منَوحہ تعارف

کتابِ مقدس کی تفسیر

یرمیاہ نبی کا نوحہ

Lamentations

از

وِلیم میکڈونلڈ

اِس تفسیر کی مدد سے آپ کلامِ خدا کے مندرجات کو زیادہ صفائی اور آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بڑے چُست، مودَّب، پُر خلوص، سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں لکھی گئی ہے۔ اِس کا اِنتخاب آپ کے شخصی گیان دھیان اور گروہی مطالعۂ بائبل کے لئے بہت مفید ثابت ہو گا


Believer’s Bible Commentary

by

William MacDonald

This is a Bible commentary that makes the riches of God’s Word clear and easy for you to understand. It is written in a warm, reverent, and devout and scholarly style. It is a good choice for your personal devotions and Bible study.

© 1995 by William MacDonald, Believer’s Bible Commentary
Christian Missions in Many Lands, Inc.
PO Box 13, Spring Lake, NJ 07762
USA
— All Rights Reserved —


مقدمه

’’یہ یاد دہانی ہے کہ اپنی تمام دلکشی اور ولولہ انگیزی کے باوجود گناہ اپنے ساتھ غم‏، افسوس‏، مصیبت‏، رنج اور درد کا بھاری بوجھ رکھتا ہے اور بالآخر لاحاصل رہتا ہے۔ ’’یہ کھا‏، پی اور خوش رہ‘‘ والے سِکّے کا دوسرا رُخ ہے۔‘‘(‏چارلس آر۔ سوِنڈل)‏

۱۔ مُسلَّمہ کُتُب میں یکتا مقام

بائبل مقدس کے یونانی‏، لاطینی اور انگریزی تراجم میں بھی اِس چھوٹی سی کتاب کا نام نوحہ ہے۔ یہودی اِس کا ذکر ابواب ۱‏،۲ اور چار کے عبرانی کے پہلے لفظ سے کرتے ہیں جس کا ترجمہ ہے کیسا /کیسی یا افسوس! یہ کتاب پانچ الگ الگ نظموں پر مشتمل ہے جن کا مشترکہ موضوع ۵۸۶ ق میں نبوکدنضر کے ہاتھوں یروشلیم کی بربادی ہے۔ علاوہ ازیں دوسرا مشترکہ عنصر یہ ہے کہ پہلے چار ابواب میں بڑی خوبصورتی سے صنعتِ توشیح (‏نظم کے اشعار ترتیب وار حروفِ تہجی سے شروع ہوتے ہیں)‏ استعمال کی گئی ہے۔ 

اِس صنعت کو استعمال کرنے کا مقصد غالباً یہ ہے کہ زبانی یاد کرنے میں سہولت اور آسانی ہو‏، پہلے چار ابواب میں تو ہر شعر ترتیب وار عبرانی کے اگلے حرف سے شروع ہوتا ہے۔ جب کہ باب ۳ میں ہر حرف کے لئے تین تین مصرعے مختص کئے گئے ہیں۔ یعنی پہلے تین مصرعے پہلے حرفِ تہجی سے‏، اگلے تین مصرعے دوسرے حرفِ تہجی سے…علیٰ ہٰذالقیاس۔ پانچویں باب کے اشعار حروفِ تہجی کی تعداد کے مطابق بائیس (‏۲۲)‏ ہیں‏، لیکن صنعتِ توشیح کے مطابق نہیں۔ 

اِس منظم ترتیب سے شعر کہنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اِس کے باوجود نظم میں جذبۂ حب الوطنی اور رنج و غم کا اِظہار بڑی کامیابی سے کیا گیا ہے۔ 

۲۔ مصنف

نوحہ کی کتاب میں مصنف کا نام موجود نہیں۔ البتہ یہ روایت نہایت قدیم ہے کہ اِس کتاب کا مصنف یرمیاہ ہے۔ اٹھارہویں صدی تک اِس روایت کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا۔ 

بائبل مقدس کے یونانی ترجمہ (‏ہفتادی ترجمہ)‏ میں تو تعارف بھی دیا گیا ہے جس کے اندازِ تحریر سے پتا چلتا ہے کہ کسی عبرانی بولنے والے شخص نے اِسے لکھا۔ ’’اور یوں ہوا کہ اسرائیل کے اسیری میں جانے اور یروشلیم کی بربادی کے بعد یرمیاہ نے اِس نوحہ کے ساتھ یروشلیم پر نوحہ کیا کہ …‘‘ (‏یہاں پہلا باب شروع ہوتا ہے۔)‏ 

اِس کتاب کے اُسلُوب میں بھی اِشارہ ملتا ہے کہ اِس کا مصنف رونے والا نبی / نوحہ گر نبی ہے۔ اور ۲۔تواریخ ۳۵:‏ ۲۵ بھی یرمیاہ کو مرثیہ گوئی یا نوحہ لکھنے سے وابستہ قرار دیتی ہے۔ یہ حقیقت کہ مصنف یروشلیم کی بربادی کا عینی گواہ ہے اور مزید یہ بات کہ کوئی اَور شخص معقول طور سے اِس کا مصنف معلوم نہیں ہوتا‏، اِس یہودی اور مسیحی روایت کو تقویت دیتی ہے کہ یرمیاہ نوحہ کا مصنف ہے۔ 

