زبور ۱۴۱: دعا لوبان کی مانند ہے
۱۴۱: ۱ زبور کے شروع میں داؤد دعا کرتا ہے کہ اُس کی دعا سنی اور قبول کی جائے۔ جب اُس کی درد ناک فریاد پَر لگا کر آسمان کی طرف جاتی ہے، تو وہ التجا کرتا ہے کہ خداوند اُس کے پاس جلدی آئے اور توجہ سے اُس کی فریاد کو سنے۔
۱۴۱: ۲ یہ آیت بہت ہی خوبصورت ہے۔ اُس کی یہ درخواست ہے کہ اُس کی دعا لوبان کی طرح خوشبودار ہو اور خدا کو پسند آئے اور جب وہ دعا کے لئے اپنے ہاتھ اُٹھائے تو خداوند پر اُس کے اثرات شام کی قربانی کی طرح ہوں۔
۱۴۱: ۳، ۴ لیکن اِس کے بعد وہ عمومی درخواستوں سے خصوصی درخواستوں کی طرف آتا ہے۔اُس کی پہلی بڑی خواہش یہ ہے کہ وہ کام اور کلام میں بے دین کا ساتھی نہ ہو۔ وہ دعا کرتا ہے کہ اُس کے منہ پر محافظ بٹھایا جائے تاکہ وہ اُسے غلط بات سے روکے اور اُس کے لبوں کے دروازے کو ایسی گفتگو سے باز رکھے جس کے ذریعے خدا کی تعظیم نہ ہو۔ وہ یہ دعا بھی کرتا ہے کہ خداوند اُسے ایسا دل عطا کرے جو شریروں کے بُرے کاموں میں شریک نہ ہو۔ وہ اُن کے فائدوں میں اُن کا ساتھ نہیں بننا چاہتا، خواہ کتنے ہی دلکش اور دل فریب کیوں نہ ہوں۔
۱۴۱: ۵ عقل مند لوگ دیندار دوستوں کی ملامت، تنقید اور مشوروں کو قبول کرتے ہیں۔ ہم اکثر اپنی ذاتی غلطیوں کو واضح طور پر نہیں دیکھ سکتے جس قدر ہم اُنہیں دوسروں میں دیکھ سکتے ہیں۔ جنہیں حقیقت میں ہماری فکر ہوتی ہے صرف وہی ہمارے نقائص اور غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ اُن کی طرف سے تو مہربانی ہے اور ہم اِسے دوا کی طرح قبول کریں۔
’’کیونکہ اُن کی شرارت میں بھی مَیں دعا کرتا رہوں گا۔‘‘
یہ تعلق اچانک سا ہے، لیکن اِس کا مطلب یہ ہے کہ داؤد دوبارہ آیت ۴ میں مذکور شریر شخص کی طرف مڑ جاتا ہے۔ ڈاربی اِس کا یوں ترجمہ کرتا ہے ’’لیکن اِس کے باوجود مَیں اُن کی مصیبتوں میں اُن کے لئے دعا کرتا ہوں۔‘‘ یہاں تصور یہ ہے کہ وہ اُن کے لئے دعا کرتا ہے جو مہربانی سے اُسے ملامت کرتے ہیں،جب اُن کی زندگی میں مصیبت آتی ہے۔ بعض اِس کا یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ زبور نویس اپنے دشمنوں کی مصیبتوں میں اُن کے لئے دعا کرتا ہے، لیکن ایسے فراخ دلانہ مسیحی رویے کی آیت ۱۰ میں تردید کی گئی ہے۔
۱۴۱: ۶ ’’اُن کے حاکم چٹان کے کناروں پر سے گرا دیئے گئے ہیں اور وہ میری باتیں سنیں گے کیونکہ وہ شیریں ہیں۔‘‘
