زبُور ۱۴۰

زبور ۱۴۰ :‏ شریر کے ہاتھوں سے

۱۴۰:‏ ۱۔۳ داؤد دشمن کی بدگوئی سے مخلصی کی دعا سے زبور کا آغاز کرتا ہے۔ تندخو لوگ اُس پر بہتان تراشی کر رہے تھے اور ظالم لوگ اُس کے خلاف مہلک منصوبے بنا رہے تھے۔ جنگ شروع کئے بغیر اُنہیں سکون نہیں تھا۔ اُنہوں نے اپنی زبانوں کو تیز کر رکھا تھا اور اُن کے ہونٹوں کے نیچے سے ہلاک کرنے والا زہر نکل رہا تھا۔ 

۱۴۰:‏ ۴‏، ۵ لیکن زبور نویس کو دشمن کے پھندوں سے تحفظ کی ضرورت بھی تھی۔ شریر لوگ پھندے لگانے کا گُر جانتے تھے۔ اُنہوں نے اُسے دام میں پھنسانے کے لئے طریقے ایجاد کر لئے تھے۔ اُنہوں نے اُس کی راہ میں پھندے اور رسیوں کو چھپا دیا۔ اُنہوں نے جال بچھا دیا تاکہ وہ اُس میں جکڑا جائے۔ اُنہوں نے تمام راہ میں پُرکشش پھندے لگا رکھے تھے۔

۱۴۰:‏ ۶۔۸ اور اُسے اُن کے قاتلانہ منصوبوں سے تحفظ کی ضرورت تھی۔ چنانچہ وہ خدا کے قریب آتا ہے۔ 

  • ذمہ داری کے ساتھ۔ ’’میرا خدا تُو ہی ہے۔‘‘
  • التجا کے ساتھ۔ ’’میری التجا کی آواز پر کان لگا۔‘‘
  • بھروسے کے ساتھ۔ ’’اے خداوند میرے مالک! اے میرینجات کی قوت۔‘‘
  • شکرگزاری کے ساتھ۔ ’’تُو نے جنگ کے دن میرے سر پر سایہکیا ہے۔‘‘ (‏جیسے ہیلمٹ کے ساتھ)‏
  • مناجات کے ساتھ۔ ’’اے خداوند! شریر کی مراد پوری نہ کر۔ اُسکے بُرے منصوبے کو انجام نہ دے۔‘‘

اِس آخری دعا کا مطلب ہے‏، ’’اُسے وہ حربہ استعمال نہ کرنے دے جسے وہ میرے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اُسے بُرے منصوبے کی تکمیل کی اجازت نہ دے۔‘‘ ہم جانتے ہیں کہ خدا کسی طرح کی بدی میں معاونت نہیں کرتا‏، لیکن یہاں پر خیال یہ ہے کہ محض اُس کی برداشت سے اُس کی تصدیق کا اظہار ہو گا۔

۱۴۰:‏ ۹۔۱۱ اِس کے بعد زبور نویس دعا کرتا ہے کہ حالات تبدیل ہو جائیں اور شریر اپنی شرارت میں پھنس جائیں۔ جن خوفناک مصیبتوں میں وہ اُسے پھنسانا چاہتے ہیں‏، وہ اُنہی پر نازل ہو جائیں اور جلتے ہوئے انگاروں کی اُن پر بارش ہو اور اُنہیں ایسے تاریک تہ خانوں میں ڈال دیا جائے جہاں سے اُن کے لئے راہِ فرار نہ ہو۔ وہ دعا کرتا ہے کہ تہمت لگانے والا کبھی زمین پر قائم نہ رہ سکے اور بغیر کسی التوا کے تند خو لوگ برباد ہو جائیں۔ 

۱۴۰:‏ ۱۲‏، ۱۳ یہ زبور خداوند پر بڑے اعتماد کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ خواہ کچھ بھی وقوع پذیر ہو‏، داؤد جانتا ہے کہ حق کی حکمرانی ہو گی‏، کہ خداوند مصیبت زدہ اور محتاج کے ساتھ ہے۔ راست باز ہمیشہ اُس کی مدد کے لئے اُس کی شکرگزاری کرے گا۔ راست باز ہمیشہ اُس کے حضور رہیں گے اور زندگی کی ساری مصیبتیں اُسے سوئی کی تھوڑی سی چبھن کی طرح محسوس ہوں گی۔ 

مقدس کتاب

۱ اَے خُداوند! مجھے بُرے آدمی سے رہائی بخش۔ مجھے تُند خُو آدمی سے محفوظ رکھ۔
۲ جو دِل میں شرارت کے منصوبے باندھتے ہیں وہ ہمیشہ مِلکر جنگ کے لئے جمع ہو جاتے ہیں۔
۳ اُنہوں نے اپنی زُبان سانپ کی طرح تیز کر رکھی ہے۔ اُنکے ہونٹوں کے نیچے افعی کا زہر ہے۔
۴ اَے خُداوند! مجھے شریر کے ہاتھ سے بچا۔ مجھے تُند خُو آدمی سے محفوظ رکھ۔
۵ مغروروں نے میرے لئے پھندے اور رسیوں کو چھِپایا ہے۔ اُنہوں نے راہ کے کنارے جال لگایا ہے۔ اُنہوں نے میرے لئے دام بچھا رکھے ہیں۔
۶ میَں نے خُداوند سے کہا میرا خُدا تُو ہی ہے۔ اَے خُداوند میری التجا کی آواز پر کان لگا۔
۷ اَے خُداوند میرے مالک ! میری نجات کی قوت تُو نے جنگ کے دِن میرے سر پر سایہ کیا ہے۔
۸ اَے خُداوند ! شریر کی مُراد پُوری نہ کر۔ اُسکے بُرے منصوبہ کو انجام نہ دے تاکہ وہ ڈینگ نہ مارے۔
۹ مجھے گھیرنے والوں کے مُنہ کی شرارت اُن ہی کے سر پر پڑے ۔
۱۰ اُن پر انگارے گریں۔ وہ آگ میں ڈالے جائیں اور ایسے گڑھوں میں کہ پھر نہ اُٹھیں۔
۱۱ بد زُبان آدمی کو زمین پر قیام نہ ہو گا۔ آفت تُند خُو آدمی کو رگید کر ہلاک کریگی۔
۱۲ میَں جانتا ہوں کہ خُداوند مُصیبت زدہ کے معاملہ کی اور محتاج کے حق کی تائید کریگا۔
۱۳ یقیناً صادِق تیرے نام کا شُکر کرینگے۔ اور راستباز تیرے حُضُور میں رہینگے۔