۳۔ سنِ تصنیف

صیون کی تباہی و بربادی کا آنکھوں دیکھا بیان ایسا واضح اور جاندار ہے کہ یہ کہنا نہایت قرینِ قیاس ہے کہ یہ واقعات کے (‏۵۸۶ یا ۵۸۵ ق م)‏ رُونما ہونے کے بہت تھوڑے عرصے کے بعد اور یرمیاہ کے مصر جانے سے پہلے قلم بند کیا گیا ہے۔ 

۴۔ پس منظر اور موضوع

سقوطِ یروشلیم اِنتہائی دُکھ‏، تکلیف‏، مشکل اور کرب کا موقع تھا۔ یہ آفت یا بُرا انجام تھا جس کے باعث نوحہ کی کتاب وجود میں آئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یرمیاہ نبی نے اپنا خونِ جگر نچوڑ کر یہ نوحہ پیش کیا ہے۔ 

یہ کتاب ایک لحاظ سے یرمیاہ کی نبوتوں کا ضمیمہ ہے۔ اِس میں یروشلیم اور ہیکل کی بربادی پر نبی کے گہرے رنج وغم اور دلی نالہ و ماتم کا بیان ہے۔ بجائے اِس کے کہ وہ اِس بات سے خوش ہوتا کہ میری پیش گوئیاں پوری ہو گئی ہیں وہ اپنے لوگوں کی مصیبت پر زار زار روتا ہے۔

یہ کتاب یرمیاہ کے الفاظ کے علاوہ کئی اَور باتوں کا بھی تذکرہ کرتی ہے:‏

  1. بابلیوں کی غارت گری اور خوں ریزی پر یہودیوں کے بقیہ کا کرب اور دلی رنج۔ یرمیاہ اُن کا ترجمان ہو کر بولتا ہے۔ 
  2. مسیحِ موعود کا دُکھ اور کرب جب وہ آیا کہ صلیب پر دُکھ اُٹھائے‏، خون بہائے اور جان دے (‏مثال کے طور پر دیکھئے ۱:‏۱۲)‏۔
  3. مستقبل میں یہودیوں کے بقیہ کا رنج و غم جب اُن کو یعقوب کی مصیبت کے دِنوں یعنی بڑی مصیبت میں سے گرنا پڑے گا۔

 

بحالی کی شاہراہ
گناہ دُکھ (‏۱:‏۸)‏
غم توبہ (‏۱:‏ ۲۰)‏
دعا اُمید(‏۳:‏ ۱۰۔۲۴)‏
ایمان بحالی (‏۵:‏ ۲۱)‏

 

خاکہ
      باب
۱۔ یروشلیم کی ہیبت ناک تباہی ۱:‏ ۱۔۱۱
۲۔ لوگوں کی درد ناک فریاد‏، اِقرار اور دعا ۱:‏ ۱۲۔۲۲
  الف۔ پکار ۱:‏ ۱۲۔۱۷
  ب۔ اقرار ۱:‏ ۱۸‏،۱۹
  ج۔ دعا ۱:‏ ۲۰۔۲۲
۳۔ لوگ جان گئے کہ خدا ہے جس نے یروشلیم کو سزا دی ہے ۲
  الف۔ خدا کے غیظ و غضب کے اثرات ۲:‏ ۱۔۱۳
  ب۔ خدا کے عضب کی وجہ __ جھوٹے نبیوں نے لوگوں کو خبردار نہ کیا ۲:‏ ۱۴
  ج۔ دیکھنے والے مذاق اڑاتے ہیں ۲:‏ ۱۵‏،۱۶
  د۔ خدا کی خبرداری کی تکمیل ۲:‏۱۷
  ہ۔ توبہ کی بلاہٹ ۲:‏ ۱۸‏،۱۹
  و۔ خدا سے رحم کی التجا ۲:‏ ۲۰۔۲۲
۴۔ نبی بقیہ کے غم‏، پشیمانی اور اِقرار کی ترجمانی کرتا ہے ۳
  الف۔ خدا کی طرف سے سزائیں ۳:‏ ۱۔۱۸
  ب۔ خدا کا ترس اور رحم ۳:‏ ۱۹۔۳۹
  ج۔ روحانی بیداری کے لئے پکار ۳:‏ ۴۰۔۴۲
  د۔ یروشلیم کے لئے یرمیاہ کا غم ۳:‏ ۴۳۔۵۱
  ہ۔ دشمنوں سے چھٹکارے کے لئے نبی کی اِلتجا ۳:‏ ۵۲۔۶۶
۵۔ یہوداہ کے ماضی اور حال کا موازنہ ۴:‏ ۱۔۲۰
۶۔ مستقبل کی اُمید __ ادوم کی بربادی یا یہوداہ کی بحالی ۴:‏ ۲۱‏،۲۲
۷۔ بقیہ رحم اور بحالی کے لئے خدا سے التجا کرتا ہے ۵