے لگائی تھی۔ جال ٹوٹ گیا‏، یہودیوں کو باندھنے والی لوہے کی زنجیریں ٹوٹ گئیں اور ایک بار پھر وہ بچ نکلے۔

۱۲۴:‏ ۸ عاجزی اور شکر گزاری سے وہ یوں اقرار کرتے ہیں:‏ 

’’ہماری مدد خداوند کے نام سے ہیں جس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔‘‘

تاہم خدا کے معجزات پر اسرائیل کی کوئی اجارہ داری نہیں ہے۔ کلیسیا بھی اِس زبور کا اطلاق اپنے اُوپر کر سکتی ہے۔ خدا نے اِسے بھی بہت دفعہ عین وقت پر نجات دی۔ اور ایماندار انفرادی طور پر جانتے ہیں کہ اگر خداوند اُن کی طرف نہ ہوتا تو دنیا‏، جسم اور شیطان اُنہیں کلی طور پر محکوم کر لیتے۔

مقدس کتاب

۱ اب اِسرائؔیل یوں کہے اگر خپداوند ہماری طرف نہ ہوتا۔
۲ اگر خُداوند اُس وقت ہماری طرف نہ ہوتا۔ جب لوگ ہمارے خلاف اُٹھے۔
۳ تو جب اُنکا قہر ہم پر بھڑکا تھا۔ وہ ہم کو جیتا ہی نِگل جاتے۔
۴ اُس وقت پانی ہمکو ڈبو دیتا۔ اور سِلاب ہماری جان پر سے گُذر جاتا۔
۵ اُس وقت مُوجزن پانی ہماری جان پر سے گُذر جاتا۔
۶ خُداوند مُبارِک ہو۔ جِس نے ہمیں اُنکے دانت کا شِکار نہ ہونے دیا۔
۷ ہماری جان چڑیا کی مانند چڑیماروں کے جال سے بچ نکلی۔ جال تو ٹوٹ گیا اور ہم بچ نکلے۔
۸ ہماری مدد خُداوند کے نام سے ہے۔ جِس نے آسمان اور زمین کو بنایا۔