زبور ۸۵: ہمیں پھر سے بحال کر!
بحالی کے لئے یہ دعا چار واضح حصوں میں تقسیم کی جا سکتی ہے:
- اسرائیل کی بحالی کی ماضی کی مثال (آیات ۱۔۳)
- التجا کہ خدا پھر سے بحال کرے (آیات ۴۔۷)
- وقفہ: خداوند کیسے جواب دے گا (آیات ۸۔۹)
- مستقبل میں بحالی کے لئے وعدہ (آیات ۱۰۔۱۳)
یہاں پر اسرائیل کی کسی خصوصی بحالی کی نشاندہی کرنا مشکل ہے۔ یہ بابلی اسیری کے بعد کی بحالی نہیں کیونکہ بنی قورح کا اِس دَور سے پہلے کا تعلق تھا۔ لیکن واقعہ کی نشاندہی اِس قدر اہمیت کی حامل نہیں۔ اہم بات تو یہ ہے کہ خدا نے ایسا کیا ہے۔ اور اگر اُس نے ایک بار ایسا کیا تو یقیناًآئندہ بھی ایسا کرے گا۔
۸۵: ۱۔۳ یہاں اُس وقت کی بحالی کا ذکر کیا گیا ہے جب خداوند ملک پر مہربان تھا اور جب اُس نے یعقوب کے حالات کو بحال کیا۔ اِس بحالی سے پہلے تین کاموں کا ذکر ہے۔ پہلا، گناہوں کا اقرار تھا۔ گو اِس کا واضح طور پر بیان نہیں کیا گیا، لیکن لازم ہے کہ اقرار دوسرے کاموں سے پہلے کیا جائے۔ دوسرا کام یہ تھا کہ خدا نے اپنے لوگوں کی بدکاری معاف کر دی اور تیسرا کام یہ تھا کہ خدا نے اپنا غضب بالکل اُٹھا لیا۔
۸۵: ۴ خدا کے معاف کرنے والے فضل کا گذشتہ اظہار، اِس التجا کی بنیاد ہے کہ وہ دوبارہ معاف کرے۔ ایمان کے لئے خدا کے گذشتہ کام کافی نہیں ہیں بلکہ وہ خدا کو حالیہ واقعات میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ گو زبور نویس اقرارِ گناہ نہیں کرتا، تاہم یہ اِس دعا میں شامل ہے: ’’ہم کو بحال کر …‘‘ جب خدا بحال کرتا ہے تو وہ سب سے پہلے لوگوں کو توبہ کی طرف مائل کرتا ہے، پھر وہ گناہوں کو معاف کرتا ہے اور اِس کے بعد وہ سزا کو ختم کر دیتا ہے۔
۸۵: ۵ خدا سے دُوری میں گزارا ہوا وقت، ہر ایماندار کو مصیبت کا ایک لا متناہی دورانیہ لگتا ہے۔ لیکن اسرائیل کی زبان پر جسے صدیوں کی ایذا رسانی اور پراگندگی کا تجربہ ہوا ہے آیت ۵ میں مذکور التجا اَور زیادہ دل دوز لگتی ہے: ’’کیا تُو سدا ہم سے ناراض رہے گا؟ کیا تُو اپنے قہر کو پشت در پشت جاری رکھے گا؟‘‘
۸۵:۶ روحانی زوال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کی خوشی چھن جاتی ہے۔ ٹوٹی ہوئی رفاقت کا یہ مطلب ہے کہ ایماندار نغمہ سے محروم ہو جاتا ہے۔ گناہ کا اقرار نہ کرنا اور شادمانی دونوں اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ یہاں دعا پَر لگا کر آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ ’’کیا تُو ہم کو پھر زندہ نہ کرے گا تاکہ تیرے لوگ تجھ میں شادمان ہوں؟‘‘ روحانی بیداری سے خوشی کی گھنٹیاں پھر سے بجنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر ایک عظیم بیداری میں حمدو ستائش شامل ہوتی ہے۔
۸۵: ۷ جب خدا اپنے لوگوں کو بحال کرتا ہے تو یہ اُس کی شفقت کا پُرفضل اظہار ہے۔ محبت ہمیں تادیب کرتی ہے، ہمیں ضبط سکھاتی ہے، ہماری درستی کرتی ہے اور بالآخر ہمیں واپس لاتی ہے۔ یہ کس قدر ثابت قدم محبت ہے جو ہماری ہر طرح کی گمراہی اور برگشتگی اور نافرمانی کو برداشت کرتی ہے۔ خداوند کی محبت کی مانند اَور کوئی محبت نہیں ہے۔
بیداری کا مطلب خداوند کی طرف سے نجات ہے۔ یہاں نجات سے مراد روح کی نجات نہیں بلکہ ہر طرح کی بے وفائی، پراگندگی، غلامی، مصیبت، کمزوری اور ناخوشی سے مخلصی ہے۔
