زبور ۱۴۳: دعا کی وسعت
یہ حیرت انگیز بات ہے کہ بارہ آیات پر مشتمل اِس زبور میں کتنے مختلف مضامین اور کیفیات ہیں:
۱۴۳: ۱ دعا کی شنوائی کے لئے عام درخواست ہے۔ ’’سن …کان لگا …جواب دے۔‘‘ داؤد التجا کرتا ہے کہ خدا اُسے اپنی وفاداری (اپنے وعدوں کے مطابق) اور اپنی صداقت میں (کیونکہ یہ اُس کے لئے راست ہے کہ اپنے بے یار و مددگار بندے کا دفاع کرے) اُسے جواب دے۔
۱۴۳: ۲ توبہ۔ وہ یہ نہیں چاہتا کہ خدا اُس کی عدالت کرے۔ یہ تو اُس کے لئے تباہ کن ہوتا۔ سب گناہ گار ہیں۔ ہر شخص اُس کامل راست بازی کو ظاہر کرنے سے قاصر ہے جس کا خدا تقاضا کرتا ہے۔ چنانچہ انسان کو خدا کے فضل پر تکیہ کرنا چاہئے۔
جب ہم خدا کے پاس غیر مستحق تائب کی حیثیت سے آتے، اپنے گناہوں کو مانتے اور مسیح کو قبول کرتے ہیں کہ وہ ہمیں گناہ سے نجات دیتا ہے، تب خدا اپنی راست بازی ہمارے حساب میں لکھ دیتا ہے اور ہم مسیح میں آسمان میں سکونت کرنے کے لائق ہو جاتے ہیں۔
۱۴۳: ۳ شدید بحران۔ صورتِ حال خوفناک ہے۔ دشمن بڑی بے رحمی سے اُس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے گویا کہ اُسے خاک میں ملا دیا گیا۔ اُس کے ستانے والوں نے اُسے تنہائی، تاریکی اور رُوپوشی میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے اور وہ قبروں میں پرانی لاشوں کی طرح معاشرے سے کٹ کر رہ گیا ہے۔
۱۴۳:۴ پریشانی۔ وہ پریشان ہے کہ اُس میں مزید قوتِ برداشت نہیں ہے۔ اُس کی جان نڈھال ہے اور اُس کا دل ہیکل ہے۔
۱۴۳: ۵ بیتے دنوں کی یاد۔ وہ ماضی کے اُن دنوں کے بارے میں سوچتا ہے جب خدا نے اپنے زور سے اُسے اور بنی اسرائیل کو مختلف موقعوں پر رہائی دی۔ وہ وقت اب کہاں ہیں؟
۱۴۳: ۶ جوش و ولولہ۔ اُس کی دعا پُرخلوص اور پُرجوش ہے، اور اِس کا اِظہار اِس بات سے ہوتا ہے کہ اُس کے ہاتھ خدا کی طرف پھیلے ہوئے ہیں۔
شدت۔ اُسے خدا کی اِس قدر تمنا ہے جیسے خشک زمین پانی کی پیاسی ہے۔
۱۴۳: ۷ فوری توجہ کی ضرورت۔ ضرور ہے کہ خداوند اُس کی مخلصی کے لئے جلدی کرے ورنہ وہ زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہے گا۔
حمایت کے لئے درخواست۔ غصے یا عدم دلچسپی سے خدا کا اپنے چہرے کو چھپانا موت کے مترادف ہو گا۔
۱۴۳: ۸ شفقت کے لئے اپیل۔ وہ بہت جلد خدا کی مستحکم محبت کے لہجہ اور الفاظ کو سننے کا آرزو مند ہے۔ ’’صبح کو …‘‘کا مطلب ہے کہ بہت جلدی یا بغیر کسی دیر کے۔
راہنمائی کے لئے درخواست۔ کسی نے کہا ہے کہ یہ ایک ایسی آیت ہے جو ہر ایک شخص کو زندگی کے اصول کے طور پر استعمال کرنا چاہئے: ’’مجھے وہ راہ بتا جس پر مَیں چلوں، کیونکہ مَیں اپنا دل تیری ہی طرف لگاتا ہوں۔‘‘ الٰہی راہنمائی بہت ضروری ہے۔ بات تو یہ ہے کہ ہم کسی بھی صورت میں راہ کو نہیں جانتے۔ ہم نہیں جانتے کہ ہمارے لئے زیادہ بہتر کیا ہے۔ صرف خدا کی راہنمائی میں گزاری ہوئی زندگی موثر اور پُرلطف ہوتی ہے۔
۱۴۳: ۹ مخلصی کے لئے التجا۔ دشمنوں کے خطرے کے باعث داؤد نجات اور تسکین کے لئے خداوند سے فریاد کرتا ہے۔ اُس نے تحفظ کے لئے کسی اَور پر نہیں بلکہ صرف خداوند پر بھروسا کیا ہے اور یہ بھروسا ہی اُس کی التجا کی بنیاد ہے۔