اُن کے حاکموں سے مراد یہاں شرارتی ٹولے کے قائد ہیں۔ اور جب وہ اپنے انجام کو پہنچیں گے تو باقی گناہ گاروں کو احساس ہو گا کہ داؤد کی باتیں درست تھیں۔
۱۴۱: ۷ جس طرح کوئی شخص ہل چلا کر زمین کو توڑتا پھوڑتا ہے اُسی طرح ہماری ہڈیاں قبر کے منہ پر بکھری ہوتی ہیں۔
لگتا ہے کہ یہاں پر اسرائیل کے دشمنوں کے بارے میں مضمون تبدیل ہوتا ہے اور یہودیوں کے بارے میں بات شروع ہوتی ہے۔ اُن کی ایذا رسانی ایسے تھی جیسے کوئی زمین میں ہل چلاتا ہے۔ اور اب صورتِ حال ایسی ہے کہ اُس کے ڈھانچوں کے سوا کچھ نہیں بچا اور پاتال ہڈیوں کو نگلنے کے لئے منہ کھول کر انتظار کرتا ہے۔ یہ ہمیں حزقی ایل کی خشک ہڈیوں کی رویا کی یاد دلاتا ہے، جس میں اسرائیل کے حوالے سے بات کی گئی ہے (حزقی ایل ۳۷: ۱۔۱۴)۔
۱۴۱: ۸۔۱۰ آخری تین آیات میں زبور نویس اپنی مخلصی اور اپنے دشمنوں کی سزا کے لئے دعا کرتا ہے۔ اور وہ صرف اور صرف خداوند سے توقع کرتا ہے۔ اُس کی اُمید یہ ہے کہ صرف خدا ہی اُس کی پناہ گاہ ہے اور وہی اُس کا دفاع کرتا ہے۔ اِس لئے وہ دعا کرتا ہے کہ اُسے بے دینوں کے بڑی چالاکی اور عیاری سے لگائے ہوئے دام سے مخلصی ملے اور وہ خود اُس میں پھنس جائیں۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند میَں نے تیری دُہائی دی ہے۔ میری طرف جلد آ۔ جب میَں تجھ سے دُعا کروں تُو میری آواز پر کان لگا۔
۲ میری دُعا تیرے حُضُور بخور کی مانند ہو۔ اور میرا ہاتھ اُٹھانا شام کی قُربانی کی مانند ۔
۳ اَے خُداوند! میرے مُنہ پر پہرا بٹھا۔ میرے لبوں کے دروازہ کی نگہبانی کر۔
۴ میرے دِل کو کِسی بُری بات کی طرف مائل نہ ہونے دے کہ بدکاروں کے ساتھ ملکر شرارت کے کاموں میں مصروف ہو جائے اور مجھے اُنکے نفیس کھانوں سے باز رکھ۔
۵ صادِق مجھے مارے تو مہربانی ہو گی۔ وہ مجھے تنبیہ کرے تو گویا سر پر روغن ہو گا۔ میرا سر اِس سے اِنکار نہ کرے۔ کیونکہ اُنکی شرارت میں بھی میَں دُعا کرتا رہونگا۔
۶ اُنکے حاکم چٹان کے کناروں پر سے گِرا دئے گئے ہیں۔ اور وہ میری باتیں سُنینگے کیونکہ وہ شیرین ہیں۔
۷ جَیسے ہل چلا کر زمین کو توڑتا ہے ویسے ہی ہماری ہڈیاں پاتال کے مُنہ پر بکھری پڑی ہیں۔
۸ کیونکہ اَے مالک خُداوند ! میری آنکھیں تیری طرف ہیں۔ میرا توکل تجھ پر ہے۔ میری جان کو بے کس نہ چھوڑ۔
۹ مجھے اُس پھندے سے جو اُنہوں نے میرے لئے لگایا ہے اور بدکرداروں کے دام سے بچا۔
۱۰ شریر آپ اپنے جال میں پھنسیں اور میَں سلامت بچ نِکلوں۔