۸۵: ۸، ۹ زبور نویس فضل کے تخت کے سامنے بحالی کی درخواست لانے کے بعد جواب کا انتظار کرتا ہے۔ وہ پُراعتماد ہے کہ یہ سلامتی کا جواب ہو گا اور یہ جواب بہت جلد ملے گا۔ اُس کے اعتماد کی بنیاد اِس حقیقت پر ہے کہ عہد پر قائم رہنے والا خدا ہمیشہ اُن لوگوں سے جو دل سے اُس کی طرف رجوع کرتے ہیں، سلامتی کی باتیں کہتا ہے اور جو اُس سے ڈرتے ہیں اُنہیں مخلصی دیتا ہے، لیکن وہ حماقت کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ اور اِس کا واضح نتیجہ یہ ہے کہ مُلک میں جلال بستا ہے۔ یہاں جلال سے مراد خدا کا جلال ہے اور اِس خیال کو پیش کیا گیا ہے کہ خداوند پر بھروسا کیا جا سکتا ہے کہ جب اُس کے لوگ اُس کے ساتھ رفاقت رکھیں گے، تو وہ اُن کے درمیان سکونت کرے گا۔
۸۵: ۱۰ شفقت اور راستی باہم مل گئی ہیں۔ انسانی معاملات میں سچائی کے تقاضوں کی سخت پابندی عموماً محبت اور شفقت کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔ لیکن خدا اِس لئے اپنے لوگوں پر اپنی شفقت نازل کر سکتا ہے کیونکہ یسوع نے صلیب پر سچائی کے تمام تقاضوں کو پورا کر دیا ہے۔ اِنہی معنوں میں صداقت اور سلامتی نے ایک دوسری کا بوسہ لیا ہے۔ ایماندار خدا کے ساتھ صلح سے لطف اندوز ہوتا ہے، کیونکہ نجات دہندہ نے اپنے فدیہ کے ذریعے اِلٰہی انصاف کے تمام تقاضوں کو پورا کر دیا ہے۔
۸۵: ۱۱۔۱۳ راستی یا وفاداری زمین سے نکلتی ہے اور صداقت آسمان پر سے جھانکتی ہے۔ جب ایماندار اپنے ابدی محبوب سے مخلص ہے، تو آسمان صداقت سے اِس پر کثرت سے برکتیں نازل کرے گا۔ خداوند جو اپنے وعدوں میں سچا ہے وہ جو کچھ اچھا ہے وہی عطا فرمائے گا۔ جو راستی سے چلتے ہیں وہ اُنہیں کسی اچھی چیز سے محروم نہیں رکھتا (زبور ۸۴:۱۱)۔ خشک سالی اور قحط کے حالات ختم ہو جاتے ہیں اور زمین کثرت سے پیداوار دیتی ہے۔ جب خداوند اپنے ملک میں آتا ہے تو وہ اپنے لوگوں کے درمیان آتا ہے، جن کی راست باز زندگیاں اخلاقی طور پر اُس کی حضوری کے لئے تیار ہیں۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! تُو اپنے مُلک پر مہربان رہا ہے ۔ تُو یعقُوب کو اسیری سے وآپس لایا ہے۔
۲ تُو نے اپنے لوگوں کی بدکاری معُاف کردی ہے۔ تُو نے اُنکے سب گُناہ ڈھانک دِئے ہیں۔
۳ تُو نے اپنے غضب بالکُل اُٹھا لیا ۔ تُو اپنے قہرِ شدید سے باز آیا ہے۔
۴ اَے ہمارے نجات دینے والے خُدا! ہمکو بحال کر۔ اپنے غضب ہم سے دُور کر۔
۵ کیا تُو سدا ہم سے ناراض رہیگا؟ کیا تُو اپنے قہر کو پشت در پُشت جاری رکھیگا؟
۶ کیا تُو ہمکو پھر زِندہ کریگا تاکہ تیرے لوگ تجھ میں شادمان ہوں ؟
۷ اَے خُداوند! تُو اپنی شفقت ہمکو دکھا اور اپنی نجات ہمکو بخش۔
۸ میَں سنُونگا کہ خُداوند خُدا کیا فرماتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے لوگوں اور اپنے مُقدسوں سے سلامتی کی باتیں کریگا۔ پر وہ پھِر حماقت کی طرف رُجُوع نہ کریں۔
۹ یقیناً اُسکی نجات اُس سے ڈرنے والوں قریب ہے تاکہ جلال ہمارے مُلک میں بسے۔
۱۰ شفقت اور راستی باہم مِل گئی ہیں صداقت اور سلامتی نے ایک دوُسرے کا بوسہ لیا ہے۔
۱۱ راستی زمین سے نکلتی ہے اور صداقت آسمان پر سے جھانکتی ہے۔
۱۲ جو کچھ اچّھا ہے وہی خُداوند عطا فرمائے گا اور ہماری زمین اپنی پیداوار دیگی۔
۱۳ صداقت اُسکے آگے آگے چلیگی اور اُسکے نقشِ قدم کو ہماری راہ بنائیگی۔