۱۴۳: ۱۰ ہدایت کے لئے اپیل۔ زبور نویس نہ صرف خدا کی مرضی کو جاننا چاہتا تھا (آیت ۸ ب) بلکہ وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اُس کے دل کی تربیت ہو تاکہ وہ اُس کی مرضی کے تابع رہے۔ خدا اُس کا خدا تھا اور اِس سے بڑھ کر کون سی مناسب بات تھی کہ مخلوق اپنے خالق کی فرماں برداری کرے۔
ہموار راستہ کے لئے دعا۔ ہر شخص کی زندگی میں نشیب و فراز ہوتے ہیں، اگرچہ ہر ایک شخص کی زندگی میں داؤد کی سی پتھریلی سڑک نہیں ہوتی۔ یہاں اُس کی خواہش یہ ہے کہ خداوند کی نیک روح اُسے ہموار راستوں پر لے چلے، جن میں ایسے خطرے اور پریشانیاں نہ ہوں جن سے وہ دوچار ہے۔
۱۴۳: ۱۱ تحفظ کے لئے دعا۔ اپنے تحفظ کو خدا کے جلال سے منسلک کرنے سے (’’اپنے نام کی خاطر‘‘) زبور نویس قادر مطلق کے دل اور ہاتھ کو زبردست تحریک دیتا ہے۔ اِسی طرح وہ خدا کی راست بازی سے اپیل کرتا ہے کہ اُسے مصیبت سے رہائی دلائی جائے۔ یہ ایک زور دار دعا ہے۔
۱۴۳: ۱۲ دشمنوں کو سزا۔ آخر میں وہ دعا کرتا ہے کہ خدا اُس کے دشمنوں کو ڈھونڈ نکالے اور اپنی رحمت کے اظہار کے طور پر اُنہیں ہلاک کر دے۔ اگر ہلاکت اور رحم ہمیں ہم آہنگ دکھائی نہ دے تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ :
شریر کی ہلاکت کائنات پر رحمت کا اظہار ہے، جیسے کہ کسی ڈاکو کی گرفتاری اور سزا معاشرے اور بنی نوع انسان کے لئے رحمت ہے۔ اِسی طرح ہر ایک قیدخانہ رحم اور انصاف کا اظہار ہے کیونکہ اِس سے معاشرے پر رحم اور مجرموں کا انصاف کیا جاتا ہے۔
داؤد کی آخری اپیل اِس حقیقت پر مبنی ہے کہ وہ یہوواہ کا بندہ ہے۔ وہ خداوند کی طرف ہے۔ وہ خداوند کی خدمت کر رہا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ صرف اپنے دشمنوں کو ختم کر دینے سے اپنی خدمت کو جاری رکھ سکے گا۔
مقدس کتاب
۱ اَے خُداوند! میری دُعا سُن۔ میری التجا پر کان لگا۔ اپنی وفاداری اور صداقت میں مجھے جواب دے۔
۲ اور اپنے بندہ کو عدالت میں نہ لا۔ کیونکہ تیری نظر میں کوئی آدمی راستباز نہیں ٹھہرسکتا۔
۳ اِسلئے کہ دُشمن نے میری جان کو ستایا ہے۔ اُس نے میری زندگی کو خاک میں ملا دیا۔ اور مجھے اندھیری جگہوں میں اُنکی مانند بسایا ہے جِنکو مرے مُدّت ہو گئی ہو۔
۴ اِسی سبب سے مجھ میں میری جان نڈھال ہے۔ اور میرا دِل مجھ میں بیَکل ہے۔
۵ میَں گُذشتہ زمانوں کو یاد کرتا ہوں۔ اور تیرے سب کاموں پر غور کرتا ہوں۔ اور تیری دستکاری پر دھیان کرتا ہوں۔
۶ میَں اپنے ہاتھ تیری طرف پھیلاتا ہوں۔ میری جان خُشک زمین کی مانند تیری پیاسی ہے۔
۷ اَے خُداوند! جلد مجھے جواب دے۔ میری روح گُداز ہو چلی۔ اپنا چہرہ مجھ سے نہ چھِپا۔ایسا نہ ہو کہ میَں قبر میں اُترنے والوں کی مانند ہو جاؤں۔
۸ صُبح کو مجھے اپنی شفقت کی خبر دے۔ کیونکہ میرا توکل تجھ پر ہے۔ مجھے وہ راہ بتا جِس پر میَں چلوں۔ کیونکہ میَں اپنا دِل تیری ہی طرف لگاتا ہوں۔
۹ اَے خُداوند! مجھے میرے دُشمنوں سے رہائی بخش کیونکہ میَں پناہ کے لئےتیرے پاس بھاگ آیا ہوں۔
۱۰ مجھے سِکھا کہ تیری مرضی پر چلوں اِسلئے کہ تُو میرا خُدا ہے۔ تیری نیک روح مجھے راستی کے مُلک میں لے چلے۔
۱۱ اَے خُداوند! اپنے نام کی خاطر مجھے زندہ کر۔ اپنی صداقت میں میری جان کو مُصیبت سے نکال۔
۱۲ اپنی شفقت سے میرے دُشمنوں کو کاٹ ڈال اور میری جان کے سب دُکھ دینے والوں کو ہلاک کر دے۔ کیونکہ میَں تیرا بندہ ہوں۔