کتابِ مقدس کی تفسیر
ہوسیع
Hosea
از
وِلیم میکڈونلڈ
اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا
Believer’s Bible Commentary
by
William MacDonald
This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.
© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —
مقدمه
’’ہوسیع کی کتاب میں گناہ کی حقیقت (گھنونے پن) کو ایسی صفائی سے دِکھایا گیا ہے اور خدا کی محبت کی قدرت کی ایسی عمدہ وضاحت کی گئی ہے کہ توجہ کو پوری طرح سے گرفت میں لے لیتی ہے۔ کوئی شخص نہیں کہ ہوسیع کے واقعے کو پڑھے اور دلی تکلیف کو محسوس نہ کرے۔ پھر آپ دُکھ کے اِس اِنسانی تجربے کو لامحدود (خدا) کی سطح پر لے جائیں اور جانیں کہ گناہ خدا کے دل کو زخمی کر دیتا ہے۔‘‘(جی۔ کیمبل مورگن۔ G. Campbell Morgan)
۱۔ کتبِ مُسلَّمہ میں منفرد مقام
ہوسیع کی کتاب بیانیہ یا کہانی سنانے کے انداز میں نہیں لکھی گئی تاہم اِس میں ایک کہانی موجود ہے۔ کہانی اور متن ایک دوسرے سے تانے بانے کی طرح مربوط ہیں۔ مختصراً یہ کہ ہوسیع نے جمر سے شادی کی اور ان کے تین بچے ہوئے __ یرزعیل، لورُحامہ اور لوعمی۔ جُمر بے وفا ہو گئی۔ اِس کے باوجود ہوسیع نے بڑی محبت سے اُسے تلاش کیا اور اُسے غلامی اور ذلت سے چھڑا کر واپس لایا۔
ہوسیع ۱:۲ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے ہوسیع نبی کو حکم دیا کہ ایک ایسی عورت سے شادی کرے جو کسبی (فاحشہ) یعنی بدکار تھی۔
بائبل مقدس کے اکثر قارئین کو یہاں اخلاقی لحاظ سے ایک اُلجھن یا مسئلہ نظر آتا ہے۔ کیا پاک خدا اپنے کسی نبی کو بدکار بیوی بیاہنے کو کہے گا؟ اور کیا اخلاق کا احساس رکھنے والا نبی یہ حکم مانے گا؟ اِس مسئلے کے کم سے کم تین حل پیش کئے گئے ہیں:
- پہلا حل یہ ہے۔ یہ ایک تمثیل ہے جو گنہگار اِسرائیل کے لئے خدا کی محبت کو ظاہر کرتی ہے۔ اسے لفظی معانی میں نہیں لینا چاہئے۔ البتہ اِس کا اُسلُوب بیانیہ ہے جیسا کہ یسعیاہ ۷: ۳ اور یرمیاہ ۱۳: ۱۱ کا ہے۔ وہ بھی نبیوں کو خدا کے براہِ راست اور قطعی حکم ہیں اور کوئی اُن کو تمثیلیں نہیں سمجھتا۔ اِس نقطۂ نظر کی حقیقت یہ ہے کہ کہانی گنہگار اِسرائیل کے لئے خدا کی محبت کی وضاحت کرتی ہے۔ غلطی یہ کہنے میں ہے کہ یہ فقط ایک کہانی ہے۔
- دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا نے واقعی حکم دیا اور ہوسیع نے تعمیل کی۔ متن سے تو براہِ راست ہمیں یہ مطلب ہی ملتا ہے۔ مورگن نے اِس کا ترجمہ یوں کیا ہے، ’’جب خداوند (یہوواہ) نے شروع میں ہوسیع سے (معرفت نہیں) کلام کیا …‘‘ وہ زور دے کر کہتا ہے کہ نبی ماضی میں خدا کے ساتھ اپنی بات چیت کو دیکھ رہا تھا۔ ہوسیع عملاً کہہ رہا تھا جب بہت پہلے میری خدمت شروع ہوئی، جب میری زندگی میں یہ المیہ داخل نہیں ہوا تھا تو یہوواہ مجھ سے ہم کلام ہوا اور اُسی نے حکم دیا تھا کہ مَیں جمر سے شادی کروں۔ اِس بیان سے واضح پتا چلتا ہے کہ عورت بدکار (کسبی) ہو گی لیکن اُس وقت ایسی نہ تھی۔ اِس کا یقینی مطلب ہے کہ خدا جانتا ہے کہ جمر کے دل میں کیا کیا امکانات ہیں اور فی الوقت وہ جمر کے کردار میں ظاہر ہوں گے اور یہ جانتے ہوئے خدا نے ہوسیع کو اُس سے شادی کرنے کا حکم دیا۔ مزید خدا یہ بھی جانتا تھا کہ اپنی نبوتی خدمت میں اُسے (ہوسیع کو) کیسا تجربہ ہو گا۔ جب ہوسیع نے جمر سے بیاہ کیا تو وہ کھلے بندوں گناہ کرنے والی عورت نہیں تھی اور بچے اُس کی بے وفائی سے پہلے کی اولاد تھے۔ البتہ مقصد تھا نجات۔ اور یہ مقصد اُن رنج دہ اور غم انگیز ذرائع کو بجا اور درست ثابت کرتا ہے جن کا تجربہ ہوسیع کو ہوا۔
اِس نظریے کے خلاف یہ حقیقت ہے کہ اگر جمر شادی سے پہلے بدکار تھی تو اِسرائیل کی کوئی اچھی مثیل نہیں تھی۔
- تیسرا نظریہ کہتا ہے کہ ہوسیع نے ایک پاکیزہ عورت سے بیاہ کیا اور وہ بعد میں کسبی بن گئی۔ اِس نظریے کے مطابق نبی اور اُس کی بیوی یہوواہ اور اُس کی بے وفا بیوی اِسرائیل کے بالکل صحیح مثیل ہیں۔ علاوہ ازیں یہ شادی کے بارے میں نبی (اور بائبل مقدس) کے شادی کے اعلیٰ مثالی معیار کے بھی مطابق ہے۔ اِس نظریے کے حامیوں کو یہ سمجھنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اگر جمر شروع ہی سے بدکار تھی تو ہوسیع کو اپنی تباہ شدہ ازدواجی زندگی پر اِتنا غم اور دُکھ کیوں برداشت کرنا پڑا۔
اِس کے خلاف ایک زبردست دلیل یہ ہے کہ ہوسیع ۱:۲ میں اُسے بیوی بنانے کے حکم ہی میں اُسے ایک بدکار بیوی کہا گیا ہے۔
ہم کسی بدکار عورت سے شادی کرنے سے سخت نفرت کرتے ہیں۔ ہمارا یہ رویہ خدا کے فضل کی مزید وضاحت کرتا ہے کہ وہ اِسرائیل (اور کلیسیا) کے گناہوں کو برداشت کرتا ہے حالانکہ وہ کسی نبی یا واعظ یا مبلغ کے مقابلے میں سراپا پاکیزگی ہے۔
ہم کسی بھی نظریے کو مانیں نبوت کے پیچھے جو کہانی ہے وہ برگشتہ اور گنہگار اِسرائیل کے لئے خدا کے حیرت افزا فضل کو اِتنی اچھی طرح واضح کرتی ہے کہ محض الفاظ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ فضل صرف اِسرائیل کے لئے نہیں بلکہ اُن تمام گنہگاروں کے لئے بھی ہے جو اپنی بُری رَوِشیں ترک کر کے محبت کے خدا کی طرف پھرتے تھے۔
۲۔ مصنف
ہوسیع بیری کا بیٹا تھا۔ اُس کے نام کا مطلب ہے نجات اور بنیادی طور پر یشوع اور اُس کی یونانی شکل یسوع ہی ہے۔ وہ اپنے کردار اور عمل میں اسم بامسمیٰ ثابت ہوا۔ اُس نے یہوواہ کی نجات کی پیش گوئی کی جو اُس وقت مکمل ہو گی جب یسوع اپنی بادشاہی قائم کرنے کو واپس آئے گا۔ ہوسیع نبی نے زیادہ تر اِسرائیل میں نبوت کی لیکن کچھ حوالے ہیں جو یہوداہ کے لئے بھی فکر مندی کا اِظہار کرتے ہیں۔
۳۔ سنِ تصنیف
ہوسیع نے اُس زمانے میں نبوت کی جب یوآس کا بیٹا یربعام دوم، اِسرائیل کا بادشاہ تھا اور عزیاہ اور یوتام اور آخز اور حزقیاہ یہوداہ میں بادشاہ ہوئے۔ اُس کی نبوت آٹھویں صدی قبل مسیح کی کئی دہائیوں پر محیط تھی۔ آر۔ کے۔ ہیریسن وثوق سے کہتا ہے کہ ہوسیع کی خدمت ۷۵۳ ق م سے ۷۲۲ ق م سامریہ کے زوال سے تھوڑا عرصہ پہلے تک رہی۔
۴۔ پس منظر اور موضوع
ہوسیع نے شمالی سلطنت پر اسور کی یلغار اور سقوطِ سامریہ کی پیش گوئی کی۔
