زبور ۹۷ : صادقوں کے لئے نور بویا گیا ہے
۹۷: ۱ جونہی زبور کا آغاز ہوتا ہے خداوند یسوع مسیح اپنے تخت پر بیٹھ چکا ہے۔ تاجپوشی کا دن ہے اور عالمی سطح پر خوشی منائی جا رہی ہے۔ دُور دراز کے جزیروں اور ممالک نے ایسی خوشی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
۹۷: ۲ بادشاہ کی آمد کو علامتی اصطلاحات میں بیان کیا گیا ہے جس سے حیرت و تعظیم کے تاثرات پیدا ہوتے ہیں۔ وہ بادل اور تاریکی میں لپٹا ہوا ہے۔ ہمارا خداوند بہت دفعہ پُراَسرار طور پر لوگوں کی نظروں سے چھپا ہوتا ہے۔ بہت دفعہ ہم اُس کی راہیں جان نہیں سکتے۔ ہم اُس کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔ صداقت اور عدل اُس کے تخت کی بنیاد ہیں یعنی اُس کی حکومت مثالی حکومت ہے۔ یہ ایسی حکومت ہے جو دوسروں کے لئے سود مند ہے، جہاں انصاف کا قتل نہیں ہوتا اور جہاں سچائی کو توڑ مروڑ کر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
۹۷: ۳۔۵ آگ اُس کے آگے آگے چلتی ہے اور یہ اُن کو بھسم کرتی جاتی ہے جو خدا کو نہیں جانتے اور جو خداوند یسوع مسیح کی خوش خبری کی فرماں برداری نہیں کرتے (۲۔تھسل ۱:۸)۔ اُس کی عدالت کے نور سے زمین روشن ہو جاتی ہے۔ لوگ خوف زدہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہو گا ’’جب ہر ایک پہاڑ اور ٹیلا پست کیا جائے گا‘‘ (یسعیاہ ۴۰:۴)، دوسرے لفظوں میں جب ہر ایک شے کو جو خدا کے علم کے خلاف سر اُٹھاتی ہے نیچا کیا جائے گا۔
۹۷: ۶ الف ’’آسمان اُس کی صداقت ظاہر کرتا ہے۔‘‘ جب وہ اپنے سب خون خریدے ہوئے مقدسین (۱۔تھسل ۳:۱۳) کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آئے گا، تو دنیا دیکھے گی کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق اسرائیل کو بحال کرنے میں راست ثابت ہوا ہے۔ گابلین یوں وضاحت کرتا ہے:
تمام بیٹے جنہیں وہ اپنے جلال میں داخل کرے گا اُس کی راست بازی کا اعلان کریں گے یعنی کلوری کی صلیب پر راست بازی کے عظیم کام کا اعلان۔
۹۷: ۶ب ’’سب قوموں نے اُس کا جلال دیکھا ہے۔‘‘
۹۷: ۷ بت پرست اُس وقت کیا سوچیں گے؟ وہ دم بخود رہ جائیں گے جب اُنہیں یہ احساس ہو گا کہ وہ بے معنی چیزوں کی پرستش کرتے رہے۔
’’اے معبودو! سب اُس کو سجدہ کرو۔‘‘ ہفتادی ترجمہ میں یوں لکھا ہے: ’’خدا کے سب فرشتے اُسے سجدہ کریں۔‘‘ اور عبرانیوں ۱:۶ میں اِس کا من و عن اقتباس کیا گیا ہے۔ یہاں مستعمل عبرانی لفظ (الوہیم) کا عموماً مطلب خدا ہے، لیکن کبھی کبھی اِس سے فرشتے، منصف، حاکم، حتیٰ کہ غیراقوام کے دیوتا بھی مراد ہیں۔