جب نبی کی بیوی اُسے چھوڑ کر چلی گئی کہ گناہ کی شرم ناک زندگی گزارے تو خدا نے اپنے بندے کو حکم دیا کہ بازار میں جا کر اُسے خریدے اور مبارک حالی میں واپس لائے۔ اِس کا مقصد بلاشبہ یہ دکھانا تھا کہ خدا اِسرائیل کے ساتھ کیسا تعلق اور رِشتہ رکھتا ہے (اِسرائیل کو افرائیم، یعقوب اور سامریہ بھی کہا گیا ہے)۔ یہ قوم بے وفا ثابت ہوئی تھی۔ اور بت پرستی اور اخلاقی انحطاط میں پڑ گئی۔ اِسے بہت برسوں تک کسی بادشاہ، کسی قربانی یا بتوں کے بغیر رہنا تھا۔ یہ تھی اِس کی موجودہ حیثیت۔
مستقبل میں جب اِسرائیل توبہ کر کے خداوند کی طرف پھرے گا تو بے شک وہ رحم کرے گا۔ اُس وقت افرائیم اپنی بت پرستی اور برگشتگی سے ہمیشہ کے لئے شفایاب ہو گا اور خدا کی طرف رجوع ہو گا۔ Henry Gehman لکھتا ہے:
’’ہوسیع خدا کی ناتمام رحمت کو پیش کرتا ہے جسے اِنسان کا کوئی گناہ نہ روک سکتا اور نہ تھکا سکتا ہے۔ ہوسیع کا اہم اور مرکزی پیغام یہ ہے کہ اِسرائیل کے لئے خدا کی زبردست اور لامحدود محبت اُس وقت تک چین نہ لے گی جب تک اِسرائیل کو اپنی رفاقت میں نہ لے آئے۔‘‘
جی۔ کیمبل مورگن (Campbell Morgan) کے الفاظ میں تادیب اور سرزنش کے پیچھے محبت کا خدا ہے:
’’ہر ایک نبوت میں اعلیٰ ترین بات یہ ہے کہ یہ لوگ جس خدا کے اِتنا قریب تھے اور اِتنی اچھی طرح جانتے تھے وہ لامحدود محبت، شفقت اور ترس کرنے والا خدا ہے، جو ناراض ہوتا ہے کیونکہ محبت کرتا ہے اور اپنی محبت کی بنیاد پر قہر کا سلوک کرتا ہے اور اپنا دلی مقصد پورا کرنے کو غضب ناک ہوتا (عدالت کرتا) ہے۔ اِن حوالوں میں خدا کا دل دھڑکتا ہوا سنائی دیتا ہے۔‘‘
| خاکہ | |||
| باب | |||
| ۱۔ | اِسرائیل کا رَدّ کیا جانا جس کی تصویر ہوسیع کے تین بچوںکے ناموں میں پیش کی گئی ہے | ۱: ۱۔۹ | |
| ۲۔ | اِسرائیل کی بحالی کا وعدہ | ۱: ۱۰۔۲:۱ | |
| ۳۔ | اِسرائیل کی بے وفائی کے خلاف خدا کی آگاہی اور قہر و غضبکی دھمکی | ۲: ۲۔۱۳ | |
| ۴۔ | اِسرائیل کے لئے مستقبل میں مبارک حالی کی پیش گوئی | ۲: ۱۴۔۲۳ | |
| ۵۔ | ہوسیع کی بیوی کا فدیہ _ اسرائیل کے بالآخر یہوواہ کیطرف رجوع کرنے کی تصویر | ۳ | |
| ۶۔ | خدا کا اپنے لوگوں کے ساتھ جھگڑا | ۴۔۱۰ | |
| الف۔ | لوگوں کے گناہ | ۴: ۱۔۶ | |
| ب۔ | کاہنوں کے گناہ | ۴: ۱۱۷ | |
| ج۔ | لوگوں کی بت پرستی | ۴: ۱۲۔۱۴ | |
| د۔ | یہوداہ سے خاص اپیل | ۴: ۱۵۔۱۹ | |
| ہ۔ | کاہنوں، لوگوں اور شاہی خاندان کا بُرا رویہ | ۵: ۱۔۷ | |
| و۔ | اسرائیل اور یہوداہ کی موعودہ عدالت اور خدا کا ارادہ کہ اُن کی توبہ کا اِنتظارکرے ۔ | ۵:۸۔۱۵ | |
| ز۔ | اِسرائیل سے توبہ کرنے کی اپیل | ۶: ۱۔۳ | |
| ح۔ | اِسرائیل اور یہوداہ دونوں کی گناہ آلودگی | ۶: ۴۔۱۱ | |
| ط۔ | اسرائیل کی بدکرداری سے پردہ اُٹھایا جاتا ہے | ۷ | |
| ی۔ | آگاہی کہ بت پرستی اور غیر قوموں سے اتحاد کے باعثغیر قوم اُن پر حملہ کرے گی | ۸ | |
| ک۔ | پیش گوئی کہ گناہ کے باعث اِسرائیل اسیری میں جائے گا | ۹: ۱۔۱۰: ۱۵ | |
| ۷۔ | قہر کرنے میں خدا رحم کو یاد رکھتا ہے | ۱۱۔۱۳ | |
| ۸۔ | اسرائیل کو توبہ کرنے اور خدا کی برکت سے بہرہ مندہونے کی تلقین | ۱۴ | |