۹۷: ۸، ۹ صیون کا شہر باغیوں اور بت پرستوں کے خلاف بادشاہ کی فتوحات کی خبر سن کر خوش ہوتا ہے۔ یہوداہ کے چھوٹے چھوٹے گاؤں بھی اِس خوشی میں شامل ہوتے ہیں۔ ’’اے خداوند! تیرے احکام کو سن کر صیون کے لئے خوشی کی خبر ہے اور یہوداہ کے شہر خوش ہوتے ہیں‘‘ (ناکس)۔ بالآخر خداوند کو اُس روپ میں دیکھا گیا جیسا کہ وہ ہمیشہ سے تھا یعنی تمام زمین پر بلند و بالا اور تمام حکمرانوں سے سر بلند۔
۹۷: ۱۰ ’’اے خداوند سے محبت رکھنے والو!بدی سے نفرت کرو۔‘‘ دونوں اخلاقی طور پر لازم و ملزوم ہیں ۔۔ یہوواہ سے محبت اور اُس سے متضاد ہر شے سے نفرت۔ جو اِس امتحان کو پاس کر لیتے ہیں، خداوند خصوصی طور پر اُن کی حفاظت کرتا ہے۔
۹۷: ۱۱ صادقوں کے لئے نور بیج کی طرح بویا گیا ہے، یعنی مسیح کی آمد کا مطلب ہے کہ اُس شخص کے لئے نور پھیلے گا جو راستی کے کام کرتا ہے۔ جو دلی طور پر دیانت دار اور مخلص ہیں، اُن کے لئے بے بیان خوشی ہے۔
۹۷: ۱۲ چنانچہ خدا کے تمام راست باز لوگوں کو پُرمسرت بلاہٹ دی جاتی ہے کہ وہ خوشی میں شامل ہوں اور اُس کے پاک نام کا شکر کریں۔ یہ زبور کے لئے حیران کن اختتام ہے۔ ہم شاید یوں اختتام پذیر ہوتے: ’’خدا کی محبت/ رحمت / فضل / جلال کو یاد کرکے شکرو کرو۔‘‘ لیکن زبور نویس ’’پاک نام‘‘ کہتا ہے۔ ایک وقت تھا جب اُس کی پاکیزگی نے ہمیں اُس کی حضوری سے خارج کر رکھا تھا۔ لیکن اب خداوند یسوع کے وسیلے سے حاصل کردہ مخلصی کے ذریعے اُس کی پاکیزگی ہمارے مخالف نہیں بلکہ ساتھ ہے۔ اور جب بھی ہم اِسے یاد کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔
مقدس کتاب
۱ خُداوند سلطنت کرتا ہے۔ زمین شادمان ہو۔ بے شُمار جزیرے خُوشی منائیں۔
۲ بادل اور تاریکی اُسکے اِردگرد ہیں۔صداقت اور عدل اُسکے تخت کی بنیاد ہیں۔
۳ آگ اُسکے آگے آگے چلتی ہے۔ اور چاروں طرف اُسکے مُخالفوں کو بھسم کر دیتی ہے۔
۴ اُسکی بجلیوں نے جہان کو روشن کردیا۔ زمین نے دیکھا اور کانپ گئی۔
۵ خُداوند کے حُضُور پہاڑ موم کی طرح پگھل گئے ۔ یعنی ساری زمین کے خُداوند کے حُضُور۔
۶ آسمان اُسکی صداقت ظاہر کرتا ہے۔ سب قوموں نے اُسکا جلال دیکھا ہے۔
۷ کھُدی ہوئی مورتوں کے سب پوجنے والے جو بتوں پر فخر کرتے ہیں شرمندہ ہوں۔ اَے معبودو! سب اُسکو سجدہ کرو۔
۸ اَے خُداوند! صِیُوؔن نے سُنا اور خُوش ہوئی اور یہؔووُا کی بیٹیاں تیرے احکام سے شادمان ہوئیں۔
۹ کیونکہ اَے خُداوند! تُو تمام زمین پر بُلندوبالا ہے تُو سب معبوُدوں سے نہایت اعلیٰ ہے۔
۱۰ اَے خُداوند سے مُحبت رکھنے والو! بدی سے نفرت کرو وہ اپنے مُقدسوں کی جانوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ وہ اُنکو شریروں کے ہاتھ سے چھُڑاتا ہے۔
۱۱ صادقوں کے لئے نُور بویا گیا ہے اور راست دِلوں کے لئے خُوشی۔
۱۲ اَے صادِقو! خُداوند میں خُوش رہو اور اُسکے پاک نام کا شُکر کرو۔